مٰلِکِ یَوۡمِ الدِّیۡنِ

تیسری آیت میں دوسرا رُخ آ رہا ہے جس کا ذکر اوپر ہو چکا ہے‘ یعنی انذار. فرمایا: مٰلِکِ یَوۡمِ الدِّیۡنِ ؕ﴿۳﴾ زندگی محض اس دنیا کی زندگی تک محدود نہیں ہے‘ بلکہ یہ زندگی ایک امتحان گاہ ہے‘ جس میں آزمائش ہوتی ہے کہ انسان کس طرح زندگی بسر کرتا ہے. جیسے سورۃ الملک میں فرمایا گیا: خَلَقَ الۡمَوۡتَ وَ الۡحَیٰوۃَ لِیَبۡلُوَکُمۡ اَیُّکُمۡ اَحۡسَنُ عَمَلًا ؕ (آیت۲’’موت اور زندگی کو اس (اللہ تبارک وتعالیٰ) نے پیدا ہی اس لیے کیا ہے کہ تم کو آزمائے (اور دیکھے) کہ تم میں کون اچھے عمل کرنے والا ہے‘‘. لہذا اس آزمائش اور امتحان کا لازمی تقاضاہے کہ جزا و سزا کا ایک دن بھی ہو. اور وہ دن آ کر رہے گا جس دن لوگوں کو اپنے اعمال کا پورا پورا بدلہ ملے گا‘ ہر انسان کامحاسبہ ہوگا اوراسے جواب دہی کرنی ہوگی.اس محاسبہ اور حساب کتاب کے نتیجے میں جزا یا سزا کے فیصلے صادر ہوں گے. یہ ہوگا ’’یوم ُالدین‘‘ جس کے متعلق ہم آیۂ بر کے درس میں پڑھ چکے ہیں. اس کے بارے میں سورۃ الذّٰریٰت میں فرمایا گیا: اِنَّمَا تُوۡعَدُوۡنَ لَصَادِقٌ ۙ﴿۵﴾وَّ اِنَّ الدِّیۡنَ لَوَاقِعٌ ؕ﴿۶﴾ ’’جو وعدہ تم سے کیا جا رہا ہے وہ سچا ہے اور جزا و سزا واقع ہو کر رہے گی‘‘. اس محاسبہ کے نتیجے میں یا جنت ہوگی ہمیشہ کے لیے یا آگ ہوگی دائمی.جیسا کہ نبی اکرم کے ابتدائی خطبات میں سے ایک خطبہ کے آخر میں آتا ہے:

وَاللّٰہِ لَتَمُوْتُنَّ کَمَا تَـنَامُوْنَ ثُمَّ لَتُبْعَثُنَّ کَمَا تَسْتَیْقِظُوْنَ‘ ثُمَّ لَتُحَاسَبُنَّ بِمَا تَعْمَلُوْنَ‘ ثُمَّ لَتُجْزَوُنَّ بِالْاِحْسَانِ اِحْسَانًا وَبِالسُّوْءِ سُوْءً ‘ وَاِنَّھَا لَجَنَّــۃٌ اَبـَدًا اَوْ لَنَارٌ اَبَداً 

’’اللہ کی قسم !تم سب (ایک دن) مرجاؤ گے جیسے (روزانہ) سو جاتے ہو‘ پھر یقینا اٹھائے جاؤ گے جیسے (ہر صبح) بیدار ہو جاتے ہو‘ پھر لازماً تمہارے اعمال کا حساب کتاب ہوگا‘ پھر لازماً تمہیں بدلہ ملے گا اچھائی کا اچھا اور برائی کا برا (اور یہ اس شکل میں ہوگا کہ) وہ جنت ہے ہمیشہ کے لیے یا آگ ہے دائمی‘‘. اس فیصلے اور جزا وسزا کے دن کا مالک و مختار صرف اللہ ہے. ’’مٰلِکِ یَوۡمِ الدِّیۡنِ‘‘. اور اُس روز اللہ کے سوا کسی کے پاس کوئی اختیارنہیں ہوگا . چنانچہ ایک جگہ قرآن مجید میں الفاظ آئے ہیں کہ اُس روز ایک ندا ہوگی: لِمَنِ الۡمُلۡکُ الۡیَوۡمَ ؕ ’’ آج کے دن بادشاہی کس کی ہے؟‘‘ اورپھرجواب میں فرمایا جائے گا : لِلّٰہِ الۡوَاحِدِ الۡقَہَّارِ (المؤمن: ۱۶’’ آج تمام اختیار اور کُل بادشاہی صرف اللہ کے لیے ہے جو الواحد ہے (تنہا ہے‘ یکتا ہے )اور پوری طرح سے قابو یافتہ اور مسلط ہے( مقتدرِ اعلیٰ ہے‘ جو چاہے کرے )‘‘.

یہ ہے اس سورۂ مبارکہ کا پہلا حصہ جس کے بارے میں حدیثِ قدسی کے حوالے سے یہ بتایا جا چکا ہے کہ ان کلمات کی تأثیر کا یہ عالم ہے کہ اِدھر بندہ کہتا ہے : 
اَلۡحَمۡدُ لِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ اور اگر یہ دل سے نکلے ہوئے الفاظ ہوں تو فوراً اللہ تبارک و تعالیٰ جواب میں ارشاد فرماتا ہے: ’’میرے بندے نے میرا شکر ادا کیا‘‘. اور جب بندہ کہتا ہے ’’الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ‘‘ تو اللہ تعالیٰ جواب میں فرماتا ہے : ’’میرے بندے نے میری ثناء کی‘‘. جب بندہ کہتا ہے : ’’مٰلِکِ یَوۡمِ الدِّیۡنِ ‘‘ تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ’’میرے بندے نے میری بڑائی کا اعلان کیا اور میری عظمت بیان کی‘‘.

ڈاکٹر اسرار احمد
اپریل ۲۰۱۹
اللہ تعالیٰ کے نام سے ہم آج کی نشست میں اس سورۂ مبارکہ کے مطالب و مفاہیم سمجھنے کی کوشش کریں گے.