لوازمِ نجات

سورۃ العصر کی روشنی میں


بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ 

شروع اللہ کے نام سے جو بے حد مہربان نہایت رحم والا ہے 

وَ الۡعَصۡرِ ۙ﴿۱﴾اِنَّ الۡاِنۡسَانَ لَفِیۡ خُسۡرٍ ۙ﴿۲﴾اِلَّا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ تَوَاصَوۡا بِالۡحَقِّ ۬ۙ وَ تَوَاصَوۡا بِالصَّبۡرِ ٪﴿۳﴾ 

قسم ہے عصر کی. مقرر انسان ٹوٹے میں ہے. مگر جو لوگ کہ یقین لائے اور کئے بھلے کام اور آپس میں تاکید کرتے رہے سچے دین کی، اور آپس میں تاکید کرتے رہے تحمل کی متذکرہ الصدر ’مقصد‘ کے تحت اس نصاب کا نہایت موزوں آغاز سورۃ العصر سے ہوتا ہے جو خسرانِ ابدی سے انسان کے بچاؤ کی چار بنیادی شرائط یا بالفاظ دیگر کامیابی اور فوز وفلاح کے چار ناگزیر لوازم یا نجات کی راہ کے چار سنگ ہائے میل کا تعین کر دیتی ہے یعنی ایمان، عمل صالح، تواصی بالحق اور تواصی بالصبر. راقم کے نزدیک یہ سورت صرف اس نصاب ہی کے لئے نہیں، پورے قرآن حکیم کے لئے بمنزلہ اساس ہے اور اس کی حیثیت اس بیج کی سی ہے جس سے قرآن مجید کی تمام تعلیمات کے برگ وبار پھوٹے ہیں. واللہ اعلم. بہرحال اس نصاب کی جڑ سورہ العصر ہے اور بقیہ پورا نصاب گویا اسی کی تفسیر کی حیثیت رکھتا ہے. سورۃ العصر پر راقم کی ایک تقریر اور ایک تحریر یکجا ’’راہِ نجات: سورۃ العصر کی روشنی میں‘‘ کے نام سے مطبوعہ موجود ہے.