احیائے خلافت اور پاکستان کا مستقبل


نظام خلافت کیسے قائم ہو گا؟ کس تدریج سے قائم ہو گا؟ رسول اللہ نے بھی پہلے اسے سرزمین عرب میں قائم کیا، پھر وہ تدریج کے ساتھ آگے پھیلتا چلا گیا. اب بھی کسی ایک ملک سے ہی آغاز ہو گا. یہ کون سا ملک ہوگا! ہم حتمی طور پر کچھ نہیں کہہ سکتے لیکن مسلمانوں کی گزشتہ چار سو سال کی تاریخ کے جائز ے سے یہ محسوس ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پاکستان کی سرزمین کو نظام خلافت کے احیاء کے لیے پسند فرمایا ہے. یہ بڑی عجیب بات ہے کہ گزشتہ چار سو سال کے دَوران عالم اسلام کی تمام بڑی شخصیات برعظیم پاک و ہند میں پیدا ہوئیں. اس کے علاوہ اس خطے میں بڑی عظیم دینی تحریکیں اٹھی ہیں. گیارہویں صدی ہجری میں مجدد اعظم شیخ احمدسرہندی 
مجددِ الف ثانی کی شخصیت، بارہویں صدی میں حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی جیسی جامع صفات شخصیت، تیرہویں صدی میں سید احمد بریلوی اور شاہ اسماعیل شہید اور ان کی تحریک شہیدین، چودھویں صدی میں مولانا حسن محمود حسن جیسی سیماب صفت شخصیت اور دارالعلوم دیوبند کی عظیم تحریک، مولانا الیاس جیسا مبلغ دین اور تبلیغی جماعت، مولانا ابوالکلام آزاد جیسا داعیٔ قرآن، مولانا مودودی مرحوم جیسا بلند پایہ مصنف وداعی، علامہ اقبال مرحوم جیسا مفکر اور ترجمان القرآن… اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اسی برعظیم میں پاکستان جیسا ملک وجود میں آیا جو صرف اسلام کے نام پر قائم ہوا. یہ تمام واقعات محض اتفاقات قرار نہیں دیئے جا سکتے، بلکہ یہ اس بات کی جانب واضح اشارے معلوم ہوتے ہیں کہ اللہ کی حکمت میں اس علاقے کے لوگوں کو کوئی اہم کردار ادا کرنا ہے. ہم میں سے ہر مسلمان کی یہ خواہش اور آرزو ہونی چاہیے کہ یہ ’’رتبۂ بلند‘‘ ہمیں ملے، یہ سعادت ہمارے حصے میں آئے. لہٰذا ہمیں اس مقصد کے لیے کوشش کرنا چاہئے، احیائے خلافت کے لیے جدوجہد کرنا چاہئے. اس کے لیے، جیسا کہ میں نے عرض کیا، ایک جماعتی نظم ناگزیر ہے. ہم نے اسی محنت اور کوشش کے لیے تنظیم اسلامی قائم کی ہے. آپ لوگ اگر اپنا تن، من اور دھن لگانے کے لیے تیار ہوں تو آگے بڑھئے، ہمارے دوست و بازو بنئے، تنظیم اسلامی میں شمولیت اختیار کیجئے! لیکن اگر ابھی ارادہ اتنا قوی نہیں ہے تو تحریک خلافت کے منشور کو عوام میں زیادہ سے زیادہ پھیلانے میں ہمارا ساتھ دیجئے اور اس کے لیے تحریک خلافت کی معاونت اختیار کیجئے. ارشادِ باری تعالیٰ ہے: 

تَعَاوَنُوۡا عَلَی الۡبِرِّ وَ التَّقۡوٰی ۪ وَ لَا تَعَاوَنُوۡا عَلَی الۡاِثۡمِ وَ الۡعُدۡوَانِ 

کہ نیکی او رپرہیزگاری کے کاموں میں ایک دسرے سے تعاون کرو… اور گناہ اور زیادتی کے معاملات میں باہم تعاون مت کرو!! 

اَقُوْلُ قَوْلِیْ ھٰذَا وَاسْتَغْفِرِ اللّٰہَ لِیْ وَ لـَکُمْ وَلِسَائِرِ الْمُسْلِمِیْنَ وَالْمُسْلِمَاتِ.