منکرین ِآخرت پر ردّ و قدح

سورۃ القیامۃ کی ابتدائی دو آیات میں وارد شدہ قسموں کے بعد‘ جن کے بارے میں یہ عرض کیا جا چکا ہے کہ ان میں اثباتِ آخرت اور وقوعِ قیامت کے لیے قرآن مجید کا مثبت استدلال جامعیت کے ساتھ سمو دیا گیا ہے‘ منکرین ِآخرت کے اعتراضات اور شبہات کی ترجمانی کرتے ہوئے فرمایا گیا:

اَیَحۡسَبُ الۡاِنۡسَانُ اَلَّنۡ نَّجۡمَعَ عِظَامَہٗ ؕ﴿۳

’’کیا انسان کا خیال یہ ہے کہ ہم اس کی ہڈیوں کو ہرگز جمع نہیں کر سکیں گے؟‘‘
پھر فرمایا:

بَلٰی قٰدِرِیۡنَ عَلٰۤی اَنۡ نُّسَوِّیَ بَنَانَہٗ ﴿۴

’’کیوں نہیں! ہم قادر ہیں اس پر کہ اس (انسان) کی ایک ایک پور کو برابر اور درست کر دیں.‘‘
جیسا کہ عرض کیا جا چکا ہے ‘ اس اسلوب میں اصل وزن متکلم کی شخصیت کا ہوتا ہے‘ یعنی یہ کہ یہ بات کون کہہ رہا ہے! پھر یہ کہ وہ کس یقین سے کہہ رہا ہے اور کس اذعانی کیفیت کے ساتھ کہہ رہا ہے کہ یقینا ہم کو اِس پر کامل قدرت حاصل ہے کہ ہڈیاں تو ہڈیاں ہم انسان کی انگلیوں کی ایک ایک پور اور اس کے ایک ایک ریشے کو درست کر دیں اور ازسر نو بنا دیں.بظاہر تو یہ صرف ایک دلیل ِخطابی ہے‘ لیکن غور کریں گے تو معلوم ہو گا کہ اس میں ایک عقلی اور منطقی دلیل بھی مضمر ہے. اور وہ یہ کہ مخاطب اس بات پر غور کرے کہ آیا 
وہ اللہ کو بھی مانتا ہے یا نہیں؟ اگر وہ اللہ ہی کو نہیں مانتا تو اس سے بعث بعد الموت اور قیامت و آخرت کے بارے میں گفتگو بے کار اور لاحاصل ہے. ایسے شخص سے تو پہلے وجودِ باری تعالیٰ کے بارے میں گفتگو ہو گی. لیکن اگر وہ اقرار کرتا ہے کہ وہ اللہ کو مانتا ہے تو سوال یہ پیدا ہو گا کہ کیا وہ اللہ کو ہر چیز پر قادر مانتا ہے؟ اگر اُس نے اللہ کو ’’القدیر‘‘ اور ’’القادر‘‘ مانا ہے تو اب اس کا اعتراض از خود ختم ہو جاتا ہے. اس لیے کہ اگر اللہ ہر چیز پر قادر ہے تو پھر تمہارا اعتراض کس بات پر ہے؟ تمہارے تمام شکوک و شبہات کے غبارے کی ہوا تو اللہ کو قادرِ مطلق تسلیم کرنے کے بعد خود بخود نکل جاتی ہے‘ اس لیے کہ جو ہستی ہر چیز پر قادر ہے وہی ہے جو مردوں کو دوبارہ زندہ کر سکے گی.
دوسری دلیل انسان کے مشاہدات سے دی گئی ہے. یہ دلیل اس سورۂ مبارکہ کی آخری آیات ( ۳۶ تا ۴۰) میں وارد ہوئی ہے جہاں اس استفہامِ انکاری کے بعد کہ ’’ کیا انسان نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ اسے یوں ہی چھوڑ دیا جائے گا؟‘‘ انسان کو متوجہ کیا گیا ہے کہ وہ ذرا اپنی تخلیق کے اس حصے پر غور کرے جو اُس کے علم میں ہے‘ یعنی رحم ِمادر میں جنین کے ارتقائی مراحل جن سے اللہ کی قدرتِ کاملہ اور اس کی تخلیقی قوتوں کا کسی درجے میں اندازہ کیا جا سکتا ہے. اس لیے کہ ہر انسان جانتا ہے کہ اس کا آغاز ایک گندے پانی کی بوند سے ہوا. پھر اُس نے ایک لوتھڑے کی شکل اختیار کی. پھر اُسی لوتھڑے کے اندر سے یہ تمام اَعضاء و جوارح‘ یہ سماعت و بصارت‘ یہ شعور و اِدراک‘ یہ عقل و فہم‘ یہ غور و فکر کی استعداد اور حسی معلومات سے نتائج اخذ کرنے کی صلاحیت‘الغرض انسان کی حیران کن مشینری وجود میں آئی‘ اور اس کی تخلیق بھی ہوئی اور تسویہ بھی ہوا‘ اور اس کی نوک پلک سنواری گئی. مزید برآں اسی گندے پانی کی بوند سے کسی کو مرد بنا دیا کسی کو عورت‘ حالانکہ کوئی بڑی سے بڑی خوردبین بھی یہ فرق نہیں کر سکتی کہ رحم ِمادر میں نشوونما پانے والا ’’نطفۂ اَمشاج‘‘ یعنی مرد کے نطفہ اور عورت کے بیضہ کے اتحاد و امتزاج سے وجود میں آنے والا واحد خلیہ نر ہے یا مادہ. پھر ذرا انسان غور کرے کہ مرد اور عورت کا جسمانی نظام ایک دوسرے سے کس قدر مختلف ہے‘ اور اس پر بھی مستزاد اُن کی نفسیاتی ساخت اور 
میلانات و رجحانات کے مابین کتنا فرق و تفاوت ہے! اور یہ سب کچھ اس گندے پانی کی بوند سے تخلیق کیا گیا ہے جس کا نام زبان پر لانا بھی کوئی شائستہ اور مہذب انسان پسند نہیں کرتا. اللہ کی یہ ساری خلاقی تمہاری نگاہوں کے سامنے ہے. کتنی حیرت کی بات ہے کہ اس سب کے باوجود تمہیں یہ وسوسہ لاحق رہتا ہے اور تم یہ اعتراض کرتے ہوکہ انسان کے مر جانے اور مٹی میں مل کر مٹی ہو جانے‘ یا جل کر راکھ ہو جانے یا کسی درندے یا مچھلی کی غذا بن جانے کے بعد اسے دوبارہ کیسے اٹھایا جا سکتا ہے اور کیسے دوبارہ زندہ کیا جا سکتا ہے؟ کیا وہ اللہ جس کی خلاقی کا یہ عالم ہے کہ وہ گندے پانی کی ایک بوند سے انسان جیسی اشرف المخلوقات ہستی تخلیق فرما دیتا ہے‘ اس پر قادر نہیں ہو گاکہ مردوں کو دوبارہ زندہ کر سکے؟ چنانچہ ارشاد ہوتا ہے :

اَیَحۡسَبُ الۡاِنۡسَانُ اَنۡ یُّتۡرَکَ سُدًی ﴿ؕ۳۶﴾ اَلَمۡ یَکُ نُطۡفَۃً مِّنۡ مَّنِیٍّ یُّمۡنٰی ﴿ۙ۳۷﴾ثُمَّ کَانَ عَلَقَۃً فَخَلَقَ فَسَوّٰی ﴿ۙ۳۸﴾فَجَعَلَ مِنۡہُ الزَّوۡجَیۡنِ الذَّکَرَ وَ الۡاُنۡثٰی ﴿ؕ۳۹﴾اَلَیۡسَ ذٰلِکَ بِقٰدِرٍ عَلٰۤی اَنۡ یُّحۡیَِۧ الۡمَوۡتٰی ﴿٪۴۰

’’کیا انسان نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ اس کو (بلابازپرس) یونہی چھوڑ دیا جائے گا؟ کیا (ابتدا میں) وہ منی کا ایک قطرہ نہ تھا جو (رحم مادر میں) ٹپکایا گیا تھا؟ پھر وہ خون کا ایک لوتھڑا بنا جسے پھر (اللہ نے انسان کی شکل میں) تخلیق فرمایا‘ پھر (اس کا) تسویہ فرمایا (اس کی نوک پلک سنواری)‘ پھر اس سے مرد اور عورت کی دو جنسیں بنائیں. کیا وہ ہستی اس پر قادر نہیں ہے کہ مردوں کو زندہ کر سکے؟‘‘
الغرض یہ ہے وہ انسان کے مشاہدے پر مبنی منطقی دلیل جو منکرین ِقیامت کے وسوسے اور ان کے استبعاد کا قطعی ابطال اور ان کے جملہ اعتراضات کی نفی کر دیتی ہے.
واضح رہے کہ اثباتِ آخرت اور وقوعِ قیامت کا مثبت استدلال تو وہ تھا جو اس سورۂ مبارکہ کے آغاز میں وارد شدہ دو قسموں میں سے دوسری قسم میں اجمال کے ساتھ بیان کر دیا گیا تھا کہ انسان کا ضمیر یا نفس لوامہ شاہد ہے کہ فطرتِ انسانی نیکی اور بدی میں امتیاز کرتی ہے. اب ایک جانب عقل ِانسانی مطالبہ کرتی ہے کہ ؏ ’’گندم از گندم بروید‘ 
جوزجو!‘‘ کے مطابق نیکی کی بھرپور جزا اور بدی کی پوری پوری سزا ملنی چاہیے‘ اور دوسری جانب مشاہدہ یہ بتاتا ہے کہ اس دنیا میں فی الواقع ایسا نہیں ہو رہا‘ بلکہ بسا اوقات معاملہ برعکس ہوتا ہے. لہذا ثابت ہوا کہ یہ دنیا ناقص ہے‘ چنانچہ ایک دوسری زندگی ہونی چاہیے جس میں نیکی اور بدی کا بھرپور بدلہ ملے. عقل کے اس مطالبے اور فطرت کے اس تقاضے کے مقابلے میں منکرین ِآخرت و قیامت کی جانب سے صرف ایک منفی دلیل پیش کی گئی. یعنی صرف یہ استبعاد اور استعجاب کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ جب انسان مٹی ہو کر مٹی میں مل جائے اور اس کی ہڈیاں بھی گل سڑ جائیں تو اسے دوبارہ اٹھالیا جائے!
اس کا ایک جواب تو خطابی انداز میں دیا گیا : 
بَلٰی قٰدِرِیۡنَ عَلٰۤی اَنۡ نُّسَوِّیَ بَنَانَہٗ ﴿۴﴾ ’’کیوں نہیں! (ہم تو) اس کی انگلیوں کی پوروں تک کو درست کرنے پر قادر ہیں‘‘. جس میں یہ منطقی دلیل بھی مضمر ہے کہ جب تم اللہ کو مانتے ہو اور اسے ہر چیز پر قادر جانتے ہو تو اب تمہار ے پاس اعتراض کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی‘اور دوسرا جواب انسان کی رحم ِمادر میں جنین کی حیثیت سے تخلیق کے حوالے سے دیا گیا. کس کے لیے ممکن ہے کہ اس ہستی کی قدرت اور تخلیقی قوت کا اندازہ کر سکے جو ایک گندے پانی کی بوند سے انسان جیسی عظیم مخلوق پیدا فرما دیتا ہے؟ کیا وہ قادرِ مطلق تمہیں مرنے کے بعد دوبارہ زندہ نہ کر سکے گا؟ ظاہر بات ہے کہ اس سوال کا جواب ہر سلیم الفطرت اور سلیم العقل انسان اثبات میں دے گا. چنانچہ یہی بات ہمیں نبی اکرم نے اس طرح تلقین فرمائی کہ آپؐ کی عادتِ مبارکہ تھی کہ آپؐ اس سورۃ کے اختتام کے بعد فرمایا کرتے تھے : بَلٰی (۱’’کیوں نہیں!‘‘(ہم اس پر گواہ ہیں کہ ہمارا رب مردوں کو زندہ کر سکتا ہے.)‘‘