سورۃُ القیامۃ کی روشنی میں

نحمدہٗ ونصلی علٰی رَسولہِ الکریم … امَّا بَعد:
اَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ . بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ 

مطالعۂ قرآن حکیم کے جس منتخب نصاب کا سلسلہ وار درس اِن صفحات میں جاری ہے اس کا درسِ نہم سورۃ القیامۃ پر مشتمل ہے. یہ سورۂ مبارکہ دو رکوعوں اور چالیس آیات پر مشتمل ہے اور قرآن حکیم کے انتیسویں (۲۹)پارے کے آخری رُبع میں شامل ہے. مصحف کی ترتیب کے اعتبار سے اس سورۂ مبارکہ کا نمبر ۷۶ ہے.

سورۃ التغابن پر ان دروس کی تکمیل ہو چکی ہے جن میں ایمانیات ِ ثلاثہ یعنی ایمان باللہ‘ ایمان بالآخرۃ اور ایمان بالرسالت کا بیان جامعیت کے ساتھ آیا ہے‘ لیکن چونکہ ہمارے دین کے اعتقادی نظام میں‘ یا یوں کہہ لیجیے کہ اسلام کی فکری و نظریاتی اساسات میں قیامت پر ایمان اور آخرت پر یقین کو بہت اہمیت حاصل ہے‘ لہذا مناسب سمجھا گیا کہ ایک درسِ خاص اسی موضوع پر اس منتخب نصاب میں شامل کیا جائے ‘ اور اس میں ہرگز کوئی شک نہیں کہ قیامت اور آخرت کے موضوع پر قرآن حکیم کی نسبتاً چھوٹی سورتوں میں جامع ترین سورت سورۃ القیامۃ ہے.