صبر و استقامت کا بدلہ : جنت

آگے فرمایا: اُولٰٓئِکَ یُجۡزَوۡنَ الۡغُرۡفَۃَ بِمَا صَبَرُوۡا ’’یہ وہ لوگ ہیں جنہیں جزا کے طور پر جنت میں بالا خانے ملیں گے بسبب ان کے صبر کے‘‘. اس آیت میں گویا عباد الرحمن کا چھٹا اور نہایت اہم وصف آ گیا. ’’بِمَا صَبَرُوۡا ‘‘ یعنی یہ درحقیقت بدلہ ہے اس صبر کا جو انہوں نے اللہ کی راہ میں کیا. یہ وہ بات ہے جو ہم سورۃ العصر کے ذیل میں بھی پڑھ چکے ہیں اور سورۂ لقمان کے دوسرے رکوع میں بھی کہ وَ اصۡبِرۡ عَلٰی مَاۤ اَصَابَکَ ؕ. ظاہر بات ہے کہ یہ تمام اوصاف انہی لوگوں میں پیدا ہو سکتے ہیں جن میں صبر کا مادہ ہو‘ تبھی وہ دُنیوی لذّات و ترغیبات سے کنارہ کشی کر سکیں گے‘ ہوائے نفس سے اجتناب کر سکیں گے اور شیطان کے اغوا سے بچ سکیں گے. یہ سب کام اسی وقت ممکن ہوں گے جب ان میں صبر کا مادہ ہوگا. پھر دنیا میں نیکی‘ راست بازی اور صداقت شعاری کا راستہ اختیار کرنے والوں کو آزمائشوں سے سابقہ پیش آ کر رہے گا. ان آزمائشوں پر صبر کرکے ہی وہ بِرّ و تقویٰ کی راہ پر مستقیم رہ سکیں گے. جیسے سورۃ حٰمٓ السّجدۃمیں فرمایا گیا: اِنَّ الَّذِیۡنَ قَالُوۡا رَبُّنَا اللّٰہُ ثُمَّ اسۡتَقَامُوۡا ... (آیت ۳۰’’یقینا جن لوگوں نے کہا ہمارا پروردگار اللہ ہے اور پھر وہ اس پر ثابت قدم رہے…‘‘ تو یہ استقامت اور یہ صبر ہی درحقیقت وہ جوہر ہے کہ جس کی بنیادپر انسان دنیا میں وہ روش اختیار کر سکتا ہے جس کے نتیجے میں اس میں وہ اوصاف پیدا ہو سکتے ہیں جن کا یہاں ذکر ہوا.اس آیت کا اختتام ان الفاظ پر ہوتا ہے کہ : وَ یُلَقَّوۡنَ فِیۡہَا تَحِیَّۃً وَّ سَلٰمًا ﴿ۙ۷۵﴾ ’’ان لوگوںکا جنت میں استقبال ہوگا دعاؤں کے ساتھ اور سلام کے ساتھ‘‘. ظاہر بات ہے کہ یہ استقبال کرنے والے جنت کے فرشتے ہوں گے.

آگے فرمایا: 
خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَا ؕ ’’اس میں وہ ہمیشہ ہمیش رہیں گے‘‘. جنت وہ جگہ ہے کہ ایک بار داخلے کے بعد وہاں سے نکلنے کا کوئی سوال ہی نہیں ہے. حَسُنَتۡ مُسۡتَقَرًّا وَّ مُقَامًا ﴿۷۶﴾ ’’وہ بہت ہی عمدہ جگہ ہے مستقل رہنے کے لیے بھی اور تھوڑی سی دیر کے قیام کے لیے بھی‘‘. اس رکوع میں پہلے جہنم کا ذکر آیا تھا‘ اب یہاں جنت کا ذکر تقابل (contrast) کے طورپر آیا ہے. کیونکہ دنیا میں ہمارا تصور یہ ہے کہ کتنی ہی عمدہ جگہ پر بھی اگر مستقل رہنا پڑے تو اس میں انسان کے لیے کوئی دلچسپی اور رعنائی نہیں رہتی اور اگر بری سے بری جگہ پر بھی تھوڑی سی مدت کے لیے جانا ہو‘ جیسے صحرائے اعظم میں انسان تھوڑے عرصہ کے لیے چلا جائے تو تبدیلی (change) کی وجہ سے ایک تفریح ہو جاتی ہے‘ ایک مہم جوئی کا احساس ہوتا ہے. تو جہنم کے بارے میں فرمایا کہ وہ ایسی بری جگہ ہے کہ مستقل جائے قرار کی حیثیت سے تو انتہائی خوفناک ہے ہی‘ اگرکوئی ایک لمحہ کے لیے بھی اس میں داخل ہو جائے تو اس دوزخ کی تمام شدتیں‘ غلظتیں اور ساری کلفتیں آنِ واحد میں عیاں ہو جاتی ہیں. اس کے برعکس جنت وہ جگہ ہے کہ وہاں تھوڑی دیر ہی نہیں بلکہ مستقل قیام ہوگا‘ لیکن اس کے حسن میں‘ اس کی رعنائیوں میں‘ اس کی دلچسپیوں میں کبھی کوئی کمی نہیں آئے گی اور انسان اس سے کبھی بھی نہیں اکتائے گا.