عزت و شرف کی واحد بنیاد : تقویٰ

رنگ و نسل کی بنیاد پر انسانوں میں اونچ نیچ کا تصور قائم کرنا کہ فلاں نسل اعلیٰ ہے اور فلاں ادنیٰ‘ نوعِ انسانی کا فلاں طبقہ بڑھیا ہے اور فلاں گھٹیا یہ بالکل غلط نظریہ اور سراسر غلط تصور ہے. یہ انسانوں کے درمیان فساد‘ نفرت اور عداوت پیدا کرنے والا تصور و نظریہ ہے. یہ اونچ نیچ اور اعلیٰ و ادنی ٰ کی تقسیم اس فطری فرق و تفاوت کا بالکل غلط استعمال ہے‘ جسے قرآن حکیم صحیح تسلیم کر رہا ہے کہ : وَ جَعَلۡنٰکُمۡ شُعُوۡبًا وَّ قَبَآئِلَ لِتَعَارَفُوۡا ؕ ’’اور ہم نے تمہاری قومیں اور تمہارے قبیلے بنائے تاکہ تم باہم ایک دوسرے کو پہچانو‘‘لیکن ایک بنائے شرف اور بنائے عزت بھی اللہ نے رکھی ہے: اِنَّ اَکۡرَمَکُمۡ عِنۡدَ اللّٰہِ اَتۡقٰکُمۡ ؕ جان لوکہ اللہ کے نزدیک تو تمہارے مابین اونچ نیچ کا معاملہ صرف ایک بنیاد پر ہے اور وہ بنیاد رنگ نہیں ہے‘ خون نہیں ہے‘ نسل نہیں ہے‘ وطن نہیں ہے‘ زبان نہیں ہے‘ شکل و صورت نہیں ہے‘ قومیت نہیں ہے‘ بلکہ وہ واحد بنیاد ہے تقویٰ ‘ خداترسی‘ پرہیزگاری‘ نیکوکاری‘ اعلیٰ سیرت و کردار‘ اعلیٰ اخلاق اور حسن معاملات. اللہ کے نزدیک کوئی اونچا ہے تو ان اوصاف کی بنیاد پر اور کوئی نیچا ہے تو ان کے فقدان کی بنا پر. اونچ نیچ اور شرافت و رذالت کے لیے اس کے سوا اللہ تعالیٰ کے ہاں کوئی اور بنیاد نہیں ہے.

اب اس آیت کے آخری حصے پر نگاہوں کو مرتکز کیجیے. فرمایا جا رہا ہے : اِنَّ اللّٰہَ عَلِیۡمٌ خَبِیۡرٌ ﴿۱۳﴾ ’’بے شک اللہ تعالیٰ جاننے والا ‘ باخبر ہے‘‘.ان الفاظ کے ذریعہ سے اس حقیقت کو واضح کر دیا گیا کہ تقویٰ تو اگرچہ دل میں ہوتا ہے اور کوئی انسان کسی دوسرے کے دل کو چیر کر نہیں دیکھ سکتا لیکن اللہ تو باخبر ہے کہ کسی کے دل میں کتنا تقویٰ ہے. کوئی شخص بہروپیا ہو‘ متقیوں جیسی صورت و شکل بنا لے اور لبا س پہن لے‘ نیز محض ریاء و سمعہ کے لیے ظاہری طور پر خوش خلقی اور حسن سیرت و کردار کا پیکر بنا پھرے اور ا س طرح دنیا میں اپنا کوئی رعب گانٹھ بھی لے‘ لیکن وہ اللہ کو کوئی دھوکہ نہیں دے سکتا. اللہ علیم ہے‘ خبیر ہے. وہ جانتا ہے کہ کون کتنے پانی میں ہے! کون واقعتا خدا ترس ہے اور کون صرف دکھاوے کے لیے متقی بنا ہوا ہے! جیسے حضور نے ’’ثَلَاثٌ مُنْجِیَاتٌ‘‘ (تین نجات دینے والی چیزوں) کے ذیل میں فرمایا: خَشْیَۃُ اللہِ فِی السِّرِّ وَالْعَلَانِیَۃِ (۱’’پوشیدہ اور ظاہر‘ ہرحال میں اللہ سے ڈرنا‘‘.یعنی اصل تقویٰ وہ ہے جو خلوت میں بھی ہو جلوت میں بھی ہو. اگر اس کے برعکس صورت یہ ہو کہ ؏ ’’چوں بخلوت می رود درکارِ دیگر می کند‘‘ تو پھر یہ بہروپ ہے‘ تقویٰ نہیں ہے. پس اگر تمہارا اپنے ربّ کے ساتھ تعلق ہے تو اچھی طرح سمجھ لو کہ ربّ تو علیم ہے‘ خبیر ہے اور اس کی شان تو یہ ہے کہ وہ عَلِیۡمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوۡرِ ہے‘ اور وَ اِنۡ تُبۡدُوۡا مَا فِیۡۤ اَنۡفُسِکُمۡ اَوۡ تُخۡفُوۡہُ یُحَاسِبۡکُمۡ بِہِ اللّٰہُ ؕ (البقرۃ:۲۸۴’’اگر تم اپنے جی کی بات ظاہر کرو گے یا اس کو چھپاؤ گے ‘ اس کا وہ (اللہ) تم سے حساب لے لے گا.‘‘