دورِ قتال فی سبیل اللہ کا آغاز

غزوۂ بدر ۱۷؍ رمضان المبارک ۲ھ؁

یَوْمَ الْفُرْقَانِ یَوْمَ الْتَقَی الْجَمْعٰنِ 

اور
ایمانِ حقیقی کے لوازم وثمرات
سورۃ الانفال کی ابتدائی اور آخری آیات کی روشنی میں


بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ 
یَسۡـَٔلُوۡنَکَ عَنِ الۡاَنۡفَالِ ؕ قُلِ الۡاَنۡفَالُ لِلّٰہِ وَ الرَّسُوۡلِ ۚ فَاتَّقُوا اللّٰہَ وَ اَصۡلِحُوۡا ذَاتَ بَیۡنِکُمۡ ۪ وَ اَطِیۡعُوا اللّٰہَ وَ رَسُوۡلَہٗۤ اِنۡ کُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِیۡنَ ﴿۱﴾اِنَّمَا الۡمُؤۡمِنُوۡنَ الَّذِیۡنَ اِذَا ذُکِرَ اللّٰہُ وَجِلَتۡ قُلُوۡبُہُمۡ وَ اِذَا تُلِیَتۡ عَلَیۡہِمۡ اٰیٰتُہٗ زَادَتۡہُمۡ اِیۡمَانًا وَّ عَلٰی رَبِّہِمۡ یَتَوَکَّلُوۡنَ ۚ﴿ۖ۲﴾الَّذِیۡنَ یُقِیۡمُوۡنَ الصَّلٰوۃَ وَ مِمَّا رَزَقۡنٰہُمۡ یُنۡفِقُوۡنَ ؕ﴿۳﴾اُولٰٓئِکَ ہُمُ 

’’تجھ سے پوچھتے ہیں حکم غنیمت کا تو کہہ دے کہ مال غنیمت اللہ کا ہے اور رسول کا، سو ڈرو اللہ سے اور صلح کرو آپس میں، اور حکم مانو اللہ کا اور اس کے رسول کا اگر ایمان رکھتے ہو. ایمان والے وہی ہیں کہ جب نام آئے اللہ کا تو ڈر جائیں ان کے دل اور جب پڑھا جائے ان پر اس کا کلام تو زیادہ ہو جاتا ہے انکا ایمان اور وہ اپنے رب پر بھروسا رکھتے ہیں. وہ لوگ جو کہ قائم رکھتے ہیں نماز کو اور ہمنے جو ان کو روزی دی ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں. وہی ہیں

الۡمُؤۡمِنُوۡنَ حَقًّا ؕ لَہُمۡ دَرَجٰتٌ عِنۡدَ رَبِّہِمۡ وَ مَغۡفِرَۃٌ وَّ رِزۡقٌ کَرِیۡمٌ ۚ﴿۴﴾کَمَاۤ اَخۡرَجَکَ رَبُّکَ مِنۡۢ بَیۡتِکَ بِالۡحَقِّ ۪ وَ اِنَّ فَرِیۡقًا مِّنَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ لَکٰرِہُوۡنَ ۙ﴿۵﴾یُجَادِلُوۡنَکَ فِی الۡحَقِّ بَعۡدَ مَا تَبَیَّنَ کَاَنَّمَا یُسَاقُوۡنَ اِلَی الۡمَوۡتِ وَ ہُمۡ یَنۡظُرُوۡنَ ؕ﴿۶﴾وَ اِذۡ یَعِدُکُمُ اللّٰہُ اِحۡدَی الطَّآئِفَتَیۡنِ اَنَّہَا لَکُمۡ وَ تَوَدُّوۡنَ اَنَّ غَیۡرَ ذَاتِ الشَّوۡکَۃِ تَکُوۡنُ لَکُمۡ وَ یُرِیۡدُ اللّٰہُ اَنۡ یُّحِقَّ الۡحَقَّ بِکَلِمٰتِہٖ وَ یَقۡطَعَ دَابِرَ الۡکٰفِرِیۡنَ ۙ﴿۷﴾لِیُحِقَّ الۡحَقَّ وَ یُبۡطِلَ الۡبَاطِلَ وَ لَوۡ کَرِہَ الۡمُجۡرِمُوۡنَ ۚ﴿۸﴾اِذۡ تَسۡتَغِیۡثُوۡنَ رَبَّکُمۡ فَاسۡتَجَابَ لَکُمۡ اَنِّیۡ مُمِدُّکُمۡ بِاَلۡفٍ مِّنَ الۡمَلٰٓئِکَۃِ مُرۡدِفِیۡنَ ﴿۹﴾وَ مَا جَعَلَہُ اللّٰہُ اِلَّا بُشۡرٰی وَ لِتَطۡمَئِنَّ بِہٖ قُلُوۡبُکُمۡ ۚ وَ مَا النَّصۡرُ اِلَّا مِنۡ عِنۡدِ اللّٰہِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ عَزِیۡزٌ حَکِیۡمٌ ﴿٪۱۰﴾ 

سچے ایمان والے، ان کے لئے درجے ہیں اپنے رب کے پاس اور معافی اور روزی عزت کی. جیسے نکالا تجھ کو تیرے رب نے تیرے گھر سے حق کام کے واسطے، اور ایک جماعت اہل ایمان کی راضی نہ تھی. وہ تجھ سے جھگڑتے تھے حق بات میں اسکے ظاہر ہوچکنے کے بعد گویا وہ ہانکے جاتے ہیں موت کی طرف آنکھوں دیکھتے. اور جس وقت تم سے وعدہ کرتا تھا اللہ دو جماعتوں میں سے ایک کا کہ وہ تمہارے ہاتھ لگے گی اور تم چاہتے تھے کہ جس میں کانٹا نہ لگے وہ تم کو ملے اور اللہ چاہتا تھا کہ سچا کر دے سچ کو اپنے کلاموں سے اور کاٹ ڈالے جڑ کافروں کی. تاکہ سچا کرے سچ کو اور جھوٹا کر دے جھوٹ کو اور اگرچہ ناراض ہوں گنہگار. جب تم لگے فریاد کرنے اپنے رب سے تو وہ پہنچا تمہاری فریاد کو کہ میں مدد کو بھیجوں گاتمہاری ہزار فرشتے لگاتار آنے والے. اور یہ تو دی اللہ نے فقط خوشخبری اور تاکہ مطمئن ہو جائیں اس سے تمہارے دل، اور مدد نہیں مگر اللہ کی طرف سے، بیشک اللہ زور آور ہے حکمت والا.‘‘ 

سورۃ الانفال کی آخری آیات

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ 
اِنَّ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ ہَاجَرُوۡا وَ جٰہَدُوۡا بِاَمۡوَالِہِمۡ وَ اَنۡفُسِہِمۡ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ وَ الَّذِیۡنَ اٰوَوۡا 

’’جو لوگ ایمان لائے اور گھر چھوڑا اور لڑے اپنے مال اور جان سے اللہ کی راہ میں اور جن لوگوں نے جگہ دی وَّ نَصَرُوۡۤا اُولٰٓئِکَ بَعۡضُہُمۡ اَوۡلِیَآءُ بَعۡضٍ ؕ وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ لَمۡ یُہَاجِرُوۡا مَا لَکُمۡ مِّنۡ وَّلَایَتِہِمۡ مِّنۡ شَیۡءٍ حَتّٰی یُہَاجِرُوۡا ۚ وَ اِنِ اسۡتَنۡصَرُوۡکُمۡ فِی الدِّیۡنِ فَعَلَیۡکُمُ النَّصۡرُ اِلَّا عَلٰی قَوۡمٍۭ بَیۡنَکُمۡ وَ بَیۡنَہُمۡ مِّیۡثَاقٌ ؕ وَ اللّٰہُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ بَصِیۡرٌ ﴿۷۲﴾وَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا بَعۡضُہُمۡ اَوۡلِیَآءُ بَعۡضٍ ؕ اِلَّا تَفۡعَلُوۡہُ تَکُنۡ فِتۡنَۃٌ فِی الۡاَرۡضِ وَ فَسَادٌ کَبِیۡرٌ ﴿ؕ۷۳﴾وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ ہَاجَرُوۡا وَ جٰہَدُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ وَ الَّذِیۡنَ اٰوَوۡا وَّ نَصَرُوۡۤا اُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ حَقًّا ؕ لَہُمۡ مَّغۡفِرَۃٌ وَّ رِزۡقٌ کَرِیۡمٌ ﴿۷۴﴾وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا مِنۡۢ بَعۡدُ وَ ہَاجَرُوۡا وَ جٰہَدُوۡا مَعَکُمۡ فَاُولٰٓئِکَ مِنۡکُمۡ ؕ وَ اُولُوا الۡاَرۡحَامِ بَعۡضُہُمۡ اَوۡلٰی بِبَعۡضٍ فِیۡ کِتٰبِ اللّٰہِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ بِکُلِّ شَیۡءٍ عَلِیۡمٌ ﴿٪۷۵﴾ 
اور مدد کی وہ ایک دوسرے کے رفیق ہیں، اور جو ایمان لائے اور گھر نہیں چھوڑا تم کو ان کی رفاقت سے کچھ کام نہیں جب تک وہ گھر نہ چھوڑ آئیں، اور اگر وہ تم سے مدد چاہیں دین میں تو تم کو لازم ہے انکی مدد کرنی مگر مقابلہ میں ان لوگونکے کہ ان میں اور تم میں عہد ہو، اور اللہ جو تم کرتے ہو اس کو دیکھتا ہے. اور جو لوگ کافر ہیں وہ ایک دوسرے کے رفیق ہیں، اگر تم یوں نہ کرو گے تو فتنہ پھیلے گا ملک میں اور بڑی خرابی ہو گی. اور جو لوگ ایمان لائے اور اپنے گھر چھوڑے اور لڑے اللہ کی راہ میں اور جن لوگوں نے انکو جگہ دی اور انکی مدد کی وہی ہیں سچے مسلمان، ان کے لئے بخشش ہے اور روزی عزت کی. اور جو ایمان لائے اس کے بعد اور گھر چھوڑ آئے اور لڑے تمہارے ساتھ ہو کر سو وہ لوگ بھی تمہی میں ہیں، اور رشتہ دار آپس میں حق دار زیادہ ہیں ایک دوسرے کے اللہ کے حکم میں، تحقیق اللہ ہر چیز سے خبردار ہے. ‘‘