مصالحت کا قانون

آگے چلئے‘ اس سورۂ مبارکہ کی آیات زیر مطالعہ میں ایک پورا قانون بیان ہوا ہے‘ جس کی کئی دفعات ہیں. پہلی دفعہ یہ ہے کہ فَاَصۡلِحُوۡا بَیۡنَہُمَا ۚ یہ تمہارا فرض ہے کہ ان کے مابین صلح کرا دو.یعنی بے تعلقی کا رویہ صحیح نہیں ہے کہ ہمیں مداخلت کی کیا ضرورت ہے‘ یہ ان کا آپس کا معاملہ ہے جس سے وہ خود نمٹیں. یہ روش چھوٹی سطح پر بھی غلط ہے اور بڑی سطح پر انتہائی غلط ہے. اگر دو بھائیوں کے مابین اختلاف ہو گیا ہو اور بقیہ بھائی یا قریبی اعزہ یہ سوچیں کہ یہ اپنا اختلاف آپس ہی میں طے کریں‘ ہم اگر ایک کے حق میں بات کہیں گے تو خواہ مخواہ دوسرے کی خفگی اور ناراضگی مول لیں گے اور دوسرے کے حق میں بات کریں گے تو پہلا خفا اور ناراض ہو جائے گا‘ تو یہ بے تعلقی کا رویہ بہت غلط ہے. اس کے لیے انگریزی محاورے ’’Nip the evil in the bud‘‘ کے مطابق عمل ہونا چاہیے. چنانچہ برائی نے جہاں بھی ظہور کیا ہے‘ وہ ایک رخنہ ہے جو مسلمانوں کی ہیئت اجتماعیہ میں رونما ہوا ہے‘ اس فصیل میں ایک دراڑ پڑ گئی ہے‘ اگر یہ دراڑبڑھ گئی تو اس سے غنیم کو اندر آنے کا موقع ملے گا‘ دشمن اندر گھس آئے گا‘ لہذا پہلی فرصت میں اس دراڑ کو بند کرو اور اس رخنے کو ختم کرو. چنانچہ حکم دیا گیا : فَاَصۡلِحُوۡا بَیۡنَہُمَا ۚ . یہ پہلی دفعہ ہے اور چونکہ ’’اَصۡلِحُوۡا‘‘ فعل امر ہے اور فقہ میں عام طور پر یہ اصول ماناجاتا ہے کہ ’’الامر للوجوب‘‘ پس معلوم ہوا کہ یہاں مسلمانوں پر واجب اور فرض کیا جا رہا ہے کہ وہ مصالحت کرائیں.

اب اس کے بعد دوسری دفعہ ہے : فَاِنۡۢ بَغَتۡ اِحۡدٰىہُمَا عَلَی الۡاُخۡرٰی ’’پس اگر (مصالحت اور صلح کی کوشش کے باوجود) ایک گروہ دوسرے گروہ پر زیادتی کرتا جا رہا ہو ‘‘ اس زیادتی کی دو شکلیں ہو سکتی ہیں.ایک یہ کہ وہ گروہ مسلمانوں کی جومجموعی طاقت اور قوت ہے‘ اسے صلح سے انکار کر کے ضعف پہنچانے کا سبب بن رہا ہے اور بے جا طور پر اپنی زیادتی پر مصر ہے. دوسری یہ کہ ان کے مابین جو صلح اور مصالحت کرائی گئی تھی‘ اس کی شرائط پر وہ کاربند نہیں رہا‘ اس نے از سر نو کوئی زیادتی کی ہے. ان دونوں حالتوں کے بارے میں حکم مل رہا ہے : فَقَاتِلُوا الَّتِیۡ تَبۡغِیۡ ’’پس تم اس گروہ سے لڑو جو زیادتی کررہا ہے‘‘یعنی اب یہ جھگڑا دو فریقوں کے مابین نہیں رہا بلکہ ملت کا بحیثیت مجموعی جو مقام و مرتبہ ہے‘ اس گروہ نے اسے چیلنج کیا ہے‘ وہ اسے غیر مؤثر بنانے اور نقصان پہنچانے کے درپے ہے. لہذا اب اُمت کی مجموعی طاقت بروئے کار آئے اور وہ زیادتی کرنے والے گروہ سے لڑ کر اسے مجبور کرے کہ وہ اس زیادتی سے باز آ جائے. چنانچہ فرمایا: حَتّٰی تَفِیۡٓءَ اِلٰۤی اَمۡرِ اللّٰہِ ۚ ’’یہاں تک کہ وہ اللہ کے حکم کے سامنے جھک جائے‘‘. یہاں ’’امر اللہ‘‘ میں ان شرائط کی طرف اشارہ ہے جو ملت کی ہیئت اجتماعیہ نے ان دونوں فریقوں کے مابین طے کرائی تھیں. وہی شرائط درحقیقت امر اللہ ہیں.

تیسری دفعہ یہ بیان فرمائی : فَاِنۡ فَآءَتۡ فَاَصۡلِحُوۡا بَیۡنَہُمَا بِالۡعَدۡلِ وَ اَقۡسِطُوۡا ؕ ’’پھر اگر وہ فریق لوٹ آئے‘ زیادتی سے باز آ جائے تو پھر ان کے مابین از سر نو عدل کے ساتھ صلح کراؤ‘ اور انصاف سے کام لو.‘‘ آیت کے اس حصے پر غور فرمایئے.یہ قرآن حکیم کا اعجاز ہے اور یہ وہ مقام ہے جہاں واقعتا گھٹنے ٹیکنے پڑتے ہیں اور سر جھکانا پڑتا ہے کہ یہ انسان کا کلام نہیں ہو سکتا‘ یہ اللہ ہی کا کلام ہے یہاں بات دو اسلوبوں سے فرمائی گئی ہے : بِالۡعَدۡلِ وَ اَقۡسِطُوۡا ؕ یعنی اب جو صلح کراؤ تو عدل کے ساتھ کراؤ اور دیکھو انصاف کا دامن ہاتھ سے چھوٹنے نہ پائے. یہ تکرار کیوں ہوئی؟ اس لیے کہ جب ملت نے بحیثیت مجموعی ایک فریق کو صلح پر مجبور کیا ہے تو ہو سکتا ہے کہ جذبات میں آ کر اس فریق پر کوئی ناروا زیادتی ہو جائے اور اسے زیادہ سے زیادہ دبانے کا رُجحان پیدا ہو جائے‘ لہذا یہ خاص احتیاط کا مقام ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ اب بطورِ سزا اس پر ایسی شرائط عائد کر دی جائیں جو نامناسب و ناروا ہوں اور جو زیادتی کے زمرے میں آتی ہوں. چنانچہ متنبہ کر دیا گیا ہے کہ زیادتی کرنے والا فریق بھی آخر مسلمان ہی ہے‘ اہل ایمان ہی میں سے ہے‘ لہذا اب کہیں اس پر زیادتی نہ ہو جائے اور عدل و قسط کا دامن ہاتھ سے نہ چھوٹ جائے. آیت کے آخر میں فرمایا: اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الۡمُقۡسِطِیۡنَ ﴿۹﴾ ’’جان رکھو کہ بلاشک و شبہ اللہ تعالیٰ انصاف کرنے والوں سے محبت کرتا ہے.‘‘