توہمات کی روک تھام

آگے ایک بڑی اہم بات آ رہی ہے ‘اور واقعہ یہ ہے کہ کسی مسلمان معاشرے میں یہ ہدایت بڑی اہمیت کی حامل ہے کہ: وَ لَا تَقۡفُ مَا لَیۡسَ لَکَ بِہٖ عِلۡمٌ ؕ ’’اوراس چیز کے پیچھے نہ پڑو جس کے لیے تمہارے پاس کوئی علم نہیں ہے‘‘.حکم دیا جا رہا ہے اتباعِ علم کا‘ یعنی پیروی کرو علم کی. اب ظاہر بات ہے کہ علم یا تو بالحواس ہے. ہم نے آنکھوں اور کانوں سے جو کچھ دیکھا اور سنا اس کی بنیاد پر ہم نے کوئی رائے قائم کی‘ یہ علم ہے. علم کا دوسرا دائرہ علم بالعقل ہے. انسان سمع و بصر سے حاصل شدہ معلومات کا اپنے ذہن میں تجزیہ کرتا ہے‘ اس سے اِستِنتاج کرتا ہے‘ نتائج اخذ کرتا ہے‘ ان کو جوڑ کر ان سے کچھ حاصل کرتا ہے‘ یہ انسان کے ذہن کے تفقہ اور تعقل کا عمل ہے. یہ علم بالعقل ہے. مزید برآں اسلام ایک اور ذریعہ ٔعلم کو بھی تسلیم کرتا ہے اور اسے علم کے ان دونوں سرچشموں (علم بالحواس اور علم بالعقل) سے بالاتر‘ زیادہ قابل اعتماد‘ زیادہ یقینی اور زیادہ وثوق و اعتماد کے قابل قرار دیتا ہے‘ اور وہ ہے علم بالوحی. بہرحال ذرائع علم یہی تین ہیں اور انہی سے حاصل شدہ معلومات ’’علم‘‘ کا درجہ رکھتی ہیں. ان ذرائع سے حاصل ہونے والی معلومات کے علاوہ جو کچھ بھی ہے وہ ظن اور قیاس ہے‘ وہ اٹکل پچو ّہے‘ وہ تخمینے ہیں‘ وہ occult sciences کا ایک دائرہ ہے. کہیں ہاتھ کی لکیریں لیے بیٹھے ہو‘ کہیں ستاروں کی چال کے زائچے بنا رہے ہو. اسلام یہ چاہتا ہے کہ انسان کو ان تمام چیزوں سے‘ ان تمام توہمات سے ‘ ان تمام تخمینات سے بالکل آزاد کر کے اس کے موقف کی بنیاد اور اس کے عمل کی اساس علم پر قائم کرے.
حقیقت یہ ہے کہ یہ انسان کے تمدن اور اس کے علمی اور سائنٹیفک ارتقاء کے لیے ایک بڑی ہی اہم ہدایت تھی. اور یہ بات تسلیم کی گئی ہے‘ مستشرقین نے بھی مانا ہے‘ مغربی مفکرین بھی تسلیم کرتے ہیں کہ حقیقتاً دنیا میں توہمات کو ختم کرنے والا اور انسان کے عمل کو علم کی بنیاد پر استوار کرنے والا قرآن مجید ہے. زلزلے کے بارے میں ایک قدیم تصور یہ تھا کہ کوئی گائے ہے جس کے سینگوں پر یہ زمین رکھی ہوئی ہے‘ جب وہ وزن ایک سینگ سے دوسرے سینگ پر منتقل کرتی ہے تو زلزلہ آ جاتا ہے. اس کی کیا دلیل ہے؟ کیا سند ہے؟ کس بنیاد پر یہ بات کہی جا رہی ہے ؟ جب اس کی سند نہیں تو رد کر دو یا پھر سند لاؤ. جیسا کہ امام احمد بن حنبلؒ نے فرمایا تھا: 
’’اِیْتُوْنِیْ بِشَیْئٍ مِنْ کِتَابِ اللّٰہِ وَسُنَّۃِ رَسُوْلِہٖ حَتّٰی اَقُوْلَ‘‘. اگر کوئی چیز ماوراءِ عقل ہے یا ماوراءِ حس ہے تو اس کے لیے کوئی سند اللہ کی کتاب اور اس کے رسول کے فرمودات سے لاؤ‘ ہم مان لیں گے. لیکن اگر نہ وہ سمع و بصر کی گرفت میں آنے والی شے ہو‘ نہ ہمارے حواس اس کی تصدیق کر سکتے ہوں‘ نہ وہ ہماری عقل کی میزان میں کسی طور سے پوری اترتی ہو اور نہ وحی کے علم میں اس کے لیے کوئی اساس اور بنیاد موجود ہو‘چاہے وہ وحی متلو ہو یا وحی غیر متلو‘ یعنی چاہے وہ قرآن ہو یا فرمودۂ نبی ہو‘ ان سب سے باہر کسی بات کو تسلیم کرنے کے لیے ہم تیار نہیں. یہ نقطہ ٔ نظر اور انداز ہے جس سے سائنس کے سفر کا آغاز ہوا ہے . اور یہ مانا گیا ہے کہ استقرائی منطق (inductive logic) کے موجد مسلمان ہیں اور اس کی طرف متوجہ کرنے والا قرآن ہے: ؎ 

کھول آنکھ‘ زمیں دیکھ‘ فلک دیکھ‘ فضا دیکھ!
مشرق سے اُبھرتے ہوئے سورج کو ذرا دیکھ!!

قرآن اپنے قاری کو متوجہ کرتا ہے کہ یہ آیاتِ الٰہیہ ہیں‘ ان کو دیکھو اور ان کی مدد سے نتائج اخذ کرو‘ استقراء سے کام لو‘ جو سائنس کی بنیاد ہے.

اسلام سے قبل علم کی بنیاد ارسطو کی استخراجی منطق (deductive logic) پرتھی‘اسی پر سارا دار و مدار تھا‘ اسی سے گتھیوں پر گتھیاں بن بھی رہی تھیں اور سلجھ بھی رہی تھیں‘ بلکہ واقعہ یہ ہے کہ سلجھتی کم‘ اُلجھتی زیادہ تھیں. لیکن اسلام نے آ کر انسان کو اس منطق کی تنگ نائے سے نکالا اور اسے استخراج (deduction) کی بجائے استقراء (induction) کی طرف متوجہ کیا. دیکھئے‘ کس قدر عمدہ پیرایۂ بیان ہے : اِنَّ السَّمۡعَ وَ الۡبَصَرَ وَ الۡفُؤَادَ کُلُّ اُولٰٓئِکَ کَانَ عَنۡہُ مَسۡـُٔوۡلًا ﴿۳۶﴾ ’’یقینا کان اور آنکھ اور دل‘ ان سب کی اس سے باز پرس ہوگی‘‘.تمہیں یہ استعدادات اللہ نے کیوں عطا کی ہیں؟ سماعت دی ہے تاکہ سنو‘ بصارت دی ہے تاکہ دیکھو‘ اور تمہارے اندر تفکّر و تعقّل کی قوتیں رکھی ہیں تاکہ غور و فکر اور سوچ بچار کرو. تمہیں استنباط‘ استدلال اور استنتاج کی صلاحیتیں عطا کی گئی ہیں. ان سب کے بارے میں تم سے باز پرس ہو گی کہ انہیں معطل کر کے رکھ چھوڑا تھا اور توہمات پر اپنے موقف کی بنیاد رکھی تھی یا ان قوتوں اور استعدادات کو استعمال کیا تھا؟ یہ اللہ کی امانتیں ہیں‘ اللہ کی نعمتیں ہیں‘ ان کا استعمال کرو. ان کے بارے میں تم سے باز پرس ہو گی‘ محاسبہ ہو گا‘ پوچھ گچھ ہو گی. یہی وجہ ہے کہ یہ ساری نجومیوں کے انداز میں پیشین گوئیاں‘ یہ دست شناسی اور اسی نوع کے سارے معاملات‘ منجموں کے حساب کتاب اور زائچوں کی تیاری‘ ان کی اسلامی تمدن اور اسلامی تہذیب میں کوئی جگہ نہیں. نبی اکرم نے یہاں تک ارشادفرمایا ہے کہ اگر کوئی شخص کسی منجم یا کسی پیشین گوئی کرنے والے کی پیشین گوئی کی تصدیق کرتا ہے تو اس نے اس کی تکذیب کی جو میں لایا ہوں. یعنی میری لائی ہوئی تعلیم کچھ اور ہے‘ اس کی بنیاد علم پر ہے‘ وہ علم بالحواس بھی ہے‘ علم بالعقل بھی ہے اور علم بالوحی بھی ہے ‘ چنانچہ : وَ لَا تَقۡفُ مَا لَیۡسَ لَکَ بِہٖ عِلۡمٌ ؕ اِنَّ السَّمۡعَ وَ الۡبَصَرَ وَ الۡفُؤَادَ کُلُّ اُولٰٓئِکَ کَانَ عَنۡہُ مَسۡـُٔوۡلًا ﴿۳۶﴾ یعنی اس چیز کے پیچھے نہ پڑو جس کے لیے تمہارے پاس کوئی علم نہیں‘جسے تم verify نہیں کر سکتے. ہاں ایسی چیزوں کا ایک دائرہ عالم غیب کے امور پر مشتمل ہے جو تمہارے حواس اور تمہاری عقل سے ماوراء ہیں‘ ان کی verification کے تم پابند نہیں ہو. لیکن ان کے ضمن میں جو قابل اعتماد ذریعہ ہے وہ وحی ہے. اس سے باہر جس چیز کے لیے کوئی علمی بنیاد نہ ہو اُس پر اپنا موقف قائم نہ کرو! 
ڈاکٹر اسرار احمد
اپریل ۲۰۱۹
سورۂ بنی اسرائیل کی آیات ۲۳ تا ۴۰ کی روشنی میں