صلح و مصالحت کی اصل بنیاد

اس کے بعد اگلی آیت میں ایک حتمی و قطعی ضابطہ اور سنہری اصول بیان فرما دیا گیا کہ مسلمانوں کے مابین معاملات اور تنازعات طے کراتے ہوئے جو روح کارفرما رہنی چاہیے‘ جو اہم ترین بات پیش نظر رکھنی چاہیے وہ کیا ہے! اس کی ان الفاظِ مبارکہ میں تعلیم دی گئی اور تلقین فرمائی گئی : اِنَّمَا الۡمُؤۡمِنُوۡنَ اِخۡوَۃٌ ’’یقینا تمام مسلمان‘ تمام اہل ایمان آپس میں بھائی بھائی ہیں‘‘. فَاَصۡلِحُوۡا بَیۡنَ اَخَوَیۡکُمۡ ’’لہذا اپنے بھائیوں کے مابین صلح‘ صفائی اور مصالحت کرا دیا کرو‘‘ان الفاظِ مبارکہ کے ذریعے سے فطرتِ انسانی کو اپیل کیا گیا ہے. یہ انسان کی فطرتِ سلیمہ کا تقاضا ہے کہ دو بھائیوں کے مابین جھگڑے کو دیکھ کر کوئی خوش نہیں ہوتا. دو بھائیوں کو لڑتا جھگڑتا دیکھ کر ہر سلیم الفطرت انسان یہ چاہے گا کہ ان کے مابین صلح اور مصالحت کرائے. تو اسی فطرت کو اپیل کیا جا رہا ہے کہ مسلمان تو سب کے سب آپس میں بھائی بھائی ہیں‘ ان سب کا ایک دوسرے سے رشتۂ اخوت ہے‘ لہذا اگر مسلمانوں کے مابین کہیں ایسا اختلاف ہو جایا کرے کہ جھگڑے اور لڑائی کی نوبت آ جائے تو اسی جذبے اور روح کے ساتھ جو بھائی بھائی ہونے کے ناطے تم میں ہونی لازمی ہے‘ ان کے مابین صلح کرانے کی کوشش کرو. آخر میں فرمایا: وَ اتَّقُوا اللّٰہَ لَعَلَّکُمۡ تُرۡحَمُوۡنَ ﴿٪۱۰﴾ ’’اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرو‘ اس کی نافرمانی سے بچتے رہو‘ اسی طرزِ عمل کے نتیجے میں تم اُمید کر سکتے ہو کہ تم پر رحم کیا جائے گا‘ تم پر رحمت خداوندی کا سایہ ہو گا.‘‘

ہمیں ان احکام کو اپنی گھریلو سطح پر‘ برادری کی سطح پر اور محلہ کی سطح پر پیش نظر رکھنا چاہیے اور اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کرتے رہنا چاہیے کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ جلد وہ دن بھی لائے کہ پوری اُمت مسلمہ ایک وحدت کی شکل اختیا ر کر لے‘ان کے آپس کے جھگڑے‘ تنازعات‘ اختلافات ختم ہو جائیں اور یہ بات صورتِ واقعہ اختیار کر لے کہ ؎

ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے
نیل کے ساحل سے لے کر تابخاک ِکاشغر!

یا جیسے علامہ اقبال مرحوم نے اپنے لیکچرز میں کہا ہے کہ مسلمان قوموں کی ایک دولت مشترکہ (Common Wealth) ہی وجود میں آ جائے. پھر عجیب بات ہے کہ علامہ نے اس ضمن میں طہران کا تذکرہ کیا تھا کہ ؎ 

طہران ہو گر عالم مشرق کا جنیوا
شاید کرۂ ارض کی تقدیر بدل جائے! 

اللہ تعالیٰ اگر ہمیں عالم اسلام کا ایک ’’ کامن ویلتھ‘‘ قائم کرنے کی توفیق عطا فرمائے تو ہم اس بلند سطح پر بھی ان احکامِ قرآنیہ پر عمل کرنے کے قابل ہو جائیں گے جو مذکورہ بالا آیات کی روشنی میں ہمارے سامنے آئے ہیں.