ایک عالمی ریاست کا قیام : وقت کی اہم ضرورت

اس سلسلے میں ایک اہم بات میں یہ عرض کروں گا کہ اس آیت مبارکہ کی جدید دنیا کے اعتبار سے خاص اہمیت ہے. دیکھئے جدید دنیا میں بین الاقوامی اور عالمی سطح پر ایک عجیب عقدۂ لاینحل (dilemma) پیدا ہو گیا ہے کہ سائنس او رٹیکنالوجی نے فاصلے قریباً ختم کر دیے ہیں. اب پوری دنیا کی حیثیت ایسی ہے جیسے کسی زمانہ میں ایک شہر ہوتا تھا اور اس کے محلے ہوتے تھے. ذرائع ابلاغ و مواصلات اتنے ترقی کر گئے ہیں کہ فاصلے قریباً معدوم کے درجے میں آ گئے ہیں. کوئی واقعہ امریکہ میں ہو رہا ہو اسے آپ ٹیلی ویژن پر براہِ راست یہاں بیٹھ کر دیکھتے ہیں. لیکن ظاہر اور خارج میں یہ فاصلے اتنے کم ہو جانے کے باوصف دلوں کے فاصلوں میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی. دل پھٹے ہوئے ہیں‘ کوئی قدرِ مشترک موجود نہیں ہے‘ یہاں تک کہ امریکہ میں رہنے والا کالا اور گورا علیحدہ علیحدہ ہیں‘ ان کے دلوں کو جوڑنے والا کوئی رشتہ موجود نہیں ہے. اس کی وجہ یہ ہے کہ جدید دور کی مادیت اور الحاد نے یہ دونوں بنیادیں منہدم کر دی ہیں‘ نہ وحدتِ خالق و الٰہ باقی رہی‘ نہ وحدتِ آدم و حو ا باقی رہی. کوئی تیسری چیز ہے ہی نہیں جو انہیں جوڑ سکے. ایک انگریز کو ایک جرمن کے ساتھ کون سی چیز جوڑے؟ ایک چینی کو روسی کے ساتھ کون سی چیز ہے جو جوڑ سکے؟ ایک جاپانی اور ایک ماریطانیہ کے رہنے والے کے مابین کون سی قدرِمشترک ہے جو ان کو ایک رشتہ میں منسلک کر سکے؟ یہ ہے وہ dilemma جس سے آج کی دنیا دوچار ہے‘ جبکہ حالات کا تقاضا یہ ہے کہ نوعِ انسانی ایک وحدت بنے. واقعہ یہ ہے کہ اس وقت اس کی شدید ضرورت ہے کہ نیشنل سٹیٹس ختم ہو جائیں اور ایک عالمی سٹیٹ قائم ہو. ورنہ نوعِ انسانی ہلاکت کے سخت خطرے سے دوچار ہے. اگر کہیں حادثاتی طور پر عالمی جنگ شروع ہو گئی تو ہم نہیں کہہ سکتے کہ کیا انجام ہو گا!شاید یہ نوعِ انسانی کی اجتماعی خود کشی بن جائے. لیکن اس خطرے کے ادراک و شعور اور اس کے تدارک کے احساس کے باوجود دلوں کو قریب لانے والی انسان کی اپنی سوچ کسی مضبوط‘ پائیدار اور ٹھوس بنیاد تلاش اور فراہم کرنے میں تاحال ناکام و قاصر رہی ہے.

یہی وجہ ہے کہ پہلی جنگ عظیم (۱۹۱۴ء تا۱۹۱۸ء) کے بعد پہلا تجربہ ’’لیگ آف نیشنز‘‘ کا کیا گیا اور وہ ناکام ہوا. اس لیے کہ جب فکر میں کوئی بنیا د نہیں‘ دلوں میں جگہ نہیں تو محض ساتھ بیٹھنے اور اپنے اپنے مفادات کی راگنی راگنے اور ان کے تحفظات کے لیے جائز و ناجائز طور پر اس نام نہاد عالمی ادار ے کو استعمال کرنے سے مسائل تو حل نہیں ہو جائیں گے‘ بلکہ وہ تو مزید اُلجھیں گے اور ان کے نتائج پہلے سے بھی زیادہ خطرناک نکلیں 
گے‘ جیسا کہ بیس برس بعد ہی دوسری عظیم ترین جنگ (۱۹۳۹ء تا ۱۹۴۵ء) کی صورت میں نکلے. علامہ اقبال مرحوم نے اس ’’لیگ آف نیشنز‘‘ کے بارے میں کہا تھا کہ ؎

بیچاری کئی روز سے دم توڑ رہی ہے
ڈر ہے خبر بد نہ مرے منہ سے نکل جائے!

’’لیگ آف نیشنز‘‘ کی ناکامی اور دوسری جنگ عظیم کے بعد ’’تنظیم اقوام متحدہ‘‘ (UNO) اور اس کی قائم کردہ سلامتی کونسل کا جو تجربہ ہوا ہے‘ وہ بھی لیگ آف نیشنز سے بہتر ہونے کے بجائے اس سے کہیں زیادہ ناکام ثابت ہوا ہے. اسرائیل اور چند دوسرے ممالک جس انداز سے ان اداروں کے متفقہ فیصلوں کو بھی للکارتے ہیں اورٹھوکر مار دیتے ہیں‘ ان سے پوچھنے اور ان کے خلاف کوئی مؤثر اقدام کرنے کے لیے نہ سلامتی کونسل آمادہ ہے اور نہ UNO کا پوراادارہ عالمی سطح پر جو ناکامیاں (failures) ہیں اور جو پیچیدگیاں ہیں‘ ان کا سبب یہی ہے کہ وہ فکر موجود نہیں ہے جو انسان کو انسان کے قریب لا سکے. نوعِ انسانی کی یہی ضرورت ہے جو یہ آیت مبارکہ پوری کر رہی ہے :

یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقۡنٰکُمۡ مِّنۡ ذَکَرٍ وَّ اُنۡثٰی وَ جَعَلۡنٰکُمۡ شُعُوۡبًا وَّ قَبَآئِلَ لِتَعَارَفُوۡا ؕ اِنَّ اَکۡرَمَکُمۡ عِنۡدَ اللّٰہِ اَتۡقٰکُمۡ ؕ 
اب میں کیا مرثیہ کہوں اور کیا ماتم کروں کہ جن کے پاس یہ دولت ہے‘ ان کے اپنے افلاس کا حال یہ ہے کہ وہ خود ہی منقسم ہیں. بقول علامہ اقبال ؎ 

یوں تو سیّد بھی ہو ‘ مرزا بھی ہو ‘ افغان بھی ہو
تم سبھی کچھ ہو ‘ بتاؤ تو مسلمان بھی ہو؟ 

ہم پر مغربی استعمار کا جو سب سے بڑا کاری وار ہوا ہے وہ یہ ہے کہ علاقائی نیشنلزم کے ہلاکت خیز جراثیم انہوں نے ہمارے اندر بھی پیدا کر دیے. مثال کے طور پر عربوں کے حال زار پر ایک نگاہ ڈال لیجیے. ویسٹرن امپیریلزم نے عربوں میں علاقائی اور وطنی زہر کے جرثومے اس طور پر inject کیے ہیں کہ مصریوں کے لیے اب یہ بات بنائے فخر ہے کہ وہ مصری ہیں‘ شامیوں کے لیے بنائے فخر یہ نعرہ بن گیا کہ وہ شامی ہیں. یہی حال عراق‘ سعودی عرب اور یمن کا ہے. وقِس علٰی ھٰذا ایک قوم‘ایک زبان بولنے والے‘ اکثر و بیشتر نسل ایک‘ عظیم ترین اکثریت کا دین ایک‘ لیکن علاقائی نیشنلزم(Territorial Nationalism) کی جو تنگ گھاٹیاں بنا کر یورپی استعمار نے ان کو چھوڑا تھا تو وہ اس سے نکل نہیں پا رہے. او ریہی ہماری ذلت و رسوائی اور نکبت و مسکنت کا اصل سبب ہے. کاش! ہم مسلمان خود اپنے معالجہ کی طرف متوجہ ہو جائیں اور اس آیت ِمبارکہ کو اپنے لیے روشنی کا ایک مینار بنا لیں. پہلے ہم خود وحدتِ الٰہ و وحدتِ آدم یعنی وحدتِ انسانی کی بنیاد پر ایک ملت بن جائیں. بقول علامہ اقبال ؎ 

ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے
نیل کے ساحل سے لے کر تابخاکِ کاشغر! 

ہم اگر دنیا کو یہ نقشہ دکھلا دیں تو بقیہ نوعِ انسانی کو بھی رہنمائی حاصل ہو سکتی ہے.