زمانۂ نزول کے اعتبار سے سورۂ بنی اسرائیل مکی دَور کے آخری زمانے میں نازل ہونے والی سورتوں میں سے ہے.چنانچہ اس کی پہلی آیت میں واقعہ ٔمعراج کا ذکر ہے: سُبۡحٰنَ الَّذِیۡۤ اَسۡرٰی بِعَبۡدِہٖ لَیۡلًا مِّنَ الۡمَسۡجِدِ الۡحَرَامِ اِلَی الۡمَسۡجِدِ الۡاَقۡصَا الَّذِیۡ بٰرَکۡنَا حَوۡلَہٗ یعنی ’’پاک ہے وہ جو لے گیا اپنے بندے کو راتوں رات مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک‘ جس کے ماحول کو ہم نے برکت دی ہے‘‘. درمیان میں بھی ایک مقام پر معراج کے واقعہ کا تذکرہ ہے. معراج ۱۳ نبویؐ میں ہوا. لہذا یہی اس سورۂ مبارکہ کا زمانۂ نزول ہے‘ گویا ہجرت سے متصلاً قبل.

مکہ میں مسلمان کمزور تھے‘ وہاں کفر کا پوری طرح غلبہ تھا‘ لیکن ہجرت کے فوراً بعد اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے مدینہ منورہ میں ایک آزاد اسلامی معاشرہ وجود میں آنے والا تھا ‘یا یوں کہیے کہ ایک اسلامی حکومت قائم ہونے والی تھی‘ جہاں مسلمان اپنی آزادی اور اختیار سے جن چیزوں کو چاہیں رائج کریں‘ ان کی تنفیذ کریں‘ انہیں 
promote کریں اور جن جن چیزوں کو چاہیں ان کو روکیں‘ ان کو مٹائیں اور ان کا استیصال کریں.اس اعتبار سے جدید اصطلاح میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ان آیاتِ مبارکہ میں جناب محمد ٌرسول اللہ کا منشور (manifesto) بیان ہو رہا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ رسول اللہ کو غلبہ عطا فرمائے تو اسلامی ریاست میں آپؐ کی ترجیحات کیا ہوں گی. جیسا کہ سورۃ الحج میں وارد ہوا: اَلَّذِیۡنَ اِنۡ مَّکَّنّٰہُمۡ فِی الۡاَرۡضِ اَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَ اٰتَوُا الزَّکٰوۃَ وَ اَمَرُوۡا بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَ نَہَوۡا عَنِ الۡمُنۡکَرِ ؕ (آیت ۴۱’’وہ لوگ جنہیں اگر ہم زمین میں تمکن (غلبہ) عطا فرمائیں تو وہ نماز قائم کریں گے ‘ زکو ٰۃ ادا کریں گے (یعنی نظامِ صلوٰۃ اورزکو ٰۃ قائم کریں گے)‘ نیکیوں کا حکم دیں گے اور بدیوں سے روکیں گے‘‘. گویا یہ اسی آیت کی شرح ہے جو سورۂ بنی اسرائیل کی زیر مطالعہ آیات میں ہمارے سامنے آ رہی ہے کہ وہ اوامر کون سے ہیں جن کی وہاں ترویج و تنفیذ ہو گی اور وہ نواہی کون سے ہیں جن کا اس معاشرے میں استیصال کیا جائے گا. اس اعتبار سے اس سبق کی بڑی اہمیت ہے کہ ہم اس کے متعلق کہہ سکتے ہیں کہ یہ اسلامی حکومت کے قیام کے لیے نبی اکرم کا منشور ہے.