سورۃ التحریم کی روشنی میں

نحمدہٗ ونصلی علٰی رَسولہِ الکریم … امَّا بَعد:
اَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ . بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ 

یٰۤاَیُّہَا النَّبِیُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَاۤ اَحَلَّ اللّٰہُ لَکَ ۚ تَبۡتَغِیۡ مَرۡضَاتَ اَزۡوَاجِکَ ؕ وَ اللّٰہُ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۱﴾قَدۡ فَرَضَ اللّٰہُ لَکُمۡ تَحِلَّۃَ اَیۡمَانِکُمۡ ۚ وَ اللّٰہُ مَوۡلٰىکُمۡ ۚ وَ ہُوَ الۡعَلِیۡمُ الۡحَکِیۡمُ ﴿۲﴾ … صدق اللّٰہ العظیم 
’’اے نبی ( )! آپ کیوں حرام کرتے ہیں وہ چیز جو اللہ نے آپ کے لیے حلال ٹھہرائی ہے ‘اپنی بیویوں کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے‘ اور اللہ بخشنے والا رحم فرمانے والا ہے. اللہ نے تمہاری قسموں کو کھولنے کے لیے طریقہ معین کر دیا ہے ‘اور اللہ ہی تمہارا پشت پناہ اور مددگار ہے‘ اور وہ سب کچھ جاننے والا اور کمالِ حکمت والا ہے.‘‘

سورۃ التحریم اٹھائیسویں پارے کی آخری سورۃ ہے اور مطالعۂ قرآنِ حکیم کے جس منتخب نصاب کا درس اِن مجالس میں سلسلہ وار ہو رہا ہے اس کا بحیثیت مجموعی یہ بارہواں درس ہے اور تیسرے حصے یعنی ’’مباحث عمل صالح‘‘ کا تیسرا درس ہے. اس منتخب نصاب کے جن دروس کا ہم مطالعہ کر چکے ہیں اِن کے درمیان جو معنوی ربط و تعلق اور منطقی ترتیب ہے اس کو اپنے ذہن میں تازہ کر لیجیے!

اس منتخب نصاب کا پہلا حصہ چار جامع اسباق پر مشتمل ہے‘ جس میں انسان کی کامیابی اور فوز و فلاح کے چاروں لوازم یعنی ایمان‘ عمل صالح‘ تواصی بالحق اور تواصی بالصبر کا بیان ہے. دوسرے حصے میں چند ایسے مقامات شامل ہیں جو خاص طور پر ایمان 
کے مباحث سے متعلق ہیں. تیسرے حصے میں اعمالِ صالحہ کی بحث ہے جو جاری ہے.

ظاہر بات ہے کہ انسانی اعمال میں سب سے پہلے انفرادی سیرت و کردار کا معاملہ زیر بحث آنا چاہیے. چنانچہ اس حصے کے پہلے دو اسباق میں انفرادی سیرت و کردار ہی سے متعلق چند اہم پہلو سامنے آئے ہیں. اوّلین درس‘ جو سورۃ المؤمنون کی ابتدائی گیارہ آیات اور سورۃ المعارج کی درمیانی سترہ ہم مضمون آیات پر مشتمل ہے‘ میں قرآن نے تعمیر سیرت کے لیے جو بنیادیں فراہم کی ہیں اور تعمیر خودی کا جو پروگرام دیا ہے‘ اس کا بیان ہے ‘اور سورۃ الفرقان کے آخری رکوع پر مشتمل دوسرے سبق میں یہ بات ہمارے سامنے آئی کہ ایک مکمل طور پر تعمیر شدہ بندۂ مؤمن کی شخصیت کے کیا خدوخال ہونے چاہئیں! یعنی قرآن مجید کا انسانِ مطلوب کیا ہے‘ جسے علامہ اقبال مردِ مؤمن سے تعبیر کرتے ہیں.
اب ہم انفرادیت سے اجتماعیت کی طرف بڑھ رہے ہیں. اجتماعیت کی پہلی منزل خاندان اور عائلی نظام ہے. اس سے آگے معاشرہ اور پھر اس سے آگے ریاست ہے. یہ سارے اس اجتماعیت کے مدارج ہیں جس کا نقطۂ آغاز خاندان ہے. اور آپ کو معلوم ہے کہ خاندان کی بنیاد رشتۂ ازدواج سے پڑتی ہے ‘یعنی ایک مَرد اور ایک عورت کے درمیان شوہر اور بیوی کا تعلق ایک خاندان کا سنگ بنیاد بنتا ہے .

چونکہ اجتماعیت کا اوّلین قدم یہی ہے‘ لہذا قرآن مجید میں عائلی نظام سے متعلق مباحث نہایت شرح و بسط اور تفصیل کے ساتھ آئے ہیں اور شوہر و بیوی کے رشتے کے متعلق معاملات اور نکاح و طلاق کے احکام و مسائل کے بارے میں تفصیلی ہدایات بیان ہوئی ہیں. سورۃ البقرۃ میں کئی رکوع اسی بحث پر مشتمل ہیں. پھر سورۃ النساء‘ سورۃ المائدۃ‘ سورۃ الاحزاب‘ سورۃ المجادلۃ‘ سورۃ الطلاق اور سورۃ التحریم میں اس موضوع پر گفتگو آئی ہے. فارسی کے اس مشہور شعر کے مصداق کہ ؎ 

خشتِ اوّل چوں نہد معمار کج
تا ثریا می رود دیوار کج

چونکہ خاندان انسانی معاشرے اور انسانی تہذیب و تمدن کا بنیادی پتھر ہے اور اسی پر ریاست‘ ملّت اور اجتماعیت کے تمام تصورات کی تعمیر ہوتی ہے ‘لہذا اگر خاندان کے ادارے کی تعمیر میں کوئی کجی یا ٹیڑھ رہ جائے تو ظاہر بات ہے کہ پھر وہ کجی آخر تک جائے گی. جڑ اور بنیاد میں ضعف رہ جائے تو یہ ضعف معاشرے کی تمام سطحوں پر ظہور کرے گا. لہذا قرآن مجید خاندان کے اس ادارے کو نہایت مستحکم کرنا چاہتا ہے اور اسے نہایت صحیح بنیادوں پر استوار کرنا چاہتا ہے تاکہ اس میں نہ کوئی عدم توازن رہے‘ نہ ہی کوئی اونچ نیچ ہو‘ نہ ظلم و تعدی ہو اور نہ ہی یہ ضعف و اضمحلال کا شکار ہو.

قرآن کریم کے اٹھائیسویں پارے کے آخر میں اس موضوع پر سورۃ الطلاق اور سورۃ التحریم کی صورت میں دو نہایت حسین و جمیل سورتوں کا جوڑا ہمارے سامنے آتا ہے. ظاہر بات ہے جتنی سورتوں یعنی سورۃ البقرۃ‘ سورۃ النساء وغیرہ جن میں عائلی زندگی کے معاملات پر بحث کی گئی ہے ‘ان پر اس محدود وقت میں گفتگو نہیں ہو سکتی. البتہ سورۃ التحریم (جس کا مطالعہ آج کی اس نشست سے شروع ہو رہا ہے) کی ہر آیت کا ہم قدرے تفصیل سے مطالعہ کریں گے. لیکن اس سے قبل میں ایک اہم بات کی طرف اشارہ کرنا چاہتا ہوں جس سے ان شاء اللہ آپ کو فہم قرآن کے لیے رہنمائی ملے گی اور قرآن مجید کی آیات اور سورتوں میں جو باہمی ربط اور نظم ہے ‘اس کے بارے میں آپ کو ایک بصیرتِ باطنی حاصل ہو گی. قرآن مجید میں اکثر و بیشتر سورتیں جوڑوں کی شکل میں ہیں. اب جوڑے ہونے کی نسبت کا تقاضا ہے کہ موضوع زیر بحث کے دو پہلو ہونے چاہئیں. ایک یہ کہ مشابہت بھی ہو اور دوسرے یہ کہ اُن میں ایک تقسیم بھی ہو. یعنی تصویر کا ایک رُخ یا ایک پہلو اگر ایک سورت میں آیا ہے تو اس کا دوسرا رُخ اور دوسرا پہلو دوسری سورت میں آئے. جیسے قرآن مجید کی آخری دو سورتیں ’’معوّ ذتین‘‘ ہیں. ان دونوں کا مضمون ایک ہی ہے. تعو ّذ کا ایک پہلو سورۃ الفلق میں آ گیا ہے‘ یعنی اُن وبالوں اور بلاؤں سے پناہ کے لیے اللہ سے دعا کرنا جو انسان پر خارج سے حملہ آور ہوتی ہیں اور تعو ّذ کا دوسرا رُخ سورۃ الناس میں آ گیا ہے‘ یعنی اُن وسوسوں اور بہکاووں سے پناہ کے لیے اللہ سے دعا کرنا جو شیطان اور اس کی صلبی و معنوی اولاد‘ انسان کے دل و دماغ اور باطن میں پیداکرتی ہے. اسی طرح عائلی زندگی کے بھی دو پہلو ہیں‘ جنہیں تصویر کے دو رُخ یا معاملات کے دو اجزاء کہہ لیجیے‘ جو سورۃ الطلاق اور سورۃ التحریم میں سامنے آتے ہیں.

اس کو اچھی طرح سمجھ لیجیے کہ ان سورتوں کا بنیادی اور مرکزی مضمون کیا ہے! خاندان کے جذبات کا لحاظ رکھنا اور ایک دوسرے کے احساسات کا پاس کرنا ایک بنیادی قدر ہے. جس گھر میں شوہر اور بیوی کے مابین یہ کیفیت نہیں ہے تو یوں سمجھئے کہ زبردستی اور مارے باندھے کا ایک رشتہ ہے جو قائم ہے. اس رشتہ میں چاشنی اور باہم محبت و اُلفت درکار ہے. اگر وہ موجود نہیں ہے تو ایسا گھر اِس دنیا میں جہنم کا نمونہ بن جاتا ہے. الغرض عائلی زندگی میں دو رویے ہیں جن میں انسان انتہا تک چلا جاتا ہے. ایک رویہ یہ ہے کہ شوہر اور بیوی کے درمیان عدم موافقت ہے‘ دونوں کے مزاجوں میں کوئی ایسا بُعد ہے کہ باہم موافقت نہیں ہو پارہی تو اس کی انتہا طلاق ہے. یہ مضمون سورۃ الطلاق میں آیا ہے. سورۃ التحریم اور سورۃ الطلاق میں مشابہت دیکھئے کہ دونوں کے آغاز میں براہِ راست نبی اکرم سے خطاب کیا گیا ہے. البتہ سورۃ الطلاق کے شروع میں طلاق کا ذکر ہے‘ مگر چونکہ نبی اکرم کی حیاتِ طیبہ میں طلاق کا کوئی واقعہ ہوا ہی نہیں لہذا شروع میں تو خطاب آنحضور سے ہے لیکن فوراً بعد ہی 
اِذَا طَلَّقۡتُمُ النِّسَآءَ سے آخر آیت تک جمع کا صیغہ آیا ہے. یعنی دراصل یہ بات رسول اللہ کو مخاطب کر کے آپؐ کی وساطت سے مسلمانوں سے کہی جا رہی ہے کہ اے مسلمانو!اگر تمہارے یہاں کوئی اس قسم کی صورتِ حال پیش آ جائے کہ طلاق ناگزیر ہو جائے تو یہ روش اختیار کرو‘ یہ اس کے قواعد و ضوابط اور شرائط و آداب ہیں.

یہ بات تمدنی اعتبار سے بڑی اہم ہے کہ بعض معاشروں اور بعض مذاہب نے طلاق کو عائلی زندگی سے خارج کر دیا ہے‘ جبکہ اسلام کا نظام بڑ ا متوازن اور معتدل ہے. اسلام کے عائلی نظام میں ایک طرف تو طلاق کو حلال چیزوں میں سے سب سے زیادہ ناپسندیدہ اور مبغوض چیز کہا گیا ہے اور ساتھ ہی بیوی کی ناپسندیدہ عادتوں سے 
صرفِ نظر کرنے کی تلقین کی گئی ہے. ایک حدیث شریف میں ‘ جو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ‘ نبی اکرم نے بطورِ انتباہ فرمایا:

لَا یَفْرَکْ مُؤْمِنٌ مُؤْمِنَۃً اِنْ کَرِہَ مِنْھَا خُلُقًا رَضِیَ مِنْھَا آخَرَ (۱)
یعنی کسی مؤمن کواپنی بیوی سے اس کی کسی ناپسندیدہ عادت کی وجہ سے نفرت نہیں کرنی چاہیے. اس لیے کہ اگر اس کی کوئی ایک عادت اسے ناپسند ہے تو اس کی کوئی دوسری عادت اسے اچھی بھی تو لگتی ہے.

اس ارشادِ رسول  کی روشنی میں یہ کوشش کرنی چاہیے کہ جانبین ایک دوسرے کی خوبیوں اور بھلائیوں پر نگاہ رکھیں تاکہ حتی الامکان کوشش ہو سکے کہ ان کے درمیان موافقت پیدا ہو جائے. لیکن اگر کوشش کے باوجود کسی وجہ سے موافقت پیدا نہیں ہو رہی تو پھر اسلام ان دونوں کو زبردستی باندھ کر رکھنا نہیں چاہتا. اس زبردستی کے بندھن سے معاشرے میں خیر پیدا نہیں ہوتا ‘شر پیدا ہوتا ہے‘ لہذا طلاق کا راستہ کھول دیا گیا ہے. البتہ اس کے جو قواعد و ضوابط اور آداب و شرائط ہیں انہیں بھی قرآن میں وضاحت کے ساتھ بیان کر دیا گیا ہے.یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ اِن آداب و شرائط کو ہمارے معاشرے میں عام طور پر ملحوظ نہیں رکھاجاتا اور کوئی شوہر غصہ میں آ کر ایک ہی وقت میں آخری قدم اٹھا بیٹھتا ہے اور ایک دفعہ ہی تین طلاقیں دے دیتا ہے اور بعد میں پچھتاتا ہے. 

دوسری طرف عائلی زندگی میں ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ ایک دوسرے کی دلجوئی اور خوشنودی حاصل کرنے کا معاملہ حدِ اعتدال سے بڑھ جائے اور شوہر اپنی بیوی کی رضاجوئی میں اِس حد تک چلا جائے کہ شریعت کے احکام ٹوٹنے لگیں. مثلاً کوئی شخص اپنی بیوی کو خوش اور راضی کرنے کے لیے یا اس کی کوئی فرمائش پوری کرنے کے لیے اللہ کی حرام کی ہوئی کسی چیز کو حلال ٹھہرا لے. ظاہر بات ہے کہ اس کا تو سرے سے کوئی امکان نبی اکرم کے لیے نہیں تھا‘ معاذ اللہ ثم معاذ اللہ. البتہ آنحضور کی حیاتِ طیبہ میں ایک واقعہ ایسا پیش آ گیا جس میں آپ نے اپنی بعض ازواجاتِ مطہرات رضی اللہ عنھن 
صحیح مسلم‘ کتاب الرضاع‘ باب الوصیۃ بالنساء. کی دلجوئی ملحوظ رکھی.اگرچہ یہ اپنی جگہ پسندیدہ اور مطلوب ہے‘ آپ نے اس کی ترغیب دی ہے‘رسالت مآب  کا ارشاد ہے کہ : خَیْرُکُمْ خَیْرُکُمْ لِاَھْلِہٖ‘ وَاَنَا خَیْرُکُمْ لِاَھْلِیْ (۱’’تم میں سے بہترین وہ لوگ ہیں جو اپنے گھر والوں کے حق میں بہترین طرزِ عمل اختیار کرنے والے ہیں ‘اور جان لو کہ میں تم میں سے اپنے گھر والوں کے لیے بہترین روش اختیار کرنے والا ہوں‘‘. اگرچہ یہ ایک پسندیدہ طرزِ عمل ہے مگر ایک خاص واقعہ میں رسول اللہ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے فہمائش کی گئی. اس لیے کہ حضرت یعقوب علیہ السلام کے معاملہ میں یہ ہو چکا تھا کہ انہوں نے اپنے ذاتی ذوق کی بنا پر اونٹ کے گوشت کا استعمال ترک کر دیا تھا لیکن یہود نے یہ سمجھ لیا کہ اونٹ کا گوشت حرام ہے. گویا ایک نبی کے ذاتی ذوق کے معاملہ کو شریعت کا جزو بنا لیا گیا اور اونٹ کے گوشت کی حرمت بنی اسرائیل کی شریعت میں مستقل ہو گئی.

میں نے جس خاص واقعہ کا حوالہ دیا ہے وہ احادیث میں تفصیل سے بیان ہوا ہے. سورۃ التحریم میں اس واقعہ کی طرف محض اشارہ ہے. احادیثِ صحیحہ سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی اکرم کا یہ معمول تھا کہ آپؐ عصر کی نماز کے بعد تھوڑی تھوڑی دیر کے لیے سب ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنھن کے یہاں تشریف لے جاتے. ازواجِ مطہراتؓ کو آپؐ کے ساتھ جو محبت اور جو تعلقِ خاطر تھا اس کے پیش نظر ہر زوجہ محترمہؓ کی یہی تمنا اور کوشش ہوتی تھی کہ وہ آنحضور کی توجہات کا مرکز بنے اور زیادہ سے زیادہ وقت اسے رسول اللہ کی بابرکت صحبت میں رہنے کا موقع نصیب ہو. لیکن آپ اس معاملے میں کامل عدل سے کام لیتے تھے اور ہر زوجہ محترمہؓ کے یہاں مساوی وقت دیتے تھے. ایک روز رسول اللہ کو حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہاکے یہاں معمول سے زیادہ دیر لگی. ہوا یہ کہ انؓ کے یہاں کہیں سے ہدیتاً شہد آیا ہوا تھا ‘اور حضور کو چونکہ شہد بہت مرغوب تھا اس لیے اُمّ المؤمنین حضرت زینب رضی اللہ عنہا نے آپ کو شہد پیش کیا جس کے نوش فرمانے کے باعث آپؐ انؓ کے یہاں زیادہ دیر تک ٹھہرے. پھر کئی روز تک یہی 
(۱) سنن الترمذی‘ کتاب المناقب عن رسول اللہ ‘ باب فضل ازواج النبی. معمول ہوا. حضرت عائشہ اور حضرت حفصہ رضی اللہ عنہمانے مل کر تدبیر کی کہ آپؐ حضرت زینب رضی اللہ عنہا کے یہاں شہد پینا چھوڑ دیں تاکہ آپؐ انؓ کے یہاں معمول سے زیادہ وقت نہ دے سکیں. وہ شہد مغافیر کے پھولوں کا تھا جس میں کچھ بساند اور ہینک ہوتی ہے. چنانچہ حضور شہد کے استعمال کے بعد جب انؓ کے حجرے میں تشریف لے جاتے تو وہ حضور سے کہتیں کہ آپؐ کے مُنہ سے مغافیر کی بساند آتی ہے. ان دونوں نے چند دیگر ازواج مطہراتؓ کو بھی اس میں شریک کر لیا. آپؐ چونکہ نہایت نفاست پسند تھے اور جب آپؐ کی متعدد ازواج ِمطہراتؓ نے یہ بات کہی تو آپؐ نے عہد کر لیا اور قسم کھا لی کہ آئندہ آپؐ یہ شہد استعمال نہیں فرمائیں گے.

ہمارے دین میں نبی اکرم کو یہ مقام حاصل ہے کہ اگر آپؐ سے کوئی معمولی بات بھی ظہور میں آ جائے تو وہ قانون کی حیثیت اختیار کر جاتی ہے. اب آپؐ نے چونکہ اپنی ازواج ِ مطہراتؓ کی خوشنودی کے لیے اللہ تعالیٰ کی حلال کردہ ایک شے اپنے اوپر حرام کی تھی اس لیے یہ خطرہ پیدا ہو سکتا تھا کہ اُمت اس شے کو ہمیشہ کے لیے حرام یا کم از کم حد درجہ مکروہ سمجھنے لگے ‘یا اُمت کے لوگ یہ خیال کرنے لگیں کہ اللہ کی حلال کی ہوئی چیز اپنے اوپر حرام کر لینے کی دین میں اجازت ہے‘ اس لیے اللہ تعالیٰ نے یہ سورۂ مبارکہ نازل فرما کر آنحضور کو اس کام پر ٹوک دیا.

اس ٹوکنے سے متعلق یہ بات بھی واضح ہوئی کہ حلال و حرام اور جائز و ناجائز کی حدود مقرر کرنے کے مطلق اور قطعی اختیارات اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں. نبی بھی اگر کسی شے کو حلال یا حرام قرار دیتا ہے تو صرف اس صورت میں کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کا اشارہ ہو‘ خواہ وہ اشارہ وحی ٔجلی کی صورت میں ہوا ہو یا وحی ٔ خفی کے طور پر کیاگیا ہو.

اس سورۂ مبارکہ پر تدبر کرنے سے یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ جب ایک ذرا سی بات پر رسول اللہ کو نہ صرف ٹوک دیا گیا اور اس کی اصلاح کی گئی بلکہ اس کا ایک سورۃ میں ذکر کر کے اس کو ابد الاباد تک کے لیے قرآن مجید میں محفوظ کر دیا گیا‘ تو اس 
سے قطعی طور پر یہ بات بھی ثابت ہو جاتی ہے کہ نبی اکرم کے جن اعمال‘ افعال‘ احکام اور ہدایات پر قرآن مجید میں کوئی گرفت یا اصلاح موجود نہیں ہے وہ سراسر حق ہیں اور اللہ تعالیٰ کی منشاء و مرضی کے مطابق ہیں اور ان کا اتباع ہم پر لازم ہے. اس بات سے سنت کی حجیت و فرضیت پوری طرح واضح ہو جاتی ہے.

ان تمہیدی باتوں کے بعد اب ہم اس سورۂ مبارکہ کا مطالعہ شروع کرتے ہیں. فرمایا: 
یٰۤاَیُّہَا النَّبِیُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَاۤ اَحَلَّ اللّٰہُ لَکَ ۚ ’’اے نبی( )!آپ اُس چیز کو کیوں حرام ٹھہراتے ہیں جسے اللہ نے آپؐ کے لیے حلال کیا ہے؟‘‘ انداز استفہامیہ ہے لیکن مقصود آنحضور کو ٹوکنا اور متنبہ کرنا ہے.تَبۡتَغِیۡ مَرۡضَاتَ اَزۡوَاجِکَ ؕ ’’ کیا آپؐ اپنی بیویوں کی خوشنودی چاہتے ہیں؟‘‘ آیت کے اس حصہ سے معلوم ہوا کہ حضور کا یہ فعل اپنی ذاتی پسند یا ناپسند کی بنا پر نہیں تھا ‘بلکہ بیویوں کی خوشنودی کی وجہ سے تھا‘ جنہوں نے یہ صرف اس لیے چاہا تھا کہ آپؐ شہد پینے کی خاطر حضرت زینبؓ کے ہاں زیادہ دیر قیام نہ فرمائیں. اللہ تعالیٰ نے اس سبب کو یہاں بیان فرما کر ازواج ِمطہرات رضی اللہ عنھن کو متنبہ فرما دیا کہ وہ نبی کی ازواج ہونے کی نازک ذمہ داریوں کا لحاظ رکھیں. آگے فرمایا: وَ اللّٰہُ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۱﴾ ’’اور اللہ معاف کرنے والا‘ رحم کرنے والا ہے‘‘آیت کے اس حصہ میں نبی اکرم کو تسلی دی جا رہی ہے کہ آپؐ نے اپنی بیویوں کی خوشنودی کی خاطر ایک حلال چیز کو حرام قرار دینے کا جو کام کیا ہے وہ کوئی گناہ نہ تھا لیکن آپؐ کے منصب کی اہم ترین ذمہ داریوں کے اعتبار سے مناسب نہ تھا‘ لہذا اللہ نے صرف ٹوک کر اصلاح کی طرف متوجہ کرنے پراکتفا فرمایا.

اس مقام پر ٹھہر کر ذرا اس بات پر غور فرما لیجیے کہ جب نبی اکرم کو اپنی ازواج کی خوشنودی کی خاطر ایک حلال چیز کو اپنے لیے حرام قرار دینے پر اس شد ّو مدّ کے ساتھ ٹوک دیا گیا ہے تو اُن لوگوں کا آخرت میں کتنا سخت اور شدید مؤاخذہ ہو گا جو اپنی بیویوں کو خوش رکھنے کے لیے حرام کو حلال کر لیتے ہیں اور پھر اس کا مسلسل اور مستقل ارتکاب کرتے رہتے ہیں. 
دوسری آیت میں فرمایا: قَدۡ فَرَضَ اللّٰہُ لَکُمۡ تَحِلَّۃَ اَیۡمَانِکُمۡ ۚ ’’اللہ ایسی قسموں کو کھولنے کا ایک راستہ تمہارے لیے مقرر کر چکا ہے‘‘. اس میں سورۃ المائدۃ کی آیت ۸۹ کی طرف اشارہ ہے جس میں واضح کیا گیا ہے کہ اگر کسی شخص نے کوئی قسم کھا لی ہے اور اب اس کو کھولنا ہے تو اس کے لیے کفارہ مقرر ہے‘ اور وہ یہ کہ دس مساکین کو کھانا کھلائے. وہ کھانا ایسا ہو جو انسان اپنے اہل و عیال کو کھلاتا ہے یا دس مساکین کو لباس مہیا کرے یا کسی ایک غلام یا لونڈی کو آزاد کرائے اور اگر کسی کو اِن میں سے کسی کی بھی استطاعت نہ ہو تو اس کا بدل یہ مقرر کیا گیا کہ ایسا شخص تین دن کے روزے رکھے.یہاں فرمایا جا رہا ہے کہ قسم کو کھولنے اور عہد کی پابندی سے نکلنے کا اللہ تعالیٰ طریقہ معین فرما چکا ہے. اس لیے جب بھی کوئی ایسی صور ت پیش آ جائے تو کفارہ ادا کر کے قسم کھول دو. آگے فرمایا: وَ اللّٰہُ مَوۡلٰىکُمۡ ۚ ’’اور (یہ بات جان لیجیے کہ) آپؐ کا اور سب مسلمانوں کا مددگار( حامی اور پشت پناہ) صرف اللہ ہی ہے‘‘. لہذا اسی کی رضا اور خوشنودی کو ہمیشہ مقدم رکھنا چاہیے. وَ ہُوَ الۡعَلِیۡمُ الۡحَکِیۡمُ ﴿۲﴾ ’’اور وہی ہے سب کچھ جاننے والا‘ کمالِ حکمت والا‘‘. یعنی وہ جو بھی حکم دیتا ہے اپنے علمِ کامل کی بنیاد پر دیتا ہے اور اس کی حکمتِ بالغہ اس حکم میں شامل ہوتی ہے.

سورۃ التحریم کی ابتدائی دو آیات میں ہمارے سامنے خاندانی و عائلی زندگی کے بارے میں ایک بڑی بنیادی بات آ گئی کہ بیویوں کی رضاجوئی اور ان کی خوشنودی حاصل کرنا‘ ان کے ساتھ نرمی‘ محبت‘ مودّت‘ الفت اور اُن کے جذبات کا پاس اور لحاظ رکھنا‘ یہ تمام چیزیں اصلاً مطلوب اور پسندیدہ ہیں‘ لیکن ایک خاص حد تک. ایسا نہ ہو کہ کہیں یہ جذبہ حدِاعتدال سے تجاوز کر جائے اور شریعت کے احکام ٹوٹنے شروع ہوجائیں. لہذا ایک بندۂ مؤمن کو ہمیشہ اور ہر وقت اعتدال کی روش اختیار کرنی چاہیے اور اس معاملہ میں ہوشیار اور چوکنا رہنا چاہیے. آیات ۳ تا ۵ میں فرمایا:

وَ اِذۡ اَسَرَّ النَّبِیُّ اِلٰی بَعۡضِ اَزۡوَاجِہٖ حَدِیۡثًا ۚ فَلَمَّا نَبَّاَتۡ بِہٖ وَ اَظۡہَرَہُ اللّٰہُ عَلَیۡہِ عَرَّفَ بَعۡضَہٗ وَ اَعۡرَضَ عَنۡۢ بَعۡضٍ ۚ فَلَمَّا نَبَّاَہَا بِہٖ قَالَتۡ مَنۡ اَنۡۢبَاَکَ ہٰذَا ؕ قَالَ نَبَّاَنِیَ الۡعَلِیۡمُ الۡخَبِیۡرُ ﴿۳﴾اِنۡ تَتُوۡبَاۤ اِلَی اللّٰہِ فَقَدۡ صَغَتۡ قُلُوۡبُکُمَا ۚ وَ اِنۡ تَظٰہَرَا عَلَیۡہِ فَاِنَّ اللّٰہَ ہُوَ مَوۡلٰىہُ وَ جِبۡرِیۡلُ وَ صَالِحُ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ ۚ وَ الۡمَلٰٓئِکَۃُ بَعۡدَ ذٰلِکَ ظَہِیۡرٌ ﴿۴﴾عَسٰی رَبُّہٗۤ اِنۡ طَلَّقَکُنَّ اَنۡ یُّبۡدِلَہٗۤ اَزۡوَاجًا خَیۡرًا مِّنۡکُنَّ مُسۡلِمٰتٍ مُّؤۡمِنٰتٍ قٰنِتٰتٍ تٰٓئِبٰتٍ عٰبِدٰتٍ سٰٓئِحٰتٍ ثَیِّبٰتٍ وَّ اَبۡکَارًا ﴿۵﴾ 

’’اور جب نبی ( ) نے ایک بات اپنی بیوی سے راز میں کہی تھی‘ پھر جب اُس بیوی نے وہ راز (کسی اور پر) ظاہر کر دیا‘ اور اللہ نے نبی ( ) کو اُس (افشائے راز) کی اطلاع دے دی تو نبی ( ) نے اس پر کسی حد تک (اس بیوی کو) خبردار کیا اور کسی حد تک اس سے درگزر کیا. پھر جب نبی ( ) نے اسے (افشائے راز کی ) یہ بات بتائی تو اس نے پوچھا : آپ کو اس کی خبر کس نے دی؟ نبی ( ) نے کہا ’’مجھے اُس نے خبر دی جو سب کچھ جانتا اور خوب باخبر ہے‘‘. اگر تم دونوں اللہ کی طرف رجوع کرو تو (یہی تمہارے لیے زیبا ہے) تمہارے دل تو (خدا کی طرف) مائل ہی ہیں‘ اور اگر تم نبیؐ کے خلاف ایکا کرو گی تو اس کا حامی اللہ ہے اور جبریل اور تمام نیکوکار مسلمان‘ اور مزید برآں فرشتے بھی اس کے مددگار ہیں. بہت ممکن ہے کہ وہ تمہیں طلاق دے دے تو اُس کا پروردگار تمہارے بدلے میں تم سے بہتر بیویاں اس کو عطا کر دے‘ اطاعت شعار‘ مؤمنہ‘ فرمانبردار‘ توبہ کرنے والیاں‘ عبادت گزار‘ ریاضت کرنے والیاں‘ شوہر آشنا اورکنواریاں‘‘.

ان آیات میں نبی اکرم کی عائلی زندگی کے ایک خاص واقعہ کی طرف اشارہ ہے. واقعہ کی تفصیلات میں جانے کی چنداں ضرورت نہیں‘ کیونکہ یہ آیات اپنے مفہوم و مدعا کو خود واضح کر رہی ہیں. نبی اکرم نے کوئی راز کی بات اپنی ازواج مطہرات رضی اللہ عنھن میں سے کسی ایک سے کہی اور ساتھ ہی یہ تاکید بھی فرما دی کہ یہ بات کسی اور کو نہ بتائی جائے. ان زوجہ محترمہؓ سے یہ غلطی ہوئی کہ انہوں نے کسی دوسری زوجہؓ کے سامنے اس کا ذکر کر دیا. نبی اکرم کو اللہ تعالیٰ نے اس افشائے راز کی خبر دے دی. اس پر حضور نے نہایت ملائمت‘ شفقت اور نرمی سے اُن زوجہ محترمہؓ کو اشارتاًجتلا دیا کہ یہ 
بات آپؐ کے علم میں آ گئی ہے. عَرَّفَ بَعۡضَہٗ وَ اَعۡرَضَ عَنۡۢ بَعۡضٍ ۚ کے الفاظ میں آپؐ کے حسن معاشرت کی اعلیٰ مثال کا ذکر ہے کہ آپ نے پوری بات جتلانا اور پورے کا پورا الزام دینا پسند نہ فرمایا. آپؐ نے شکوہ و شکایت میں بھی التفات و ملائمت کے پہلو کو پیشِ نظر رکھا ‘تاکہ ان زوجہ محترمہؓ کو انتباہ ہو جائے.اس پر اُن زوجۂ محترمہؓ نے پلٹ کر سوال کیا کہ ’’ آپؐ کو یہ کس نے بتایا؟‘‘ ہو سکتا ہے کہ انہیں یہ گمان ہوا ہو کہ میں نے جن کو یہ بات بتائی تھی شاید انہوں نے حضور کو بتا دی. اس لیے اپنے شک اور سوئے ظن کو رفع کرنے کے لیے انہوں نے حضور سے وضاحت چاہی کہ آپؐ کو کس نے بتایا! اس کے جواب میں حضور کے جو الفاظ آئے ہیں ان میں تھوڑا سا اظہارِ ناراضگی کا پہلو بھی ہے‘ کیونکہ یہ معاملہ کوئی اہمیت نہیں رکھتا کہ یہ مجھے کس نے بتایا‘ اصل بات تو یہ ہے کہ ایک راز کی بات تھی‘ اسے راز ہی رہنا چاہیے تھا. لہذا حضور نے جواب میں فرمایا :’’مجھے تو اُس خدا نے بتایا ہے جو العلیم بھی ہے اور الخبیر بھی‘‘. اس واقعے کے اجمالی ذکر کے بعد اب اللہ تعالیٰ کی جانب سے خطاب ہو رہا ہے.

یہاں اس بات کو بھی جان لیجیے کہ عائلی زندگی میں مَرد کا اپنی بیوی کے حق میں نرم ہونا‘ شفیق ہونا‘ شوہر اور بیوی کے درمیان محبت و الفت‘ رحمت و شفقت اور مودّت کا پایا جانا مطلوب ہے. لیکن اس میں اگر شوہر کی طرف سے نرمی زیادہ ہو جائے اور خاندان کے ادارہ کو مستحکم رکھنے کا بنیادی اصول یعنی 
اَلرِّجَالُ قَوّٰمُوۡنَ عَلَی النِّسَآءِ کا اہتمام و التزام پوری طرح باقی نہ رہے تو خاندانی زندگی کے بنیادی ڈھانچے کو ضعف پہنچے گا. پھر جب معاملہ خاص طور پر نبی اکرم کا ہو تو اُس کی اہمیت دوچند ہو جاتی ہے‘ کیونکہ آپؐ کا ہر عمل اُمت کے لیے نمونہ ہے ‘سورۃ الحجرات میں بہت زور دے کر فرمایا گیا ہے کہ وَ اعۡلَمُوۡۤا اَنَّ فِیۡکُمۡ رَسُوۡلَ اللّٰہِ ؕ ’’خوب جان لو کہ تمہارے درمیان اللہ کا رسولؐ موجود ہے‘‘.اس میں ایک بڑا لطیف نکتہ ہے کہ نبی اکرم کے ساتھ ہمارے تعلق کا تو ایک ہی پہلو ہے کہ آپؐ اللہ کے نبی اور رسول ہیں اور ہم اُمتی ہیں‘ آپؐ ہمارے آقا ہیں‘ ہم آپؐ کے غلام ہیں‘ اور تو کوئی رشتہ اور نسبت نہیں ہے! لیکن صحابہ کرام اور صحابیات رضوان اللہ علیہم اجمعین کا معاملہ بہت مختلف تھا.صحابہؓ میں سے کوئی آنحضور کا چچا بھی ہے‘ اب چچا ہونے کے اعتبار سے وہ بڑا ہے‘ حضورؐ بھتیجے ہیں‘ بھتیجے کا رشتہ بہرحال چھوٹا ہے.اب اگر کہیں حضرت حمزہ اور حضرت عباس رضی اللہ عنہما اپنی اس حیثیت کو سامنے رکھتے ہوئے حضور کے ساتھ کوئی ایسا طرزِ عمل اختیار کر لیتے جو بڑا اپنے چھوٹے کے ساتھ اختیار کرتا ہے تو حضور کی حیثیت ِرسالت مجروح ہو سکتی تھی. لہذا آگاہ کر دیا گیا‘ متنبہ کر دیا گیا : وَ اعۡلَمُوۡۤا اَنَّ فِیۡکُمۡ رَسُوۡلَ اللّٰہِ ؕ اچھی طرح جان رکھو کہ تمہارے مابین صرف محمدؐ نہیں ہیں ‘بلکہ محمد رسول اللہ کی ذاتِ گرامی ہے‘ لہذا آپؐ کی اس حیثیت کو ہمیشہ پیش نظر رکھو.

اسی بات کا اطلاق ازواج ِمطہرات رضی اللہ عنھن پر بھی ہو گا کہ بیوی ہونے کی حیثیت سے ان کی طرف سے ناز کا بھی اظہار ہو جائے گا. لہذا اُن کو بھی متنبہ کر دیا گیا کہ ٹھیک ہے اے عائشہؓ !کہ محمد تمہارے شوہر ہیں‘اے حفصہؓ ! ٹھیک ہے کہ محمد تمہارے شوہر ہیں‘ لیکن ہر دم یہ بات پیش نظر رہے کہ یہ اللہ کے رسول بھی ہیں اور یہ بہت نازک مقام ہے. رسول اللہ  کے احترام اور ادب کو کسی درجہ میں بھی ضعف پہنچنے کا امکان ہو تو اس کے بارے میں ہمیشہ سخت ترین تنبیہہ نظر آئے گی. جیسے سورۃ الحجرات میں ہے کہ: 
اَنۡ تَحۡبَطَ اَعۡمَالُکُمۡ وَ اَنۡتُمۡ لَا تَشۡعُرُوۡنَ ﴿۲’’مبادا تمہارے اعمال اکارت ہو جائیں اور تم کو خبر تک نہ ہو‘‘.اگر معاملے کی یہ خاص صورت پیشِ نظر نہ ہو تو پھر ازواج ِمطہرات رضی اللہ عنھن سے کچھ سوئے ظن کی کیفیت پیدا ہو سکتی ہے. لیکن یہ حقائق جو میں نے بیان کیے ہیں‘ اگر مدّنظر رہیں تو پھر کوئی ایسی صورت پیدا نہیں ہو گی.

زیربحث معاملہ دو ازواج ِمطہرات رضی اللہ عنہماکے درمیان پیش آیا. ایک نے نبی کا بتایا ہوا راز دوسری پر ظاہر کر دیا. اب دونوں کے لیے اللہ کا حکم ہے کہ: 
اِنۡ تَتُوۡبَاۤ اِلَی اللّٰہِ فَقَدۡ صَغَتۡ قُلُوۡبُکُمَا ۚ ’’اگر تم دونوں اللہ کی جناب میں توبہ کرو (اظہارِ ندامت کرو اور اللہ سے استغفار کرو )تو (یہی تمہارے حق میں بہتر ہے‘ کیونکہ) تمہارے دل تو مائل ہو ہی چکے ہیں‘‘. یعنی دلوں میں تو یہ کیفیت ہے ہی‘ پشیمانی اور ندامت کے جذبات تو ہیں ہی لیکن بسااوقات ایسا ہوتا ہے کہ کسی کو کوئی مان ہوتا ہے. وہی بات جسے میں نے ناز سے تعبیر کیا ہے. اس ناز کی وجہ سے ندامت اور پشیمانی کے الفاظ زبان پر نہیں آ رہے‘ طبیعت ہچکچا رہی ہے. تو گویا ترغیب کا یہ نہایت بلیغ انداز ہے کہ فرمایا گیا : ’’تمہارے دل تو مائل ہو ہی گئے ہیں‘‘. جیسے ہم کسی سے کہتے ہیں کہ ذرا ہمت کرو‘ اصل میدان تو تم سر کر ہی چکے ہو‘ کٹھن منزل تو تم نے طے کر لی ہے‘ اب تھوڑی سی کسر رہ گئی ہے‘ ہمت نہ ہارو‘ حوصلہ سے کام لے کر اس مرحلہ سے بھی گزر جاؤ.

اس مقام پر بعض مفسرین کو سخت مغالطہ ہوا ہے. انہوں نے 
’’صَغَتْ‘‘ کا مفہوم کسی شے سے انحراف سمجھا ہے‘ حالانکہ یہ لفظ کسی شے کی طرف جھکنے اور مائل ہونے کا مفہوم رکھتا ہے. شاہ عبدالقادر دہلویؒ نے بھی یہاں ’’صَغَتْ‘‘ کا ترجمہ ’’جھک جانا‘‘ کیا ہے. آیت کا اسلوب بھی یہی بتا رہا ہے کہ ’’اگر تم اللہ کی جناب میں توبہ کرو تو تمہارے دل تو مائل ہو ہی چکے ہیں(جھک ہی چکے ہیں)‘‘. ذرا سی یہ ہچکچاہٹ جو شوہر اور بیوی کے نفسیاتی تعلق کی وجہ سے حائل ہے‘ اس جھجک کو دور کرو اور اپنی خطا کا اعتراف کرو. اللہ سے بھی اس کے لیے استغفار کرو اور نبی سے بھی معذرت کرو کہ ہم سے خطاہوئی ہے. 

اس ضمن میں یہ بات بھی جان لینی چاہیے کہ قرآن مجید کے الفاظ میں اگربظاہر درشتی کا پہلو ہو‘ سختی کا اسلوب ہو تو دیکھنا یہ ہو گا کہ خطاب کن سے ہے! بسا اوقات شفقت اور محبت ہی کے اظہار کے لیے بظاہر سختی کا انداز اختیار کیا جاتا ہے. ایک شفیق والد اپنے بچے کی تربیت کے لیے بعض اوقات سختی اور درشتی کا انداز اختیار کرتا ہے‘ لیکن کیا یہ گمان ہو سکتا ہے کہ باپ کا دل اپنے بچے کی محبت سے خالی ہے؟ البتہ یہاں ایک بات یہ جان لیجیے کہ ؏ ’’جن کے رتبے ہیں سوا ‘ان کی سوا مشکل ہے‘‘ کے مصداق جن کے مقامات بلند ہوتے ہیں ان کی چھوٹی سی بات پر بھی جب گرفت ہوتی ہے تو بظاہر انداز بڑا سخت ہوتا ہے. عربی کا ایک مقولہ ہے کہ 
’’حَسَنَاتُ الْاَبْرَارِسَیِّئَاتُ الْمُقَرَّبِیْنَ‘‘ یعنی عام لوگوں کے لیے جو کام بڑی نیکی کا سمجھا جائے گا ہو سکتا ہے کہ وہی کام اللہ تعالیٰ کے مقربین اولیاء اور محبوب بندوں کے لیے تقصیر قرار پائے اور ان کے مرتبہ کے اعتبار سے قابل گرفت شمار ہو جائے. لہذا یہ معاملہ مراتب اور درجات کے اعتبار سے ہوتا ہے. یہی اسلوب ہم قرآن مجید کے بعض مقامات پر دیکھتے ہیں کہ آنحضور کے ساتھ خطاب میں بھی بظاہر کچھ سختی کا اظہار ہو رہا ہے. جیسے:

عَبَسَ وَ تَوَلّٰۤی ۙ﴿۱﴾اَنۡ جَآءَہُ الۡاَعۡمٰی ؕ﴿۲﴾وَ مَا یُدۡرِیۡکَ لَعَلَّہٗ یَزَّکّٰۤی ۙ﴿۳﴾اَوۡ یَذَّکَّرُ فَتَنۡفَعَہُ الذِّکۡرٰی ؕ﴿۴﴾اَمَّا مَنِ اسۡتَغۡنٰی ۙ﴿۵﴾فَاَنۡتَ لَہٗ تَصَدّٰی ؕ﴿۶﴾ 
’’ ترش رو ہوا اور بے رُخی برتی. اس بات پر کہ وہ اندھا اس کے پاس آگیا. تمہیں کیا خبر‘ شاید وہ سدھر جائے! یا نصیحت پر دھیان دے اور نصیحت کرنا اس کے لیے نافع ہو! جو شخص بے پروائی برتتا ہے ‘اس کی طرف تو تم توجہ کرتے ہو.‘‘

بظاہر اِس اسلوب میں کچھ سختی ہے‘ لیکن درحقیقت اس انداز میں محبت‘ شفقت اور عنایت پنہاں ہے. نبی اکرم کے مقام اور مرتبہ کے اعتبار سے گرفت کا انداز نظر آتا ہے‘ جبکہ بڑی معمولی بات ہے اور عام لوگوں کے لیے غلطی بھی نہیں ہے‘ لیکن رسول اور نبی ہونے کے اعتبار سے اس پر بھی روک ٹوک ہو رہی ہے اور بظاہر انداز سخت نظر آ رہا ہے. اسی اصول کا ہم یہاں بھی اطلاق کریں گے کہ ازواج ِمطہرات رضی اللہ عنھن سے فرمایا جا رہا ہے کہ تم اپنا مقام اور مرتبہ پہچانو‘ تم اُمّہات المؤمنین ہو‘ پوری اُمت کی خواتین کے لیے قیامت تک تمہارا طرزِ عمل نمونے کا طرزِ عمل ہو گا. لہذا تمہارا طرزِ عمل بڑا اعلیٰ‘ معیاری اور آئیڈیل ہونا چاہیے. اس میں ذرا سی کمی کسی پہلو سے بھی ہو تو ممکن ہے کہ وہ پہلو اُمت کی خواتین کے لیے بڑی بڑی لغزشوں کا سبب بن جائے. اس لیے یہاں الفاظ میں بظاہر کچھ سختی ہے‘ لیکن اس سے ازواج ِمطہرات رضی اللہ عنھن کے بارے میں کوئی معمولی سا سوئے ظن بھی دل میں ہرگز پیدا نہیں ہونا چاہیے.

آیت مبارکہ کی طرف پھر رجوع کیجئے‘ فرمایا: 
اِنۡ تَتُوۡبَاۤ اِلَی اللّٰہِ فَقَدۡ صَغَتۡ قُلُوۡبُکُمَا ۚ ’’اگر تم اللہ کی جناب میں توبہ کرو تو تمہارے دل تو اس کی طرف مائل ہو ہی چکے ہیں‘‘. وَ اِنۡ تَظٰہَرَا عَلَیۡہِ فَاِنَّ اللّٰہَ ہُوَ مَوۡلٰىہُ وَ جِبۡرِیۡلُ وَ صَالِحُ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ ۚ ’’اور اگرتم ہمارے نبی کے خلاف ایکا کرو گی تو جان رکھو کہ اللہ خود اپنے رسول کا رفیق ہے‘ پشت پناہ ہے اور ساتھ ہی جبریل ہیں (جو ملائکہ کے سردار ہیں) اور تمام مؤمنین صالحین (یعنی آپؐ کے اصحابؓ آپؐ کے پشت پناہ ہیں)‘‘. وَ الۡمَلٰٓئِکَۃُ بَعۡدَ ذٰلِکَ ظَہِیۡرٌ ﴿۴﴾ ’’اور اس کے بعد تمام ملائکہ بھی ہمارے نبیؐ کے ساتھی اور مددگار ہیں‘‘یہاں اہل ایمان کا ذکر تو صالحیت کی صفت کے ساتھ کیا گیا ہے‘ لیکن ملائکہ کے لیے فرمایا کہ کُل کے کُل ملائکہ ‘ کیونکہ وہ تو سب کے سب ہی صالح ہیں‘ ان کے بارے میں تو کوئی دوسری رائے ہو ہی نہیں سکتی. ان کا معاملہ تو یہ ہے کہ: یَفۡعَلُوۡنَ مَا یُؤۡمَرُوۡنَ ﴿۶﴾ ’’وہی کچھ کرتے ہیں جس کا انہیں حکم دیا جاتا ہے‘‘.

آگے پھر وہی تہدید کا انداز چل رہا ہے جس میں ازواج ِمطہرات رضی اللہ عنھن کی سیرت و کردار کی ایک جھلک بھی سامنے آتی ہے کہ تمہارے اندر جو یہ اوصاف ہیں کہ تم اطاعت شعار ہو‘ ایماندار ہو‘ فرمانبردار ہو‘ توبہ کرنے والیاں ہو‘ زہد و قناعت اختیار کرنے والیاں ہو‘ ان پر تمہیں نازاں نہیں ہونا چاہیے. تم یہ نہ سمجھو کہ اللہ تم جیسی یا تم سے بہتر خواتین اپنے نبیؐ کے لیے ازواج کے طور پر فراہم نہیں کر سکتا. اگر کہیں تمہیں بالفرض اپنے اسلام و ایمان پر‘ اپنے تقویٰ و احسان پر اور اپنی نیکیوں اور عبادت گزاریوں پر زعم ہو گیا ہے (اگر اس کا کچھ بھی امکان ہے) تو جان لو کہ اگر نبیتم سب کو چھوڑنے کا فیصلہ کرلیں تو اللہ ان کو تم جیسی بلکہ تم سے بھی بہتر بیویاں عطا کر سکتا ہے. یہ مفہوم ہے آیت کے ان الفاظِ مبارکہ کا کہ 
عَسٰی رَبُّہٗۤ اِنۡ طَلَّقَکُنَّ اَنۡ یُّبۡدِلَہٗۤ اَزۡوَاجًا خَیۡرًا مِّنۡکُنَّ مُسۡلِمٰتٍ مُّؤۡمِنٰتٍ قٰنِتٰتٍ تٰٓئِبٰتٍ عٰبِدٰتٍ سٰٓئِحٰتٍ ثَیِّبٰتٍ وَّ اَبۡکَارًا ﴿۵﴾ ’’ثَیِّبٰتٍ ‘‘ ان خواتین کو کہا جاتا ہے جن کی ایک دفعہ شادی ہو چکی ہو‘ یعنی بیوہ یا مطلقہ ہوں اور ’’اَبکار‘‘ سے کنواری خواتین مراد ہیں. آنحضور کے حبالۂ عقد میں اکثر خواتین شوہر آشنا تھیں لہذا ان کا ذکر بھی یہاں کردیا گیا‘ کیونکہ ایک خاتون جسے متاہل زندگی کا تجربہ پہلے ہو چکا ہو بعض پہلوؤں سے اس کی رفاقت شوہر کے لیے آسانی کا موجب بن جاتی ہے. رہا اَبکار یعنی کنواریوں کا معاملہ تو ہر شخص کے لیے کسی خاتون کا بیوی کی حیثیت سے یہ نہایت پسندیدہ وصف ہے ہی.

ان تین آیات میں ایک خاص واقعہ کے حوالہ سے ازواج ِمطہرات رضی اللہ عنھن سے خطاب کیا گیا ہے‘ جس سے یہ رہنمائی حاصل ہوتی ہے کہ ازدواجی زندگی میں اگرچہ باہمی محبت و الفت‘ شفقت و مودّت‘ ایک دوسرے کے جذبات واحساسات کا لحاظ‘ حسن معاشرت اور نرمی کا سلوک مطلوب ہے ‘ لیکن ایسا نہ ہو کہ اس کے نتیجہ میں بیویوں میں شوخی کا انداز حدِ اعتدال سے تجاوز کر جائے اور 
اَلرِّجَالُ قَوّٰمُوۡنَ عَلَی النِّسَآءِ کا اصول مجروح ہو جائے جو ہماری خاندانی زندگی کی بنیاد ہے. کیونکہ اگر خاندان کا ادارہ کمزور ہو جائے تو اس کے اثرات سارے معاشرے پر مرتب ہوتے ہیں‘ اس لیے اس اصول کو ایک واقعے کے حوالے سے ذہن نشین کروایا گیا ہے.

عائلی زندگی کو صحیح بنیادوں پر استوار رکھنے اور ’’گھر‘‘ کو امن و سکون کا گہوارہ بنانے کے لیے ان آیات میں مسلمان عورتوں کو ایک اہم سبق یہ دیا گیا ہے کہ وہ اپنے شوہر کے رازوں کی امانت دار اور محافظ بنیں. قرآن میں ان کی صفت 
’’حٰفِظٰتٌ لِّلۡغَیۡبِ ‘‘ یعنی ’’رازوں کی حفاظت کرنے والیاں‘‘ بتائی گئی ہے. بیوی فطری طور پر بھی گھر کے رازوں کی امین ہوتی ہے‘ لیکن اگر وہ خود ہی اس امانت کی حفاظت نہ کر سکے تو عائلی زندگی جن الجھنوں کا شکار ہو سکتی ہے اور ہوتی ہے اس کا اندازہ کرنا کچھ مشکل نہیں.