تقدیم

میری جو ۲ تحریریں اس کتابچے میں شامل ہیں اُن میں سے پہلی تحریر اکّیس بائیس سال پُرانی ہے. اس لئے کہ یہ اوائل 66ء؁ میں اس زمانے میں لکھی گئی تھی جب میں دوبارہ لاہور منتقل ہوا ہی تھا اور میری زندگی کے اس دَور کا ااغاز ہونے والا تھا جس کے اہم نشاناتِ راہ ہیں پیشۂ طب سے علیحدگی، مرکزی انجمن خدام القرآن لاہور کی تأسیس اور تنظیمِ اسلامی کا قیام! ...... اُس زمانے میں مولوی محی الدین سلفی مرحوم و مغفور ہفت روزہ ’’الاعتصام‘‘ کے ادارۂ تحریر سے وابستہ تھے. انہوں نے اشاعت کے لئے کسی مضمون کی فرمائش...... میں کبھی اپنے زمانۂ طالبعلمی میں تو اسلامی جمعیت طلبہ کے ہفت روزہ پرچے ’’عزم‘‘ میں لکھتا رہا تھا اور ۵۶ء؁ میں تحریکِ اسلامی سے شدید ذہنی و قلبی وابستگی کے باعث سخت اعصابی دباؤ کے تحت ’’ تحریکِ جماعت اسلامی: ایک تحقیقی مطالعہ‘‘ نامی طویل تحریر بھی میرے قلم سے نکل چکی تھی لیکن اس کے بعد سے مسلسل دس سال اس طرح گزر گئے تھے کہ کسی کو ذاتی خط لکھنے کے لئے بھی شاید ہی قلم ہاتھ میں لیا ہو.......لہٰذا میں معذرت کرتا رہا .....لیکن جب ان کا اصرار بہت بڑھا تو ایک روز اچانک قلب و ذہن کی کسی خاص کیفیت میں یہ تحریر قلم سے صادر ہو گئی. ’’الاعتصام‘‘ جماعتِ اہلحدیث کا ترجمان تھا اور مجھے یقین تھا کہ یہ تحریر اس میں ہرگز نہیں چھپ سکے گی. لیکن محی الدین سلفی مرحوم نے اسے شائع کر دیا..... مجھے حیرت ہوئی کی اس پر انہیں متعدد خطوط تعریف و تحسین پر مشتمل موصول ہوئے. جن میں سے بعض انہوں نے مجھے بھی دکھائے، ان میں سے ایک خط ملک حسن علی جامعی شرقپوری نے تحریر فرمایا تھا جس میں انہوں نے اِس تحریر کی بہت دل کھول کر تعریف کی تھی اور اِسے حکمتِ قرآن اور فلسفۂ اقبال کا نچوڑ قرار دیا تھا...... اس اثناء میں میرے ذہن مین ’’حقیقتِ انسان‘‘ کے عنوان سے اس کی دوسری قسط کاہیولیٰ بھی تیار ہو گیا تھا...... بلکہ اس کا ابتدائیہ قلمبند بھی ہو گیا تھا......لیکن اُدھر اگست ۶۶ء میں جب ’’میثاق‘‘ کا پہلا پرچہ میری ادارت میں شائع ہوا. اور میں نے اپنی ’الاعتصم‘ میں شائع کردہ تحریر کو بھی اُس میں شامل کر دیا تو مولانا امین احسن اصلاحی نے اسے ناپسند فرمایا کہ یہ ’’ ابو الکلامی انداز ہے......اس کا زمانہ گزر چکا!‘‘ ،میشاق، چونکہ اس وقت اُنہی کے ’’زیرِ سر پرستی‘‘ شائع ہو رہا تھا لہٰذا میں نے اُن کے جذبات کا احترام کیا ...... اور اس طرح اُس دوسری قسط کی تکمیل و تسوید کی نوبت نہ آ سکی. (بلکہ واقعہ یہ ہے کہ اس کے بعد اس طرز کی بس ایک ہی تحریر میرے قلم سے اور نکلی جو ’راہِ نجات‘ نامی کتابچے میں شامل ہے ) تاہم اس کے بعض نکات گاہے بگاہے ہیرے ذہن میں کلبلاتے رہے.

اواخر ۸۴ء؁ میں اچانک اس ’کلبلاہٹ‘ نے زور کیا اور اس کا ایک حصہ ذہن سے بذریعہ قلم قرطاس پر منتقل ہو گیا تو خیال آیا کہ اگر اسے شائع کر دیا جائے تو شاید تکمیل کا فطری تقاضا دوسری مصروفیات میں سے وقت نکالنے پر آنادہ کر سکے. چنانچہ اولاََ ’حکمتِ قرآن‘ کے نومبر ۸۴ء؁ کے شمارے میں دوبارہ ’’حقیقتِ زندگی‘‘ اور دسمبر ۸۴ء؁ میں ’’حقیقتِ انسان‘‘ کی قسطِ اول اشاعت ہوئی. اس کے بعد الحمد للہ کہ مارچ اپریل ۸۴ء؁ کے مشترک شمارے میں ’’حقیقتِ انسان‘‘ کی دوسری قسط بھی شائع ہو گئی .... لیکن افسوس کہ مضمون طوالت اختیار کر گیا اوعر اس کی تکمیل کی نوبت تا حال نہیں آ سکی.

حال ہی میں یہ خیال آیا کیوں نہ ’’ حقیقتِ زندگی‘‘ اور’’ حقیقتِ انسان‘‘ کی قسط اوّل کو تو ایک کتابچے کی صورت میں شائع کر ہی دیا جائے. شاید کہ کچھ ذہین اور حسّاس نوجوانوں کو اپنی حقیقت کا سراغ مِل ہی جائے اور اُن کے اندر کا سویا ہوا انسان جاگ اُٹھے!! 

خاکسار اسرار احمد غفی 
لاہور. ۱۶ فروری ۸۸ء