صفت ِ علم کے تین اَبعاد

چوتھی آیت میں اللہ تعالیٰ کی صفاتِ کمال کے ضمن میں صفتِ علم کا ذکر ہے. قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کی جن دو صفات پر سب سے زیادہ زور دیا گیا ہے وہ صفت ِ قدرت اور صفت ِ علم ہیں. چنانچہ وَ ہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ ﴿۱﴾ اور وَ ہُوَ بِکُلِّ شَیۡءٍ عَلِیۡمٌ کے الفاظ قرآن حکیم میں بتکرار و اعادہ وارد ہوئے ہیں. ان میں سے صفت ِ علم کے بیان میں سورۃ التغابن کی یہ چوتھی آیت اس اعتبار سے بڑی منفرد ہے کہ اس میں اللہ تعالیٰ کی صفتِ علم کو تین مختلف اسالیب سے بیان کیا گیا ہے‘ یا یوں کہہ لیجیے کہ ہماری تفہیم کے لیے اس مقام پر اللہ کے علم کے تین اَبعاد (dimensions) کو نمایاں کیا گیا ہے.

چنانچہ ارشاد فرمایا: یَعۡلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ’’وہ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے‘‘. اب آپ غور کیجیے کہ بات مکمل ہو گئی‘ اس لیے کہ ’’ آسمانوں اور زمین‘‘ سے مراد کُل کائنات ہے اور اس کے علم میں ہر شے کا علم شامل ہے‘ لیکن اس پر مزید اضافہ فرمایا: وَ یَعۡلَمُ مَا تُسِرُّوۡنَ وَ مَا تُعۡلِنُوۡنَ ؕ ’’اور وہ جانتا ہے جو کچھ تم چھپاتے ہو (یا چھپا کر کرتے ہو) اور جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو (یا اعلانیہ کرتے ہو)‘‘.یہ ایک دوسرے رُخ سے اللہ کے احاطۂ علمی کا بیان ہو گیا. لیکن پھر مزید تاکید اور زور کے لیے فرمایا: وَ اللّٰہُ عَلِیۡمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوۡرِ ﴿۴﴾ ’’اور اللہ تعالیٰ دلوں کا حال تک جانتا ہے‘‘. جو کچھ تمہارے سینوں میں مخفی ہے اور تمہارے تحت الشعور میں مضمر ہے وہ سب بھی اللہ تعالیٰ پر عیاں ہے اور اللہ اس کا بھی جاننے والا ہے. ان الفاظِ مبارکہ میں اللہ کے احاطۂ علمی کے ایک تیسرے عرض کی جانب اشارہ ہے‘ اس لیے کہ بعض چیزیں تو وہ ہوتی ہیں جنہیں انسان جان بوجھ کر گویا شعوری ارادے کے ساتھ چھپاتا ہے‘ ان کا ذکر تو آیت کے دوسرے حصے میں ہو گیا. اور بعض چیزیں وہ ہیں جو انسان کے تحت الشعور میں مؤثر اور محرک عوامل کی حیثیت سے کارفرما ہوتی ہیں‘ اگرچہ انسان کو خود اُن کا شعور نہیں ہوتا. آیت کے تیسرے اور آخری حصے میں ان کا بھی احاطہ کر لیا گیا کہ تمہارے وہ اصل محرکاتِ عمل جن کا خود تمہیں شعور حاصل نہیں ہوتا‘ اللہ ان سے بھی باخبر ہے‘ اور یہ سب اصلاً شرح ہے وَ ہُوَ بِکُلِّ شَیۡءٍ عَلِیۡمٌ کی!اس چوتھی آیت پر اللہ تعالیٰ کی توحید اور صفات ِ کمال کا بیان ختم ہوتا ہے.

آغازِ درس میں اس سورۂ مبارکہ کا ایک تجزیہ پیش کیا جا چکا ہے کہ اس کی پہلی سات آیات میں ایمانیات ِ ثلاثہ یعنی ایمان باللہ ‘ ایمان بالرسالت اور ایمان بالآخرت کا ذکر ہے اور اس کے بعد تین آیات میں ایمان کی پُر زور دعوت ہے. پہلے رکوع کی ان دس آیات میں سے چار آیات کا ہم مطالعہ کر چکے ہیں‘اور اب ہم بقیہ چھ آیات کا مطالعہ کرتے ہیں. لہذا پہلے ہم ان کا سلیس و رواں ترجمہ ذہن نشین کر لیں:

اَلَمۡ یَاۡتِکُمۡ نَبَؤُا الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا مِنۡ قَبۡلُ ۫ فَذَاقُوۡا وَبَالَ اَمۡرِہِمۡ وَ لَہُمۡ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ﴿۵﴾ذٰلِکَ بِاَنَّہٗ کَانَتۡ تَّاۡتِیۡہِمۡ رُسُلُہُمۡ بِالۡبَیِّنٰتِ فَقَالُوۡۤا اَبَشَرٌ یَّہۡدُوۡنَنَا ۫ فَکَفَرُوۡا وَ تَوَلَّوۡا وَّ اسۡتَغۡنَی اللّٰہُ ؕ وَ اللّٰہُ غَنِیٌّ حَمِیۡدٌ ﴿۶﴾زَعَمَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡۤا اَنۡ لَّنۡ یُّبۡعَثُوۡا ؕ قُلۡ بَلٰی وَ رَبِّیۡ لَتُبۡعَثُنَّ ثُمَّ لَتُنَبَّؤُنَّ بِمَا عَمِلۡتُمۡ ؕ وَ ذٰلِکَ عَلَی اللّٰہِ یَسِیۡرٌ ﴿۷﴾فَاٰمِنُوۡا بِاللّٰہِ وَ رَسُوۡلِہٖ وَ النُّوۡرِ الَّذِیۡۤ اَنۡزَلۡنَا ؕ وَ اللّٰہُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ خَبِیۡرٌ ﴿۸﴾یَوۡمَ یَجۡمَعُکُمۡ لِیَوۡمِ الۡجَمۡعِ ذٰلِکَ یَوۡمُ التَّغَابُنِ ؕ وَ مَنۡ یُّؤۡمِنۡۢ بِاللّٰہِ وَ یَعۡمَلۡ صَالِحًا یُّکَفِّرۡ عَنۡہُ سَیِّاٰتِہٖ وَ یُدۡخِلۡہُ جَنّٰتٍ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہَا الۡاَنۡہٰرُ خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَاۤ اَبَدًا ؕ ذٰلِکَ الۡفَوۡزُ الۡعَظِیۡمُ ﴿۹﴾وَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا وَ کَذَّبُوۡا بِاٰیٰتِنَاۤ اُولٰٓئِکَ اَصۡحٰبُ النَّارِ خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَا ؕ وَ بِئۡسَ الۡمَصِیۡرُ ﴿٪۱۰﴾ 

’’کیا نہیں پہنچ چکی ہے تمہیں خبر ان لوگوں کی جنہوں نے کفر کی روش اختیار کی تھی (تم سے ) پہلے؟ تو وہ چکھ چکے اپنے کیے کی سزا اور ان کے لیے (آخرت کا) دردناک عذاب (مزید) ہے. یہ اس لیے ہوا کہ ان کے پاس ان کے رسول واضح اور روشن تعلیمات کے ساتھ آتے رہے تو انہوں نے کہا کہ کیا انسان ہمیں ہدایت دیں گے؟پس انہوں نے کفر کیا اور پیٹھ موڑ لی تو اللہ نے بھی استغناء اختیار فرمایا‘ اور اللہ تو ہے ہی غنی اور (اپنی ذات میں از خود) محمود. کافروں کو یہ مغالطہ لاحق ہو گیا ہے کہ انہیں (موت کے بعد) اٹھایا نہ جائے گا. (اے نبی !) کہہ دیجیے: کیوں نہیں! اور مجھے میرے ربّ کی قسم ہے کہ تمہیں لازماً اٹھایا جائے گا ‘پھر تم کو جتلایا جائے گا جو کچھ تم کرتے رہے تھے. اور یہ چیز اللہ پر بہت آسان ہے. پس ایمان لاؤ اللہ پر اور اس کے رسولؐ پر اور اُس نور پر جو ہم نے نازل فرمایا (یعنی قرآن مجید).

اور جو کچھ تم کر رہے ہو اللہ اس سے باخبر ہے. جس دن وہ تم کو جمع کرے گا جمع ہونے کے دن (یعنی قیامت کے دن) وہ ہوگا (اصل) ہار اور جیت کے فیصلے کا دن. اور جو ایمان لائے گا اللہ پر اورنیک عمل کرے گا تو وہ اس سے اس کی برائیوں کو دور کر دے گا اور اسے داخل کرے گا ان باغات میں جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی‘ وہ اس میں رہیں گے ہمیشہ ہمیش. یہی ہے بہت بڑی کامیابی. اور وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا ہوگا اور ہماری آیات کو جھٹلایا ہوگا وہ ہوں گے آگ والے‘ وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے. اور وہ بہت ہی برا ٹھکانہ ہے‘‘.

آیاتِ مبارکہ اور ان کے ترجمہ سے یہ بات سامنے آجاتی ہے کہ یہاں اوّلاً ایمان بالرسالت اور ایمان بالآخرت کا بیان نہایت ہی مؤثر اسلوب اور حد درجہ فصاحت و بلاغت سے ہوا ہے. اس اندازِ کلام کے اعجاز سے ہر وہ شخص لطف لے سکتا ہے جو عربی زبان کی تھوڑی سی بھی شُدبُد رکھتا ہو.