پانچواں حق

قرآن کو دوسروں تک پہنچایا جائے


قرآن حکیم کا پانچواں اور آخری حق یہ ہے کہ اسے لوگوں تک پہنچایا جائے. یعنی اس کے پڑھنے‘ سمجھنے اور اس پر عمل کرنے پر ہی اکتفا نہ کیا جائے بلکہ یہ مسلمانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ تمام لوگوں تک اس کے پیغامِ ابدی کو پہنچائیں. اس لیے کہ اگر ہم مسلمان اس قرآن کو پوری دنیا تک نہیں پہنچائیں گے تو اور کون پہنچائے گا؟ حضور  تو اللہ کے آخری نبی تھے. اب قیامت تک کوئی اور نبی نہیں آئے گا. لہذا جن لوگوں تک اللہ کا پیغام ابھی تک نہیں پہنچا ان تک اس پیغام کو پہنچانے کی ذمہ داری اب حضور  کی امت پر ہے. حضور اکرم  نے مسلسل ۲۳ سال اسی قرآن کی دعوت و تبلیغ کا فریضہ سرانجام دیا. اور یاد رکھیے کہ یہ کوئی آسان کام نہ تھا. یہ بہت پُر مشقت اور محنت طلب کام تھا.

اس راہ میں آپ کو ہرم قسم کی صعوبتیں اور تکلیفیں برداشت کرنی پڑیں. لیکن آپؐنے ہر مصیبت کو پورے صبر و تحمل سے برداشت کیا اور اپنے مشن کو جاری رکھا. یہاں تک کہ ۲۳ سال کی بھرپور جدوجہد کے نتیجے میں آپؐ نے عرب کے پورے خطے میں نہ صرف یہ کہ اللہ کے پیغام اور اس کے آخری ہدایت نامے کو بھرپور انداز میں پہنچا دیا بلکہ اس ہدایت کی بنیاد پر ایک نظامِ حکومت قائم کر کے یہ ثابت کر دیا کہ اللہ کا بتایا ہوا راستہ ہی صحیح ترین راستہ ہے اور اللہ کا دین دنیا کے تمام نظاموں سے بہتر ہے. پھر اپنے آخری خطبہ حج کے موقع پر پہلے تو آپؐ نے تمام صحابہؓ سے یہ گواہی لی کہ کیا میں نے اللہ کا دین اور اس کا پیغام تم تک پہنچا دیا ہے؟ اور جب تمام صحابہؓ نے بلند آواز سے یہ کہا کہ ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ نے تبلیغ کا حق ادا کر دیا ہے تب آپؐ نے فرمایا: ’’اب جو لوگ یہاں موجود ہیں اُن کی ذمہ داری ہے کہ وہ اللہ کے دین اور اس کے پیغام کو اُن تک پہنچائیں جو یہاں موجود نہیں ہیں‘‘. یعنی حضور  نے اپنے مشن کو پورا فرمانے کے بعد اب قیامت تک آنے والی بقیہ پوری نوع انسانی تک اللہ کے کلام کو پہنچانے کی ذمہ داری اُمت کے کندھوں پر ڈال دی .گویا ؎ 

وقت فرصت ہے کہاں کام ابھی باقی ہے
نورِ توحید کا اتمام ابھی باقی ہے!

مسلمانوں کی اسی ذمہ داری کو حضور  نے ایک اور انداز سے واضح فرمایا ہے. آپؐ کا ارشاد ہے: بَلِّغُوا عَنِّی وَ لَوْ اٰیَۃٌ ’’پہنچاؤ میری طرف سے خواہ ایک ہی آیت‘‘. یعنی اگر کسی شخص نے ابھی صرف ایک ہی آیت سیکھی ہے تو اسے چاہیے کہ وہ اسی ایک آیت کو دوسروں تک پہنچائے اور اس طرح تبلیغ قرآن کے نبوی مشن میں اپنا حصہ ادا کرے. معلوم ہوا کہ قرآن کی تبلیغ کرنا ہر مسلمان کے ذمے ہے. جس نے جتنا قرآن پڑھا اور سیکھا ہو‘ وہ اُس کی تبلیغ کرے اور جتنا جتنا سیکھتا جائے اتنا ہی دوسروں تک پہنچاتا جائے. دیکھیے کسی کے ذہن میں یہ خیال نہ آئے کہ قرآن کا پڑھنا اور پڑھانا کوئی ہلکے درجے کا کام ہے.

حضور  کا یہ فرمان تو بہت مشہور ہے کہ : ’’خَیْرُکُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْاٰنَ وَ عَلَّمَہٗ‘‘ یعنی ’’تم میں بہترین شخص وہ ہے جو قرآن سیکھے اور دوسروں کو سکھائے‘‘. ہم میں سے ہر ایک کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ اپنے لیے بہترین کیرئیر کا انتخاب کرے‘ کوئی ڈاکٹر بننا چاہتا ہے تو کوئی انجینئر بننے کے لیے محنت کرتا ہے تاکہ دنیا میں عزت سے زندگی بسر کرے‘ لیکن آپ غور کریں کہ ہمارے نبیؐ نے ہمارے لیے جس بہترین کیرئیر کا انتخاب کیا ہے وہ نہ صرف دنیا میں عزت و وقار کا باعث ہے بلکہ آخرت کی کامیابی کا ضامن بھی ہے. تو ہم میں سے کون ہے جو اس کیرئیر کو اپناتے ہوئے قرآن کے پڑھنے پڑھانے ہی کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لے!

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہم سب کو قرآن مجید کے حقوق کی ادائیگی کی توفیق عطا فرمائے. آمین!