ایمان اور نفاق 

نفاق کا لغوی معنی

نفاق کا مادہ ’’ن ف ق‘‘ ہے. نفق عربی زبان میں سرنگ کو کہتے ہیں. یہ لفظ سورۃ الانعام میں اسی معنی میں استعمال ہوا ہے. فرمایا: 

وَ اِنۡ کَانَ کَبُرَ عَلَیۡکَ اِعۡرَاضُہُمۡ فَاِنِ اسۡتَطَعۡتَ اَنۡ تَبۡتَغِیَ نَفَقًا فِی الۡاَرۡضِ اَوۡ سُلَّمًا فِی السَّمَآءِ فَتَاۡتِیَہُمۡ بِاٰیَۃٍ ؕ 
(الانعام: ۳۵
’’تاہم ان لوگوں کی بے رُخی اگر تم سے برداشت نہیں ہوتی تو اگر تم میں کچھ زور ہے تو زمین میں کوئی سرنگ ڈھونڈو یا آسمان میں سیڑھی لگائو اور ان کے پاس کوئی نشانی لانے کی کوشش کرو.‘‘

نفق (سرنگ) ایسے زیر زمین راستے کو کہتے ہیں جس کے دو مُنہ ہوں‘ جو کہ جان بچانے کے لیے راہِ فرار کا کام دے. اگر ایک طرف سے دشمن کا خطرہ ہو تو دوسری طرف نکلا جاسکے. اسی طرح گوہ کے بل کو بھی ’’نافقاء‘‘ کہا جاتا ہے کیونکہ اس کے بھی دو طرف مُنہ ہوتے ہیں. 

’’نَفَقَ‘‘ 
سے ایک فعل اَنْفَقْ یُنْفِقُ اِنْفَاق آتا ہے جس کے معنی ہیں خرچ کرنا دوسرا فعل نَافَقَ‘ یُنَافِقُ آتا ہے جس کا مصدر ہے مُنَافَقَۃٌ (جسے ہم اردو زبان میں منافقت لکھتے ہیں) یا نِفَاقٌ . جیسے جھد سےمُجَاھِدَۃٌ اور جِہَادٌ ہے‘ جس کی تفصیلی بحث گزر چکی ہے. جس بل کے دو مُنہ ہوں اسے ’’نافقائ‘‘ کہا جاتا ہے‘ جس راستے کے دو مُنہ ہوں وہ ’’نفق‘‘ کہلاتا ہے اور جس انسان کے دو مُنہ ہوں وہ’’منافق‘‘ کہلاتا ہے. یعنی جس کا ایک چہرہ (face) اِدھر ہوتا ہے تو دوسرا اُدھر. اللہ تعالیٰ نے ایسے کردار کا نقشہ ان الفاظ میں کھینچا ہے: وَ اِذَا لَقُوا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا قَالُوۡۤا اٰمَنَّا ۚۖ وَ اِذَا خَلَوۡا اِلٰی شَیٰطِیۡنِہِمۡ ۙ قَالُوۡۤا اِنَّا مَعَکُمۡ ۙ اِنَّمَا نَحۡنُ مُسۡتَہۡزِءُوۡنَ ﴿۱۴﴾ (البقرۃ) 
’’اور جب یہ (منافق) اہل ایمان سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں ہم ایمان لائے ہیں اور جب علیحدگی میں اپنے شیطانوں سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں اصل میں تو ہم تو تمہارے ساتھ ہیں اور ان لوگوں (اہل ایمان) سے تو مذاق کر رہے ہیں.‘‘ 

حقیقت نفاق

نفاق بھی اصلاً کفر کی شکل ہے‘ لیکن یہ کفر ظاہری اور قانونی نہیں بلکہ کفر باطنی ہے‘ کیونکہ منافق دل سے تو کافر ہوتا ہے. قانونی ایمان کی ضد کفر ہے اور حقیقی ایمان کی ضد نفاق ہے‘ اور نفاق اللہ تعالیٰ کے ہاں کفر سے بھی زیادہ مغضوب و مبغوض اور ناپسندیدہ ہے. قرآن حکیم میں اللہ تعالیٰ کا غضب جس قدر منافقوں پر بھڑکا ہے اتنا کافروں پر بھی نہیں بھڑکا. فرمانِ ربّانی ہے: 

اِنَّ الۡمُنٰفِقِیۡنَ فِی الدَّرۡکِ الۡاَسۡفَلِ مِنَ النَّارِ ۚ 
(النسائ: ۱۴۵
’’بلاشبہ منافقین تو آگ کے سب سے نچلے درجے میں ہوں گے.‘‘ 

نفاق کی اصل بنیاد

گوہ دو مُنہ والا بِل اس لیے بناتی ہے کہ خطرے کے وقت جان کی حفاظت ہوسکے. اسی طرح منافق بھی کفر اور اسلام دونوںکے ساتھ رشتہ استوار رکھتا ہے کہ خطرے کے وقت جان و مال کی حفاظت ہو سکے. چونکہ جہاد کے موقع پر جان و مال ہی خرچ کرنے کی نوبت آتی ہے اس لیے منافق سب سے زیادہ جہاد سے خائف ہوتا ہے. اس لیے کہ جہاد میں جان و مال سے شریک ہونا تو منافق کی نگاہ میں خسارہ ہی خسارہ ہے اور اگر شریک نہیں ہوتے تو معاشرے میں نکو اور نکمے بن کر رہنے پر مجبور ہو جائیں گے. لہٰذا جان و مال بچانے کے لیے وہ نفاق کی راہ اپناتا ہے اور عمل میں جہادی سرگرمیوں سے ہمیشہ گریزاں رہتا ہے کہ کہیں اس کا نفاق آشکارا نہ ہو جائے. 

نفاق کے مراحل

نفاق کے مراحل سمجھنے سے پہلے یہ سمجھ لیں کہ جو شخص اقامت دین کی انقلابی دعوت کو قبول کرتا ہے‘ حق کی صدا پر لبیک کہتا ہے‘ دل کی گہرائی سے اس کی صداقت کو تسلیم کرتا ہے‘ وہ قوی الارادہ اور قوی الایمان ہوتا ہے‘ لہٰذا جونہی کوئی دینی تقاضا اس کے سامنے آئے گا وہ فوراً حاضر ہو گا اور اس کا کردار گواہی دے رہا ہو گا کہ ؎

واپس نہیں پھیرا کوئی فرمان جنوں کا
تنہا نہیں لوٹی کبھی آواز جرس کی
خیریت جاں‘ راحت تن‘ صحت داماں
سب بھول گئیں مصلحتیں اہل ہوس کی

یہ ایک رویہ ہے جو خلوص و اخلاص اور صدق ایمان کی عملی گواہی ہے‘ لہٰذا اس کا ترقی کی طرف سفر شروع ہو گا‘ جو بے انتہا ترقی کی طرف بڑھتا ہی چلا جائے گا. 

ضعف ایمان

سابقہ رویے کو اگر خلوص و اخلاص اور کمال کا نام دیا جائے تو اسکے بالمقابل ’’گریز‘‘ کا رویہ آتا ہے. یہ یقینا نفاق یا منافقت نہیں ہے‘ لیکن کمال ایمان بھی نہیں ہے‘ بلکہ یہ ضعف ایمان کی شکل ہے. اس کی صورت یہ ہوتی ہے کہ کسی سے کسی وجہ سے انقلابی جماعتی معاملے میں کمزوری یا کوتاہی سرزد ہو گئی. چنانچہ سب سے پہلے اس کا کھلے دل سے اعتراف کرے‘ اللہ تعالیٰ کے حضور استغفار کرے‘ اپنی جماعت سے معذرت کرے‘ قائد سے معافی مانگے اور اہل جماعت سے بھی اپنے لیے استغفار کی درخواست کرے. 

اسے مرض نہیں کہا جائے گا بلکہ یہ ضعف ایمان شمار ہو گا‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے جس طرح جسمانی ساخت میں طاقتور اور کمزور لوگ پیدا کیے ہیں اسی طرح ایمانی 
کیفیت میں بھی طاقتور اور کمزور لوگ ہیں اور رہیں گے. سب لوگ برابر نہیں ہو سکتے‘ حتیٰ کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں بھی سب کا ایمان یکساں نہیں تھا. 

مرض کا پہلا درجہ: جھوٹا بہانہ

مشکل یہ ہے کہ انسان کے اندر ایک جھوٹی عزت نفس بھی موجود ہے. سورۃ البقرۃ میں فرمایا: 

وَ اِذَا قِیۡلَ لَہُ اتَّقِ اللّٰہَ اَخَذَتۡہُ الۡعِزَّۃُ بِالۡاِثۡمِ فَحَسۡبُہٗ جَہَنَّمُ ؕ وَ لَبِئۡسَ الۡمِہَادُ ﴿۲۰۶﴾ 
(البقرۃ) 
’’اور جب اسے کہا جاتا ہے کہ اللہ سے ڈرو تو تکبر اور تعصب اس کو گناہ پر اُبھارتا ہے‘ پس ایسے آدمی کے لیے جہنم ہی کافی ہے اور وہ بہت برا ٹھکانا ہے.‘‘

کیونکہ یہ جھوٹی عزت نفس انسان کو گناہ پر آمادہ کرتی ہے. ہوتا یوں ہے کہ آپ نے دس مرتبہ معذرت کی اور وہ مان لی گئی‘ گیارہویں مرتبہ نفس کہتا ہے کوئی جھوٹا بہانہ بناؤ‘ روز روز کی معذرت سے عزتِ نفس مجروح ہو رہی ہے. بس جہاں سے جھوٹا بہانہ شروع ہوا بیماری کا بیج پڑ گیا. کتاب و سنت کا مطالعہ کر دیکھیں‘ نفاق اور منافق کے بیان میں ’’کذب‘‘ (جھوٹ) کاتذکرہ کثرت سے ملے گا. اللہ تعالیٰ نے فرمایا: 

وَ لَہُمۡ عَذَابٌ اَلِیۡمٌۢ ۬ۙ بِمَا کَانُوۡا یَکۡذِبُوۡنَ ﴿۱۰﴾ 
(البقرۃ) 
’’اور ان کے لیے دردناک سزا ہے‘ اس وجہ سے کہ وہ جھوٹ بولتے تھے.‘‘
رسول اللہ  نے منافق کی نشانیاں بیان کرتے ہوئے فرمایا: 

وَاِذَا حَدَّثَ کَذَبَ 
(بخاری و مسلم) 
’’اور جب بات کرے جھوٹ بولے.‘‘

یہاں احتیاط رہنی چاہیے‘ اس کیفیت کو ابھی ’’نفاق‘‘ سے تعبیر نہ کیا جائے بلکہ یہ مرض کی پہلی منزل ہے. اللہ تعالیٰ نے بھی اسے بیماری اور روگ کے نام سے بیان فرمایا ہے: 

فِیۡ قُلُوۡبِہِمۡ مَّرَضٌ ۙ فَزَادَہُمُ اللّٰہُ مَرَضًا ۚ 
(البقرۃ: ۱۰’’ان کے دلوں میں روگ ہے‘ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کے روگ کو اور بڑھا دیا ہے.‘‘ 

مرض کا دوسرا درجہ: جھوٹی قسمیں

ظاہر بات ہے کہ جھوٹے بہانے کب تک کام دیں گے‘ آخر سننے والے بھی سر میں دماغ رکھتے ہیں. جونہی بھانڈا پھوٹا‘ اعتبار اٹھ گیا‘ تو اب جھوٹی قسموں کا سہارا لیا جائے گا. اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: 

اِتَّخَذُوۡۤا اَیۡمَانَہُمۡ جُنَّۃً فَصَدُّوۡا عَنۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ ؕ اِنَّہُمۡ سَآءَ مَا کَانُوۡا یَعۡمَلُوۡنَ ﴿۲﴾ 
(المنافقون) 
’’انہوں نے اپنی قسموں کو اپنے لیے ڈھال بنا رکھا ہے جس کی آڑ میں وہ اللہ کی راہ سے لوگوں کو روکتے ہیں‘ یقینا بہت برا ہے جو کچھ وہ کر رہے ہیں.‘‘

کس چیز کے خلاف ڈھال؟ اپنی جان و مال کھپانے کے خلاف ڈھال‘ کہ کہیں جان و مال کا نقصان نہ ہو جائے. کیونکہ منافقین کو یہی دو چیزیں ہر چیز سے زیادہ عزیز ہوتی ہیں. غزوۂ تبوک کے ضمن میں حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ 
(۱کی طویل حدیث ہے‘ وہ بیان کرتے ہیں کہ غزوۂ تبوک سے واپسی کے بعد جب رسول اللہ مسجد میں تشریف فرما ہوئے تو ایک ایک کر کے منافق آتے گئے اور قسمیں کھاکھا کر اپنی صفائی پیش کرتے گئے اور آپ تسلیم کرتے گئے. اس طرح ان منافقوں نے اپنی قسموں کو ڈھال اور تحفظ کا سامان بنا لیا. 

مرض کا آخری درجہ: اللہ اور رسولؐ کے ساتھ بغض و عداوت

اس بغض و عداوت کی وجہ ایک نفسیاتی روگ ہے کہ جب بھی کوئی امتحان یا آزمائش کا وقت آتا ہے تو ان کو مُنہ چھپانے کو جگہ نہیں ملتی. مثلاً ایک معاشرے (۱) جو مخلص صاحب ایمان صحابہ غزوۂ تبوک سے پیچھے رہ گئے تھے ان کا ایمان افروز واقعہ تفہیم القرآن ۲/۲۴۵ تا ۲۴۹ تفسیر سورۃ التوبہ حاشیہ ۱۱۹ میں دیکھا جا سکتا ہے. (مرتب) میں سو آدمی رہتے ہیں‘ ان میں سے پچاس صادق الایمان ہیں اور پچاس مریضانہ ذہنیت والے ہیں. صادق الایمان حضرات کا کردار یہ سامنے آتا ہے کہ جونہی صدا لگی لبیک کہا اور جس حال (۱میں بھی تھے حاضر ہو گئے. یہ حاضری اور یہ فداکاری ان کے خلوص و ایمان کی دلیل بن گئی جبکہ دوسرے پیچھے رہ گئے. اب پیچھے رہ جانے والوں کے دلوں میں مخلصین کے خلاف بغض و عناد پیدا ہونا شروع ہو گیا کہ یہ لوگ پاگل‘ بے وقوف اور دیوانے (fanatics) ہیں. منافقین‘ مخلص اہل ایمان کے لیے لفظ ’’السفھاء‘‘ اسی معنی میں استعمال کرتے تھے. فرمایا: 
وَ اِذَا قِیۡلَ لَہُمۡ اٰمِنُوۡا کَمَاۤ اٰمَنَ النَّاسُ قَالُوۡۤا اَنُؤۡمِنُ کَمَاۤ اٰمَنَ السُّفَہَآءُ 
(البقرۃ: ۱۳

’’اور جب ان سے کہا گیا کہ اس طرح ایمان لائو جس طرح دوسرے لوگ ایمان لائے ہیں تو انہوں نے جواب دیا: کیا ہم اس طرح ایمان لائیں جس طرح یہ بے وقوف لوگ ایمان لائے ہیں.‘‘

گویا منافقوں کی نظر میں یا ان کی رائے میں مخلص اور فدائی مسلمان بے وقوف ہیں‘ انہیں بھلے برے کی تمیز نہیں‘ موت کا خوف نہیں‘ مستقبل کی فکر نہیں اور اولاد و گھربار کا خیال نہیں‘ بس ہر وقت جان ہتھیلی پر رکھے ہوئے حاضر ہیں. 
(۱) غزوۂ اُحد کے موقع پر جب جہاد کی ندا بلند ہوئی تو حضرت حنظلہ بن ابی عامر رضی اللہ عنہحالت ِجنابت میں تھے‘ انہوں نے اتنا توقف بھی نہیں کیا کہ غسل کر لیں اور حاضر ہو جائیں‘ بلکہ فوراً لبیک کہتے ہوئے حاضر ہو گئے اور دورانِ معرکہ شہید ہو گئے. عام طور پر شہید کو غسل نہیں دیا جاتا‘ لیکن رسول اللہ نے دیکھا کہ اسے فرشتے غسل دے رہے ہیں. حقیقت حال معلوم کرنے کے لیے ان کے اہل خانہ سے دریافت کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ حضرت حنظلہ حالت جنابت میں ہی معرکے میں چلے گئے تھے. اس پر آپ نے فرمایا: اسی لیے اسے فرشتوں نے غسل دیا ہے. 

ملاحظہ ہو الاستیعاب‘ حالات زندگی ۵۶۷ واسد الغایۃ حالاتِ زندگی۱۲۸۱ و المستدرک ۳/۲۰۴ والاصابۃ۲/۱۱۹‘ اور دیگر حالاتِ صحابہ پر مشتمل کتب تاریخ (اضافہ از مرتب ابو عبدالرحمن) جیسے جیسے یہ تضاد نمایاں ہو رہا ہے اسی نسبت سے ان کا غم و غصہ بھڑک رہا ہے. عربی زبان کی مثال ہے ’’تُعْرَفُ الْاَشْیَائُ بِاَضْدَادِھَا‘‘ یعنی چیزوں کی پہچان برعکس چیزوں سے ہوتی ہے. اگر کوئی امتحان و آزمائش کا موقع ہی نہ آتا یا سب کے سب ایک حال پر بیٹھے رہ جاتے تو نہ مخلص و منافق کی پہچان ہوتی اور نہ کسی کا ضعف ایمان ہی ظاہر ہوتا. لیکن جب کچھ لوگ انقلابی دعوت پر لبیک کہتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوئے اور کچھ بیٹھے رہ گئے تو جو اٹھ کھڑے ہوئے ان کے اٹھنے کی وجہ سے بیٹھنے والوں کی کیفیت نمایاں ہو گئی. اب انہیں بیٹھے بیٹھے مخلصین پر غصہ آ رہا ہے‘ ان کے خلاف دل میں ایک الائو جل رہا ہے‘ غیظ و غضب سے لال پیلے ہو رہے ہیں. یہ ہے مرض کا تیسرا اور آخری درجہ جو کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی دشمنی پر مشتمل ہے کہ انہوں نے ہمیں کس مصیبت میں ڈال رکھا ہے‘ ہر وقت کوئی نہ کوئی نئی مصیبت کھڑی ہے‘ نہ کوئی مشورہ سنتے ہیں نہ بات مانتے ہیں‘ ہر وقت بس ایک ہی دُھن سوار ہے. اس کے برعکس صادق الایمان لوگ تو رسول اللہ کا احسان مانتے تھے کہ آپ کی وجہ سے ہمیں ایمان نصیب ہوا‘ آپ کی آمد کے بعد اوس و خزرج کا جھگڑا ختم ہوا. 

جب مرض اپنی تیسری منزل کو پہنچ جائے اور دل اللہ اور رسول کی دشمنی سے بھر جائے تو یہ وہ منزل ہے جس کو نفاق کہا جاتا ہے. اور ایسے ہی لوگوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے اپنی گواہی تا قیامِ قیامت محفوظ کر دی ہے. فرمایا: 

اِذَا جَآءَکَ الۡمُنٰفِقُوۡنَ قَالُوۡا نَشۡہَدُ اِنَّکَ لَرَسُوۡلُ اللّٰہِ ۘ وَ اللّٰہُ یَعۡلَمُ اِنَّکَ لَرَسُوۡلُہٗ ؕ وَ اللّٰہُ یَشۡہَدُ اِنَّ الۡمُنٰفِقِیۡنَ لَکٰذِبُوۡنَ ۚ﴿۱﴾اِتَّخَذُوۡۤا اَیۡمَانَہُمۡ جُنَّۃً فَصَدُّوۡا عَنۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ ؕ اِنَّہُمۡ سَآءَ مَا کَانُوۡا یَعۡمَلُوۡنَ ﴿۲﴾ذٰلِکَ بِاَنَّہُمۡ اٰمَنُوۡا ثُمَّ کَفَرُوۡا فَطُبِعَ عَلٰی قُلُوۡبِہِمۡ فَہُمۡ لَا یَفۡقَہُوۡنَ ﴿۳﴾ 
(المنافقون) 
’’(اے نبیؐ !) جب تمہارے پاس یہ منافق آتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم اس بات 
کے گواہ ہیں کہ بے شک آپ اللہ کے رسول ہیں. اللہ جانتا ہے کہ یقینا آپ اس کے رسول ہیں اور اللہ گواہی دیتا ہے کہ یہ منافق قطعاً جھوٹے ہیں. انہوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنا رکھا ہے پس اللہ کی راہ سے رُک گئے‘ بے شک برا ہے وہ کام جو یہ کر رہے ہیں. یہ اس سبب سے ہے کہ یہ ایمان لا کر پھر کافر ہو گئے‘ پس ان کے دلوں پر مہر کر دی گئی‘ اب یہ نہیں سمجھتے.‘‘

مشکلات و مصائب کے وقت مخلصین و منافقین کے احساسات ایک دوسرے سے قطعاً مختلف ہوتے ہیں.
غزوۂ احزاب کا منظر آنکھوں کے سامنے لائیے اور ذرا غور کیجیے کہ ایک چھوٹی سی بستی پر جس کی آبادی چند سو افراد پر مشتمل تھی‘ پورے عرب کی کافر قوتیں اکٹھے ہو کر چڑھ دوڑیں جس کا نقشہ اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے: 

اِذۡ جَآءُوۡکُمۡ مِّنۡ فَوۡقِکُمۡ وَ مِنۡ اَسۡفَلَ مِنۡکُمۡ وَ اِذۡ زَاغَتِ الۡاَبۡصَارُ وَ بَلَغَتِ الۡقُلُوۡبُ الۡحَنَاجِرَ وَ تَظُنُّوۡنَ بِاللّٰہِ الظُّنُوۡنَا ﴿۱۰﴾ہُنَالِکَ ابۡتُلِیَ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ وَ زُلۡزِلُوۡا زِلۡزَالًا شَدِیۡدًا ﴿۱۱﴾ 
(الاحزاب) 
’’جب کہ دشمن تمہارے اوپر سے اور نیچے سے آ گئے‘ اور جب کہ آنکھیں پتھرا گئیں اور کلیجے مُنہ کو آ گئے اور تم اللہ تعالیٰ کے بارے میں مختلف گمان کرنے لگے. اسی موقع پر مومنوں کا امتحان کر لیا گیا اور وہ پوری طرح جھنجھوڑ دیے گئے.‘‘

حالات یقینا ایسے ہی سخت تھے کہ کلیجہ مُنہ کو آ رہا تھا کہ کہاں تین ہزار کا لشکر جن کے پاس نہ سواریاں پوری ہیں اور نہ ہتھیار مناسب ہیں‘ دوسری طرف دس ہزار کا لشکر جرار جس کی پشت پر سارے عرب کی اخلاقی و سیاسی طاقت موجود ہے اور وہ عمدہ ہتھیاروں سے مسلح ہے. ایسے موقع پر منافقوں کا نفاق کھل کر ان کی زبانوں پر آ گیا‘ کہنے لگے: 

مَّا وَعَدَنَا اللّٰہُ وَ رَسُوۡلُہٗۤ اِلَّا غُرُوۡرًا ﴿۱۲﴾ 
(الاحزاب) 
’’ہم سے اللہ اور اس کے رسول نے جو وعدے کیے وہ سب جھوٹے نکلے.‘‘ 
کہ ہمیں تو سبز باغ دکھائے گئے تھے کہ قیصر و کسریٰ کے خزانے تمہارے قدموں تلے ہوں گے‘ جبکہ حال یہ ہے کہ ہم قضائے حاجت کے لیے بھی باہر نہیں نکل سکتے.

چونکہ نفاق کی بنیاد جان و مال کا تحفظ ہے اور یہاں دونوں ہی خطرے میں تھے لہٰذا وہ چیخ اٹھے. جبکہ دوسری طرف اہل ایمان نے یہی حالات کھلی آنکھوں سے دیکھے تو پکار اُٹھے: 

وَ لَمَّا رَاَ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ الۡاَحۡزَابَ ۙ قَالُوۡا ہٰذَا مَا وَعَدَنَا اللّٰہُ وَ رَسُوۡلُہٗ وَ صَدَقَ اللّٰہُ وَ رَسُوۡلُہٗ ۫ 
(الاحزاب: ۲۲
’’اور جب اہل ایمان نے کافروں کے لشکر کو دیکھا تو پکار اٹھے کہ یہی تو ہے جس کا وعدہ اللہ اور اس کے رسولؐ نے ہم سے کیا تھا اور بالکل سچ کہا تھا اللہ اور اس کے رسولؐ نے.‘‘

چونکہ انہیں دُنیوی عارضی مفادات کی بجائے اُخروی ابدی بشارتیں مطلوب تھیں جن کا وعدہ اللہ تعالیٰ نے اس شرط کے ساتھ کیا تھا کہ تم اس راہ کی تمام مشکلات کا مقابلہ ہمت کے ساتھ کرو گے. سورۃ البقرۃ کی یہ آیت اس سے قبل نازل ہو چکی تھی: 

وَ لَنَبۡلُوَنَّکُمۡ بِشَیۡءٍ مِّنَ الۡخَوۡفِ وَ الۡجُوۡعِ وَ نَقۡصٍ مِّنَ الۡاَمۡوَالِ وَ الۡاَنۡفُسِ وَ الثَّمَرٰتِ ؕ وَ بَشِّرِ الصّٰبِرِیۡنَ ﴿۱۵۵﴾ۙ 
(البقرۃ: ۱۵۵
’’اور ہم کسی نہ کسی طرح تمہاری آزمائش ضرور کریں گے دشمن کے ڈر سے‘ بھوک پیاس سے‘ مال و جان اور ثمرات کی کمی سے. اور (اے نبیؐ !) صبر کرنے والوں کو خوشخبری دے دیجیے.‘‘

ایسے موقع پر سچے اہل ایمان کا حالِ دل اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ میں بیان فرمایا: 

وَ مَا زَادَہُمۡ اِلَّاۤ اِیۡمَانًا وَّ تَسۡلِیۡمًا ﴿ؕ۲۲﴾ 
(الاحزاب) 
’’تو (لشکرانِ کفار دیکھ کر) ان کے ایمان اور تسلیم و رضا میں مزید اضافہ ہو گیا.‘‘

ہم یہ بات پڑھ چکے ہیں کہ ایمانِ حقیقی کی ضد ہے نفاق‘ جو کہ جہاد فی سبیل اللہ سے گریز کا نتیجہ ہوتا ہے. غور طلب بات یہ ہے کہ انسان جہاد سے کیوں بھاگتا ہے؟ 
اس لیے کہ غیر اللہ کی محبت‘ محبت ایمان پر غالب ہو چکی ہوتی ہے. اس کی تصویر اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ میں بیان فرمائی ہے: 

قُلۡ اِنۡ کَانَ اٰبَآؤُکُمۡ وَ اَبۡنَآؤُکُمۡ وَ اِخۡوَانُکُمۡ وَ اَزۡوَاجُکُمۡ وَ عَشِیۡرَتُکُمۡ وَ اَمۡوَالُۨ اقۡتَرَفۡتُمُوۡہَا وَ تِجَارَۃٌ تَخۡشَوۡنَ کَسَادَہَا وَ مَسٰکِنُ تَرۡضَوۡنَہَاۤ اَحَبَّ اِلَیۡکُمۡ مِّنَ اللّٰہِ وَ رَسُوۡلِہٖ وَ جِہَادٍ فِیۡ سَبِیۡلِہٖ فَتَرَبَّصُوۡا حَتّٰی یَاۡتِیَ اللّٰہُ بِاَمۡرِہٖ ؕ وَ اللّٰہُ لَا یَہۡدِی الۡقَوۡمَ الۡفٰسِقِیۡنَ ﴿٪۲۴﴾ 
(التوبۃ) 
’’آپؐ کہہ دیجیے کہ اگر تمہارے باپ‘ تمہارے بیٹے‘ تمہارے بھائی‘ تمہاری بیویاں‘ تمہارا کنبہ قبیلہ‘ تمہارے کمائے ہوئے مال اور وہ تجارت جس کی کمی سے تم ڈرتے ہو اور وہ حویلیاں جنہیںتم پسند کرتے ہو اگر یہ سب تمہیں اللہ سے اور اس کے رسول سے اور اس کی راہ میں جہاد سے زیادہ عزیز ہیں تو تم اللہ کے حکم (سے عذاب) کے آنے کا انتظار کرو‘ اللہ تعالیٰ (ایسے) فاسقوں کو ہدایت نہیں دیتا.‘‘

اپنے ایمان کا جائزہ لینے کے لیے یہ آیت عظیم ترین ہے. چنانچہ ہر مسلمان دل میں ایک ترازو نصب کر لے‘ جس کے ایک پلڑے میں مذکورہ بالا آٹھ محبتوں کو رکھ لے اور دوسرے پلڑے میں ’’اللہ تعالیٰ کی محبت+ اللہ کے رسول کی محبت+ جہاد فی سبیل اللہ کی محبت‘‘ کو رکھ لے. اگر ان تین محبتوں والا پلڑا جھک گیا‘ تو مبارک ہو‘ یہی حقیقی ایمان ہے.

مذکورہ بالا آیت میں اللہ تعالیٰ کا یہ مطالبہ ہرگز نہیں کہ ان فطری محبتوں سے دست بردار ہو جائو یا انہیں تج دو‘ بلکہ مطالبہ صرف یہ ہے کہ اللہ‘ رسول اور جہاد کی محبت پر کوئی محبت غالب نہ ہونے پائے‘ کیونکہ اہل ایمان کا شعار اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے: 

وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَشَدُّ حُبًّا لِّلّٰہِ ؕ 
(البقرۃ: ۱۶۵
’’اور وہ لوگ جو ایمان لا چکے ہیں اللہ کی محبت میں سب سے زیادہ سخت ہیں.‘‘ 
اس کے برعکس اگر آٹھ محبتوں والا پلڑا بھاری نکلا اور اللہ کی محبت‘ اس کے رسول کی محبت اور جہاد فی سبیل اللہ کی محبت ہلکی نکلی تو معاملہ بڑا خطرناک اور افسوس ناک ہے. اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا فَتَرَبَّصُوۡا حَتّٰی یَاۡتِیَ اللّٰہُ بِاَمۡرِہٖ ؕ (التوبۃ:۲۴کہ جائو دفع ہو جائو اور اس وقت تک کا انتظار کرو جب تک کہ اللہ تعالیٰ اپنا فیصلہ تمہارے بارے میں نہ سنا دے. اور اللہ تعالیٰ اس قسم کے فاسقوں کو ہدایت نہیں دیتا. 

اس کے بعد غور طلب مقام یہ ہے کہ آخرت میں منافقوں کے ساتھ کیا معاملہ ہوگا. اس کا ذکر قرآن حکیم نے بہت ہی سبق آموز انداز میں کیا ہے. پہلے سچے اہل ایمان کا خوش کن انجام بیان فرمایا: 

یَوۡمَ تَرَی الۡمُؤۡمِنِیۡنَ وَ الۡمُؤۡمِنٰتِ یَسۡعٰی نُوۡرُہُمۡ بَیۡنَ اَیۡدِیۡہِمۡ وَ بِاَیۡمَانِہِمۡ بُشۡرٰىکُمُ الۡیَوۡمَ جَنّٰتٌ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہَا الۡاَنۡہٰرُ خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَا ؕ ذٰلِکَ ہُوَ الۡفَوۡزُ الۡعَظِیۡمُ ﴿ۚ۱۲﴾ 
(الحدید) 
’’جس دن تم مومن مردوں اور مومن عورتوں کو دیکھو گے کہ ان کا نور ان کے داہنی طرف اور آگے دوڑتا ہو گا‘ اس روز ان کے لیے جنت کی بشارت ہے جس کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی‘ اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے. اور یہی بڑی کامیابی ہے.‘‘

مخلص اور سچے اہل ایمان کے اس قابل رشک انجام کے تذکرے کے بعد منافقین کے انجام کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: 

یَوۡمَ یَقُوۡلُ الۡمُنٰفِقُوۡنَ وَ الۡمُنٰفِقٰتُ لِلَّذِیۡنَ اٰمَنُوا انۡظُرُوۡنَا نَقۡتَبِسۡ مِنۡ نُّوۡرِکُمۡ ۚ قِیۡلَ ارۡجِعُوۡا وَرَآءَکُمۡ فَالۡتَمِسُوۡا نُوۡرًا ؕ فَضُرِبَ بَیۡنَہُمۡ بِسُوۡرٍ لَّہٗ بَابٌ ؕ بَاطِنُہٗ فِیۡہِ الرَّحۡمَۃُ وَ ظَاہِرُہٗ مِنۡ قِبَلِہِ الۡعَذَابُ ﴿ؕ۱۳﴾ 
(الحدید) 
’’جس دن منافق مرد اور منافق عورتیں اہل ایمان سے کہیں گے کہ ذرا رُکو‘ انتظار کرو ہم بھی تمہارے نور سے فائدہ اٹھا لیں. (جواب میں اہل ایمان کہیں 
گے) پیچھے لوٹ کر اپنا نور تلاش کرو. (۱اب ان کے درمیان ایک فصیل حائل کر دی جائے گی جس میں ایک دروازہ ہو گا‘ جس کے اندر کی طرف رحمت خداوندی ہو گی اور باہر کی طرف عذاب ہو گا.‘‘

اتنا واضح انجام سامنے آ جانے کے بعد بھی منافقین بظاہر مغالطے میں ہی ہوں گے اور وہ دلیل پیش کریں گے: 
یُنَادُوۡنَہُمۡ اَلَمۡ نَکُنۡ مَّعَکُمۡ ؕ اہل ایمان کو دُور سے پکار کر کہیں گے کیا ہم تمہارے ساتھی نہ تھے (دنیا میں ظاہری قانون کے اعتبار سے منافق بھی مسلمان ہی شمار کیا جاتا ہے). اہل ایمان جواب میں ان پر فرد جرم عائد کرتے ہوئے کہیں گے: 

بَلٰی وَ لٰکِنَّکُمۡ فَتَنۡتُمۡ اَنۡفُسَکُمۡ وَ تَرَبَّصۡتُمۡ وَ ارۡتَبۡتُمۡ وَ غَرَّتۡکُمُ الۡاَمَانِیُّ حَتّٰی جَآءَ اَمۡرُ اللّٰہِ وَ غَرَّکُمۡ بِاللّٰہِ الۡغَرُوۡرُ ﴿۱۴﴾ 
(الحدید) 
’’اس حد تک تو بات صحیح (لیکن تم نے چار بنیادی جرم کیے تھے جن کی تفصیل یہ ہے کہ) تم نے اپنے آپ کو فتنوں 
(۲کے اندر ڈالا اور تم انتظار میں رہے (کہ شاید مسلمان کسی مشکل میں پھنس جائیں اور تمہاری جہاد سے جان چھوٹے) اور تم شکوک و شبہات میں مبتلا ہو گئے (حالانکہ ایمان اور شک و شبہ دو مختلف چیزیں ہیں) اور تمہیں تمہاری تمناؤں نے دھوکے میں ڈالے رکھا‘ اور اس بڑے دھوکے باز (شیطان) نے تمہیں اللہ کے بارے میں دھوکے میں رکھا.‘‘
اگلی آیت میں منافقوں اور کافروں کا آخری و حتمی انجام بیان کرتے ہوئے فرمایا: 
(۱) گویا کہ یہ نور یہاں سے نہیں ملا بلکہ دنیا سے کما کر لایا گیا ہے. یعنی جو نورِ ایمان اور نورِ اعمال دنیا میں کمایا تھا یہاں آ کے ظاہر ہوا ہے. فریقین کے اسی مکالمے کے دوران اہل ایمان آگے نکل جائیں گے اور منافقین ان کا مُنہ تکتے پیچھے رہ جائیں گے. (ماخوذ)

(۲) مال و اولاد کی محبت میں گرفتار ہو کر ایمان کے تقاضے اور مطالبے بھول گئے جبکہ اللہ تعالیٰ نے پیشگی مطلع کر دیا تھا کہ 
اِنَّمَا اَمْوَالُکُمْ وَ اَوْلَادُکُمْ فِتْنَۃٌ کہ تمہارے مال اور تمہاری اولاد تمہارے لیے سامان آزمائش ہے. فَالۡیَوۡمَ لَا یُؤۡخَذُ مِنۡکُمۡ فِدۡیَۃٌ وَّ لَا مِنَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا ؕ مَاۡوٰىکُمُ النَّارُ ؕ ہِیَ مَوۡلٰىکُمۡ ؕ وَ بِئۡسَ الۡمَصِیۡرُ ﴿۱۵﴾ (الحدید) 
’’آج کے دن نہ تم سے کوئی فدیہ قبول ہو گا اور نہ کافروں سے‘ تمہارا ٹھکانہ جہنم کی آگ ہے. یہ آگ ہی تمہاری رفیق ہے‘ اور یہ بہت برا ٹھکانہ ہے.‘‘

دنیا میں ظاہری قانون کے اعتبار سے منافق مسلمانوں کے ساتھ شمار ہوتے تھے کیونکہ بظاہر وہ مسلمان تھے لیکن آخرت میں ان کا شمار کافروں میں ہو گا‘ اس لیے کہ اپنی بداعمالیوں کے سبب سے وہ اپنی ایمان کی پونجی ضائع کر بیٹھے تھے اور اب ایمان کی بجائے نفاق ان کے دلوں میں راسخ ہو گیا تھا. لہٰذا ان کا انجام بھی کافروں کے ساتھ ہو گا. 

اللہ تعالیٰ ہم سب کو نفاق اور منافقانہ کردار سے محفوظ رکھے. دولت ایمان دنیا میں عطا کرے اور مرتے دم تک ایمان نصیب رہے اور آخرت میں اہل ایمان کے ساتھ حساب اور جنت میں داخلہ ملے. 
آمین یا ربّ العالمین! 

شعوری اور غیر شعوری نفاق کا فرق

اہل علم نے نفاق کو دو حصوں میں تقسیم کیا ہے: عقیدے کا نفاق اور عمل کا نفاق. عقیدے کا نفاق شعوری بھی ہو سکتا ہے اور غیر شعوری بھی.
 
شعوری نفاق 
کوئی شخص جان بوجھ کر دھوکہ دینے کے لیے ایمان کا اظہار کرے. مثلاً کوئی ہندو یا سکھ جاسوس بن کر پاکستان آئے اور اسلام کا لبادہ اوڑھ لے. پنجاب کے سرحدی دیہاتوں سے ایسی خبریں آتی رہتی ہیں کہ کسی گاؤں کی مسجد میں ہندو جاسوس امام مسجد کے بھیس میں امامت کرواتا رہا. ظاہر بات ہے وہ باریش ہو گا‘ اسلام کے عبادات و عقائد سے واقف ہو گا‘ عین ممکن ہے اس نے ختنہ بھی کروایا ہو. لیکن وہ آدمی خوب جانتا ہے کہ وہ کون ہے‘ کس عقیدے کا مالک ہے اور اب کس بھیس میں ہے.

اس طرح کے شعوری منافقوں پر مشتمل ایک جماعت دورِ نبویؐ میں بھی موجود 
تھی. قرآن حکیم اس کی تصدیق کرتا ہے: 

وَ قَالَتۡ طَّآئِفَۃٌ مِّنۡ اَہۡلِ الۡکِتٰبِ اٰمِنُوۡا بِالَّذِیۡۤ اُنۡزِلَ عَلَی الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَجۡہَ النَّہَارِ وَ اکۡفُرُوۡۤا اٰخِرَہٗ لَعَلَّہُمۡ یَرۡجِعُوۡنَ ﴿ۚۖ۷۲﴾ 
(آل عمران) 
’’اہل کتاب (یہودیوں) کی ایک جماعت نے یہ سازش تیار کی کہ صبح کے وقت ایمان لے آئو اور شام کو مرتد ہو جائو‘ شاید کہ (سچے اہل ایمان میں سے بھی کچھ) لوگ پلٹ آئیں.‘‘
یہ یہودیوں کا سازشی ذہن تھا (جو کہ پوری دنیا میں مسلّم ہے) انہوںنے سازش تیار کی تاکہ کچھ مخلصین کو توڑا جا سکے. کیونکہ اس وقت ایمان کی دھاک بیٹھی ہوئی تھی کہ جو ایک دفعہ ایمان لے آئے واپس نہیں جاتا چاہے اس کے ٹکڑے ہو جائیں. اس دھاک کو ختم کرنے کے لیے انہوں نے یہ سازش تیار کی. 

پس منظر میں موجود کرداروں اور مذکورہ واقعے پر غور کرنے سے یہ شکل سمجھ آتی ہے کہ کچھ لوگ صبح کے وقت آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے‘ اسلام کا اعلان کیا‘ سارا دن آپ کی محفل میںبڑے مؤدب بن کر بیٹھے رہے‘ شام تک اسلام سے لاتعلقی کا اظہار کر دیا. دیکھنے والوں نے کھلی آنکھوں سے دیکھا کہ کچھ لوگ اسلام لائے اور باادب ہو کر محفل میں بیٹھے رہے‘ یقینا صدق دل سے اسلام کو قبول کیا ہو گا‘ شام کو مُکر گئے اور کہنے لگے ہاں اسلام لا کر دیکھ لیا ہے‘ کچھ بھی نہیں ہے‘ بس دُور کے ڈھول سہانے لگتے ہیں. اس سازش کے پیچھے کچھ مقاصد تھے. ظاہر بات ہے سارے مسلمان تو ایک جیسے مضبوط ایمان کے مالک نہیں تھے ؏ ’’خدا پنج انگشت یکساںنہ کرد‘‘. چنانچہ کچھ تازہ اہل ایمان جن کے دلوں میں ایمان ابھی محکم نہ ہوا ہو‘ ممکن ہے کہ اس طرح کی سازش کا شکار ہو جائیں اور ان کے دل ڈول جائیں. ایسی ہی صورتِ حال کا نقشہ قرآن حکیم میں ان الفاظ کے ساتھ آیا ہے: 
وَ اِذَا جَآءُوۡکُمۡ قَالُوۡۤا اٰمَنَّا وَ قَدۡ دَّخَلُوۡا بِالۡکُفۡرِ وَ ہُمۡ قَدۡ خَرَجُوۡا بِہٖ ؕ وَ اللّٰہُ اَعۡلَمُ بِمَا کَانُوۡا یَکۡتُمُوۡنَ ﴿۶۱﴾ (المائدۃ) 

’’(اے مسلمانو!) جب یہ تمہاری محفل میں آئے تو انہوں نے کہا کہ ہم ایمان لے آئے حالانکہ وہ (دلی) کفر کے ساتھ داخل ہوئے تھے اور کفر کے ساتھ ہی نکل گئے تھے‘ اور اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ وہ چھپائے ہوئے ہیں.‘‘

یعنی ان کی نیت ہی خراب تھی‘ ارادہ سازش کا تھا. اب آپ خود اندازہ کریں جو شخص صبح آٹھ بجے ایمان لا کر رات کو آٹھ بجے مرتد ہوا‘ اس نے بارہ گھنٹے اسلام کی حالت پر بسر کیے‘ ہو سکتا ہے چار نمازیں بھی رسول اللہ کی اقتدا میں پڑھی ہوں‘ ان اوقات میں اگر وہ مر جاتا تو قانوناً مسلمان ہی شمار ہوتا اور آپ اس کی نمازِ جنازہ بھی پڑھاتے‘ حالانکہ درحقیقت وہ دلی کفر کے ساتھ ہی داخل ہوا تھا اور کفر کے ساتھ ہی نکل گیا. وہ شخص اپنے بارے میں خوب جانتا تھا کہ میں دھوکہ دے رہا ہوں. یہ ہے شعوری نفاق یا بالارادہ نفاق.
 
غیر شعوری نفاق 

قرآن حکیم میں جن منافقین کا تذکرہ آیا ہے ان میں ۹۹ فیصد یا کم سے کم ۹۰ فیصد لوگ غیر شعوری منافق تھے. یہی وجہ ہے کہ قرآن حکیم جب بھی ان کا تذکرہ کرتا ہے تو 
’’لَا یَشْعُرُوْنَ‘‘ اور ’’لَا یَعْلَمُوْنَ‘‘کے الفاظ استعمال کرتا ہے. اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: 

وَ مِنَ النَّاسِ مَنۡ یَّقُوۡلُ اٰمَنَّا بِاللّٰہِ وَ بِالۡیَوۡمِ الۡاٰخِرِ وَ مَا ہُمۡ بِمُؤۡمِنِیۡنَ ۘ﴿۸﴾یُخٰدِعُوۡنَ اللّٰہَ وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا ۚ وَ مَا یَخۡدَعُوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡفُسَہُمۡ وَ مَا یَشۡعُرُوۡنَ ؕ﴿۹﴾ 
(البقرۃ) 
’’بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان لائے ہیں‘ حالانکہ وہ درحقیقت مومن نہیں ہیں. وہ اللہ اور اہل ایمان کو دھوکہ دینے کی کوشش کر رہے ہیں مگر دراصل وہ اپنے آپ کو ہی دھوکے میں 
ڈال رہے ہیں اور انہیں اس کا شعور نہیں ہے.‘‘

قرآن حکیم میں جن منافقین کا تذکرہ ہے ان کی اکثریت غیر شعوری نفاق کی حامل تھی. 

غیر شعوری نفاق کی بنیاد 

انسان کے اندر ایک فیکلٹی ہے جسے انگریزی زبان میں 
rationalization کہا جاتا ہے. یعنی ایک مجرم جرم کر رہا ہوتا ہے تو وہ ساتھ ساتھ اپنے آپ کو مطمئن (justify) بھی کر رہا ہوتا ہے. ایک کارخانہ دار مزدور کا استحصال کر رہا ہوتا ہے اور اپنے آپ کو مطمئن کرنے کے لیے کہتا ہے کہ چونکہ مزدور دل لگا کر محنت سے کام نہیں کرتا لہٰذا مجھے اس کا حق مارنے کا استحقاق ہے. دوسری طرف مزدور کارخانہ دار کی چوری کرتا ہے اور اپنے آپ کو مطمئن کرنے کے لیے کہتا ہے کہ چونکہ مالک ہمارا استحصال کرتا ہے‘ ہمارا خون چوستا ہے‘ لہٰذا چوری کرنے کا مجھے حق ہے. اسی نفسیاتی اصول کے تحت عبد اللہ بن ابی اپنے تین سو ساتھیوں کو لے کر میدانِ اُحد سے واپس ہوا تھا کہ جب آپؐ ہماری بات نہیں مانتے‘ ہمارا مشورہ نہیں سنتے‘ تو ہم خواہ مخواہ اپنے آپ کو خطرے میں کیوں ڈالیں؟ 

یَقُوۡلُوۡنَ ہَلۡ لَّنَا مِنَ الۡاَمۡرِ مِنۡ شَیۡءٍ ؕ (آل عمران: ۱۵۴
’’وہ کہتے ہیں کیا اس اہم معاملے میں ہمارا بھی کوئی حصہ تسلیم ہے؟‘‘

اور پھر کہتے ہیں کہ اگر ہماری بات مان لی جاتی تو 
’’مَا قُتِلْنَا ھٰھُنَا‘‘ ’’تو ہم یہاں قتل نہ ہوتے‘‘. 

نفاق سامنے کب آتا ہے؟

جس معاشرے میں دعوت و تحریک نہیں ہوتی اور جمود (stagnation) ہوتا ہے تو وہاں ایمان کا بھی جمود ہوتا ہے. اگر کسی انسان کا ایمان زیرو لیول پر ہے تو وہیں پڑا رہے گا. جونہی وہاں دعوت و تحریک کا آغاز ہو گا امتحان و آزمائش کا مرحلہ بھی شروع ہو جائے گا. صورتِ حال یوں بنتی ہے کہ اللہ بھی پیارا ہے‘ رسول اور جنت سے بھی پیار ہے‘ دوسری طرف جان و مال بھی پیارے ہیں اور گھر کا آرام بھی پیارا ہے. گویا ؎

تپتی راہیں مجھ کو پکاریں
دامن پکڑے چھائوں گھنیری

اب ایمان میدان کی طرف پکار رہا ہے. اگر ایمان کے تقاضے پر لبیک کہا تو ایمان کی ترقی و اضافے کی طرف سفر شروع ہو جائے گا‘ جبکہ دوسری طرف علائق دُنیوی انسان کو رکنے کا مشورہ دیتے ہیں کہ پاس بیٹھے رہو اور بہانہ بنا دو یا جھوٹ بول دو‘ بلکہ ضرورت پڑے تو قسمیں کھا کر اس آزمائش سے خود کو بچا لو. بس ایسے ہی موقع پر نفاق نکھر کر سامنے آ جائے گا. 

نفاق عملی یا عمل کا نفاق 

بعض احادیث میں کچھ اعمال کے حوالے سے نفاق کا تذکرہ ہوا ہے اور بعض اعمال کو نفاق کی علامات قرار دیا گیا ہے. حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا: 

آیَۃُ الْمُنَافِقِ ثَلاثٌ: اِذَا حَدَّثَ کَذَبَ‘ وَاِذَا وَعَدَ اَخْلَفَ‘ وَاِذَا أْوتُمِنَ خَانَ 
(۱
’’منافق کی تین نشانیاں ہیں: (۱) جب بات کرے جھوٹ بولے (۲) جب وعدہ کرے خلاف ورزی کرے (۳) اور جب امین بنایا جائے تو خیانت کرے.‘‘

مسلم شریف کی روایت میں اضافی الفاظ ہیں اور وہ بہت سخت ہیں: 

وَاِنْ صَامَ وَ صَلّٰی وَزَعَمَ اَنَّہُ مُسْلِمٌ 
(۲(۱) صحیح البخاری‘ کتاب الایمان‘ باب علامۃ المنافق‘ ح۳۳۳۴.

(۲) صحیح مسلم‘ کتاب الایمان‘ باب خصال المنافق‘ ح۵۸۵۹
’’خواہ وہ شخص روزے رکھتا ہو‘ نماز پڑھتا ہو اور اپنے تئیں پورا یقین رکھتا ہو کہ وہ مومن ہے.‘‘
ایک روایت میں چار نشانیاں بھی بیان ہوئی ہیں‘ تین سابقہ کے بعد چوتھی نشانی یہ بیان ہوئی کہ: 
وَاِذَا خَاصَمَ فَجَرَ (۱’’اور جب جھگڑا ہو جائے تو بے ہودہ زبان استعمال کرے (گالی گلوچ پر اتر آئے)‘‘

آپ نے ارشاد فرمایا: جس میں ان میں سے ایک نشانی پائی جائے وہ ایک چوتھائی ۴/۱ یا ۲۵ فیصد) منافق ہے‘ جس میں دو نشانیاں پائی جائیں وہ آدھا (۲/۱ یا ۵۰ فیصد) منافق ہے اور جس میں تین نشانیاں پائی جائیں وہ تین چوتھائی (۴/۳ یا ۷۵ فیصد) منافق ہے. چونکہ یہاں نفاق کا لفظ اعمال کی وجہ سے آیا ہے لہٰذا اہل علم نے اسے عملی نفاق قرار دیا ہے یا کردار و اخلاق کے نفاق کا نام دیا ہے. البتہ عقیدے کا نفاق اس وقت ہو گا جب اس کے دل میں فتور ہو اور نیت کی خرابی ہو. 


نفاق سے متعلق مغالطے اور وضاحتیں

نفاق کے ضمن میں بڑے بڑے مغالطے ہمارے ذہنوں میں بیٹھے ہوئے ہیں‘ حتیٰ کہ پڑھے لکھے لوگ اور علماء کہلانے والے بھی ان مغالطوں کا شکار ہیں: 

پہلا مغالطہ

’’نفاق صرف دورِ نبوت میں تھا‘ اب اس کا وجود نہیں ہے.‘‘ 

وضاحت

اس حد تک تو یہ بات صحیح ہے کہ ہمارے اس دَور میں کسی کا نام لے کر اسے منافق نہیں کہا جا سکتا‘ کون منافق ہے اور کون نہیں‘ اس کا فیصلہ رسول اللہ تو کر سکتے تھے کیونکہ آپؐ کے پاس وحی کا علم آتا تھا لیکن آپؐ کے بعد کوئی شخص کسی (۱) صحیح مسلم‘ کتاب الایمان‘ باب خصال المنافق‘ ح۵۸۵۹دوسرے کو منافق قرار نہیں دے سکتا. وحی کا دروازہ بند ہو چکا ہے. اس ضمن میں ایک واقعے (۱سے راہنمائی ملتی ہے. ہوا یوں کہ غزوۂ تبوک سے واپسی پر کچھ منافقوں نے رات کی تاریکی میں حضور اکرم پر حملہ کر دیا. 

اس وقت آپ ایک تنگ گھاٹی سے گزر رہے تھے. حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ اس وقت آپ کے اونٹ کی نکیل پکڑ کر چل رہے تھے‘ بہرحال اللہ تعالیٰ نے حفاظت فرمائی اور حضرت حذیفہؓ نے بھی مقابلہ کیا‘ آپؐ بچ نکلے. منافقوں نے ڈھاٹے باندھے ہوئے تھے‘ رات کی تاریکی تھی‘ حضرت حذیفہؓ تو نہ پہچان سکے‘ تاہم اس موقع پر آپ نے حضرت حذیفہؓ کو بتایا کہ یہ فلاں فلاں منافق تھے. رسول اللہ نے دوسرے منافقین کے بارے میں بھی حضرت حذیفہؓ کو بتا دیا تھا اور ساتھ ہی سختی سے روک بھی دیا تھا کہ حذیفہ دیکھو یہ میرا راز ہے‘ کسی سے نہیں کہنا. اسی سے حضرت حذیفہ ؓ کا یہ لقب بن گیا: ’’صاحبُ سِرِّ النبیؐ ‘‘ کہ یہ نبی کے راز دان ہیں. لہٰذا اب آپ کے بعد کوئی کسی کو منافق قرار دینے کا مجاز نہیں کیونکہ نفاق کی کوئی Legal entity (قانونی حیثیت) نہیں ہے. واضح رہے کہ اتنا معلوم ہونے کے باوجود بھی آپ نے یہ احتیاط برتی کہ اپنی حیات طیبہ میں چند ایک افراد کو چھوڑ کر کہ جن کی سرکشی حد سے زیادہ بڑھ گئی تھی‘ کسی کو منافق قرار دے کر اس کا تعلق امت سے (۲منقطع نہیں کیا. بہرحال جزوی طور پر یہ بات صحیح ہے کہ دورِ نبویؐ کے بعد کسی کو معین طور پر منافق قرار نہیں دیا جا سکتا‘ البتہ جس طرح ایمان اور کفر ہمیشہ ساتھ رہیں گے اسی طرح نفاق بھی ہمیشہ رہے گا اور ریاکاری و اخلاص بھی ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے. معاشروں میں نسبت و تناسب میں کمی بیشی ہو سکتی ہے. دورِ نبویؐ میں اگر نفاق ہو سکتا ہے تو ہمارے دَور میں اس کا زیادہ امکان ہے‘ اس دَور میں تو سو گنا زیادہ نفاق ہو سکتا ہے. (۱) البدایۃ والنھایۃ لابن کثیر ۵/۹۲۲ کے اہم واقعات بسلسلہ غزوۂ تبوک. 

(۲) یہاں تک کہ رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی علیہ ما علیہ کی نماز جنازہ پڑھائی کیونکہ اس کے نوجوان بیٹے عبداللہ( رضی اللہ عنہ) بن عبداللہ بن ابی مومن صادق تھے اور انہوں نے درخواست کی کہ میرے والد انتقال کر گئے ہیں‘ آپ اپنا کرتہ عنایت کر دیں‘ ان کو کفن دینا چاہتا ہوں. حضور نے کرتہ دے دیا. حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: 

حضور یہ کس کو کرتہ دے رہے ہیں؟ فرمایا: عمر! میرا کرتہ اسے عذاب سے نہ بچا سکے گا. البتہ کرتہ نہ دینا آپ کی شان مروّت و شرافت کے خلاف تھا. بلکہ مجھے تو یہ اندازہ ہوتا ہے کہ اس طرح حضور نے قرض اتارا تھا‘ کیونکہ غزوۂ بدر کے اسیروں میں آپ کے چچا حضرت عباس رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے. وہ گرفتار ہو کر کافروںکے ساتھ ہی آئے تھے‘ اب حالت اسیری میں انہیں کرتے کی ضرورت پڑ گئی. وہ بہت طویل القامت تھے. حضرت عباسؓ کے قد کے برابر عبداللہ بن ابی تھا. لہٰذا عبداللہ بن ابی نے اپنا کرتہ حضرت عباس کو دیا. اب گویا آپ نے اپنا کرتہ عبد اللہ بن ابی کی خاطر دے کر اس قرض کو برابر کیا تھا. واللہ اعلم. (ماخوذ از محاضرات حقیقت ایمان)

دوسرا مغالطہ

’’ہم تو مسلمان ہیں‘ نفاق کا ہم سے کیا سروکار؟ گویا کہ ہم ہر اعتبار سے محفوظ ہیں‘ بلکہ قلعہ بند ہیں‘ ہمیں تو نفاق چھو کر بھی نہیں جا سکتا.‘‘ 

وضاحت

ہماری غلط فہمی یا خوش فہمی کا تقابل اس امر سے کر کے دیکھ لیں کہ کبارِ صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین بھی اپنے بارے میں نفاق کے اندیشہ میں مبتلا رہتے تھے. حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ (صاحب سر النبی) کو قسم دے کر پوچھا کہ کہیں میرا نام تو منافقین کی اس لسٹ میں نہیں جو آنحضور نے آپ کو بتلائی؟. ذرا غور کریں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو تو اندیشہ نفاق لاحق ہے اور ہم بے فکر ہیں. حضرت حنظلہ بن ربیع الکاتب الاسیدی رضی اللہ عنہ ایک انصاری صحابی ہیں. وہ گھر سے نکلے‘ ایک عجیب غلبہ حال کی کیفیت طاری تھی‘ چلے جا رہے تھے اور رو رہے تھے. حضرت ابو بکر الصدیق رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے تو انہوں نے دریافت کیا کہ کیا ہوا. کہنے لگے ’’نافَقَ حنظلۃ‘‘ (حنظلہ منافق ہو گیا) پوچھا کیسے منافق ہو گئے‘ کہنے لگے: جب ہم آپ کی خدمت میں ہوتے ہیں اور آپؐ جنت دوزخ کا تذکرہ کرتے ہیں تو ایسے معلوم ہوتا ہے کہ کھلی آنکھوں سے سب کچھ دیکھ رہے ہیں. اور جب گھر بار اور کاروبار میں مصروف ہو جاتے ہیں تو وہ کیفیت باقی نہیں رہتی. یہ فرق نفاق ہی تو ہے. حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ اگر چاہتے تو خود ہی انہیں مطمئن کرنے کی کوشش کرتے مگر انہوں نے کہا: حنظلہ یہی حال ہمارا بھی ہے‘ رسول اللہ کے پاس چل کر دریافت کرتے ہیں. ماجرا جاننے کے بعد آپ نے فرمایا: اے حنظلہ یہ تمہاری خوش قسمتی ہے‘ یہ تو عین ایمان ہے. میری مجلس میں تمہاری جو کیفیت ہوتی ہے اگر وہ مسلسل رہے تو فرشتے تم سے تمہارے بستروں میں مصافحہ کرنے لگیں اور اے حنظلہ ایسی گھڑی تو کبھی کبھی نصیب ہوتی ہے. (۱

اب موازنہ کر لیجیے کہ ہم تو اپنے آپ کو نفاق کے روگ سے محفوظ اور مامون سمجھے بیٹھے ہیں جبکہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین لرزاں و ترساں رہتے تھے. ہم نے یہ سمجھ لیا ہے کہ قرآن حکیم میں جہاں جہاں منافقین کا ذکر آیا ہے ہمارا سرے سے ان سے کوئی تعلق ہے ہی نہیں‘ ہمارے ہاں تو اپنے گریبان میں جھانکنے کی نوبت بھی کبھی نہیں آتی‘ ڈر‘ خوف اور لرزہ طارہ ہونا تو دُور کی بات ہے. اس ضمن میں اس مشہور قول سے بھی فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے: 
مَا اَمِنَہُ اِلاَّ مُنَافِقٌ وَ مَا خَافَہُ اِلاَّ مُؤْمِنٌ یعنی ’’نفاق سے اپنے آپ کو محفوظ نہیں سمجھتا مگر منافق اور اس کے بارے میں خوف نہیں رکھتا مگر مومن‘‘. (۲(۱) صحیح مسلم‘ کتاب التوبۃ‘ باب فضل دوام الذکر… الخ‘ ح۲۷۵۰. و سنن الترمذی‘ کتاب صفۃ القیامۃ‘ باب۵۹‘ ح۲۵۱۴واضح رہے یہ الفاظِ حدیث کا ترجمہ نہیں ہے بس مفہوم حدیث اختصار کے ساتھ بیان کیا گیا ہے.

(۲) یہ حضرت حسن بصری رحمہ اللہ علیہ کا قول ہے‘ ملاحظہ ہو 
صحیح البخاری‘ کتاب الایمان‘ باب خوف المومن من ان یحبط عملہ وھو لا یشعر. معروف تابعی ابن ابی ملیکہ رحمہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:’’ادرکت ثلاثین من اصحاب النبی کلھم یخاف النفاق علی نفسہ‘‘ (صحیح بخاری حوالہ سابقہ) ’’میں تیس صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے ملا ہوں‘ ہر ایک اپنے بارے میں نفاق کے خطرے میں مبتلا تھا‘‘. امام ابن حجر رحمہ اللہ علیہ نے اس خوف اور خطرے کی تعبیر ان الفاظ میں کی ہے: ’’اس لیے کہ مومن پر کبھی اس طرح کے حالات طاری ہو جاتے ہیں جنہیں وہ اخلاص کے منافی خیال کرتا ہے‘ اور یہ بھی ضروری نہیں کہ اگر انہیں (صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو) خطرہ محسوس ہو رہا تھا تو وہ فی الواقع اس میں مبتلا ہو گئے ہوں بلکہ ورع و تقویٰ میں مبالغہ و شدت کی وجہ سے انہی یہ احساس تھا. (فتح الباری ۱/۱۳۶‘ طبع الریان‘ مصر) (اضافہ از مرتب غفر اللہ لہ ولوالدیہ) اسی بات کو ایک مثال سے بھی سمجھا جا سکتا ہے کہ جس مسافر کی گٹھری میں میں مال ہو گا وہ رات کو چین سے نہیں سو سکے گا بلکہ ہمیشہ اندیشے میں مبتلا رہے گا اور جس کے پاس کچھ نہ ہو گا وہ پاؤں پسار کر سوئے گا. اور اگر کسی کا مال چوری ہو جائے اور ہاتھ خالی ہو جائیں تو وہ بھی پُرسکون سوئے گا. بقول غالب

؏ ’’رہا کھٹکا نہ چوری کا‘ دُعا دیتا ہوں رہزن کو‘‘.
چنانچہ جس کے پاس ایمان کی پونجی ہی نہیں اس کو کس چیز کا ڈر‘ ہاں البتہ جس کے پاس ایمان کا سرمایہ ہو گا اسی کو نفاق کے ڈاکے کا ڈر لگا رہے گا.