تربیت ِ اولاد اور والدین کی ذمہ داریاں

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا قُوۡۤا اَنۡفُسَکُمۡ وَ اَہۡلِیۡکُمۡ نَارًا وَّ قُوۡدُہَا النَّاسُ وَ الۡحِجَارَۃُ عَلَیۡہَا مَلٰٓئِکَۃٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ لَّا یَعۡصُوۡنَ اللّٰہَ مَاۤ اَمَرَہُمۡ وَ یَفۡعَلُوۡنَ مَا یُؤۡمَرُوۡنَ ﴿۶﴾یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا لَا تَعۡتَذِرُوا الۡیَوۡمَ ؕ اِنَّمَا تُجۡزَوۡنَ مَا کُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ٪﴿۷﴾ 
’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو! بچاؤ اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو اُس آگ سے جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہوں گے‘ جس پر نہایت تند خو اور سخت گیر فرشتے مقرر ہوں گے جو کبھی اللہ کے حکم کی نافرمانی نہیں کرتے اور جو حکم بھی انہیں دیا جاتا ہے اسے بجا لاتے ہیں. (اُس وقت کہا جائے گا کہ) اے کافرو!آج معذرتیں پیش نہ کرو‘ تمہیں تو ویسا ہی بدلہ دیا جارہا ہے جو عمل تم کیا کرتے تھے‘‘.

سورۃ التحریم کی چھٹی آیت میں ایک مسلمان خاندان کے سربراہ کی ذمہ داری مثبت انداز میں امر کے صیغے میں بیان کی جا رہی ہے. مطالعہ قرآن حکیم کے منتخب نصاب میں یہ مضمون دو مواقع پر پہلے بھی بیان ہو چکا ہے. سورۃ التغابن میں اہل ایمان کو خبردار کیا گیا: 
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِنَّ مِنۡ اَزۡوَاجِکُمۡ وَ اَوۡلَادِکُمۡ عَدُوًّا لَّکُمۡ فَاحۡذَرُوۡہُمۡ ۚ ’’اے اہل ایمان!تمہاری بیویوں اور تمہاری اولادوں میں سے بعض تمہارے دشمن ہیں‘ پس ان سے ہوشیار رہو‘‘اگرچہ ہماری اجتماعی زندگی کا جو نقشہ ہے اس کی بنیاد میں مال و اولاد کی طبعی محبت ہی کارفرما ہے.یہ محبت اپنی جگہ صحیح اور درست ہے‘ لیکن بسا اوقات یہ طبعی و فطری محبت حدِّاعتدال سے تجاوز کر کے اس درجہ بڑھ جاتی ہے کہ انسان اپنے اہل و عیال کی محبت کی وجہ سے اللہ کے حلال کو حرام اور حرام کو حلال کر بیٹھتا ہے. بیویوں کی فرمائشیں پوری کرنے‘ اولاد کو اچھے سے اچھا کھلانے پلانے اور ان کو اعلیٰ تعلیم دلانے کے لیے انسان حرام میں مُنہ مارنے لگتا ہے. گویا یہ محبت نتیجہ کے اعتبار سے اس کے لیے محبت نہیں بلکہ عداوت بن جاتی ہے اور اس کی عاقبت کی تباہی و بربادی کا سبب بن جاتی ہے اس آیت میں اسی حقیقت کی نشاندہی کی گئی ہے. سورۃ الفرقان کے آخری رکوع میں اسی فطری محبت کا ذکر ایک مثبت انداز سے ہوا ہے. ایک بندۂ مؤمن کے دل میں یہ فطری تمنا ہوتی ہے کہ اس کے اہل و عیال بھی ایمان‘ اسلام‘ تقویٰ اور احسان کی روش اختیار کریں. یہ تمنا اور آرزو اِس قرآنی دعا کی صورت میں ہمارے سامنے آتی ہے:

وَ الَّذِیۡنَ یَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَا ہَبۡ لَنَا مِنۡ اَزۡوَاجِنَا وَ ذُرِّیّٰتِنَا قُرَّۃَ اَعۡیُنٍ وَّ اجۡعَلۡنَا لِلۡمُتَّقِیۡنَ اِمَامًا ﴿۷۴﴾ (الفرقان) 
’’جو دعائیں مانگا کرتے ہیں کہ اے ہمارے ربّ! ہمیں اپنی بیویوں اور اپنی اولاد سے آنکھوں کی ٹھنڈک دے اور ہم کو پرہیزگاروں کا امام بنا‘‘.

یہی مضمون سورۃ التحریم کی زیرِ نظر آیت میں اپنی منطقی انتہا کو پہنچ رہا ہے. یعنی ایک 
مسلمان کی ذمہ داری صرف اتنی نہیں ہے کہ وہ اپنے اہل و عیال کے نان نفقہ کا اہتمام کرے‘ انہیں کھلائے پلائے‘ ان کے رہن سہن کی ضرورتیں پوری کرے. یہ تو جبلی طور پر ہر انسان کرتا ہے. ایک خاندان کے سربراہ کے مؤمن و مسلم ہونے کا نتیجہ یہ نکلنا چاہیے کہ اللہ نے اپنی مخلوق میں سے جن کو بطورِ امانت اس کے حوالے کیا ہے وہ ان کے صحیح حقوق کی ادائیگی کی فکر کرے اس امانت کا حق اس طرح ادا ہو گا کہ ان کی بہتر سے بہتر دینی تربیت کی کوشش کرے تاکہ وہ صحیح رُخ پر پروان چڑھیں. لیکن اگر اسے اس ذمہ داری کا احساس نہیں ہے تو معلوم ہوا کہ ایک مسلمان خاندان کا سربراہ اپنی ذمہ داری کو بحیثیت ایک مسلمان ادا نہیں کر رہا.

اس طرف متوجہ کرنے کے لیے قرآن مجید کا انداز بڑا فطری ہے. تنبیہہ کا آغاز 
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا قُوۡۤا اَنۡفُسَکُمۡ ’’اے اہل ایمان! بچاؤ اپنے آپ کو‘‘ کے الفاظ سے کیا گیا ہے. قرآن مجید میں قیامت کا نقشہ یوں کھینچا گیا ہے کہ اُس روز ہر ایک کو اپنی فکر پڑی ہو گی. اُس وقت ہر شخص بھول جائے گا کہ کون میرا بیٹا ہے‘ کون میری بیوی ہے اور کون میرا باپ ہے! سورۂ عبس میں آتا ہے : فَاِذَا جَآءَتِ الصَّآخَّۃُ ﴿۫۳۳﴾یَوۡمَ یَفِرُّ الۡمَرۡءُ مِنۡ اَخِیۡہِ ﴿ۙ۳۴﴾وَ اُمِّہٖ وَ اَبِیۡہِ ﴿ۙ۳۵﴾وَ صَاحِبَتِہٖ وَ بَنِیۡہِ ﴿ؕ۳۶﴾ ’’ آخر کار جب وہ کان بہرے کر دینے والی آواز ہو گی اُ س روز آدمی اپنے بھائی اور اپنی ماں اور اپنے باپ اور اپنی بیوی اور اپنی اولاد سے بھاگے گا‘‘.اور سورۃ المعارج میں فرمایا گیا کہ: 

وَ لَا یَسۡـَٔلُ حَمِیۡمٌ حَمِیۡمًا ﴿ۚۖ۱۰﴾یُّبَصَّرُوۡنَہُمۡ ؕ یَوَدُّ الۡمُجۡرِمُ لَوۡ یَفۡتَدِیۡ مِنۡ عَذَابِ یَوۡمِئِذٍۭ بِبَنِیۡہِ ﴿ۙ۱۱﴾وَ صَاحِبَتِہٖ وَ اَخِیۡہِ ﴿ۙ۱۲﴾وَ فَصِیۡلَتِہِ الَّتِیۡ تُــٔۡوِیۡہِ ﴿ۙ۱۳﴾وَ مَنۡ فِی الۡاَرۡضِ جَمِیۡعًا ۙ ثُمَّ یُنۡجِیۡہِ ﴿ۙ۱۴﴾ 
’’اور کوئی جگری دوست اپنے جگری دوست کو نہ پوچھے گا‘ حالانکہ وہ ایک دوسرے کو دکھائے جائیں گے. مجرم چاہے گا کہ اُس دن کے عذاب سے بچنے کے لیے اپنی اولاد کو‘ اپنی بیوی کو‘ اپنے بھائی کو اور اپنے قریب ترین خاندان کو جو اُسے پناہ دینے والا تھا اور روئے زمین کے سب لوگوں کو فدیہ میں دے دے اور یہ تدبیر اُسے نجات دلا دے.‘‘ اسی لیے یہاں فرمایا جا رہا ہے کہ ’’بچاؤ اپنے آپ کو‘‘. اور اس کے بعد اپنے قریب ترین افراد یعنی اہل خانہ‘ جن سے انسان کو بہت محبت ہوتی ہے‘ کو اس آگ سے بچانے کی ہدایت کی جا رہی ہے جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہوں گے.

اس سورۂ مبارکہ کے خاص اسلوب سے اس آیت کا جو ربط و تعلق ہے اسے اس مقام پر نوٹ کر لیجیے . ہر سورۂ مبارکہ کا ایک عمود یعنی ایک مرکزی مضمون ہوتا ہے جس کے ساتھ سورت کی ہر آیت منسلک اور مربوط ہوتی ہے. یہاں بھی دیکھئے کہ اولاد کی تربیت میں بسا اوقات لاڈ پیار حائل ہو جاتا ہے جو اولاد کے بگاڑ کا سبب بن جاتا ہے آپ بچے کی صبح کی میٹھی نیند میں خلل ڈالنا نہیں چاہتے‘ اس لیے اسے فجر کی نماز وقت پر ادا کرنے کا عادی نہیں بنا رہے. آپ کا دل چاہتا ہے کہ وہ سوتا رہے. اب اگر آپ کی اس بے جا شفقت و محبت کے نتیجے میں وہ بچہ بعد میں نماز کا پابند نہ ہو سکا تو آپ خود سوچئے کہ آپ نے اس کے حق میں کتنے کانٹے بو دیے ہیں. اس کی تربیت اس طرح کس تباہی کے رُخ پر ہو رہی ہے اور اس کی زندگی عاقبت کے اعتبار سے کس خسارے کی راہ پر گامزن ہو رہی ہے. اسی طرح اگر اپنی بیویوں کے ساتھ لاڈ پیار اس حد کو پہنچ گیا ہے کہ اللہ کے احکام میں خلل پیدا ہو رہا ہے‘ حدود اللہ ٹوٹ رہی ہیں‘ اللہ کا تقویٰ نگاہوں سے اوجھل ہو رہا ہے اور اس سے دل غافل ہو رہے ہیں تو اچھی طرح جان لیجیے کہ آپ کی طر ف سے آپ کی یہ محبت نہ آپ کے حق میں نافع ہے اور نہ ان کے حق میں‘ بلکہ یہ دونوں کے لیے عداوت ہے.

اس حقیقت کو واضح کرنے کے لیے نبی اکرم نے ایک نہایت جامع قاعدہ کلیہ ارشاد فرمایاہے : 
کُلُّـکُمْ رَاعٍ وَّکُلُّکُمْ مَسْئُوْلٌ عَنْ رَّعِیَّـتِہٖ (۱’’تم میں سے ہر شخص کی حیثیت ایک چرواہے کی ہے اور تم میں سے ہر ایک اپنے ریوڑ کے بارے میں جواب دہ ہے‘‘. جس طرح ایک چرواہا اور گلہ بان ان مویشیوں کی حفاظت کا ذمہ دار اور (۱) صحیح البخاری‘ کتاب النکاح‘ باب المرأۃ راعیۃ فی بیت زوجھا و متعدد دیگر مقامات. وصحیح مسلم‘ کتاب الامارۃ‘باب فضیلۃ الامام العادل… مسئول ہوتا ہے جو اس کے چارج میں دیے گئے ہیں اور اس میں سے اگر کوئی جانور گم ہو جائے یا حادثہ کا شکار ہو جائے تو اُس چرواہے کا محاسبہ ہوتا ہے کہ اس جانور کی گمشدگی میں اس کی غفلت کا کتنا دخل ہے‘ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں ہر انسان کے حوالے اپنی مخلوق میں سے کچھ افراد کر دیے ہیں. اگر کوئی کسی دفتر میں افسر ہے تو جو اُس کے ماتحت ہیں‘ وہ گویا ایک گلہ ہے جس کا وہ نگہبان ہے. اس کو اپنی حیثیت کے تناسب سے اپنے ماتحتوں کے دین و ایمان اور ان کی سیرت و کردار کے بارے میں فکرمند رہنا چاہیے کہ یہ چیزیں صحیح رُخ پر رہیں‘ کیونکہ وہ ذمہ دار اور مسئول ہے اور خاندان کے سربراہ پر تو یہ اصول صد فیصد راست آتا ہے کہ وہ اپنے بیوی بچوں کے لیے ذمہ دار اور مسئول ہے.

صحیح روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ اپنے گھرانے کے قریب ترین افراد کو لے کر بیٹھتے تھے اور خصوصاً خواتین کا نام لے کر انہیں نصیحت فرماتے تھے. مثلاً اپنی لخت جگر ‘نورِ نظر حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہاسے خطاب کرکے ارشاد فرمایا:

’’اے فاطمہ! محمد ( ) کی لخت جگر! اپنے آپ کو آگ سے بچانے کی فکر کرو‘ اس لیے کہ اللہ کے ہاں تمہارے باب میں مجھے کوئی اختیار حاصل نہیں ہے‘‘.

حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا:
’’اے صفیہ! اللہ کے رسول کی پھوپھی! اپنے آپ کو آگ سے بچانے کی فکر کرو‘اس لیے کہ اللہ کے ہاں تمہارے بارے میں مجھے کوئی اختیار حاصل نہیں ہے‘‘.

تو یہ ہے اللہ کے رسول  کا متوجہ کرنے‘ خبردار کرنے اور ترغیب و ترہیب کا انداز. ہر مسلمان گھرانے کے سربراہ کا یہ وہ مثبت رول ہے جسے اپنے اہل و عیال کے ضمن میں ادا کرنے کے لیے اسے فکر مند رہنا چاہیے.

اب دیکھئے کہ یہ بڑا لطیف اور بلیغ انداز اختیار فرمایا گیا ہے کہ اپنے آپ کو اور اپنے اہل خانہ کو اس آگ سے بچانے کی فکر کرو جس کی شدت کا یہ عالم ہے کہ اس کا ایندھن انسان اور پتھر ہوں گے. پتھروں کا ذکر قرآن مجید میں کئی مقامات پر آیا ہے. 
انسان جب جہنم میں جھونکے جائیں گے تو گویا وہ اس کا ایندھن ہوں گے. غور طلب بات یہ ہے کہ پتھروں کے ذکر میں کیا حکمت ہے! غورکرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کا ذکر اس اعتبار سے بھی ہو سکتا ہے کہ اس آگ کی شدت و حرارت کو ظاہر کرنا مقصود ہے کہ ایک آگ تو وہ ہے جو لکڑیوں سے جلائی جاتی ہے اور ایک آگ وہ ہے جو پتھروں سے جلے گی. پتھر کے کوئلوں سے کسی زمانہ میں جو آگ جلا کرتی تھی اس کی حرارت کا ذرا تصور کیجئے اور اس سے بھی آگے بڑھ کر سوچئے کہ اصل پتھر جس آگ کا ایندھن بن رہے ہوں‘ اس کی تُندی و تیزی اور شدت کا کیا عالم ہو گا! اس کا ایک مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ چونکہ بُت عموماً پتھروں سے تراشے جاتے ہیں اور انہیں معبود سمجھا جاتا ہے‘ ان پر چڑھاوے چڑھائے جاتے ہیں‘ ان کے آگے ماتھا ٹیکا جاتا ہے ‘ ان سے حاجت روائی کے لیے دعائیں کی جاتی ہیں‘ اس لیے مشرکوں کے ساتھ پتھروں کے یہ بُت بھی جہنم میں جھونک دیے جائیں گے تاکہ ان کی حسرت میں مزید اضافہ ہو کہ جنہیں ہم معبود سمجھے بیٹھے تھے وہ بھی ہمارے ساتھ اس آگ میں جل رہے ہیں.

آگے فرمایا:’’اس جہنم پر وہ فرشتے مامور ہیں جو بڑے سخت دل اور تند خو ہیں‘‘. غور کیجئے! بہت ہی لطیف انذار ہے کہ آج تم بڑی محبت‘ شفقت اور لاڈ پیار کی وجہ سے اپنی اولاد کو بگاڑ رہے ہو‘ لیکن نتیجہ کے طور پر وہ اُن تُند خو اور سخت گیر فرشتوں کے حوالے ہوں گے جو جہنم کے کارندے اور داروغے ہیں اور ان کے دلوں میں کوئی نرمی اور محبت نہیں ہے. تمہاری یہ چہیتی اولاد کتنی ہی فریاد کرے اُن فرشتوں کے دل پسیجیں گے نہیں. ان کے دل میں رحم اور رأفت کا جذبہ رکھا ہی نہیں گیا. وہ بڑے سخت دل اور تُندخو ہیں اور اُن کا حال یہ ہے کہ ’’وہ اللہ کی طرف سے ملنے والے کسی حکم کی نافرمانی نہیں کرتے ‘ اور وہی کچھ کرتے ہیں جس کا انہیں حکم ملتا ہے‘‘.

ان آیات سے فرشتوں پر ایمان کے بارے میں بھی رہنمائی ملتی ہے. آپ جانتے ہیں کہ فرشتوں پر ایمان ہمارے ایمانیات کا لازمی حصہ ہے. دنیا میں دیویوں اور دیوتاؤں کے تصورات درحقیقت ’’ فرشتوں پر ایمان‘‘ ہی کی بگڑی ہوئی شکل ہے. اس 
تصور میں بنیادی غلطی یہ ہوئی کہ فرشتوں کو بااختیار سمجھ لیا گیا. قرآن مجید واضح کرتاہے کہ اگرچہ ملائکہ ایک نوری مخلوق ہیں اور ان کا رتبہ بہت بلند ہے لیکن وہ بااختیار مخلوق نہیں. اسی بات کو یہاں ان الفاظ مبارکہ سے واضح کیا گیا کہ: لَّا یَعۡصُوۡنَ اللّٰہَ مَاۤ اَمَرَہُمۡ وَ یَفۡعَلُوۡنَ مَا یُؤۡمَرُوۡنَ ﴿۶﴾ جب یہ حقیقت سامنے آ گئی تو اب ان کو پکارنا بے کار‘ ان سے دعا کرنا لاحاصل اور ان کو پوجنا بے فائدہ لہذا اللہ کو پکارو‘اللہ سے دعا کرو‘ اللہ سے مدد مانگو. اللہ تعالیٰ جس ذریعے سے چاہے آپ کی ضرورت پوری کر دے.

وہ کسی انسان کے دل میں ڈال دے‘ کسی فرشتہ کو مامور کر دے‘ یہ اس کا اختیارِ مطلق ہے. فرشتے اس اعتبار سے ایک مجبور اور ناچار مخلوق ہیں کہ وہ اپنے ارادہ و اختیار سے کچھ کر ہی نہیں سکتے. اس کی بڑی خوبصورت وضاحت سورۂ مریم میں آئی ہے. متعلقہ آیت کے بین السطور سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی اکرم نے حضرت جبریل علیہ السلام سے شکوہ کیا کہ اے جبریل! آپ وقفہ وقفہ سے آتے ہیں‘ ہمیں انتظار رہتا ہے. اس شکوہ کا حضرت جبریل ؑ سے اللہ تعالیٰ نے جواب دلوایا کہ وَ مَا نَتَنَزَّلُ اِلَّا بِاَمۡرِ رَبِّکَ ۚ لَہٗ مَا بَیۡنَ اَیۡدِیۡنَا وَ مَا خَلۡفَنَا وَ مَا بَیۡنَ ذٰلِکَ ۚ وَ مَا کَانَ رَبُّکَ نَسِیًّا ﴿ۚ۶۴﴾ ’’اور(اے نبیؐ !) ہم آپ کے ربّ کے حکم کے بغیر نہیں اترا کرتے. جو کچھ ہمارے آگے ہے اور جو کچھ پیچھے ہے اور جو کچھ اس کے درمیان ہے ہر چیز کا مالک وہی ہے‘ اور آپ کا ربّ بھولنے والا نہیں ہے‘‘. یعنی نزولِ وحی میں وقفہ کسی بھول کے باعث نہیں ہوتا بلکہ اللہ کی حکمتِ بالغہ کی وجہ سے ہوتا ہے.

اگلی آیت میں نقشہ کھینچا گیا کہ جب لاڈ پیار سے بگڑے تمہارے یہ لاڈلے اور پیارے جہنم میں جھونکے جائیں گے تو اُس وقت وہ معذرتیں کریں گے‘ دہائیاں دیں گے اور چیخ و پکار کریں گے تو ان کو جواب دیا جائے گا : 
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا لَا تَعۡتَذِرُوا الۡیَوۡمَ ؕ ’’اے ناشکرو! آج بہانے مت بناؤ (معذرتیں نہ تراشو)‘‘. اب اس کا کچھ حاصل نہیں. اِنَّمَا تُجۡزَوۡنَ مَا کُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ٪﴿۷﴾ ’’تمہیں بدلے میں وہی کچھ دیا جا رہا ہے جو تم کرتے تھے‘‘ .یہ تمہارے اپنے اعمال ہیں. فرق صرف یہ ہے کہ دنیا میں ان میں لذت اور سرور تھا. وہاں تمہاری بداعمالیاں ’’sugar coated pills‘‘ کی حیثیت رکھتی تھیں‘ جس کے باعث ان کی تلخی تم پر نمایاں نہیں ہوتی تھی اور جس انجام سے تمہیں دوچار ہونا تھا وہ تم پر واضح نہیں ہوتا تھا. تم نے اپنے افعال پر اپنی خواہشاتِ نفس کی coating کر رکھی تھی‘ اب وہ اتر گئی ہے‘ لہذا اس کی حقیقی و واقعی تلخی کا مزا ہے جو تم یہاں چکھ رہے ہو. یہ تمہارے وہی اعمال ہیں جو آج تمہارے سامنے آ گئے ہیں. یہ تمہارے اپنے ہاتھوں کی کمائی اور تمہارے اپنے کرتوت ہیں. اللہ تعالیٰ اس انجامِ بد سے ہم سب کو بچائے. آمین!