پیش لفظ

صدر مؤسس مرکزی انجمن خدام القرآن لاہور و امیر تنظیم اسلامی جناب ڈاکٹر اسرار احمد نے مسجد دارالسلام باغ جناح لاہور میں ذوالحجہ ۱۴۰۲ھ کے پہلے جمعہ میں ’’عید الاٖٖضحی اور فلسفۂ قربانی‘‘ کے موٖضوع پر ایک جامع اور مبسوط تقریر فرمائی تھی. یہ تقریر ماہنامہ ’’میثاق‘‘ کی اشاعت بابت ماہ ذوالحجہ۱۴۰۲ھ(۱۹۸۲ء) میں شائع کی گئی اور پھر ۱۹۸۳ء میں اسے افادۂ عام کے پیش نظر کتابی صورت میں شائع کیا گیامزید برآں اس کے ساتھ محترم ڈاکٹر صاحب کی ایک جامع تحریر بعنوان’’حج اور عیدالاضحی اور ان کی اصل روح،قرآن حکیم کے آئینے میں‘‘ بھی شامل اشاعت کر دی گئی تھی.

حال ہی میں اس کے نئے ایڈیشن کی تیاری کے طور پر اس کی کمپیوٹر کتابت کرائی گئی ہے. جس سے اس کتابچے کے حسن ظاہری میں خاطر خواہ اضافہ ہو گیا ہے. اس کتابچے کے مطالعے سے جہاں ان شاءاللہ تعالیٰ عیدالاضحی اور قربانی میں جو ربط و تعلق ہے وہ قارئین کے سامنے آۓ گا، وہیں وہ مغالطے بھی اگر اللہ نے چاہا تو دور ہو جائیں گے جو حج کے موقع پر منیٰ کے علاوہ دوسری جگہوں پر قربانی کی مخالفت میں منکرین حدیث کی جانب سے دئیے جاتے ہیں.

ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم وہ طلب پیدا ہو کہ ہم عقل و شعور کے ساتھ یہ معلوم کر سکیں کہ اصل ’’روحِ قربانی‘‘ کیا ہے!پھر اللہ تبارک و تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ ہمیں توفیق دے کہ ہم اس کو اپنی شخصیت میں جذب کر سکیں اور صرف ہماری زبان قال ہی سے نہیں بلکہ زبان حال سے بھی اس حقیقت کی جھلک نظر آۓ کہ: 
قُلۡ اِنَّ صَلَاتِیۡ وَ نُسُکِیۡ وَ مَحۡیَایَ وَ مَمَاتِیۡ لِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۱۶۲﴾ 

ناظم مکتبہ 
نحمدہ و نصلّی علیٰ رسولہ الکریم 
خطبہ مسنونہ‘ تلاوت آیات اور ادعیہ ماثورہ کے بعد فرمایا:

حضرات گرامی!
اسلام میں عیدین دو ہی ہیں عید الفطر اور عید الاضحی . عید الاضحی کی نمایاں ترین اور امتیازی شان قربانی ہے. اس قربانی کا فلسفہ کیا ہے اور یہ کس چیز کی علامت ہے؟ یہ وہ بات ہے جو خود صحابہ کرام ؓ نے نبی اکرم  سے دریافت کی تھی. اس لیے کہ قرآن مجید نے صحابہ کرامؓ میں یہ روح بیدار کر دی تھی کہ وہ احکام ربّانی کی علّتیں ، مصلحتیں جاننے کی کوشش کریں. قرآن مجید کا عمومی انداز یہی ہے کہ وہ جو حکم دیتا ہے تو اس کی علت و حکمت بھی بیان کر دیتا ہے. چنانچہ نماز کی حکمت یوں بیان کی گئ ہے کہ : 
اَقِمِ الصَّلٰوۃَ لِذِکۡرِیۡ ’’نماز قا ئم کرو میری یاد کے لیے ‘‘. یعنی یہ صرف ایک رسم(ritual) نہیں ہے، اس کا ایک متعیّن مقصد ہے روزہ رکھنے کا حکم دیا تو ساتھ ہی اس کی حکمت بھی بتا دی کہ لَعَلَّکُمۡ تَتَّقُوۡنَ ’’تا کہ تم میں تقوی ٰ پیدا ہو جاۓ‘‘. واضح کر دیا گیا کہ روزے کی یہ عبادت بھی محض ایک رسم نہیں ہے، بلکہ اس کا بھی ایک معین مقصد ہے اور اس کی بھی ایک حکمت ہے. لہذا قربانی کی حکمت معلوم کرنے کے لیے صحابہ کرام ؓ نے آنحضور ؐ سے دریافت کیا کہ : مَا ھٰذِہِ الْاضَاحِیْ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ’’اے اللہ کے رسول ؐ ! ان قربانیوں کی کیا حقیقت ہے؟‘‘

دیکھیٔے؛ اس سوال کے اندازمیں بھی ایک بہت پیارا نکتہ ہے. یعنی صحابہ کرامؓ عرض کر رہے ہیں کہ قربانی تو ہم دیتے ہی ہیں؛ تو کیو نکہ آپۥ نے اس کا حکم دیا ہے. اس سے معلوم ہوا کہ حکم پر عمل کرنے کا دارومدار حکمت و علّت اور مقصد کے جاننے یا سمجھ لینے پر نہیں ہے؛ حکم پر عمل تو اصلاً اس لیے ہو گا کہ وہ حکم اللہ یا اس کے رسول کا ہے . البتہ اس میں نہ صرف یہ کہ کوئی حرج نہیں ہے بلکہ اس کی 

حوصلہ افزائی کی گئی ہے ہر حکم پر غور و تدبر کرواور احکام کی علتیں اور حکمتیں سمجھنے اور دریافت کرنے کی کوشش کرو.ہمارے ہاں فقہ میں اجہتاداور قیاس کا جو معاملہ ہے اس کا دارومدار احکام کی علت و حکمت کی دریافت پر ہی ہے. کسی حکم کے بارے میں غور وتدبر کرنا اور یہ سمجھنے کی کوشش کرنا کہ اس کا کیا سبب و علت ہے؟ اس کی کیا حکمت ہے؟ اس کا کیا مقصد ہے؟ ہمارے دین نے اس کی حوصلہ شکنی کے بجاۓ اس کی حوصلہ افزائی کی ہے. اسی سے ہمت پا کر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے سوال کیا کہ اے اللہ کے رسولؐ !ہم جو آپؐ کے حکم پر عید الاضحی کے موقع پر قربانی دیتے ہیں تو ہمیں یہ بتائیے کہ یہ ہے کیا ؟ یعنی اسکی غرض و غایت کیا ہے؟ اس کا پس منظر کیا ہے؟ یہ کس چیز کے لیے بطور علامت ہے؟ تو نبی اکرمؐ نے جواب میں ارشاد فرمایا کہ: سُنّۃُ اَبِیْکُمْ اِبْرَاھم (۱’’یہ تمہارے باپ ابراہیمؑ کی سنّت ہے‘‘.گویا کہ یہ عظیم الشان واقعہ کی یادگارہے جس میں ایک سو سالہ بوڑھے باپ نے اللہ تعالیٰٰٰ کے حکم سے اپنے اکلوتے بیٹے کے گلے پر ، جونوجوانی کے دور میں قدم رکھ رہا ہے، چھری پھیر دی تھی. جو گویا کہ اللہ کی راہ میں قربانی کی آخری صورت ہو سکتی ہےکہ اپنی محبت ، اپنے جذبات اوراحساسات کو اللہ کی رضا جوئی کے لیے قربان کر دیا جاۓ.

یہ وہ واقعہ ہے جو اس لحاظ سے نوعِ انسانی کی تاریخ کی ایک عظیم علامت (symbol) بن گیا ہےاور اس طرح یہ قربانی ہمیشہ کے لیے شعائر دین میں شامل ہو گئی ہے.یہ اس قربانی کی روح کو بیدار اور بر قرار رکھنے کا بھی ایک اہم ذریعہ بن گئی ہے جو اللہ تعالیٰ کو ایک بندۂ مؤمن سے مطلوب ہے کہ وہ اللہ کی راہ میں اپنی محبوب ترین چیز بھی قربان کرنے کے لیے تیار ہو.چنانچہ یہ حضرت ابراہیمؑ کی اس قربانی کی یاد ہے جو ہر سال منائی جاتی ہے. 
(۱) مسند احمد ۳۶۸/۴. سنن ابن ماجہ (ح ۳۱۲۷) کتاب الاضاحی، باب ثواب الاضحیۃ