افہام وتفہیم

نظام خلافت کے بارے میں سامعین کی جانب سے اٹھائے گئے بعض اہم سوالات

اور داعی تحریک خلافت کے جوابات

سوال: اگر آپ مناسب سمجھیں تو اس بات کی وضاحت کر دیں کہ کسی ملک میں پہلی دفعہ خلافت کیسے قائم ہو گی؟ انقلاب کے ذریعے قائم شدہ خلافت میں تمام لوگوں کی رائے اور مشورہ کیسے شامل ہو گا؟
جواب: دیکھیے جب بھی کبھی دنیا میں انقلاب آتا ہے تو پہلی گورنمنٹ انقلابی پارٹی ہی بناتی ہے. اس کے بعد اس کا جو ڈھانچہ ہو اور دستوری خاکہ وہ بنائے گی اس کے تحت الیکشن ہو جائیں گے. اس میں دو سال بھی لگ سکتے ہیں، تین سال بھی اور چار سال بھی لگ سکتے ہیں، یہ عبوری دور ہو گا. اس اعتبار سے ذہن بالکل صاف ہونا چاہئے کہ انتخابی عمل کے ذریعے خلافت قائم نہیں ہو سکتی، اس کے لیے تو انقلابی عمل ناگزیر ہے جسے میں باربار دہراتا ہوں تاکہ ذہنوں میں یہ بات راسخ ہو جائے اور اس کا عمومی طریقہ یہی ہے کہ کوئی منظم انقلابی پارٹی اس نظام کے قیام کے لیے منہاج محمدیؐ کے مطابق جدوجہد کرے.

سوال: ڈاکٹر صاحب!خلافت کا مطلب صدارتی نظام تو نہیں؟ 
جواب: خلافت کا نظام صدارتی نظام سے قریب تر ہے، بلکہ صحیح تر الفاظ میں یہ کہنا چاہئے کہ صدارتی نظام خلافت کے نظام سے قریب تر ہے. میں یہ ہمیشہ سے کہتا آ رہا ہوں کہ پارلیمانی ار صدارتی دونوں نظام جائز ہیں. وحدانی (Unitary) نظام، وفاقی (Federal) اور کنفیڈرل (Confederal) نظام سب جائز ہیں، کنفیڈریشن کو بھی آپ حرام نہ سمجھئے. ہماری آج کتنی خواہش ہو گی کہ سابقہ مشرقی پاکستان کی اور ہماری کنفیڈریشن ہی ہو جائے! اگر آج پاکستان میں کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ ہمارے ہاں کنفیڈریشن ہونی چاہئے تو آپ ان سے بات کریں، اس پر بحث کریں اور دلائل دیں، لیکن اسے حرام تو نہیں کہہ سکتے.

دنیا میں کئی سیاسی نظام چل رہے ہیں: وحدانی صدارتی، وفاقی صدارتی (جیسے امریکہ میں ہے جو وحدانی نہیں) کنفیڈرل صدارتی، پھر وحدانی پارلیمانی، وفاقی پارلیمانی اور کنفیڈرل پارلیمانی، یہ چھ کے چھ جائز ہیں. البتہ خلافت راشدہ سے قریب تر صدارتی نظام ہے. لیکن اس میں کیا قباحت ہے کہ یہ نظام ساتھ ساتھ وفاقی بھی ہو، پاکستان کے حالات میں جس کی زیادہ ضرورت ہے. ہمیں پسند ہو یا نا پسند، یہاں پر قومیتوں کا تصور اب پیدا ہو چکا ہے اور ہر قوم اپنا حق مانگتی ہے. اسے اپنی زبان عزیز ہے کہ سوائے عربی زبان کے کوئی دوسری زبان مقدس نہیں. ’’اردو شریف‘‘ آسمان سے نازل نہیں ہوئی، انسانوں ہی کی زبان ہے اور سندھی کوئی کافروں کی زبان نہیں. غیر عربی تفسیر سب سے پہلے سندھی زبان میں لکھی گئی. تہذیب کا اور اسلامی تعلیم کا سب سے بڑا مرکز سندھ تھا. ایک زمانے میں تین سو دارالعلوم سندھ کے ایک شہر ٹھٹھہ ہی میں تھے. یہاں کے محدثین نے حجاز میں جا کر حدیث پڑھائی. یہ کوئی معمولی بات ہے؟ اس اعتبار سے کوئی حرج نہیں ہے کہ صوبے لسانی بنیاد پر بھی بن جائیں. ہندوستان نے اسیی بنیاد پر صوبوں کی نئی حد بندی کرلی، وہاں کتنی مضبوط جمہوریت ہے. وہاں پینتالیس برس کے اندر صرف دو سال ہی ہنگامی حالات کے گزرے ہیں نا! ورنہ ان کی آئینی حکومت ہی کا تسلسل چل رہا ہے. انہوں نے نئے لسانی صوبے بنا لئے تو کیا کوئی حرام یا غلط ہو گیا؟

صدارتی نظام یقینا خلافت کے نظام کے قریب تر ہے اور روحِ عصر کے مطابق وہ وفاقی صدارتی نظام ہے. وفاقی کی اکائیوں کو کافی خود اختیاری حاصل ہونی چاہئے. اسی لیے ہمارا موقف ہے کہ صوبے زیادہ بنا دو اور سب کو برابر برابر کر دو تاکہ کسی کے غلبے کا اندیشہ ہی نہ رہے. اس معاملے کو اسی انداز میں سلجھایا جائے تو انشاء اللہ ایسے سب مسائل کا حل نکل آئے گا. چنانچہ ہمارا جو دس نکاتی پروگرام ہے اس میں دین کے نظام یا خلافت کے نظام میں ملکی حوالے سے بھی جو صورت 
ہمارے لیے صحیح ترین ہو سکتی ہے، وہی ہمارے پیش نظر ہے. 

سوال: منصب خلافت کے امیدوار اپنے طور پر سامنے آئیں گے یا ان کی چھان بین اور ان کے لیے انتخابی مہم اسلامی نقشے پر ہو گی؟ صرف شکل و صورت میں شریعت ہو گی یا عمل میں بھی؟ 
جواب: ظاہر ہے کہ صرف شکل و صورت میں تو نہیں، شریعت عمل ہی میں درکار ہے اور سارا ہی اسلام ہم اسی طرح چاہتے ہیں. دستور میں طے ہو کہ ہر شے پر کتاب و سنت کی بالادستی ہے تبھی خلافت کہلائے گی، ورنہ تو خلافت ہے ہی نہیں. 

سوال: نظام خلافت میں حزب اختلاف کی حیثیت کیا ہو گی؟ 
جواب: پہلی بات تو یہ سمجھ لیجئے کہ نظام خلافت کے بارے میں یہ بھی مغالطہ ہے کہ وہ یک جماعتی (One party) گورنمنٹ ہوتی ہے. میں نے ابھی کہا ہے کہ اس زمانے میں پارٹیاں اس معنی میں نہیں تھیں، لیکن گروپ تو تھے: بنو امیہ، بنو ہاشم، اوس، خزرج وغیرہ. نظام قبائلی تھا. اب اس کی جگہ پارٹیوں کا نظام ہے جو حرام نہیں ہیں. یہ میں ضیاء الحق کے زمانے میں بھی کہتا رہا ہوں. انہوں نے غیر جماعتی الیکشن کرایا تو میں نے کہا تھا کہ یہ بات صحیح نہیں ہے. اسلام میں پارٹیوں کا جواز ہے. البتہ کسی پارٹی کے منشور میں کتاب و سنت کے خلاف کوئی بات ہوئی تو وہ خلافِ قانون قرار دے دی جائے گی، اس لیے کہ اس ملک کے دستور کے اندر کتاب و سنت کی بالادستی تسلیم کی گئی ہے. شریعت کی حدود کے اندر اندر ایک پروگرام آپ دیتے ہیں، دوسرا پروگرام کوئی اور دیتا ہے تو ٹھیک ہے، لوگوں کو دیکھنے کاموقع دیں کہ کون سا پروگرام زیادہ بہتر ہے. کتنے ہی مسائل ہیں جن پر ہر پارٹی کا پروگرام سامنے آنا چاہئے. مثلاً بجٹ میں اخراجات کا مصرف کیا ہو گا؟ صحت کو کیا دیں گے، دفاع کو کتنا دیں گے اور تعلیم کو کتنا؟ یہ قرآن میں تو لکھا ہوا نہیں، نہ حدیث ہی میں لکھا ہوا ہے. ایک پارٹی کہتی ہے کہ ہماری اوّلین ترجیح دفاع ہے، دوسری پارٹی کہتی ہے کہ ہم تعلیم کو زیادہ اہمیت دیں گے تو لوگوں کو اپنی پسند کے انتخاب کا موقع ملنا چاہئے، اس میں قطعاً کوئی برائی نہیں. روحِ دین کے ساتھ جب تک روحِ عصر کو جوڑیں گے بات نہیں بنے گی، چنانچہ جدید زمانے کے تقاضوں اور دین کی ضروریات کو ہم آہنگ کرنا ہو گا.
البتہ حزب اختلاف کا ایک پہلو غیر اسلامی ہے، اور وہ ہے حزب اختلاف کے ارکان کا اپنے ضمیر کی آواز کے خلاف رائے دینا. آپ ایک پارٹی سے تعلق رکھتے ہیں جس کا ایک منشور ہے اور لوگوں نے اس منشور پر ووٹ دیئے تو اگر آپ اس منشور سے منحرف ہوتے ہیں پھر تو آپ کا ایوان مین اپنے منصب سے چمٹے رہنے کا کوئی جواز نہیں ہے. البتہ بہت سے معاملات ایسے آ جاتے ہیں جن کا تعلق منشور سے نہیں. اب گورنمنٹ پارٹی ایک بات کہہ رہی ہے اور اپوزیشن کے کسی شخص کا دل یہ کہتا ہے کہ دین کے اعتبار سے میرے ملک کے لیے بات یہی صحیح ہے جب کہ پارٹی کی حکمت عملی کا تقاضا ہے کہ تمہارا ضمیر جائے جہنم میں، تمہیں وہ بات کہنی ہو گی جو پارٹی کہہ رہی ہے. یہ چیز خلافِ اسلام ہے کہ انہیں اپنے ضمیر کی آواز پر عمل کرنے کی اجازت نہیں. تاہم صدارتی طرزِ خلافت میں اس کی کوئی اہمیت ہی نہیں رہ جاتی، اس لیے کہ اس کی اہمیت وہاں ہوتی ہے جہاں اراکین کی تعداد کے توازن پر حکومت کا انحصار ہو. ایک ہی مسئلے یا ایک تحریک پر بھی اگر حکومتی جماعت شکست کھا جائے تو وزارت ختم. صدارتی نظام میں ایسا نہیں ہوتا، لہٰذا پارٹیاں مسئلہ نہیں بنتیں. اس میں جو چاہیں آپ اپنی رائے دیں، کیونکہ حکومت اس سے نہ گرتی ہے نہ بنتی ہے. خلیفہ جو براہِ راست منتخب ہو گا، جتنی اس کی مدت ہے جار سال یا پانچ سال اتنی مدت وہ رہے گا، الایہ کہ قانون کے مطابق اس کی معزولی کا جواز پیدا ہو جائے. 


سوال: ایک خلیفہ پر سے اگر عوام کا اعتماد اٹھ جائے تو اس کی تبدیلی کا کیا طریقہ ہو گا؟ 
جواب: وہ تو میں نے بتا ہی دیا ہے کہ جب ہم نے یہ طے کر لیا کہ ا س کی مدت چار 
سال یا پانچ سال کی ہے تو ٹرم (Term) پوری کرنے کے بعد دوبارہ الیکشن ہونے ہی ہیں. خلافت راشدہ میں تو یہ تھا کہ ایک شخص منتخب ہو گیا اور تادمِ مرگ وہ خلیفہ رہا، لیکن یہ آپ پر واجب نہیں کیا گیا، کیونکہ ایک ٹرم معین کر دینا حرام نہیں ہے. دوسرا معاملہ عوام کا اعتماد اٹھنے کا نہیں، بلکہ معزولی کا ہے. اگر آپ اسے معینہ مدت کے اندر معزول کر دیتے ہیں تو ہٹ جائے گا، ورنہ نہیں.

سوال: اگر حضرت امیر معاویہؓ کی خلافت ا س لیے خلافت راشدہ نہیں کہ انہیں تمام مسلمانوں نے منتخب نہیںکیا تھا تو بتائیں کہ اوّلین چار خلفاء میں سے کس کو کل مسلمانوں نے منتخب کیا؟ اگر نہیں تو پھر امیر معاویہؓ کی خلافت، خلافت راشدہ کیوں نہیں؟ 
جواب: کل مسلمانوں کے انتخاب کا موجودہ تصور تو اس وقت تھا ہی نہیں. رائے دہی کا یہ نظام اس وقت موجود نہیں تھا. لیکن پہلے چاروں خلفاء کا انتخاب ان کے اپنے دعویٰ پر نہیں ہوا. حضرت ابوبکرؓ خود مدعی خلافت نہیں تھے، حضرت عمرؓ نے تجویز کیا کہ ہاتھ بڑھایئے، پھر خود بیعت کی. حالانکہ ابوبکرؓنے تو یہ کہا تھا کہ یہ عمر اور ابو عبیدہ بن الجراحؓ دونوں موجود ہیں، حضور دنیا سے اس حال سے تشریف لے گئے ہیں کہ وہ ان دونوں سے خوش تھے، جس کو چاہو منتخب کر لو. اسی طرح سے حضرت عمرؓ مدعی نہیں تھے، حضرت ابوبکرؓ نے مشورہ کر کے انہیں منتخب کیا. حضرت عثمانؓ کے انتخاب کا معاملہ چھ صائب الرائے صحابہؓ کے مشورے سے ہوا. حضرت عمرؓ نے چھ افرادکی جماعت بنائی اور پھر حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ نے عام مسلمانوں سے بھی مشورے کیے. حضرت عثمانؓ کی شہادت کے بعد بلوائیوں نے حضرت طلحہ اور حضرت زبیرؓ کو مجبور کیا کہ وہ بیعت قبول کر لیں. انہوں نے صاف انکار کر دیا. ابتداء ً حضرت علیؓ نے بھی انکار کیا تھا کہ یہ فتنے کا وقت ہے اور میں اس حال میں بیعت قبول کرنے کو تیار نہیں ہوں، لیکن جب ان کا دبائو پڑا اور حضرت علیؓ نے بھی دیکھا کہ اگر بغیر خلیفہ کے یہ نظام زیادہ دیر تک چلتا رہا تو انتشار بڑھ جائے گا، چنانچہ انہوں نے اصلاحِ احوال کے پیش نظر خلافت قبول کر لی. جب کہ امیر معاویہؓ کی پشت پر ایک قبائلی قوت تھی جس کا شام کے اندر ایک مرکز قائم ہوا. میں ان کی نیت پر کوئی حملہ نہیں کر رہا، معاذ اللہ! وہ صحابی رسولؐ ہیں، لیکن ان کی خلافت اس طور سے منعقد نہیں ہوئی جیسے پہلے چاروں خلفاء کی ہوئی تھی. یہ فرق ہے جس کی بناء پر خلافت راشدہ حضرت علیؓ کی خلافت پر ختم ہوئی. بلکہ امام الہند شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی رائے تو یہ ہے کہ حضرت علیؓ بھی اپنی ذات میں خلیفۂ راشد ہیں، لیکن ان کا دور خلافت راشدہ میں شامل نہیں. کیوں نہیں؟ اس لیے کہ عالم اسلام ان کے زمانے میں یکجا نہیں ہوا. لیکن اہل سنت کا تقریباً اجماع ہے (سوائے ایک شاذ رائے کے) کہ ان چاروں خلفاء کا زمانہ دَور خلافت راشدہ ہے. 

سوال: موجودہ زمانے میں حجاب کو قائم رکھتے ہوئے پاکستان میں کس طرح ہم اپنی تمام دینی بہنوں بیٹیوں کو زندگی کے ہر پہلو اور ہر شعبے میں شریک کر سکتے ہیں کہ مائوں کی گھریلو مصروفیت اور بچوں کی شریعت کے اعتبار سے تربیت بھی زیادہ متاثر نہ ہو؟ براہِ کرم یہ بھی بتایئے کہ اس بڑھتی ہوئی بے حجابی کے سیلاب کو کس طرح روکا جائے؟ 
جواب: دیکھیے میں نے یہ نہیں کہا کہ عورتوں کے لیے کام کرنا لازم ہے. میں تو شریعت کا یہ حکم بتا رہا ہوں کہ ان کے لیے کام کرنا حرام نہیں. کوئی ایسی عورت ہے جس کا شوہر فوت ہو گیا ہے، وہ اپنے بچوں کے لیے زکوٰۃ و خیرات نہیں لینا چاہتی بلکہ کام کرنا چاہتی ہے تو وہ گھر میں بیٹھ کر کام کرے. ہماری کتنی ہی خواتین ہیں جو بیوہ ہو گئیں اور انہوں نے سلائی کڑھائی کر کے بچوں کو پالا. لیکن یہ کام ہوتا ہے گھر میں بیٹھ کے. اس کے لیے آپ گھریلو صنعت کو رواج دیجئے. کام کرنے میں کیا برائی ہے؟ باقی ہر میدان میں کاندھے سے کاندھا ملا کر عورتوں کو لانا جائز نہیں ہے. اللہ تعالیٰ نے بنیادی طو رپر ان کے میدان ہی علیحدہ بنائے ہیں. لیکن مجبوری ہو‘ ایمرجنسی ہو تو یہ حرام نہیں ہے کہ کوئی خاتون گھر سے باہر جا کر کام کرے، لیکن اس صورت میں وہ اپنے ستر اور حجاب کے تقاضوں کو پورا کرے گی اور جاکر ملازمت کر کے واپس آجائے گی، یہ حرام نہیں ہے. ستر اور حجاب کی پابندیوں کے ساتھ بھی ان چیزوں کے راستے کھلے ہوئے ہیں. لیڈی ڈاکٹر بننا چاہتی ہے بنے. لیکن پائلٹ بنانا بھی کوئی فرض ہے؟ یہ تو ترقی پسندوں کا نظریہ ہے کہ ہر میدان میں کندھے سے کندھا ملایا جائے. حالانکہ کندھے سے کندھا آج تک نہیں ملا اور امریکہ میں بھی آج تک کوئی عورت صدرِ ریاست نہیں بنی. لیکن انہوں نے ہم لوگوں کو دھوکہ دینے کے لیے اور پاگل بنانے کے لیے ’’مساوتِ مردو زن‘‘ کا نعرہ لگایا ہے. البتہ ایمرجنسی میں کوئی ضرورت ہو جو قومی سطح پر بھی پیش آ سکتی ہو تو دوسری بات ہے.

اب ہمارا یہ کہنا کہ ہم نے امریکہ سے دشمنی مول لے لی ہے، فلاں سے دشمنی مول لے لی ہے اور اب ہمیں اپنے پائوں پر کھڑے ہونا ہے،لہٰذا جب تک صنعتی پیداوار نہیں بڑھے گی ہم کیسے اپنے پاؤں پر کھڑے ہوں گے، چنانچہ اس کے لیے عورتوں کو بھی کام کرنا چاہئے… تو ٹھیک ہے، کریں عورتیں کام، لیکن جیسا کہ میں نے پہلا کہا ترجیحات کی ترتیب یہ ہو گی کہ سب سے پہلے گھریلو صنعت کو رواج دیں تاکہ عورت گھر میں رہ کر کام کر سکے، نہ کہیں آنا جانا ہو، نہ گھر سے نکلنا ہو اور نہ وقت صرف ہو تو قومی سطح پر پروڈکشن مین تو اس کا حصہ ہو گیا. پھر آپ ایسے صنعتی یونٹ بنا دیں جس میں آٹھ گھنٹے کی بجائے چار گھنٹے کی شفٹ ہو. عورت چار گھنٹے بآسانی نکال سکتی ہے کہ اس کے بعد وہ گھر کے کام بھی کرے. اس میں البتہ یہ ضروری ہے کہ عورتوں کا ہی یونٹ ہو، عورتیں ہی اس کی نگرانی کریں اور اختلاطِ مردو زن نہ ہو. یہ ساری چیزیں آپ کو کرنی پڑیں گی. لوگوں کو اس اعتبار سے سمجھانا ہو گا.