اقبال کی شاعری

یوں تو شاعر، ماں کے پیٹ سے شاعر بن کر آتا ہے. لیکن جس وقت یہ ملکہ ظاہر ہوتا ہے اس وقت سے شاعر کی شاعری کا آغاز تصور ہوتا ہے. اس لحاظ سے اقبال کی شاعری کا آغاز ۱۸۹۵ سے سمجھنا چاہیے. اس زمانہ میں اور اس سے پہلے آپ کی سخن گوئی صرف احباب اور کالج کے طلبہ تک محدود تھی. لیکن ۱۸۹۶ء میں آپ نے جلسوں میں شرکت شروع کی اور اس طرح آپ کی خداداد قابلیت کا شہرہ عام ہونے لگا.
غالبا! دوستوں نے مشورہ دیا ہوگا کہ آپ کو کسی باکمال استاد سے مشورہ کرنا چاہیے. کیونکہ استاد بہرحال، خوب کو خوب تر بنا دیتا ہے یا آپ نے خود اس ضرورت کو محسوس کیا ہوگا. بہرکیف آپ نے بلبل ہند نواب فصیح الملک بہادر، مرزا داغ دہلوی، استاد اعلی حضرت نظام دکن مرحوم کو خط لکھا کہ مجھے اپنی سلک شاگردی میں منسلک کرلیجیے اور چند غزلیں بھی اصلاح کے لیے بھیجیں.
تلمّذ کا یہ سلسلہ دیر تک قائم نہیں رہا. ہاں بقول آنریبل جسٹس شیخ سر عبدالقادر صاحب بالقابہ “اس کی یاد دونوں طرف باقی رہ گئی”. اقبال کی خوش نصیبی کہ اسے داغ جیسا زبان دان اور کامل الفن استاد ملا، اور داغ کی بلند بختی کہ اقبال اس کے شاگردوں کی ممتاز صف میں شامل ہوا. شیخ صاحب موصوف فرماتے ہیں کہ داغ مرحوم اس بات پر فخر کرتے تھے کہ اقبال بھی ان لوگوں میں شامل ہے جن کے کلام پر انہوں نے اصلاح دی. مجھے خود دکن میں ان سے ملنے کا اتفاق ہوا. اور میں نے خود ایسے فخریہ کلمات ان کی زبان سے سنے. 
اقبال نے خود بھی ایک غزل کے مقطع میں داغ کے شاگرد ہونے کا ثبوت دیا ہے. 

نسیم تشنہ ہی اقبال کچھ اس پر نہیں نازاں
مجھے بھی فخر ہے شاگردئ داغِ سخنداں کا

سب سے پہلے لاہور میں، سب سے پہلے مشاعرہ میں آپ نے جو غزل پڑھی اس کا مقطع یہ ہے:.

اقبال لکھنؤ سے نہ دلی سے ہے غرض
ہم تو اسیر ہیں خمِ زلفِ کمال کے. 

چنانچہ ایسا ہی ہوا. جو شعراء قوموں کو زمزمہ حیات سنانے آتے ہیں وہ مکانی اور زمانی دونوں قیود سے آزاد ہوتے ہیں. اقبال نے رفتہ رفتہ اپنی طرز وہی کرلی جو ان کے لیے مناسب تھی. یعنی ۱۹۱۱ء سے اقبال کی شاعری اسلامی شاعری ہوگئی. ۶ اکتوبر۱۹۱۱ کو بادشاہی مسجد لاہور میں آپ نے “خون شہداء کی نذر” کے عنوان سے جو نظم پڑھی، اس نے ایک قیامت برپا کردی. جس وقت آپ نے یہ شعر پڑھا

جھلکتی ہے تری امت کی آبرو اس میں
طرابلس کے شہیدوں کا ہے لہو اس میں

تو مسجد میں کہرام مچ گیا تھا. آنچہ از دل می خیزد بر دل می ریزد. والا مضمون ہے ہر آئندہ نظم سوز درونی کی آئینہ دار ہے.