بے خطر کود پڑا آتشِ نمرود میں عشق!

اب آیا ایک اور بڑا امتحان. یہ امتحان دنیا میں اکثر لوگوں کو پیش آتا رہتا ہے. نمرود نے جب اس محاجّہ میں منہ کی کھائی تو اس نے طیش میں آکر کہا کہ اب آخری فیصلہ کر لو. زندگی عزیز ہے تو اس مسلک کو اور اس دعوتِ توحید کو چھوڑنا ہو گا اور اگر اسی مقصد پر ڈٹے رہو گے تو موت تمہارا مقدر ہو گی. ہمارے محاورے میں یوں کہہ لیجئے کہ تمہیں پھانسی کے پھندے کو چُوم کر گلے میں ڈالنا ہو گا. یا جیسے سقراط سے کہا گیا تھا کہ اپنے ہاتھوں زہر کا پیالہ پینا ہو گا. حضرت ابراہیمؑ کا فیصلہ اس کے سوا کیا ہوتا کہ اپنے موقف سے سر موہٹنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، ان کا موقف تو یہی رہا کہ: 

قُلۡ اِنَّ صَلَاتِیۡ وَ نُسُکِیۡ وَ مَحۡیَایَ وَ مَمَاتِیۡ لِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۱۶۲﴾ۙلَا شَرِیۡکَ لَہٗ ۚ وَ بِذٰلِکَ اُمِرۡتُ وَ اَنَا اَوَّلُ الۡمُسۡلِمِیۡنَ ﴿۱۶۳﴾ 
(الانعام: ۱۶۳
زندگی جاتی ہے تو جاۓ توحید کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا ـــــــــشہنشاہِ وقت کا حضرت ابراہیم ؑ کی عزیمت کو دیکھ کر طیش اور غضب سے کیا حال ہوا ہو گا، اس کا آپ حضرات بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں. اس نے محاجّہ میں اپنی شکست کی شرمساری سے بچنے کے لئے اور اپنے عمائدین اور عوام کے مطالبے پر حکم دیا کہ ابراہیم کو آگ کے الاؤ میں جلا ڈالو اور اس طور پر اپنے معبودوں کی حمایت کرو اگر تم کو کچھ کرنا ہی ہے 
قَالُوۡا حَرِّقُوۡہُ وَ انۡصُرُوۡۤا اٰلِہَتَکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ فٰعِلِیۡنَ ﴿۶۸﴾ (الانبیاء: ۶۸

چنانچہ انہوں نے ایک بہت بڑا آگ کا الاؤ دھکایا اور حضرت ابراہیمؑ کو اس میں کود پڑنے کے لئے کہا گیا اور وہ کود گئے. اس کو بھی علامہ اقبال مرحوم نے 
بڑی خوبصورتی سے شعر کاجامہ پہنایا ہے؛ وہ کہتے ہیں ؎

بے خطر کود پڑا آتش ِ نمرود میں عشق
عقل ہے محوِ تماشاۓ لبِِ بام ابھی!

دیکھئے،یہاں بڑی پیاری بات آگئی ہے. عقل کا امتحان توحید باری تعالیٰ کی معرفت کی مرحلے میں تھا. اس موقع پر عقل کا امتحان نہ تھا­­­­ عقل تو ایسے مواقع پر یہ سمجھاۓ گی کہ جان بچاؤ. عقل تو ایسے حالات میں انسان کو مصلحتوں کا راستہ دکھاتی ہے. عر بی زبان میں ’’عقل‘‘کہتے ہیں باندھنے کو. عربوں کے سر پر رومال جس چیز سے بندھا ہوتا ہے اسے ’’عِقال ‘‘ کہا جاتا ہے اور یہ اسی لفظ ’’عقل‘‘ سے بنا ہے.اصل میں یہ ماضی کے ایک دستور کی یاد گار ہےعرب کے بدّو کی کُل کائنات اس کا اونٹ ہوا کرتا تھا. اسی پر اس نے سفر کرنا ہے،اسی کا دودھ پی لینا ہے، اسی کا گوشت کھا لینا ہے، اسی کی کھال سے خیمے اور کمبل تیار کرنے ہیں اور اسی کے اون سے کچھ چیزیں تیار کر لینی ہیں. ایسا بھی وقت آتا تھا کہ لق ودق صحرا میں اگر پانی دستیاب نہیں ہے تو اسی کا پیشاب پی لینا ہے.

گویا ایک بدّو کی پوری زندگی اونٹ کے گرد گھومتی تھی. لہذا اپنے اونٹ کو کہیں باندھنے کے لئے ہمیشہ اس کےے پاس رسّی کا ایک ٹکڑا رہتا تھا کہ جہاں وہ اونٹ سے اترااس نے رسّی کے ایک سرے سے اونٹ کا ایک گھٹنا باندھ دیا. وہ رسّی ’’عِقال‘‘ کہلاتی تھی یعنی گھٹنا باندھنے والی چیزاب اسی رسّی کو ہر وقت اپنے پاس رکھنا ہے تو اس کا حل انہوں نے یہ نکالا کہ جب اونٹ کے گھٹنے سے رسّی کھولی تو اسے سر پر پڑے ہوۓرومال پر لپیٹ لیا. اس طرح یہ ان کی علامت اور ان کا ایک دستور بن گیا اور شعائرِ قومی میں سے ان کے لباس کا ایک جزو بن گیاجیسے آپ کو کوئی پھٹان مشکل ہی سے ایسا ملے گا جس کے کاندھے پر چادر نہ ہویہ چادر اس کے لباس کا جزو لازم بن گئی ہے. اسی طرح یہ عقال عربوں کے لباس کا ایک جزو لازم بن گیا ہے. یہ لفظ حدیث شریف میں بھی آتا ہے. ایک مرتبہ ایک صاحب مسجد نبویؐ میں آۓ اور باہر اونٹ کو چھوڑ کر آنحضور کی خدمت میں حاضر ہو گئے. آنحضرت  نے دریافت فرمایا کہ تم نے اونٹ کو باندھا نہیں ، تو انہوں نے عرض کیا کہ میں نے اللہ پر توکّل کیا. 

حضور نے فوراً تعلیم فرمائی : (اِعْقِلْھَا ثُمَّ تَوَکَّلْ ’’ پہلے اونٹ کو باندھو‘پھر اللہ پر توکّل کرو‘‘. گویا اسلامی توکّل یہ نہیں ہے کہ اسباب کو ترک کر دیا جاۓ. ہر کام کے لئے حتی الامکان اسباب جمع کرو،پھر اللہ پر توکّل کرو کہ اصل میں ان اسباب سے کچھ نہیں ہو گا، ہو گا وہی جو مسبّب الاسباب یعنی اللہ چاہے گابہر حال عقل کے معنی کے بیان میں یہ جملہ ہاۓ معترضہ درمیان میں آگئے.میں جو کچھ عرض کر رہا تھا وہ یہ تھاکہ جہاں تک جرأتِ عملی کا تعلق ہے وہاں عقل ساتھ نہیں دیتی، وہا ں جذبات کام دیتے ہیں. عقل تو روکتی ہے، وہ تو یہ راہ سمجھاتی ہے کہ اس وقت جان بچاؤ، تا کہ مستقبل قریب میں مناسب وقت پر کلمہ خیر کہہ سکواِس وقت کوئی توریہ کر لو، کسی اور حیلے سے جان بچاؤ. تم ختم ہو گئے تو یہ دعوت ہی ختم ہو جاۓ گی. پھر یہ کلمۂ توحید اور کلمۂ حق کہنے والا ہی کوئی نہیں رہے گا. تم یہاں سے جان بچا لو گے تو باہر جا کر کوئی شکل پیدا کر سکو گے. البتہ راہ کےتعین میں عقل ممدِ ہوتی ہے.

یہ کام جذبات کے حوالے کیا گیا تو معاملہ غلط ہو جاۓ گا. چنانچہ ان میں توازن ضروری ہے. عقل سے روشنی حاصل کرو. جانا کدھر ہے،مقصد کا تعین اور رُخ کا صحیح تعیّن عقل ہی کرے گی. جذبات غلط رُخ پر ڈال دیں گے. لیکن جب راہ کا تعین ہو گیا کہ جانا کدھر ہے تو چلنے کے لئے اب عقل کو ایک طرف رکھنا ہو گا. اب جذبات ہوں گے جو آگے لے کر چلیں گے. پھر یہ جذبات ہی اس راہ کی مشکلات، موانع، تکالیف اور شدائد و مصائب سے نبردآزما ہوں گے. عقل ان سے نبرد آزما نہیں ہو سکتی. یہاں عشق اور جذبات کی ضرورت ہوتی ہے جس کے بغیر ایک قدم بھی آگے بڑھنا مشکل ہے. وہی ان تمام سے نبرد آزما ہو سکتا ہے. پس عقل سے روشنی حاصل کرو اور جذبات کے تحت حرکت کرو. یہ توازن ازبس ضروری ہے اور یہی توازن ہے جو اکژ لوگوں کو نصیب نہیں ہوتا. بہر حال ان لوگوں نے آگ کا ایک الاؤ تیا ر کیا اور حضرت ابراہیمؑ کو اس میں جھونک دیا. سورۃ الاانبیاء کے علاوہ اس واقعہ کا سورۃ الصافات کی آیات۹۷، ۹۸میں ذکر موجود ہے.وہاں یہ حال ہے ، بقولِ جگر مُراد آبادی : ؎

نہ لاو سوا س دل میں جو ہیں تیرے دیکھنے والے
سرِ مقتل بھی دیکھیں گے چمن اندر چمن ساقی!

سورۃ الانبیاء میں ذکر ہے کہ 
قُلۡنَا یٰنَارُ کُوۡنِیۡ بَرۡدًا وَّ سَلٰمًا عَلٰۤی اِبۡرٰہِیۡمَ ﴿ۙ۶۹﴾ ’’ہم نے کہا: اے آگ ٹھنڈی ہو جا اور سلامتی بن جا ابراہیم پر ‘‘ وَ اَرَادُوۡا بِہٖ کَیۡدًا فَجَعَلۡنٰہُمُ الۡاَخۡسَرِیۡنَ ﴿ۚ۷۰﴾ ’’اور وہ (نمرود اور اس کی قوم کے لوگ )ابراہیمؑ کے ساتھ برائی کرنا چاہتے تھے، مگر ہم نے ان کو بُری طرح ناکام کر دیا‘‘اور وہ آگ حضرت ابراہیمؑ کے حق میں گل و گلزار بن گئی. وہ بندہ اس امتحان میں بھی کامیاب ہوا اور اللہ تعالیٰ نے اس کو معجزانہ طریقے پر بچا لیا. 

اس کے بعد یہ جان لیجئے کہ انبیاء و رُسل کے باپ میں اللہ کی سُنت اور اس کا قانون یہ ہے کہ جب کسی ملک یا معاشرے کے لوگ نبی کی جان لینے کے درپے ہو جائیں اور اس پر ہاتھ ڈال دیں تو گویا یہ معاشرہ اس طرح یہ ثابت کر دیتا ہے کہ اس کے اندر خیر کے قبول کرنے کا کوئی جو ہر باقی نہیں ہے. گویا وہ اپنی محرومیت پر مُہرِ تصدیق ثبت کر چکا ہے .تو یہ وقت ہوتا ہے جب ہجرت کا مرحلہ آتا ہے اور نبی یا رسول کو حکم ہوتا ہے کہ اب یہاں سے ہجرت کرو اور کہیں اور چلے جاؤ. چنانچہ آپ جانتے ہیں کہ ہمارے نبی کے قتل کا دارالنّدہ میں فیصلہ ہو گیا تو مشرکینِ مَکّہ کا یہ فیصلہ ہجرت کی تمہید بن گیا.