چھ معاشرتی و مجلسی برائیاں


یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا یَسۡخَرۡ قَوۡمٌ مِّنۡ قَوۡمٍ عَسٰۤی اَنۡ یَّکُوۡنُوۡا خَیۡرًا مِّنۡہُمۡ وَ لَا نِسَآءٌ مِّنۡ نِّسَآءٍ عَسٰۤی اَنۡ یَّکُنَّ خَیۡرًا مِّنۡہُنَّ ۚ وَ لَا تَلۡمِزُوۡۤا اَنۡفُسَکُمۡ وَ لَا تَنَابَزُوۡا بِالۡاَلۡقَابِ ؕ بِئۡسَ الِاسۡمُ الۡفُسُوۡقُ بَعۡدَ الۡاِیۡمَانِ ۚ وَ مَنۡ لَّمۡ یَتُبۡ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الظّٰلِمُوۡنَ ﴿۱۱﴾یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اجۡتَنِبُوۡا کَثِیۡرًا مِّنَ الظَّنِّ ۫ اِنَّ بَعۡضَ الظَّنِّ اِثۡمٌ وَّ لَا تَجَسَّسُوۡا وَ لَا یَغۡتَبۡ بَّعۡضُکُمۡ بَعۡضًا ؕ اَیُحِبُّ اَحَدُکُمۡ اَنۡ یَّاۡکُلَ لَحۡمَ اَخِیۡہِ مَیۡتًا فَکَرِہۡتُمُوۡہُ ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰہَ ؕ اِنَّ اللّٰہَ تَوَّابٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۱۲﴾ (الحجرات)

’’اے ایمان والو! تم میں سے کوئی گروہ کسی دوسرے گروہ کا مذاق نہ اڑائے ‘ ہوسکتا ہے کہ وہ گروہ ان سے بہتر ہو‘ اور نہ ہی عورتیں دوسری عورتوں کا مذاق اڑائیں‘ ہو سکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں. اور نہ ہی تم اپنے آپ کو عیب لگاؤ اور نہ ہی ایک دوسرے کے برے نام رکھو. ایمان کے بعد تو برائی کا نام بھی برا ہے‘ اور جو اس سے باز نہیں آئے گا تو (اللہ تعالیٰ کے نزدیک) وہی ظالم ہیں. اے ایمان والو! کثرت سے گمان کرنے سے بچو‘ اس لیے کہ بعض گمان گناہ ہوتے ہیں اور نہ ہی ٹوہ لگایا کرو اور نہ تم میں سے کوئی کسی دوسرے کی غیبت کرے. کیا تم میں سے کوئی شخص اسے پسند کرے گا کہ وہ اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھائے؟ پس یہ بات تو تمہیں انتہائی ناپسند ہے. اور اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرو‘ یقینا اللہ توبہ قبول کرنے والا (اور) رحم فرمانے والا ہے.‘‘

سورۃ الحجرات کے درس کے بارے میں تمہیدی گفتگو میں یہ بات عرض کی گئی تھی کہ اس سورۂ مبارکہ کے مضامین کو اگر تین حصوں میں تقسیم کیا جائے تو پہلے اور آخری حصے میں مسلمانو ں کی ہیئت ِاجتماعی اور حیاتِ ملی سے متعلق نہایت اہم اور اساسی و بنیادی باتیں زیر بحث آئی ہیں. درمیانی حصے میں مسلمانوں کے مابین اتحاد و اتفاق اور محبت و مؤدت کی فضا کو برقرا رکھنے کے لیے اور اختلاف و افتراق و عداوت کے سدباب کے لیے چند احکام دیے گئے ہیں. میں نے عرض کیا تھا کہ دو حکم بڑے ہیں اور چھ ان دو کے مقابلے میں چھوٹے ہیں. میری اس بات سے کوئی غلط فہمی راہ نہ پائے‘ اس لیے جان لیجیے کہ قرآن مجید کی کوئی بات چھوٹی نہیں ہے‘ لیکن قرآن حکیم کی باتوں کے مابین ایک نسبت و تناسب ممکن ہے. چنانچہ اب ہم جن دو آیات (۱۱۱۲) کا مطالعہ کر رہے ہیں‘ ان میں وہ چھ احکام بصورتِ نواہی آ رہے ہیں.

ان چھ احکام کے متعلق ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ وہ مجلسی برائیاں ہیں جو ہمارے یہاں بہت عام ہیں اور انہیں عام طور پر حقیر اور بہت معمولی سمجھا جاتا ہے‘ لیکن ان کی وجہ سے بسا اوقات باہم دل پھٹ جاتے ہیں‘ رشتہ ٔمحبت و مؤدت منقطع ہو جاتا ہے اور نفرت و کدورت دلوں میں بیٹھ جاتی ہے. اگر ہم اُمت ِمسلمہ کو ایک فصیل سے تشبیہہ دیں تو ظاہربات ہے کہ فصیل اینٹوں سے بنی ہوتی ہے اور فصیل کے مضبوط ہونے میں دو چیزیں فیصلہ کن ہوتی ہیں. ایک یہ کہ ہر اینٹ پختہ ہو اور دوسرے یہ کہ ان اینٹوں کو باہم جوڑنے والا مسالہ بھی خالص اور مضبوط ہو. ان دونوں میں سے کوئی ایک چیزبھی کمزور اور غیر خالص ہو گی تو اس کا نتیجہ فصیل کی کمزوری کی صورت میں نکلے گا. ہم نے قرآن حکیم کی ان آیات پر بھی غور کیا ہے جن میں نہایت تاکید کی گئی ہے کہ اُمت ِمسلمہ کے ہر ہر فرد کے سیرت و کردار کو پختہ کیا جائے اور آج ہم ان آیات کا مطالعہ کر رہے ہیں جن میں مسلمانوں کے افراد‘ اشخاص‘ کنبوں‘ خاندانوں‘ قوموں اور قبیلوں کو جوڑنے والے مسالے کو مضبوط اور خالص رکھنے کے لیے جن چیزوں سے بچنا ضروری ہے‘ وہ ہمارے سامنے آ رہی ہیں.