آغاز

انسان کی عملی زندگی کے ذیل میں اس منتخب نصاب میں چھٹا اور آخری مقام سورۃ الحجرات (مکمل) ہے. یہ عظیم سورۃ اجتماعیاتِ انسانی کے ذیل میں عام سماجی و معاشرتی معاملات سے بلند تر سطح پر نہ صرف قومی و ملی امور سے بحث کرتی ہے اور یہ بتاتی ہے کہ ملت ِاسلامیہ کی تأ سیس اور تشکیل کن بنیادوں پر ہوتی ہے اور اس میں اتحاد و اتفاق اور یک جہتی و ہم رنگی کیسے برقرار رکھی جا سکتی ہے بلکہ سیاست و ریاست کے متعلق امور سے بھی بحث کرتی ہے کہ اسلامی ریاست کس بنیاد پر قائم ہوتی ہے ‘ اس کا دستورِ اساسی کیا ہے‘ اس کی شہریت کسے حاصل ہوتی ہے اور اس کا دنیا کے دوسرے معاشروں یا ا س کی دوسری ریاستوں سے تعلق کن بنیادوں پر استوار ہو گا.

اس سورۃ کو بغرض تفہیم تین حصوں میں منقسم سمجھنا چاہیے.
پہلا حصہ مسلمانوں کی حیاتِ اجتماعی کے ’اصل الاصول‘ یعنی اسلامی ریا
ست کے دستورِ اساسی اور ملت ِاسلامیہ کی شیرازہ بندی (۱کے اصل قوام یعنی ’’مرکز ِملت‘‘ سے بحث کرتا ہے.

چنانچہ پہلی ہی آیت نے غیر مبہم طور پر واضح کر دیا کہ مسلمان معاشرہ اور اسلامی ریاست ’’مادر پدر آزاد‘‘ نہیں بلکہ اللہ اور اس کے رسول کے احکام کے ’’پابند‘‘ ہیں‘ 
(۱) کتابِ ملت بیضا کی پھر شیرازہ بندی ہے 

یہ شاخ ِہاشمی کرنے کو ہے پھر برگ و بر پیدا!

اور مسلمانوں کی آزادی کے معنی صرف یہ ہیں کہ خدا اور رسول کی اطاعت کے لیے دوسری ہر طرح کی غلامی سے آزاد ہو جائیں. گویا ایک فرد کی طرح اجتماعیت بھی صرف وہی ’مسلمان‘ قرار دی جا سکتی ہے جو نبی اکرم کی بیان کردہ تشبیہہ کے مطابق اسی طرح اللہ اور اس کے رسول کے احکام کے ساتھ بندھی ہوئی ہو جیسے ایک گھوڑا اپنے کھونٹے سے بندھا ہوا ہوتا ہے. اس طرح یہ آیت مسلمانوں کی ہیئت ِاجتماعی کے اصل الاصول یعنی ایک اسلامی ریاست کے دستورِ اساسی میں حاکمیت سے متعلق اوّلین دفعہ کو متعین کر دیتی ہے کہ یہاں حاکمیت نہ کسی فرد کی ہے نہ طبقے کی‘ نہ قوم کی ہے نہ جمہور کی بلکہ صرف اللہ تعالیٰ کی ہے: اِنِ الۡحُکۡمُ اِلَّا لِلّٰہِ ؕ (یوسف:۴۰اور اسلامی ریاست کا کام (function) صرف یہ ہے کہ رسولؐ کی تشریح و توضیح کے مطابق اللہ کی مرضی و منشا کوپورا کرے.

آیت کے اخیر میں اس اطاعت کی اصل رُوح کی جانب بھی اشارہ کر دیا گیا ہے یعنی تقوی اللہ. اس کے بعد مسلمانوں کی ہیئت ِاجتماعی کی ’اصل ثانی‘ کو واضح کیا گیا جس کے گرد مسلمانوں کی حیاتِ ملی کی اصل شیرازہ بندی ہوتی ہے ‘یعنی رسول اللہ کا ادب‘ آپؐ کی تعظیم و توقیر‘ آپؐ سے محبت اور عشق اور آپؐ کے مقام و مرتبہ سے آگاہی 
وَ اعۡلَمُوۡۤا اَنَّ فِیۡکُمۡ رَسُوۡلَ اللّٰہِ ؕ اور ہر اُس قول و فعل یا رویے اور برتاؤ سے کامل اجتناب جس سے ادنی ٰ ترین درجے میں بھی گستاخی یا تحقیر و توہین کا پہلو نکلتا ہو (؏ ’’ادب گاہیست زیر آسماں از عرش نازک تر!‘‘)
مسلمانوں کی ہیئت اجتماعی کی ان دو بنیادوں میں سے پہلی چونکہ عقیدۂ 
توحید فی الالوہیۃ کا لازمی نتیجہ ہے اور اس اعتبار سے گویا قرآن حکیم کے ہر صفحے پر بطرزِ جلی اس کا ذکر موجود ہے لہذا اس مقام پر اس کا ذکر صرف ایک آیت میں کر دیا گیا اس کے بالمقابل اصل ثانی پر انتہائی زور دیا گیا . اور بعض متعین واقعات پر گرفت اور سرزنش کے ضمن میں واضح کر دیا گیا کہ ؎ 

بمصطفیٰ برساں خویش را کہ دیں ہمہ اوست!
اگر بہ اُو نہ رسیدی تمام بولہبی است!!

اس لیے کہ حقیقت یہ ہے کہ آنحضور کی ذاتِ گرامی میں ملت ِاسلامیہ کے پاس وہ ’’مرکزی شخصیت‘‘ موجود ہے جس سے تمدنِ انسانی کی وہ فطری ضرورت بتمام و کمال اور بغیر تصنع و تکلف پوری ہو جاتی ہے جس کے لیے دوسری قوموں کو باقاعدہ تکلف و اہتمام کے ساتھ شخصیتوں کے بت تراشنے اور ہیرو (heroes) گھڑنے کا کھکیڑ مول لینا پڑتا ہے.مزید برآں دُنیا کی دوسری اقوام تو ؏ ’’می تراشد فکر ِما ہر دم خداوندے دگر‘‘ کے مصداق مجبور ہیں کہ ہر دور میں ایک نئی شخصیت کا بت تراشیں‘ لیکن ملت اسلامیہ کے پاس ایک دائم و قائم مرکز موجود ہے جو اس کے ثقافتی تسلسل (cultural continuity) کا ضامن ہے (اس اعتبار سے دیکھا جائے تو وَ اعۡلَمُوۡۤا اَنَّ فِیۡکُمۡ رَسُوۡلَ اللّٰہِ ؕ میں خطاب صرف صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ہی سے نہیں بلکہ تاقیامِ قیامت پوری اُمت ِمسلمہ سے ہے). اس دوام اور تسلسل کے ساتھ ساتھ‘ اُمت مسلمہ کی وسعت اور پھیلاؤ پر بھی نگاہ رہے تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ یہ آنحضور کی ’’مرکزیت‘‘ ہی کا ثمرہ ہے کہ مشرقِ اقصیٰ سے لے کر مغربِ بعید تک پھیلی ہوئی قوم میں نسل و لسان کے شدید اختلاف اور تاریخی و جغرافیائی عوامل کے انتہائی بُعد کے علی الرغم ایک گہری ثقافتی یک رنگی (cultural homogeneity) موجود ہے. اور اسی کی فرع کے طور پر اس حقیقت پر بھی ہمیشہ متنبہ رہنا چاہیے کہ مختلف مسلم ممالک میں علیحدہ علیحدہ قیادتوں اور ’’علاقائی شخصیتوں‘‘ کو بس ایک حد تک ہی اُبھارناچاہیے ‘ اس سے تجاوز کی صورت میں اس سے ’’وحدتِ ملت‘‘ کی جڑیں کمزور ہونے کا اندیشہ ہے. گویا بقول علامہ اقبال ؎ 

یہ زائرین حریم مغرب ہزار رہبر بنیں ہمارے
ہمیں بھلا ان سے واسطہ کیا جو تجھ سے ناآشنا رہے ہیں!

روئے زمین کی تمام مسلمان اقوام کو معیارِ قیادت ایک ہی رکھنا چاہیے اور وہ ہے ذاتِ محمد فداہ ابی واُمی .

مسلمانوں کی ہیئت ِاجتماعی کی متذکرہ بالا دو بنیادوں میں سے ایک زیادہ تر عقلی و منطقی ہے اور دوسری نسبتا ً جذباتی. پہلی پر دستور و قانون کا دار و مدار ہے اور دوسری پر تہذیب و ثقافت کی تعمیر ہوتی ہے اور ان دونوں کا باہمی رشتہ ایک دائرے اور اس کے مرکز کا ہے. مسلمان اجتماعیت کے اس دائرے میں ’’محصور‘‘ ہے جو اللہ اور اُس کے رسول کے احکام نے کھینچ دیا ہے اور اس کے مرکز کی حیثیت آنحضور کی دلآویز اور دلنواز شخصیت کو حاصل ہے‘ جن کے اتباع کے جذبے سے اس ہیئت اجتماعی کو ثقافتی یک رنگی نصیب ہوتی ہے اور جن کی محبت کے رشتے سے اس کے افراد ایک مرکز سے بھی وابستہ رہتے ہیں اور باہم دِگر بھی جڑے رہتے ہیں.

(اب اس معذر ت کے ساتھ آگے چلتا ہوں کہ ’’مقامِ رسالت‘‘ کے ذکر میں طولِ کلام فی الواقع ؏ ’’لذیذ بود حکایت دراز تر گفتم!‘‘ کے مصداق ہے.)
دوسرا حصہ ان احکامات پر مشتمل ہے جن پر عمل پیرا ہونے سے ملت ِاسلامیہ کے افراد اورگروہوں اور جماعتوں کے مابین رشتۂ محبت و الفت کے کمزور ہونے کے امکانات کم ہو جاتے ہیں اور اختلاف و انتشار اور فتنہ و فساد کو بڑھنے سے روکا جا سکتا ہے. ان احکامات کو بھی مزید دو عنوانات میں تقسیم کیا جا سکتا ہے. ایک وہ اہم تر احکام جو وسیع پیمانے پر گروہوں کے مابین تصادم سے بحث کرتے ہیں اور دوسرے وہ بظاہر چھوٹے لیکن حقیقتا ً نہایت بنیادی احکام جو خالص انفرادی سطح پر نفرت اور عداوت کا سدباب کرتے ہیں.
مقدم الذکر احکام دو ہیں : (۱) افواہوں کی روک تھام اور کسی حتمی فیصلے اور عملی اقدام سے قبل اچھی طرح تحقیق و تفتیش اور چھان بین کا اہتمام 
(۱اور (۲) نزاع کے واقع ہو جانے کی صورت میں صحیح طرزِ عمل .یعنی : (۱) اس سلسلے میں آنحضور کے یہ الفاظ مبارک مستحضر رہنے چاہئیں کہ

کَفٰی بِالْمَرْئِ کَذِبًا اَنْ یُّحَدِّثَ بِکُلِّ مَا سَمِعَ (صحیح مسلم‘ المقدمہ‘ باب النھی عن الحدیث بکل ما سمع)
’’ایک شخص کے جھوٹے ہونے کے لیے یہ بات بالکل کافی ہے کہ وہ جو کچھ سنے اُسے آگے بیان کر دے.‘‘ (یعنی آگے بیان کرنے سے قبل اس کی صحت کی تحقیق و تصدیق نہ کرے.) ا) یہ کہ فریقین کے مابین صلح کرانے کو اجتماعی ذمہ داری اور معاشرتی فرض سمجھا جائے. گویا لاتعلّقی (indifference) کی روش کسی طور صحیح نہیں.

ب) اس کے بعد بھی اگر ایک فریق زیادتی پر ہی مصر رہے تو اب اس کا مقابلہ صرف فریق ثانی ہی کو نہیں ‘پوری ہیئت اجتماعیہ کو کرنا چاہیے اور :

ج) جب وہ گردن جھکا دے تو از سر نو عدل و قسط پر مبنی صلح کرا دی جائے. (اس مقام پر عدل اور قسط کا مکرر مؤکد ذکر خاص طو رپر اس لیے ہے کہ جب پوری ہیئت ِاجتماعیہ اس فریق سے ٹکرائے گی تو فطری طور پر اس کا امکان موجود ہے کہ دوبارہ صلح میں اس فریق پر غصے اور جھنجھلاہٹ کی بنا پر زیادتی ہو جائے!) 

مؤخر الذکر احکام چھ نواہی پر مشتمل ہیں ‘یعنی ان میں چھ معاشرتی برائیوں سے منع فرمایا گیا ہے ‘جن کے باعث بالعموم دو افراد یا گروہوں کے مابین رشتۂ محبت و الفت کمزور پڑ جاتا ہے اور اس کی جگہ نفرت و عداوت کے بیج بوئے جاتے ہیں اور ایسی کدورت پیدا ہوجاتی ہے جو پھر کسی طرح نہیں نکلتی. اس لیے کہ عام ضرب المثل کے مطابق تلواروں کے گھاؤ بھر جاتے ہیں لیکن زبان کے زخم کبھی مندمل نہیں ہوتے! وہ چھ چیزیں یہ ہیں:

۱) تمسخر ( اس کے سدباب کے لیے اس نہایت گہری حقیقت کی طرف اشارہ کیا گیا کہ ایک انسان دوسرے انسان کے صرف ظاہر کو دیکھتا ہے اور اسی کی وجہ سے تمسخر کا مرتکب ہو بیٹھتا ہے ‘حالانکہ اصل چیز انسان کا باطن ہے اور خدا کی نگاہ میں انسانوں کی قدر و قیمت اُن کے باطن کی بنیاد پر ہے.)

۲) عیب جوئی اور تہمت (اس کے ذیل میں اس حقیقت کی طرف توجہ دلائی گئی کہ جب مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں تو کسی دوسرے مسلمان کو عیب لگانا گویا خوداپنے آپ کو عیب لگانا ہے.) 

۳
تنابُز بِالالقاب ‘ یعنی لوگوں یا گروہوں کے توہین آمیز نام رکھ لینا (اس کے ضمن میں اشارہ فرمایا کہ اسلام لانے کے بعد برائی کا نام بھی نہایت برا ہے.)

۴) سوئے ظن(اس لیے کہ بہت سے ظن گناہ کے درجے میں ہیں.) 
۵) تجسس اور

۶) آخری اور اہم ترین ‘ غیبت جس کی شناعت کے اظہار کے لیے حد درجہ بلیغ تشبیہہ اختیار کی گئی‘ یعنی یہ کہ کسی مسلمان کی غیبت ایسی ہے جیسے کسی مردہ بھائی کا گوشت کھانا.(اس لیے کہ جس طرح ایک مردہ اپنے جسم کا دفاع نہیں کر سکتا اسی طرح ایک غیر موجود شخص بھی اپنی عزت کے تحفظ پر قادر نہیں ہوتا.)

الغرض ان آٹھ اوامر و نواہی سے مسلمانوں کی ہیئت اجتماعیہ کا استحکام مطلوب ہے. اس لیے کہ جس طرح بڑی سے بڑی فصیل بھی بہرحال اینٹوں ہی سے بنی ہوتی ہے اور اس کے استحکام کا دار و مدار جہاں اینٹوں کی پختگی اور مضبوطی پر ہوتا ہے وہاں اینٹوں کو جوڑنے والے گارے یا چونے یا کسی دیگر مسالے 
(cement substance) کی پائیداری پر بھی ہوتا ہے. اسی طرح ملت ِاسلامیہ کے استحکام کے لیے بھی جس قدر مسلمانوں میں سے ہر ہر فرد کا سیرت و کردار کے اعتبار سے پختہ ہونا ضروری ہے‘ اسی قدر اُن کے مابین رشتۂ محبت و الفت کی استواری بھی لازمی ہے. یہ البتہ واضح رہے کہ ملت ِاسلامیہ کا استحکام عام قومی تصورات کے تحت دُنیوی غلبہ و اقتدار کے لیے نہیں بلکہ اس لیے مطلوب ہے کہ وہ ؏ ’’ہم تو جیتے ہیں کہ دنیا میں تیرا نام رہے!‘‘ کے مصداق اللہ کی زمین پر اللہ کی مرضی پوری کرنے کا ذریعہ اور آلہ (instrument) ہے!
تیسرا حصہ دو انتہائی اہم مباحث پر مشتمل ہے!

۱) پہلی بحث انسان کی عزت و شرف کے معیار سے متعلق ہے ‘جس کے ذیل میں واضح کر دیا گیا ہے کہ انسان کی عزت و ذلت یا شرافت و رذالت کا معیار نہ کنبہ ہے نہ قبیلہ‘ نہ خاندان ہے نہ قوم‘ نہ رنگ ہے نہ نسل‘ نہ ملک ہے نہ وطن‘ نہ دولت ہے نہ ثروت‘ نہ شکل ہے نہ صورت‘ نہ حیثیت ہے نہ وجاہت‘ نہ پیشہ ہے نہ حرفہ اور نہ مقام ہے نہ مرتبہ‘ بلکہ صرف ’’تقویٰ‘‘ہے ‘اس لیے کہ پوری نوعِ انسانی ایک ہی خدا کی مخلوق بھی ہے اور ایک ہی انسانی جوڑے (آدم و حوا) کی اولاد بھی.

یہ بحث فی نفسہٖ بھی نہایت اہم ہے ‘اس لیے کہ واقعہ یہ ہے کہ دنیا میں بدامنی اور 
انتشار اور انسانوں کے مابین تصادم اور ٹکراؤ کا بہت بڑا سبب نسل اور نسب کا غرور ہی ہے اور یہ قومی وگروہی مفاخرت ہی ہے جو مابین الانسانی منافرت کا اصل سبب بنتی ہے . (اس سلسلے میں یہ حقیقت پیش نظر رہنی چاہیے کہ آنحضور کے بدترین دشمن (۱بھی معترف ہیں کہ آپ نے واقعتا انسانی عزت و شرف کی متذکرہ بالا تمام غلط بنیادوں کو منہدم کر دیا اور انسانی مساوات اور اخوت کی بنیادوں پر ایک معاشرہ عملاً قائم فرما دیا!) لیکن خاص طور پر اس مقام پر اس بحث کے دو رُخ لائق توجہ ہیں: ایک یہ کہ ماقبل جن سماجی برائیوں سے منع فرمایا گیا تھا ‘مثلا ًتمسخر و استہزاء اور عیب جوئی و بدگوئی ‘ان کی جڑ میں جو گمراہی کارفرما ہے وہ اصل میں یہی نسل و نسب کی بنیاد پر تفاخر و تباہی کا جذبہ ہے.اور دوسرے یہ کہ اسلام ان میں سے کسی چیز کی بنیاد پر انسانوں کے مابین تفریق و تقسیم کا قائل نہیں‘ بلکہ وہ ایک خالص نظریاتی معاشرہ اور ریاست قائم کرنا چاہتا ہے. اس کے یہاں انسانوں کے مابین صرف ایک تقسیم معتبر ہے اور وہ ہے ایمان کی تقسیم اور اہلِ ایمان کے حلقے میں بھی اس کے نزدیک صرف ایک معیارِ عزت و شرف معتبر ہے اور وہ ہے تقویٰ کا معیار!

اس سلسلے میں ضمنی طور پر ایک دوسری نہایت اہم حقیقت کی طرف بھی اشارہ ہو گیا‘ یعنی یہ کہ اسلامی معاشرہ اور ریاست کا باقی انسانی معاشروں اور ریاستوں سے ربط و تعلق ان دو بنیادوں پر قائم ہو سکتا ہے جو پوری نوعِ انسانی کے مابین مشترک ہیں‘ یعنی : (۱)وحدتِ الٰہ اور (۲) وحدتِ آدم. اسی اہم حقیقت کو اجاگر کرنے کے لیے اس مقام پر تخاطب اس سورت کے عام اسلوب سے ہٹ کر بجائے 
’’یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا‘‘ کے ’’یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ‘‘ سے ہوا. (واضح رہے کہ قرآن حکیم میں سورۃ الحجرات کی اس آیت (۱) چنانچہ ایچ جی ویلز (H.G.WELLS) نے اپنی ’’مختصر تاریخ عالم‘‘ میں آنحضور کے خطبہ ٔحجۃ الوداع کے ذیل میں واضح طور پر اقرار کیا ہے کہ انسانی مساوات اور اخوت کے نہایت اونچے وعظ تو اگرچہ مسیح ناصری (علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام) کے یہاں بھی موجود ہیں‘ لیکن ان بنیادوں پر تاریخ میں پہلی بار ایک معاشرے کا واقعی قیام صرف محمد عربی ( و فداہ ابی وامی)کا کارنامہ ہے. مبارکہ کا مثنیٰ سورۃ النساء کی پہلی آیت ہے جس میں یہ تمام حقائق ایک عکسی ترتیب سے بیان ہوئے ہیں.)

۲) دوسری اہم بحث اسلام اور ایمان کے مابین فرق و امتیاز کی وضاحت سے متعلق ہے!

واضح رہے کہ قرآن حکیم میں ایمان و اسلام اور مؤمن و مسلم کی اصطلاحات اکثر و بیشتر ہم معنی اور مترادف الفاظ کی حیثیت سے استعمال ہوئی ہیں. اس لیے کہ واقعہ یہی ہے کہ یہ ایک ہی تصویر کے دو رُخ ہیں . اور ایمان انسان کی جس داخلی کیفیت کا نام ہے اسلام اس کا خارجی ظہور ہے ‘ لہذا جو انسان قلب میں ایمان ویقین کی دولت رکھتا ہو اور عمل میں اسلام اور اطاعت کی روش اختیار کر لے اُسے 
اَیًّامَّا تَدۡعُوۡا فَلَہُ الۡاَسۡمَآءُ الۡحُسۡنٰی ۚ (بنی اسراء یل:۱۱۰اور ایک انگریزی مقولے (۱کے مصداق چاہے مؤمن کہہ لیا جائے چاہے مسلم ‘بات ایک ہی ہے‘ بخلاف اس مقام کے کہ یہاں ایمان و اسلام کو ایک دوسرے کے مقابل لایا گیا ہے اور ایمان کی نفی ٔ کامل کے علی الرغم اسلام کا اثبات کیا گیا ہے.
اس مقام پر اس بحث کے لانے کا اصل مقصد یہ ہے کہ یہ اہم اور بنیادی حقیقت واضح ہو جائے کہ اسلامی معاشرے میں شمولیت اور اسلامی ریاست کی شہریت کی بنیاد ایمان پر نہیں ہے بلکہ اسلام پر ہے‘ اس لیے کہ ایمان ایک باطنی حقیقت ہے جو کسی قانونی بحث و تفتیش اور ناپ تول کا موضوع نہیں بن سکتی. لہذا مجبوری ہے کہ دنیا میں بین الانسانی معاملات کو صرف خارجی رویے کی بنیاد پر استوار کیا جائے ‘جس میں ایمان کا زیادہ سے زیادہ صرف 
’’اِقْرَارٌ بِاللِّسَانِ‘‘ والا پہلو شامل ہو سکتا ہے.

اس کے علاوہ اس بحث سے دو مزید عظیم حقائق کی جانب رہنمائی ہو گئی:

ایک یہ کہ انسان کی ایک ایسی حالت بھی ممکن ہے کہ اس کے دل میں نہ تو مثبت و ایجابی طور پر ایمان ہی متحقق ہو نہ منفی و سلبی طور پر نفاق‘ بلکہ ایک خلا کی سی کیفیت ہو‘ لیکن اس کے عمل میں اللہ اور اس کے رسولؐ کی اطاعت موجود ہو. اس حال میں اگرچہ اس 
(۱) (CALL THE ROSE BY ANY NAME IT WILL SMELL AS SWEET) قاعدہ کلیہ کی رو سے بغیر ایمان انسان کا کوئی عمل بارگاہِ خداوندی میں مقبول نہیں ہو سکتا‘ یہ چیز بھی مبنی بر عدل ہی ہوتی کہ ایسی اطاعت قبول نہ کی جاتی ‘لیکن یہ اللہ تعالیٰ کا خصوصی فضل و کرم ہے (جس کی جانب اشارہ دو اسمائے حسنیٰ غفور اور رحیم سے کر دیا گیا) کہ اس اطاعت کو بھی سند ِقبول عطا فرما دی گئی. (واضح رہے کہ آنحضور کی حیاتِ طیبہ کے آخری دور میں جب وَ رَاَیۡتَ النَّاسَ یَدۡخُلُوۡنَ فِیۡ دِیۡنِ اللّٰہِ اَفۡوَاجًا ۙ﴿۲﴾ (النصر) کی صورت ہوئی تواُس وقت بھی بہت سے لوگوں کے ایمان و اسلام کی نوعیت یہی تھی اور بعد میں تو ہر دور میں اُمت مسلمہ کے سوادِ اعظم کا حال یہ رہا ہی ہے!)

دوسرے یہ کہ حقیقی ایمان کی بھی ایک جامع و مانع تعریف بیان ہو گئی‘ اور واضح کر دیا گیا کہ فی الحقیقت ایمان نام ہے اللہ اور اس کے رسول 
(۱پر ایسے پختہ یقین کا جس میں شکوک و شبہات کے کانٹے چبھے نہ رہ گئے ہوں اور جس کا اوّلین اور نمایاں ترین عملی مظہر جہاد فی سبیل اللہ ہے. یعنی یہ کہ انسان ہدایت ِآسمانی کی نشر و اشاعت ‘ حق کی شہادت ‘ اور اللہ کے دین کی تبلیغ و تعلیم اور اس کے غلبہ و اظہار کے لیے جان و مال سے کوشش کرے اور اس جدوجہد میں تن من دھن سب قربان کر دے. آیت کے آخر میں مزید کھو ل دیا گیا کہ صرف ایسے ہی لوگ اپنے دعوائے ایمان میں سچے ہیں.

سورۃ الحجرات کی اس آیۂ کریمہ 
اِنَّمَا الۡمُؤۡمِنُوۡنَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا بِاللّٰہِ وَ رَسُوۡلِہٖ ثُمَّ لَمۡ یَرۡتَابُوۡا وَ جٰہَدُوۡا بِاَمۡوَالِہِمۡ وَ اَنۡفُسِہِمۡ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ ؕ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الصّٰدِقُوۡنَ ﴿۱۵﴾ پر گویا کہ ہمارے منتخب نصاب کا جزو ثانی ختم اور جزو ثالث شروع ہوجاتا ہے. اس لیے کہ سورۃ العصر میں بیان شدہ چار لوازمِ نجات کو اس آیت میں دو اصطلاحات میں جمع کر دیا گیا ہے‘ ایک ایمانِ حقیقی‘ جو جامع ہے ایمانِ قولی اور عملِ صالح دونوں کا‘ اور دوسرے جہاد فی سبیل اللہ ‘جو جامع ہے تواصی بالحق اور تواصی بالصبر کا. چنانچہ یہیں سے تواصی بالحق کی تفصیلی بحث کا آغاز ہوتا ہے. (۱) واضح رہے کہ دوسرے ایمانیات ان کے ذیل میں آپ سے آپ مندرج ہو گئے.

اعوذ باللّٰہ من الشیطن الرجیم بسم اللّٰہ الرحمن الرحیم 
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تُقَدِّمُوۡا بَیۡنَ یَدَیِ اللّٰہِ وَ رَسُوۡلِہٖ وَ اتَّقُوا اللّٰہَ ؕ اِنَّ اللّٰہَ سَمِیۡعٌ عَلِیۡمٌ ﴿۱﴾ 

’’اے ایمان والو! مت آگے بڑھو اللہ اور اس کے رسول ( ) سے اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرو . یقینا اللہ سب کچھ سننے والا‘ سب کچھ جاننے والا ہے.‘‘

مطالعہ قرآن حکیم کے جس منتخب نصاب کا سلسلہ وار درس ان مجالس میں ہو رہا ہے‘ اس کا درس نمبر چودہ سورۃ الحجرات پرمشتمل ہے. ترتیب ِ مصحف کے اعتبار سے یہ سورۂ مبارکہ‘ جو اٹھارہ آیات اور دو رکوعوں پر مشتمل ہے‘ ۲۶ ویں پارے میں سورۃ الفتح کے فوراً بعد وارد ہوئی ہے. اگراس کے مضامین پر غور کیا جائے تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ سورۃ الفتح کی آخری دو آیات میں جو مضامین آئے ہیں ‘ یہ پوری سورۂ مبارکہ ان کی مزید تشریح اور توضیح پر مشتمل ہے.

ہمارے منتخب نصاب میں ربط ِمضمون کے اعتبار سے اس کا جو مقام ہے ‘ اسے بھی ذہن میں تازہ کر لینا‘ ان شاء اللہ‘ مفید ہو گا. اس منتخب نصاب کا تیسرا حصہ اعمالِ صالحہ کے مباحث پر مشتمل ہے. اعمالِ انسانی کے ضمن میں پہلے دو دروس میں انفرادی سیرت و کردار سے متعلق قرآن مجید کی رہنمائی ہمارے سامنے آئی تھی. اس کے بعد ایک درس میں انفرادیت سے اجتماعیت کی طرف جو پہلا قدم ہے‘ یعنی گھریلو زندگی‘ خاندان کا ادارہ‘ عائلی نظام‘ اس سے متعلق ہم نے پوری سورۃ التحریم پڑھی تھی. اجتماعی زندگی میں اس سے بلند تر سطح پر ہماری معاشرتی یا سماجی زندگی کا دائرہ ہے. اس کے متعلق ہم نے گزشتہ درس میں سورۂ بنی اسرائیل کے تیسرے اور چوتھے رکوع کا مطالعہ کیا تھا. اب جو اجتماعیت کی بلند ترین سطح ہے‘ یعنی قومی و ملی اور سیاسی و ریاستی زندگی‘ اس سے متعلق نہایت اہم مضامین اس سورۂ مبارکہ میں واردہو رہے ہیں.

قرآن حکیم کا مطالعہ کرتے ہوئے یہ بات ذہن نشین رہنی چاہیے کہ قرآن حکیم اس 
طرح کی کتاب نہیں ہے جیسی عام طور پر انسانی تصنیف ہوتی ہے. انسانی تصنیف میں ابواب ہوتے ہیں. پھر ہر باب کا ایک عنوان ہوتا ہے جو اس باب کے مضامین کی نشاندہی کرتا ہے. پھر وہ باب ذیلی عنوانات یا فصول میں منقسم ہوتا ہے اور ہر فصل میں بحث کا ایک حصہ مکمل ہو جاتا ہے‘ جبکہ قرآن مجید درحقیقت اس نوع کی کتاب نہیں ہے‘ بلکہ اسے ہم خطباتِ الٰہیہ کے مجموعے سے تعبیر کر سکتے ہیں اور یہ تعبیر غلط نہیں ہو گی . نبی کریم کی حیاتِ طیبہ کے دوران مختلف مواقع اور مراحل پر یہ خطباتِ الٰہیہ نازل ہوتے رہے اور حضور کی انقلابی دعوتِ توحید کو جن حالات‘ موانعات‘ اعتراضات اور مخالفتوں سے سابقہ پیش آتا تھا‘ ان کی مناسبت سے حضور کو ہدایات دی جاتی رہیں اور متعلقہ بحثیں نازل ہوتی رہیں. ان ہی کے ضمن میں وہ دائمی و ابدی رہنما اصول بھی دے دیے گئے جن پر اللہ تعالیٰ اس دنیا میں انسان کی اجتماعی زندگی کو استوار دیکھنا چاہتے ہیں‘ لیکن ان کے لیے قرآن حکیم میں غور و فکر اور تدبر لازم ہے. ان کو معلوم اور اخذ کرنے کے لیے آیات کے بین السطور جھانکنا پڑتا ہے اور سورتوں کے مضامین کا تجزیہ کر کے یہ چیز معین کرنی پڑتی ہے کہ یہاں کون سے دائمی اور ابدی رہنما اصول ہمیں مل رہے ہیں.

اس پہلو سے اگر غورکریں تو اگرچہ سورۃ الحجرات کے شانِ نزول کے ضمن میں بھی ہمیں روایات ملتی ہیں‘ لیکن تفسیر ِقرآن کا ایک مستقل اصول ہے کہ 
’’الاعتبارُ لعموم اللفظ لا لخصوص السبب‘‘ یعنی قرآن مجید کے فہم کے ضمن میں اصل اعتبار الفاظ کے عموم کا ہوگا‘ نہ کہ اس کے سبب کا جو کسی خاص واقعہ کے اعتبار سے شانِ نزول بنا ہے.اگر اس عموم کو پیش نظر رکھیں گے تو واقعہ یہ ہے کہ عقل انسانی دنگ رہ جاتی ہے کہ ریاست کی سطح پر اس سورۂ مبارکہ میں کتنی اعلیٰ اور جامع ترین رہنمائی دے دی گئی ہے. حالانکہ تصورِ ریاست ‘ (concept of state) انسانی تاریخ کے اعتبارسے ایک جدید تصور ہے‘ لیکن قرآن مجید نے ریاست کی سطح پر ان دائمی و بنیادی اصولوں کی رہنمائی نوعِ انسانی کو عطا فرما دی تھی کہ جنہیں اسلامی ریاست میں رُوبعمل لایا جائے گا. ان سب کے لیے بنیادی و اساسی رہنمائی ہمیں اس سورۂ مبارکہ میں مل جاتی ہے. اس سورۃ کو ہم بغرضِ تفہیم تین حصوں میں تقسیم کر سکتے ہیں. البتہ یہ بات جان لیجیے کہ یہ تقسیم قطعی تعیین کے ساتھ نہیں ہو گی بلکہ مضامین کی ‘ overlapping ہو گی. لیکن بحیثیت مجموعی یہ بات سامنے آئے گی کہ اس کے تین حصے ہیں جو تقریباً چھ چھ آیات پر مشتمل ہیں. پہلے حصہ میں اسلامی ہیئت اجتماعیہ کے جو بنیادی اصول ہیں اور جن ستونوں پر یہ عمارت کھڑی ہے‘ ان کو معین کیا گیا ہے. دوسرے حصہ میں مسلمانوں کی قومی و ملی زندگی کو انتشار سے بچانے اور اُمت کی شیرازہ بندی کو قائم و برقرار رکھنے کے ضمن میں آٹھ احکام دیے گئے ہیں‘ جن میں ہم دیکھیں گے کہ دو بہت اہم اور بنیادی احکام ہیں اور چھ ان دونوں کے مقابلہ میں نسبتاً چھوٹے احکام ہیں. آخری حصہ میں ایک تو یہ مسئلہ سامنے آتا ہے کہ مسلمانوں کی ہیئت اجتماعیہ کا پوری نوعِ انسانی کے ساتھ ربط و تعلق کیا ہے اور ان تعلقات کی بنیادیں کیا ہیں؟ پھر سب سے اہم مسئلہ یہ زیربحث آتا ہے کہ مسلمانوں کی معاشرتی زندگی میں کسی شخص کو شامل کرنے کے لیے معیار کیا ہے؟ یا زیادہ واضح الفاظ میں یوں سمجھئے کہ اسلامی ریاست میں شہریت کی بنیاد اور اساس کیا ہے؟ پھر اس کے ضمن میں ایک اہم مضمون آئے گا جس پر یہ سورۂ مبارکہ ختم ہو گی کہ اسلام اور ایمان میں کیا فرق ہے؟ میں نے بطور تمہید ایک اجمالی اور مختصر سا جائزہ آپ حضرات کے سامنے رکھ دیا ہے کہ یہ ہیں وہ اہم مضامین جو اس سورۂ مبارکہ کے مطالعہ کے نتیجہ میں ہمارے سامنے آتے ہیں.