قرآن کا عمومی اسلوب‘ مکی اور مدنی سورتوں کا فرق

سورۃ القیامۃ کے بارے میں چند تعارفی اور تمہیدی باتوں کے بعد اب ہمیں اس سورۂ مبارکہ کے مطالب و مفاہیم پر غور کرنا ہے. اس مقصد کے لیے مناسب ہے کہ پہلے ایک نظر اس پوری سورت کے سلیس اور رواں ترجمہ پر ڈال لیں‘ جو حسب ِ ذیل ہے:

’’نہیں! میں قسم کھاتا ہوں قیامت کے دن کی. اور نہیں! مجھے قسم ہے نفس ِملامت گر کی. کیا انسان یہ گمان کرتا ہے کہ ہم اس کی ہڈیوں کو جمع نہ کر سکیں گے؟ کیوں نہیں! ہم قادر ہیں اس پر کہ اس کی ایک ایک پور کو (ٹھیک جوڑ دیں اور) برابر کر دیں. بلکہ (اصل بات یہ ہے کہ) انسان اپنے آگے بھی فسق و فجور کو جاری رکھنا 
چاہتا ہے. پوچھتا ہے کب ہوگا قیامت کا دن؟ تو جب نگاہ چندھیا جائے گی‘ اور چاند بے نور ہو جائے گا‘ اور سورج اور چاند یکجا کر دیے جائیں گے‘ تو اس دن کہے گا یہی انسان کہ کہاں ہے بھاگ جانے کی جگہ؟ کوئی نہیں! کوئی ٹھکانا نہیں! اس روز تو تیرے ربّ ہی کے حضور میں جا ٹھہرنا ہے. اس روز جتلا دیا جائے گا ہر انسان کو ہر اُس چیز کے بارے میں جو اُس نے آگے بھیجی اور جو پیچھے چھوڑی. بلکہ انسان خود اپنے بارے میں (پورے طور سے) آگاہ ہے‘ خواہ وہ کتنے ہی بہانے بنائے. (اے نبی !) آپ اس (قرآن) کے ساتھ تیزی سے اپنی زبان کو حرکت مت دیجیے کہ اسے جلدی سے حاصل کر لیں. تحقیق ہمارے ذمے ہے اس کو جمع کرنا بھی اور اس کو پڑھوانا بھی. پس جب ہم اسے پڑھوائیں تو آپ اس پڑھنے کی پیروی کیجیے. پھر بلاشبہ ہمارے ہی ذمے ہے اس کی مزید تشریح اور توضیح بھی. کوئی نہیں! بلکہ (تمہارا اصل مرض یہ ہے کہ) تم لوگ دُنیا کی محبت میں گرفتار ہو اور آخرت کو نظر انداز کر دیتے ہو! بہت سے چہرے اُس دن تروتازہ ہوں گے. اپنے پروردگار کی طرف دیکھتے ہوئے اور بہت سے چہرے اُس دن سوکھے اور اداس ہوں گے اور یہ گمان کر رہے ہوں گے کہ اب ان کے ساتھ کمر توڑ دینے والا سلوک ہونے والا ہے کوئی نہیں! جب جان ہنسلیوں میں آ پھنسے گی‘ اور کہا جائے گا کہ ہے کوئی جھاڑ پھونک کرنے والا؟ اور انسان یہ سمجھ لے گا کہ اب (دنیا سے) جدائی کا وقت آ گیا ہے. اور پنڈلی پنڈلی سے لپٹ جائے گی. اُس روز تیرے ربّ ہی کی طرف ہانکے جانا ہے. پس نہ اس نے تصدیق کی اور نہ نماز پڑھی‘ بلکہ جھٹلایا اور پیٹھ موڑ لی. پھر چل دیا اپنے گھر والوں کی طرف اکڑتا ہوا. افسوس ہے تجھ پر‘ پس افسوس ہے . پھر افسوس ہے تجھ پر‘ پس پھر افسوس ہے کیا انسان یہ سمجھتا ہے کہ اسے یونہی بے قید چھوڑ دیا جائے گا؟ کیا نہیں تھا وہ منی کی ایک بوند جو ٹپکائی گئی ؟ پھر وہ تھا ایک لوتھڑا جسے اللہ نے بنایا اور سنوارا. پھر اسی میں سے بنا دیے جوڑے ‘ نر اور مادہ کیا وہ ہستی اس پر قادر نہیں کہ مردوں کو زندہ کر سکے؟ ‘‘ (یقینا اے ہمارے ربّ! تو اس پر قادر ہے اور ہم اس پر گواہ ہیں!)

اس سورۂ مبارکہ کا جو مجموعی تأثر اور اس کے مضامین کا جو اجمالی نقشہ ہمارے 
سامنے آتا ہے وہ یہ ہے کہ اس میں قیام ِقیامت اور جزا و سزا کے لیے مثبت استدلال کو تو صرف دو قسموں کی صورت میں بیان کر دیا گیا ہے‘ البتہ منفی طور پر منکرین ِقیامت کے موقف کا ابطال قدرے تفصیل سے کیا گیا ہے اور ان کے اعتراضات اور دلائل کی قلعی کھول دی گئی ہے. چنانچہ ایک طرف اُن کے استعجاب اور استبعاد کو دور کرنے کے لیے اللہ کی اس قدرتِ کاملہ کی طرف توجہ مبذول کرائی گئی ہے جس کا سب سے بڑا مظہر خود انسان کی اپنی پیدائش ہے ‘اور دوسری طرف منکرین ِقیامت کی گمراہی کا اصل سبب بھی بیان کر دیا گیا اور ان کے مرض کی اصل تشخیص بھی کر دی گئی‘ یعنی حب عاجلہ (دنیا کی محبت) میں گرفتار اور فسق و فجور اور ظلم و تعدی کا خوگر ہو جانا‘ جس کی بنا پر انسان حساب کتاب اور جزا و سزا کے تصور تک سے بھاگتا ہے اور اس کبوتر کی مانند جو بلی کو دیکھ کر آنکھیں بند کر لیتا ہے‘ نہیں چاہتا کہ خواہ مخواہ قیامت‘ حشر و نشر‘ حساب کتاب اور جزاو سزا کے تصور سے اپنے موجودہ عیش کو مکدر کرے. واقعہ یہ ہے کہ انسان چاہے زبان سے کچھ کہے‘ اس کے انکارِ قیامت کا اصل سبب وہی ہے جو اِس سورۂ مبارکہ میں بَلۡ یُرِیۡدُ الۡاِنۡسَانُ لِیَفۡجُرَ اَمَامَہٗ ۚ﴿۵﴾ ’’بلکہ (اصل بات یہ ہے کہ )انسان اپنے آگے بھی فسق و فجور کو جاری رکھنا چاہتا ہے‘‘ اور کَلَّا بَلۡ تُحِبُّوۡنَ الۡعَاجِلَۃَ ﴿ۙ۲۰﴾ ’’کوئی نہیں! بلکہ تم لوگ دنیاکی محبت میں گرفتارہو‘‘ کے الفاظِ مبارکہ میں بیان ہوا . ضمنی طور پر ایک نہایت لطیف پیرائے میں یہ حقیقت بھی کھول دی گئی کہ دعوتِ دین اور ابلاغ و تبلیغ حتیٰ کہ تحصیلِ علم کے معاملے میں بھی ’’عجلت پسندی‘‘ مناسب نہیں ہے.

یہ تو اس سورۂ مبارکہ کے مضامین کا اجمالی تجزیہ ہوا. اب مناسب ہے کہ اس کے سلسلہ وار مطالعہ سے قبل قرآن حکیم کے عمومی اسلوب اور اس کی مکی اور مدنی سورتوں کے مزاج کے فرق کے ضمن میں بعض باتیں بطورِ تمہید عرض کر دی جائیں‘ جو اِن شاء اللہ فہمِ قرآن بالخصوص تدبرِ قرآن کے ضمن میں کلید کا کام دیں گی.

قرآن مجید کے عمومی اسلوب کے بارے میں یہ بات جان لینی از حد ضروری ہے کہ قرآن حکیم عام دُنیوی تصنیفات کی مانند نہیں ہے. ہماری تصانیف اور تالیفات کا اپنا 
مخصوص انداز ہوتا ہے‘ ایک خاص ترتیب ہوتی ہے اور ایک معین نہج ہوتا ہے. چنانچہ اس میں ابواب ہوتے ہیں اور ہر باب میں مضمون کا ایک حصہ مکمل ہو جاتا ہے‘ پھر اُس کو اگلے باب میں دہرایا نہیں جاتا. جو لوگ قرآن حکیم کو دنیا کی عام تصنیفات و تالیفات پر قیاس کر کے پڑھنے کی کوشش کرتے ہیں انہیں دِقت کا سامنا بھی ہوتا ہے اور ناکامی بھی ہوتی ہے. اچھی طرح جان لیجیے کہ نہ قرآن مجید عام تصانیف و تالیفات کی مانند ہے‘ نہ اس کی سورتوں کی حیثیت کتاب کے ابواب کی ہے‘ نہ یہ مجموعۂ مضامین یا مجموعۂ مقالات کی حیثیت رکھتا ہے. بلکہ قرآن حکیم کا اسلوب خطبہ کا ہے اور قرآن مجید کی سورتیں گویا خطبات ِ الٰہیہ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ کے حکم سے مصحف میں ایک خاص ترتیب کے ساتھ جمع کر دیا گیا ہے. لہذا قرآن کریم کو ہم ’’مجموعۂ خطباتِ الٰہیہ‘‘ سے تعبیر کر سکتے ہیں.

اب خطبہ کے اسلوب میں چند امور اس کے لازمی جزوکی حیثیت سے شامل ہوتے ہیں. ان امور کو سمجھ لیا جائے تو قرآن حکیم کے فہم میں بڑی آسانی ہو جائے گی.

پہلی بات یہ کہ جب کوئی شعلہ بیان خطیب کوئی خطبہ دے رہا ہو تو اس میں بار بار خطاب کا رُخ بدلتا ہے‘ چنانچہ ابھی خطیب دائیں طرف مخاطب تھا اور گفتگو کر رہا تھا‘ پھر وہ بائیں جانب کے لوگوں کی طرف متوجہ ہو گیا‘ اب وہ ان سے گفتگو کر رہا ہے. اسی طرح اگرچہ اس کے مخاطب اس کے سامنے بیٹھے ہوئے ہوتے ہیں اور وہ ان سے گفتگو کر رہا ہوتا ہے‘ لیکن کبھی یہ گفتگو صیغۂ حاضر و خطاب میں نہیں بلکہ صیغۂ غائب میں ہونے لگتی ہے‘ اور اس میں فصاحت و بلاغت کا ایک خاص رنگ اور تاثیر کی ایک خاص کیفیت پیدا ہوجاتی ہے. اس کے برعکس اکثر ایسا بھی ہوتا ہے کہ جو لوگ موجود نہیں ہوتے‘ ان کو وہ موجود اور حاضر فرض کر کے ان سے صیغۂ خطاب و حاضر میں گفتگو شروع کر دیتا ہے اور دورانِ خطبہ یہ ’’تحویل خطاب‘‘ بار بار اور وقفہ وقفہ سے ہوتا رہتا ہے. مزید برآں خطبات میں عام طور پر مخاطبین کے اعتراضات کو نقل کیے بغیر اور ان کے سوالات کو بیان کیے بغیر اُن کے جوابات دے دیے جاتے ہیں‘ اور ان جوابات کا اسلوب و انداز ایسا ہوتا ہے کہ مخاطبین خواہ وہاں موجود ہوں خواہ نہ ہوں اور ان تک وہ باتیں بعد میں روایتاً 
پہنچیں‘ خود جان لیتے ہیں کہ یہ باتیں فلاں اعتراض کے جواب میں کہی جا رہی ہیں اور یہ تشریحات فلاں مسئلہ کی وضاحت میں پیش کی جا رہی ہیں.

جیسا کہ اس سے قبل عرض کیا گیا تھا‘ خطبہ کے اس اسلوب و انداز کو اچھی طرح سمجھ لیا جائے تو فہمِ قرآن میں بڑی مدد ملے گی. اور اگرچہ پورے قرآن کا اسلوب یہی ہے‘ تاہم بعض سورتوں میں یہ بہت نمایاں ہے. چنانچہ خطبہ کا یہ انداز اس سورۂ مبارکہ میں نہایت شدت کے ساتھ نمایاں ہے. یہاں ساری گفتگو منکرین قیامت سے ہو رہی ہے‘ کبھی صیغۂ حاضرمیں ان سے براہِ راست خطاب ہے‘ کبھی ’’الانسان‘‘ کے حوالے سے بصیغہ غائب گفتگو ہو رہی ہے. درمیان میں چند باتیں نبی اکرم سے خطاب کر کے فرما دی گئیں اور اس طرح تحویل خطاب کی نمایاں مثال سامنے آگئی. پھر خطاب کا رُخ دوبارہ منکرین قیامت و آخرت اور مخالفین بعث بعد الموت کی طرف منتقل ہو گیا. لہذا خطابت کے اسلوب و انداز کے اعتبار سے یہ سورۂ مبارکہ اسلوبِ قرآنی کی نہایت اہم اور نمایاں مثال ہے.

دوسری بات یہ کہ جیسے ایک اعلیٰ پائے کے خطیب کے ہر خطبے کا ایک مرکزی موضوع یا مرکزی خیال یا ایک عمود ہوتا ہے اور خطیب کی تمام گفتگو اس مرکزی خیال یا عمود کے گرد گھومتی ہے ‘اور اگرچہ وہ تمہید کے طور پر یا مختلف دلائل و شواہد کے ضمن میں ایسے مباحث پر بھی اظہارِ خیال کرتا ہے جن کا بظاہر اس کے خطبہ کے عمودیا مرکزی مضمون سے تعلق معلوم نہیں ہوتا ‘لیکن جب وہ بحث کو سمیٹتے ہوئے گفتگو کو ختم کرتا ہے تو خطبے کے تمام اجزاء اس خطبے کے مرکزی موضوع یاعمود سے مربوط نظر آتے ہیں. جیسا کہ اس سے قبل عرض کیا جا چکا ہے کہ قرآن مجید کی ہر سورت ایک خطبۂ خداوندی کی حیثیت رکھتی ہے‘ چنانچہ قرآن حکیم کی ہر سورۂ مبارکہ کا اپنا معین مرکزی خیال‘ موضوع اور عمود ہے‘ اور نہ صرف یہ کہ پوری سورت اس مرکزی خیال یا عمود کے گرد گھومتی ہے بلکہ جس طرح ایک حسین و جمیل ہار میں ہر موتی دوسرے موتی کے ساتھ منسلک ہوتا ہے اسی طرح سورت کی تمام آیات باہم بھی مربوط ہوتی ہیں اور بحیثیت مجموعی سورت کے مرکزی مضمون کے ساتھ 
بھی ان کا ربط قائم رہتاہے.
پھر یہی نہیں ‘بلکہ یہ بھی ایک عظیم حقیقت ہے کہ مصحف جس ترتیب کے ساتھ ہمارے پاس موجود ہے اس میں بھی گہرا ربط موجود ہے اور اس کی تمام سورتیں بھی باہم مربوط اور ایک خاص ترتیب کے سلسلے میں منسلک ہیں. قرآن مجید کا ہر قاری اور ہر طالب علم جانتا ہے کہ قرآن کی نزولی ترتیب بالکل مختلف تھی‘ لیکن نبی اکرم نے اللہ کے حکم اور حضرت جبرائیل علیہ السلام کی رہنمائی میں جس ترتیب سے قرآن حکیم کو مرتب فرمایا اور اُمت کے حوالے کیا وہ یہی ہے جو ہمارے پاس موجود ہے ‘اور یہ لوح ِمحفوظ کی ترتیب کے عین مطابق ہے. گویا یہی قرآن کی ازلی و ابدی ترتیب ہے! اس حقیقت کو اصطلاحاً ان الفاظ میں ادا کیا جاتا ہے کہ مصحف کی یہ ترتیب ’’توقیفی‘‘ ہے ‘ یعنی جس کا علم نبی اکرم کے بتانے پر موقوف ہے. اس لیے کہ مصحف کی یہ ترتیب خود آنحضور نے اللہ کی اس ہدایت کے مطابق معین کی ہے جو حضرت جبرائیل علیہ السلام کے ذریعے سے آپؐ کو دی جاتی تھی.اب چونکہ اللہ حکیم ہی نہیں 
’’اَحکم الحاکمین‘‘ ہے ‘لہذا قرآن حکیم کا ایک نہایت گہرا اور معنی خیز باطنی نظم ہے. اگرچہ قرآن کے اس داخلی نظام اور باطنی نظم کا فہم آسان کام نہیں ہے ‘بلکہ اس کی حکمتوں کے سمجھنے کے لیے بڑے عمیق غور و خوض اور گہرے تدبر و تفکر کی ضرورت ہے‘ اور اگرچہ فہم قرآن کے اس پہلو پر بھی الحمد للہ ہر دور میں مفید کام ہوتا رہا ہے لیکن قرآن مجید کے محاسن و عجائب‘ اس کے علوم و معارف اور اس کے حکم و عبر ایک اتھاہ سمندر کے مانند ہیں جو تاقیام ِقیامت کبھی ختم نہیں ہوگا. چنانچہ نظم قرآن کے ضمن میں بھی عہد حاضر کے ایک محقق مولانا حمید الدین فراہیؒ نے جن پہلوؤں کی نشاندہی کی ہے ان کی جانب پہلے توجہ نہیں ہو سکی تھی اور یقینا آئندہ بھی اس کے مزید پہلو روشن ہوتے رہیں گے‘ لیکن یہ واضح رہنا چاہیے کہ جہاں تک انسانی زندگی کی عملی رہنمائی کا تعلق ہے اس کے نقطۂ نظر سے قرآن مجید نہایت سہل اور آسان کتاب ہے‘ جیسا کہ سورۃ القمر کی چار آیات (۱۷۲۲۳۲۴۰) میں اللہ تعالیٰ نے بتکرار و اعادہ ارشادفرمایا: وَ لَقَدۡ یَسَّرۡنَا الۡقُرۡاٰنَ لِلذِّکۡرِ فَہَلۡ مِنۡ مُّدَّکِرٍ ﴿﴾

’’اور بلاشبہ ہم نے اس قرآن کو نصیحت اخذ کرنے کے لیے آسان کر دیا ہے‘ تو ہے کوئی نصیحت پکڑنے والا؟‘‘
تیسری بات ابتدائی مکی سورتوں کے مخصوص امتیازی اسلوب و انداز سے متعلق ہے. اس لیے کہ مکی دَور کے بھی آخری حصے میں جو سورتیں نازل ہوئیں ان کا اسلوب ابتدائی مکیات سے مختلف اور مدنی سورتوں کے اسلوب سے مشابہ ہے. اگرچہ ظاہر ہے کہ یہ ’’رنگ دگر‘‘ زیادہ پختگی اور گہرائی کے ساتھ مدنی سورتوں ہی میں ظاہر ہوتا ہے. ابتدائی مکیات اور بعد کی سورتوں کے مابین جو فرق و تفاوت ہے‘ اس کو یوں سمجھئے کہ ابتدائی مکی سورتوں میں خطابت کا رنگ اور انداز نہایت نمایاں اور بہت گہرا ہے. چنانچہ ان میں جوش و خروش بھی زیادہ ہے اور زجر و توبیخ اور انذار و تنبیہہ بھی اس انداز کی حامل ہے جس کی بابت حالی نے اس شعر میں اشارہ کیا ہے کہ ؎ 

وہ بجلی کا کڑکا تھا یا صوتِ ہادی
عرب کی زمیں جس نے ساری ہلا دی!

چنانچہ اس کا کسی قدر اندازہ سورۃ القیامۃ کے ترجمے ہی سے ہو جاتا ہے کہ ایسے معلوم ہوتاہے کہ ایک شعلہ بیان خطیب نہایت پُرجلال اور پُرہیبت انداز میں خطبہ دے رہاہے. 
ابتدائی مکی سورتوں کا ایک دوسرا امتیازی وصف یہ ہے کہ ان کی آیات چھوٹی چھوٹی ہیں‘ جبکہ بعد کی مکیات اور تقریباً تمام مدنی سورتوں میں آیات کا طول اور حجم مقابلتاً بہت زیادہ ہے. چنانچہ ہم ایک فوری تقابل کر سکتے ہیں. یہ سورۃ القیامہ ہے جو ابتدائی مکی سورتوں میں سے ایک ہے جس کا ہم فی الوقت مطالعہ کر رہے ہیں. اس سے متصلاً قبل ہم نے سورۃ التغابن کا مطالعہ مکمل کیا ہے جومدنی سورت ہے. وہ بھی دو رکوعوں پر مشتمل ہے اور اس سورۃ القیامۃ کے بھی دو رکوع ہیں. مصحف میں اگر آپ ان دونوں کے حجم کا تقابل کریں گے تو سورۃ القیامۃ‘ سورۃ التغابن کے تین چوتھائی سے بھی کم ہے‘ لیکن سورۃ 
التغابن کی آیات کی تعداد اٹھارہ ہے اور سورۃ القیامہ کی آیات کی تعداد چالیس ہے. مزید برآں اکثر ابتدائی مکی سورتوں میں غنائیت اور ترنم بھی پایا جاتاہے. چنانچہ ان میں قوافی کا لحاظ بھی نمایاں ہے اور بہاؤ بھی تیز ہوتا ہے. اس طر ح ایک جانب جوش و خروش اور دوسری جانب تیزی و روانی‘ ان دونوں کے امتزاج سے زبردست اثر انگیزی پیدا ہوجاتی ہے. یہ تمام اوصاف ابتدائی مکی سورتوں میں بہت نمایاں ہیں‘ جبکہ آخری دَور کی مکیات اور بالخصوص مدنی سورتوں میں چند استثنائی مثالوں کو چھوڑ کر آپ ایک مختلف انداز اور رنگ پائیں گے. چنانچہ ان میں آیات بھی طویل ہوگئی ہیں‘ بہاؤ بھی تیز نہیں ہے‘ بلکہ مضمون بڑے پرسکون انداز میں بالکل ایسے آگے بڑھتا ہے جیسے کوئی دریا بہہ رہا ہو . آیات کی طوالت کے باعث عام طور پر ان میں قوافی (فواصل) اور صوتی آہنگ کابھی اتنا اہتمام نہیں رہتا جو ابتدائی مکیات کا خصوصی وصف ہے.

سورۃ القیامۃ کے حوالے سے قرآن حکیم کے عظیم معجزہ ہونے کا ایک یہ پہلو بھی بآسانی سمجھ میں آ جاتا ہے کہ یہ فصاحت و بلاغت کی معراج اور عربی زبان و ادب کا عظیم ترین شاہکار ہے. قرآن مجید کا عربی زبان پر یہ عظیم احسان تو بالکل ظاہر و باہر ہے کہ مختلف علاقائی ’’بولیوں‘‘ سے قطع نظر ادبی اور کتابی عربی کی روایت کا تسلسل اسی کے دم سے قائم و دائم ہے‘ اور اس طرح قرآن حکیم عربی زبان کو گویا ایک ستون کی مانند تھامے ہوئے ہے. چنانچہ اب بھی عربی ادب میں قرآن مجید کو بالکل وہی مقام حاصل ہے جو اِس کے نزول کے وقت تھا‘ اور اس کی بنیاد کسی مذہبی عقیدے یا عصبیت پر قائم نہیں ہے‘ اس لیے کہ کثیر تعداد میں ایسے یہود و نصاریٰ آج بھی موجود ہیں جن کی مادری زبان عربی ہے اور اس کے باوجود کہ وہ قرآن حکیم کے اللہ کی طرف سے نازل شدہ ہونے پر یقین نہیں رکھتے ‘لیکن بایں ہمہ وہ بھی یہ بات تسلیم کرتے ہیں کہ قرآن مجید فصاحت و بلاغت کی معراج اور عربی ادب کا شاہکار ہے اور قرآن مجید کے اس وصف کے بارے میں ان کو بھی کوئی اشتباہ نہیں ہے.

اور اگرچہ یہ بات تو بہت تفصیل طلب ہے ‘بلکہ واقعہ یہ ہے کہ ایک مستقل اور وسیع موضوع ہے کہ قرآن حکیم کے اعجاز کے کون کون سے رُخ اور کون کون سے پہلو ہیں ‘اور اس میں ہرگز کوئی شک نہیں ہے کہ اس کے معانی‘ اس کے مطالب‘ اس کے مفاہیم‘ اس کا طرزِ استدلال‘ اس کی اثر انگیزی‘ اس کی علمی رہنمائی‘ اس کی روحانی و اخلاقی تعلیم‘ پھر انسان کے پیچیدہ ترین عمرانی اور تمدنی مسائل کا جو متوازن ومعتدل حل یہ پیش کرتا ہے اور انسانی زندگی کے لیے جو کامل اور عدل وقسط پر مبنی دستور یہ عطا فرماتا ہے وہ سب اپنی جگہ اعجازِ قرآنی کے اہم اور عظیم مظہر ہیں اور جیسے جیسے زمانہ گزرے گا اور نئے نئے حالات و واقعات سامنے آئیں گے اعجازِ قرآنی کے یہ پہلو مزید اُجاگر ہوں گے‘ لیکن اس میں بھی ہرگز کوئی شک نہیں ہے کہ قرآن کے نزول کے وقت اس کے اعجاز کا جو پہلو سب سے زیادہ مؤثر ثابت ہوا تھا وہ ہے اس کا اسلوب‘ ادبیت‘ خطابت‘ فصاحت‘ بلاغت‘ سلاست‘ حلاوت‘ تروتازگی ‘ چاشنی اور اس کا جوش و خروش! اور اس کے یہ تمام محاسن تاحال اسی طرح آفتابِ عالم تاب کی مانند قائم ہیں اور بحمداللہ قرآن حکیم کے بارے میں ہر صاحب ِ ذوق جانتا ہے کہ آج بھی نبی اکرم کے یہ ارشاد ات صد فی صد درست اور ہر شائبہ سے پاک ہیں کہ : لاَ یَشْبَعُ مِنْہُ الْعُلَمَائُ وَلَا یَخْلَقُ عَلٰی کَثْرَۃِ الرَّدِّ وَلَا تَنْقَضِیْ عَجَائِبُہٗ (۱’’اہل علم ا س سے کبھی سیر نہ ہو سکیں گے‘ اور اس پر کثرت و تکرارِ تلاوت سے کبھی باسی پن طاری نہیں ہو گا (اس کے لطف اور اثر انگیزی میں کوئی کمی نہیں آئے گی) اور نہ ہی اس کے عجائبات (یعنی نئے نئے علوم و معارف )کا خزانہ کبھی ختم ہو گا‘‘. گویا یہ قرآنِ مجید اور فرقانِ حمید ہمیشہ اسی طرح تابندہ‘ پائندہ اور تروتازہ کلام رہے گا جس طرح اپنے نزول کے وقت تھا . قرآن مجید کے یہ ادبی محاسن اگرچہ اس کے ایک ایک لفظ میں نمایاں ہیں ‘لیکن ان کا جس شدت کے ساتھ ظہور ابتدائی مکی سورتوں میں ہوا ہے اس کا ادراک اور شعور تو ہم غیر عرب عامیوں کو بھی بہت حد تک ہوجاتا ہے. اور چونکہ سورۃ القیامہ اس کی ایک نہایت نمایاں مثال ہے لہذا اس سورۂ مبارکہ کے ضمن میں اس تمہیدی گفتگو میں قرآن حکیم کے عمومی اسلوب اور بالخصوص ابتدائی مکی سورتوں اور بعد میں نازل ہونے والی سورتوں کے مابین انداز (۱) سنن الترمذی‘ کتاب فضائل القرآن عن رسول اللہ ‘ باب ما جاء فی فضل القرآن. اوراسلوب کے فرق کی جانب یہ اشارات کر دیے گئے . اب ہم اس سورۂ مبارکہ کا سلسلہ وار مطالعہ شروع کرتے ہیں.