اسلام میں اخلاقِ حسنہ َکی اہمیت

پہلی بات جو میرے نزدیک کَلَّاۤ اِنَّہَا تَذۡکِرَۃٌ کے درجے میں ہے‘ یاد دہانی کے طور پر عرض کی جاتی ہے اور ہم میں سے کسی کے لیے یہ نئی بات نہیں ہوگی ‘لیکن اس گفتگو کا حق ادا نہیں ہوسکتا ،اگر ان حقائق کو تازہ نہ کرلیا جائے. وہ بات یہ ہے کہ اسلام میں اخلاق کی اہمیت اس درجہ ہے کہ جب نبی اکرمؐسے دریافت کیا گیا: أَیُّ الْاِیمَانِ أَفْضَلُ؟ اے اللہ کے رسولؐ فرمائیے کہ سب سے افضل ‘سب سے اعلیٰ اور سب سے عمدہ ایمان کون سا ہے؟ توجواب میں آپؐ نے فرمایا : خُلُقٌ حَسَنٌ (۱یعنی وہ ایمان جس کے ساتھ اخلاقِ حسنہ موجود ہوں. اسی طرح دوسری حدیث میں یہ قولِ مبارک سامنے آتا ہے:أَکْمَلُ (۱) مسند احمد بن حنبل‘ مسند العشرۃ المبشرین بالجنۃ‘ تتمۃ مسند الکوفین‘ حدیث عمرو بن عبسۃ. الْمُؤْمِنِینَ اِیمَانًا أَحْسَنُہُمْ خُلُقًا (۱’ ’اہل ایمان میں سب سے زیادہ کامل الایمان شخص وہ ہے جو اخلاق میں سب سے عمدہ ہے‘‘.یعنی جس کے اخلاق سب سے اعلیٰ ہیں. ّہمارے سامنے وہ آیاتِ قرآنیہ بھی ہیں جن میں نبی اکرم کے اخلاقِ عالیہ سے متصف ہونے کا تذکرہ ہے‘ جیسے سورۂ ‘نٓ (القلم)کی ابتدائی آیات جو بعض محققین کے نزدیک دوسری وحی ہے جو حضورؐ پر نازل کی گئی: 

نٓ وَ الۡقَلَمِ وَ مَا یَسۡطُرُوۡنَ ۙ﴿۱﴾مَاۤ اَنۡتَ بِنِعۡمَۃِ رَبِّکَ بِمَجۡنُوۡنٍ ۚ﴿۲﴾وَ اِنَّ لَکَ لَاَجۡرًا غَیۡرَ مَمۡنُوۡنٍ ۚ﴿۳﴾وَ اِنَّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیۡمٍ ﴿۴﴾ 

’’نون . (اے نبیؐ ) قسم ہے قلم کی اور اُس چیز کی جسے (لکھنے والے) لکھ رہے ہیں کہ آپ اپنے ربّ کے فضل سے مجنون نہیں ہیں. یقینا آپ کے لیے تو کبھی نہ ختم ہونے والا اجر ہے. اور بے شک آپ اخلاق کے اعلیٰ مرتبے پر ہیں.‘‘

اے نبی ؐ اگرکوئی آپ کو مجنون کہہ رہا ہے تو آپ دل گرفتہ نہ ہوں. ان کے کہنے سے آپ مجنون نہیں ہوجائیں گے. آپ کے اخلاق تو خود منہ بولتا ثبوت ہیں کہ آپ کی شخصیت نہایت متوازن ہے. آپؐ کے اخلاق توانتہائی اعلیٰ ہیں: 
وَ اِنَّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیۡمٍ . 

بعض احادیث مبارکہ سے یہ واضح ہوتا ہے کہ ایمان اور اخلاقِ حسنہ لازم و ملزوم ہیں. مثلاً حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ؐ نے ارشاد فرمایا: 

لَـیْسَ الْمُؤْمِنُ بِالطَّعَّانِ وَلَا اللَّعَّانِ وَلَا الْفَاحِشِ وَلَا الْبَذِیِّ (۲
’’مؤمن کبھی بھی طعنے دینے والا‘ لعنت ملامت کرنے والا‘ فحش گوئی کرنے والا اور بداخلاق نہیں ہو سکتا.‘‘

اور میرے نزدیک اس ضمن میں حرفِ آخر ہے وہ حدیث ِمبارکہ جو متفق علیہ ہے. حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہؐ نے فرمایا: 
وَاللّٰہِ لَا یُؤْمِنُ‘ وَاللّٰہِ لَا یُؤْمِنُ‘ وَاللّٰہِ لَا یُؤْمِنُ! ’’خدا کی قسم وہ شخص مؤمن نہیں ہے!دوسری مرتبہ پھر یہی فرمایا‘تیسری مرتبہ پھر آپؐ نے یہی فرمایا کہ خدا کی قسم وہ شخص مؤمن نہیں ہے‘‘.صحابہ کرامؓ ‘لرز گئے ہوں گے کہ کون ہے وہ شقی شخص جس کے بارے میں حضور ؐ تین مرتبہ اللہ کی قسم کھا کر فرمارہے ہیں کہ (۱) سنن الترمذی‘ کتاب الرضاع‘ باب ما جاء فی حق المرأۃ علی زوجھا.

(۲) سنن الترمذی‘ کتاب البر والصلۃ‘ باب ما جاء فی اللعنۃ. وشعب الایمان للبیھقی‘ الرابع والثلاثون من شعب الایمان‘ فصل فی فضل السکوت عن کل ما لا یعینیہ … 
وہ شخص مؤمن نہیں . قِیلَ وَمَنْ یَا رَسُولَ اللّٰہِ ؟ ’’پوچھا گیا :اے اللہ کے رسول کون؟ ‘‘ تو جواب میں یہ ارشاد ہوتا ہے: الَّذِی لَا یَأْمَنُ جَارُہُ بَوَایِقَہُ (۱’’وہ شخص جس کی ایذا رسانی سے اس کا پڑوسی چین یا امن میں نہیں ہے‘‘. یہ حدیث بہت سے افراد نے پہلے بھی سنی ہوگی ‘لیکن اس اعتبار سے توجہ کریں کہ یہاں کسی گناہِ کبیرہ کا تذکرہ نہیں کیا گیا. یہاں شرک کا تذکرہ نہیں ہے ‘ زنا کا تذکرہ نہیں ہے‘ چوری ‘ڈاکے یا قتل کا تذکرہ نہیں ہے‘ صرف وہ شے بیان فرمائی جس کو ہم کج خلقی کہتے ہیں. 

میں یہاں متکلمانہ بحثیں نہیں چھیڑنا چاہتا‘ ظاہر ہے یہاں یہ بات مراد نہیں ہے کہ جس شخص کی یہ کیفیت ہے وہ اسلام کے دائرے سے نکل گیا‘ وہ کافر ہوگیا بلکہ کوئی اور حقیقت ہے جس کی نفی محمدرسول اللہ ؐ اس شدت سے فرمارہے ہیں. یہ قانونی ایمان نہیں ہے جس کی بنیاد پر کسی کودنیا میں مسلمان سمجھا جاتا ہے ‘لیکن اسے حقیقت ایمان کہہ لیں یا ایمان کا تکمیلی درجہ کہہ لیں کہ اُس شخص کی محرومی پر رسول اللہؐ نے تین مرتبہ اللہ کی قسم کھائی ہے، جس کی ایذا رسانی سے اُس کا پڑوسی چین میں نہیں ہے. اس موضوع پر آیاتِ قرآنیہ اور احادیث نبویہؐ ‘ کا بہت سا ذخیرہ سامنے لایا جاسکتا ہے مگر میں اسی پر اکتفا کرتے ہوئے اب دوسری بات کی طرف آرہا ہوں.