ابتلاء وآزمائش کے دور میں اہلِ ایمان کیلئے ہدایات

سورۃ العنکبوت کے آخری تین رکوع ، سورۃ الکہف کی آیات۲۷ تا ۲۹، 
اور سورۃ البقرہ کی آیات ۱۵۳ تا ۱۵۷ کی روشنی میں
سورۃ العنکبوت کے آخری تین رکوع

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ 
اُتۡلُ مَاۤ اُوۡحِیَ اِلَیۡکَ مِنَ الۡکِتٰبِ وَ اَقِمِ الصَّلٰوۃَ ؕ اِنَّ الصَّلٰوۃَ تَنۡہٰی عَنِ الۡفَحۡشَآءِ وَ الۡمُنۡکَرِ ؕ وَ لَذِکۡرُ اللّٰہِ اَکۡبَرُ ؕ وَ اللّٰہُ یَعۡلَمُ مَا تَصۡنَعُوۡنَ ﴿۴۵﴾وَ لَا تُجَادِلُوۡۤا اَہۡلَ الۡکِتٰبِ اِلَّا بِالَّتِیۡ ہِیَ اَحۡسَنُ ٭ۖ اِلَّا الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا مِنۡہُمۡ وَ قُوۡلُوۡۤا اٰمَنَّا بِالَّذِیۡۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡنَا وَ اُنۡزِلَ اِلَیۡکُمۡ وَ اِلٰـہُنَا وَ اِلٰـہُکُمۡ وَاحِدٌ وَّ نَحۡنُ لَہٗ مُسۡلِمُوۡنَ ﴿۴۶﴾وَ کَذٰلِکَ اَنۡزَلۡنَاۤ اِلَیۡکَ الۡکِتٰبَ ؕ فَالَّذِیۡنَ اٰتَیۡنٰہُمُ الۡکِتٰبَ یُؤۡمِنُوۡنَ بِہٖ ۚ وَ مِنۡ ہٰۤؤُلَآءِ مَنۡ یُّؤۡمِنُ بِہٖ ؕ وَ مَا یَجۡحَدُ 

’’تو پڑھ جو اتری تیری طرف کتاب اور قائم رکھ نماز، بیشک نماز روکتی ہے بے حیائی اور بری بات سے، اور اللہ کی یاد ہے سب سے بڑی، اور اللہ کو خبر ہے جو تم کرتے ہو. اور جھگڑا نہ کرو اہل کتاب سے مگر اس طرح پر جو بہتر ہو، مگر جو ان میں بے انصاف ہیں اور یوں کہو کہ ہم مانتے ہیں جو اترا ہمارے لئے اور اترا تمہارے لئے اور بندگی ہماری اور تمہاری ایک ہی کو ہے اور ہم اسی کے حکم پر چلتے ہیں. او ر ویسی ہی ہم نے اتاری تجھ پر کتاب، سو جن کو ہم نے کتاب دی ہے وہ اس کو مانتے ہیں، اور ان مکہ والوں میں بھی بعضے ہیں کہ اس کو مانتے ہیں، اور منکر وہی ہیں

بِاٰیٰتِنَاۤ اِلَّا الۡکٰفِرُوۡنَ ﴿۴۷﴾وَ مَا کُنۡتَ تَتۡلُوۡا مِنۡ قَبۡلِہٖ مِنۡ کِتٰبٍ وَّ لَا تَخُطُّہٗ بِیَمِیۡنِکَ اِذًا لَّارۡتَابَ الۡمُبۡطِلُوۡنَ ﴿۴۸﴾بَلۡ ہُوَ اٰیٰتٌۢ بَیِّنٰتٌ فِیۡ صُدُوۡرِ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الۡعِلۡمَ ؕ وَ مَا یَجۡحَدُ بِاٰیٰتِنَاۤ اِلَّا الظّٰلِمُوۡنَ ﴿۴۹﴾وَ قَالُوۡا لَوۡ لَاۤ اُنۡزِلَ عَلَیۡہِ اٰیٰتٌ مِّنۡ رَّبِّہٖ ؕ قُلۡ اِنَّمَا الۡاٰیٰتُ عِنۡدَ اللّٰہِ ؕ وَ اِنَّمَاۤ اَنَا نَذِیۡرٌ مُّبِیۡنٌ ﴿۵۰﴾اَوَ لَمۡ یَکۡفِہِمۡ اَنَّاۤ اَنۡزَلۡنَا عَلَیۡکَ الۡکِتٰبَ یُتۡلٰی عَلَیۡہِمۡ ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَرَحۡمَۃً وَّ ذِکۡرٰی لِقَوۡمٍ یُّؤۡمِنُوۡنَ ﴿٪۵۱﴾قُلۡ کَفٰی بِاللّٰہِ بَیۡنِیۡ وَ بَیۡنَکُمۡ شَہِیۡدًا ۚ یَعۡلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا بِالۡبَاطِلِ وَ کَفَرُوۡا بِاللّٰہِ ۙ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡخٰسِرُوۡنَ ﴿۵۲﴾وَ یَسۡتَعۡجِلُوۡنَکَ بِالۡعَذَابِ ؕ وَ لَوۡ لَاۤ اَجَلٌ مُّسَمًّی لَّجَآءَہُمُ الۡعَذَابُ ؕ وَ لَیَاۡتِیَنَّہُمۡ بَغۡتَۃً وَّ ہُمۡ لَا یَشۡعُرُوۡنَ ﴿۵۳﴾یَسۡتَعۡجِلُوۡنَکَ بِالۡعَذَابِ ؕ وَ اِنَّ جَہَنَّمَ لَمُحِیۡطَۃٌۢ بِالۡکٰفِرِیۡنَ ﴿ۙ۵۴﴾یَوۡمَ یَغۡشٰہُمُ الۡعَذَابُ مِنۡ فَوۡقِہِمۡ وَ مِنۡ تَحۡتِ اَرۡجُلِہِمۡ وَ یَقُوۡلُ ذُوۡقُوۡا مَا کُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ﴿۵۵﴾یٰعِبَادِیَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا 

ہماری باتوں سے جو نافرمان ہیں. اور تو پڑھتا نہ تھا اس سے پہلے کوئی کتاب اور نہ لکھتا تھا اپنے داہنے ہاتھ سے تب تو البتہ شبہ میں پڑتے یہ جھوٹے. بلکہ یہ قرآن تو آیتیں ہیں صاف ان لوگوں کے سینوں میں جن کو ملی ہے سمجھ، اور منکر نہیں ہماری باتوں سے مگر وہی جو بے انصاف ہیں. اور کہتے ہیں کیوں نہ اتریں اس پر کچھ نشانیاں اس کے رب سے، تو کہہ نشانیاں تو ہیں اختیار میں اللہ کے، اور میں تو بس سنا دینے والاہوں کھول کر. کیا ان کو یہ کافی نہیں کہ ہم نے تجھ پر اتاری کتاب کہ ان پر پڑھی جاتی ہے، بیشک اس میں رحمت ہے اور سمجھانا ان لوگوں کو جو مانتے ہیں. تو کہہ کافی ہے اللہ میرے اور تمہارے بیچ گواہ، جانتا ہے جو کچھ ہے آسمان اور زمین میں، اور جو لوگ یقین لاتے ہیں جھوٹ پر اور منکر ہوئے ہیں اللہ سے، وہی ہیں نقصان پانے والے. اور جلدی مانگتے ہیں تجھ سے آفت، اور اگر نہ ہوتا ایک وعدہ مقررہ تو آپہنچتی ان پر آفت، اور البتہ آئے گی ان پر اچانک اور ان کو خبر نہ ہو گی. جلدی مانگتے ہیں تجھ سے عذاب، اور دوزخ گھیر رہی ہے منکروں کو. جس دن گھیر لے گا ان کو عذاب ان کے اوپر سے اور پاؤں کے نیچے سے اور کہے گا چکھو جیسا کچھ تم کرتے تھے. اے بندو میرے جو یقین لائے ہو

اِنَّ اَرۡضِیۡ وَاسِعَۃٌ فَاِیَّایَ فَاعۡبُدُوۡنِ ﴿۵۶﴾کُلُّ نَفۡسٍ ذَآئِقَۃُ الۡمَوۡتِ ۟ ثُمَّ اِلَیۡنَا تُرۡجَعُوۡنَ ﴿۵۷﴾وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَنُبَوِّئَنَّہُمۡ مِّنَ الۡجَنَّۃِ غُرَفًا تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہَا الۡاَنۡہٰرُ خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَا ؕ نِعۡمَ اَجۡرُ الۡعٰمِلِیۡنَ ﴿٭ۖ۵۸﴾الَّذِیۡنَ صَبَرُوۡا وَ عَلٰی رَبِّہِمۡ یَتَوَکَّلُوۡنَ ﴿۵۹﴾وَ کَاَیِّنۡ مِّنۡ دَآبَّۃٍ لَّا تَحۡمِلُ رِزۡقَہَا ٭ۖ اَللّٰہُ یَرۡزُقُہَا وَ اِیَّاکُمۡ ۫ۖ وَ ہُوَ السَّمِیۡعُ الۡعَلِیۡمُ ﴿۶۰﴾وَ لَئِنۡ سَاَلۡتَہُمۡ مَّنۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ وَ سَخَّرَ الشَّمۡسَ وَ الۡقَمَرَ لَیَقُوۡلُنَّ اللّٰہُ ۚ فَاَنّٰی یُؤۡفَکُوۡنَ ﴿۶۱﴾اَللّٰہُ یَبۡسُطُ الرِّزۡقَ لِمَنۡ یَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِہٖ وَ یَقۡدِرُ لَہٗ ؕ اِنَّ اللّٰہَ بِکُلِّ شَیۡءٍ عَلِیۡمٌ ﴿۶۲﴾وَ لَئِنۡ سَاَلۡتَہُمۡ مَّنۡ نَّزَّلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَحۡیَا بِہِ الۡاَرۡضَ مِنۡۢ بَعۡدِ مَوۡتِہَا لَیَقُوۡلُنَّ اللّٰہُ ؕ قُلِ الۡحَمۡدُ لِلّٰہِ ؕ بَلۡ اَکۡثَرُہُمۡ لَا یَعۡقِلُوۡنَ ﴿٪۶۳﴾وَ مَا ہٰذِہِ الۡحَیٰوۃُ الدُّنۡیَاۤ اِلَّا لَہۡوٌ وَّ لَعِبٌ ؕ وَ اِنَّ الدَّارَ الۡاٰخِرَۃَ لَہِیَ الۡحَیَوَانُ ۘ لَوۡ کَانُوۡا یَعۡلَمُوۡنَ ﴿۶۴﴾فَاِذَا رَکِبُوۡا فِی الۡفُلۡکِ دَعَوُا اللّٰہَ مُخۡلِصِیۡنَ لَہُ الدِّیۡنَ ۬ۚ فَلَمَّا نَجّٰہُمۡ اِلَی الۡبَرِّ اِذَا ہُمۡ 

میری زمین کشادہ ہے سو مجھی کو بندگی کرو. جو جی ہے سو چکھے گا موت، پھر ہماری طرف پھر آؤ گے. اور جو لوگ یقین لائے اور کئے بھلے کام ان کو ہم جگہ دیں گے بہشت میں جھروکے نیچے بہتی ہیں ان کے نہریں سدا رہیں ان میں، خوب ثواب ملا کام والوں کو. جنہوں نے صبر کیا اور اپنے رب پر بھروسہ کیا. اور کتنے جانور ہیں جو اٹھا نہیں رکھتے اپنی روزی، اللہ روزی دیتا ہے ان کو اور تم کو بھی اور وہی ہے سننے والا جاننے والا. اور اگر تو لوگوں سے پوچھے کہ کس نے بنایا ہے آسمان اور زمین کو اور کام میں لگایا سورج اور چاند کو تو کہیں اللہ نے ،پھر کہاں سے الٹ جاتے ہیں. اللہ پھیلاتا ہے روزی جس کے واسطے چاہے اپنے بندوں میں اور ماپ کر دیتا ہے جسکو چاہے، بیشک اللہ ہر چیز سے خبردار ہے. اور جو تو پوچھے ان سے کس نے اتارا آسمان سے پانی پھر زندہ کر دیا اس سے زمین کو اس کے مرجانے کے بعد تو کہیں اللہ نے، تو کہہ سب خوبی اللہ کو ہے، پر بہت لوگ نہیں سمجھتے. اور یہ دنیا کا جینا تو بس جی بہلانا اور کھیلنا ہے، اور پچھلاگھر جو ہے سو وہی ہے زندہ رہنا، اگر ان کو سمجھ ہوتی. پھر جب سوار ہوئے کشتی میں پکارنے لگے اللہ کو خالص اسی پر رکھ کر اعتقاد، پھر جب بچا لایا ان کو زمین کی طرف اسی وقت

یُشۡرِکُوۡنَ ﴿ۙ۶۵﴾لِیَکۡفُرُوۡا بِمَاۤ اٰتَیۡنٰہُمۡ ۚۙ وَ لِیَتَمَتَّعُوۡا ٝ فَسَوۡفَ یَعۡلَمُوۡنَ ﴿۶۶﴾اَوَ لَمۡ یَرَوۡا اَنَّا جَعَلۡنَا حَرَمًا اٰمِنًا وَّ یُتَخَطَّفُ النَّاسُ مِنۡ حَوۡلِہِمۡ ؕ اَفَبِالۡبَاطِلِ یُؤۡمِنُوۡنَ وَ بِنِعۡمَۃِ اللّٰہِ یَکۡفُرُوۡنَ ﴿۶۷﴾وَ مَنۡ اَظۡلَمُ مِمَّنِ افۡتَرٰی عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا اَوۡ کَذَّبَ بِالۡحَقِّ لَمَّا جَآءَہٗ ؕ اَلَیۡسَ فِیۡ جَہَنَّمَ مَثۡوًی لِّلۡکٰفِرِیۡنَ ﴿۶۸﴾وَ الَّذِیۡنَ جَاہَدُوۡا فِیۡنَا لَنَہۡدِیَنَّہُمۡ سُبُلَنَا ؕ وَ اِنَّ اللّٰہَ لَمَعَ الۡمُحۡسِنِیۡنَ ﴿٪۶۹﴾ 
لگے شریک بنانے. تاکہ مکرتے رہیں ہمارے دیئے ہوئے سے، اور مزے اڑاتے رہیں، سو عنقریب جان لیں گے. کیا نہیں دیکھتے کہ ہم نے رکھ دی ہے پناہ کی جگہ امن کی اور لوگ اچکے جاتے ہیں ان کے آس پاس سے، کیا جھوٹ پر یقین رکھتے ہیں اور اللہ کا احسان نہیں مانتے. اور اس سے زیادہ بے انصاف کون جو باندھے اللہ پر جھوٹ یا جھٹلائے سچی بات کو جب اس تک پہنچے، کیا دوزخ میں بسنے کی جگہ نہیں منکروں کے لئے. اور جنہوں نے محنت کی ہمارے واسطے ہم سجھا دیں گے ان کو اپنی راہیں، اور بیشک اللہ ساتھ ہے نیکی والوں کے. ‘‘ 



سورۃ الکہف کی آیات ۲۷ تا ۲۹

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ 
وَ اتۡلُ مَاۤ اُوۡحِیَ اِلَیۡکَ مِنۡ کِتَابِ رَبِّکَ ۚؕ لَا مُبَدِّلَ لِکَلِمٰتِہٖ ۚ۟ وَ لَنۡ تَجِدَ مِنۡ دُوۡنِہٖ مُلۡتَحَدًا ﴿۲۷﴾وَ اصۡبِرۡ نَفۡسَکَ مَعَ الَّذِیۡنَ یَدۡعُوۡنَ رَبَّہُمۡ بِالۡغَدٰوۃِ وَ الۡعَشِیِّ یُرِیۡدُوۡنَ وَجۡہَہٗ وَ لَا تَعۡدُ عَیۡنٰکَ عَنۡہُمۡ ۚ تُرِیۡدُ زِیۡنَۃَ الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا ۚ وَ لَا تُطِعۡ مَنۡ اَغۡفَلۡنَا قَلۡبَہٗ عَنۡ ذِکۡرِنَا وَ اتَّبَعَ ہَوٰىہُ وَ کَانَ اَمۡرُہٗ فُرُطًا ﴿۲۸﴾وَ قُلِ الۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّکُمۡ ۟

’’اور پڑھ جو وحی ہوئی تجھ کو تیرے رب کی کتاب سے، کوئی بدلنے والا نہیں اس کی باتیں، اور کہیں نہ پائے گا تو اس کے سوائے چھپنے کو جگہ. اور روکے رکھ اپنے آپ کو ان کے ساتھ جو پکارتے ہیں اپنے رب کو صبح اور شام طالب ہیں اس کے منہ کے اور نہ دوڑیں تیری آنکھیں ان کو چھوڑ کر، تلاش میں رو نق زندگانی دنیا کی، اور نہ کہا مان اس کا جس کا دل غافل کیا ہم نے اپنی یاد سے اور پیچھے پڑا ہوا ہے اپنی خوشی کے اور اس کا کام ہے حد پر نہ رہنا. اور کہہ سچی بات ہے تمہارے رب کی طرف سے،

فَمَنۡ شَآءَ فَلۡیُؤۡمِنۡ وَّ مَنۡ شَآءَ فَلۡیَکۡفُرۡ ۙ اِنَّاۤ اَعۡتَدۡنَا لِلظّٰلِمِیۡنَ نَارًا ۙ اَحَاطَ بِہِمۡ سُرَادِقُہَا ؕ وَ اِنۡ یَّسۡتَغِیۡثُوۡا یُغَاثُوۡا بِمَآءٍ کَالۡمُہۡلِ یَشۡوِی الۡوُجُوۡہَ ؕ بِئۡسَ الشَّرَابُ ؕ وَ سَآءَتۡ مُرۡتَفَقًا ﴿۲۹﴾ 
پھر جو کوئی چاہے مانے اور جو کوئی چاہے نہ مانے، ہم نے تیار کر رکھی ہے گنہگاروں کے واسطے آگ کہ گھیر رہی ہیں ان کو اس کی قناتیں، اور اگر فریاد کریں گے تو ملے گا پانی جیسے پیپ بھون ڈالے منہ کو، کیا برا پینا ہے اور کیا برا آرام.‘‘ 


مدنی دور کے آغاز میں اہلِ ایمان کو پیشگی تنبیہ
سورۃ البقرہ کی آیات ۱۵۳ تا ۱۵۷


بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ 
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اسۡتَعِیۡنُوۡا بِالصَّبۡرِ وَ الصَّلٰوۃِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ مَعَ الصّٰبِرِیۡنَ ﴿۱۵۳﴾وَ لَا تَقُوۡلُوۡا لِمَنۡ یُّقۡتَلُ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ اَمۡوَاتٌ ؕ بَلۡ اَحۡیَآءٌ وَّ لٰکِنۡ لَّا تَشۡعُرُوۡنَ ﴿۱۵۴﴾وَ لَنَبۡلُوَنَّکُمۡ بِشَیۡءٍ مِّنَ الۡخَوۡفِ وَ الۡجُوۡعِ وَ نَقۡصٍ مِّنَ الۡاَمۡوَالِ وَ الۡاَنۡفُسِ وَ الثَّمَرٰتِ ؕ وَ بَشِّرِ الصّٰبِرِیۡنَ ﴿۱۵۵﴾ۙالَّذِیۡنَ اِذَاۤ اَصَابَتۡہُمۡ مُّصِیۡبَۃٌ ۙ قَالُوۡۤا اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّاۤ اِلَیۡہِ رٰجِعُوۡنَ ﴿۱۵۶﴾ؕاُولٰٓئِکَ عَلَیۡہِمۡ صَلَوٰتٌ مِّنۡ رَّبِّہِمۡ وَ رَحۡمَۃٌ ۟ وَ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡمُہۡتَدُوۡنَ ﴿۱۵۷﴾ 

’’اے مسلمانوں مدد لو ساتھ صبر اور نماز کے، بیشک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے. اور نہ کہو ان کو جو مارے گئے خدا کی راہ میں کہ مُردے ہیں، بلکہ وہ زندے ہیں لیکن تم کو خبر نہیں. اور البتہ ہم آزمائیں گے تم کو تھوڑے سے ڈر سے اور بھوک سے اور نقصان سے مالوں کے اور جانوں کے اور میووں کے، اور خوشخبری دے ان صبر کرنیوالوں کو. کہ جب پہنچے ان کو کچھ مصیبت، تو کہیں ہم تو اللہ ہی کا مال ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں. ایسے ہی لوگوں پر عنایتیں ہیں اپنے رب کی اور مہربانی، اور وہی ہیں سیدھی راہ پر.‘‘