باہمی نزاع کی صورت میں صلح کرانے کا حکم

اب آیئے اس دوسرے بڑے حکم کی طرف جو آیات ۹ اور ۱۰ میں ہمار ے سامنے آیا اگر اس ساری احتیاط کے باوجود مسلمانوں کے دو گروہوں کے مابین کوئی نزاع برپا ہو جائے‘کوئی جھگڑا ہو جائے‘ کسی نوع کا اختلاف ہو جائے اوریہ اس شدت کو پہنچ جائے کہ وہ باہم ایک دوسرے سے لڑ پڑیں تو ایک مسلم معاشرے کا کیا رویہ ہو! فرمایا: وَ اِنۡ طَآئِفَتٰنِ مِنَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ اقۡتَتَلُوۡا... ’’اور اگر مسلمانوں کے دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں…‘‘ اس کے معنی یہ ہیں کہ مسلمان بھی آخر انسان ہیں. خطا اور نسیان کا ارتکاب ہر انسان سے ہو سکتا ہے‘ لہذا مسلمانوں کے مابین اگر کوئی جھگڑا کھڑا ہوجائے‘ وہ باہم لڑنے اور جھگڑنے لگ پڑیں تو یہ کوئی انہونی بات نہیں ہے‘ ایسا ہو سکتا ہے. پوری نیک نیتی کے ساتھ بھی اختلاف ہو سکتا ہے. پھر حالات ایسی صورت بھی اختیار کر سکتے ہیں کہ دونوں فریق اگرچہ نیک نیت ہوں‘ لیکن پھر بھی مسئلہ الجھتا چلا جائے. خاص طور پر اس صورت میں جبکہ کچھ خارجی عناصر بھی موجود ہوں اور کوئی سازشی عنصر اندر بھی موجود ہو کہ جو دونوں فریقوں کو بھڑکا رہا ہو‘ تو ہو سکتا ہے کہ خلوص اور نیک نیتی کے باوصف وہ جھگڑا باہمی قتال اور جنگ کی صورت اختیار کر جائے. اس صورتحال کا مطلب یہ نہیں ہو گا کہ ان میں سے کسی ایک فریق کو دائرۂ اسلام سے خارج قرار دے دیا جائے یا ان کے ایمان کی نفی کر دی جائے. واضح رہے کہ اس آیت کے آغاز میں دونوں لڑنے جھگڑنے والے گروہوں کے متعلق فرمایا گیا ہے : وَ اِنۡ طَآئِفَتٰنِ مِنَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ اقۡتَتَلُوۡا ’’اور اگر اہل ایمان کے دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں‘‘. چنانچہ یہ بات نوٹ کرنے کی ہے کہ ان میں سے کسی کے بھی ایمان کی نفی نہیں کی گئی ہے.