’’ایمان‘‘ کی جامع و مانع تعریف

اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ حقیقی ایمان کسے کہتے ہیں اور اس کے خصائص کیا ہیں! یہ اس سورۂ مبارکہ کی اگلی آیت کا موضوع ہے‘ جس کا اب ہم مطالعہ کرتے ہیں. 

اِنَّمَا الۡمُؤۡمِنُوۡنَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا بِاللّٰہِ وَ رَسُوۡلِہٖ ثُمَّ لَمۡ یَرۡتَابُوۡا وَ جٰہَدُوۡا بِاَمۡوَالِہِمۡ وَ اَنۡفُسِہِمۡ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ ؕ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الصّٰدِقُوۡنَ ﴿۱۵﴾ 
’’مؤمن تو بس وہ ہیں جو ایمان لائے اللہ پر اور اس کے رسول( ) پر‘ پھر شک میں نہیں پڑے‘ اور انہوں نے جہاد کیا اپنے اموال اور اپنی جانوں کے ساتھ اللہ کی راہ میں. صرف یہی لوگ (اپنے دعوائے ایمان میں) سچے ہیں.‘‘

یہ آیت ِمبارکہ بھی اپنے مضمون کے اعتبار سے قرآن مجید کا نقطہ عروج ہے. وہ مضمون یہ ہے کہ ایمانِ حقیقی کی تعریف کیا ہے؟ جب یہ واضح ہو گیا کہ ایمان اور ہے‘ اسلام اور ہے تو فطری طور پر ایک سوال ذہن میں ابھر کر آئے گا کہ ’’ایمان‘‘ کسے کہتے ہیں! چنانچہ یہ وہ مقام ہے جسے میں ایمان کی جامع و مانع تعریف قرار دیتا ہوں. جامع و مانع تعریف ایک تو اس پہلو سے ہے کہ سیاقِ کلام میں ایمان اور اسلام کا علیحدہ علیحدہ بیان ہوا ہے. ویسے ایمان کی کیفیات قرآن مجید میں جابجا بیان ہوئی ہیں. ایمان کے ثمرات اور اس کے نتائج کے بارے میں ہم سورۃ التغابن میں تفاصیل پڑھ چکے ہیں‘ جس کا دوسرا رکوع ایمان کے ثمرات‘ ایمان کے نتائج‘ ایمان کے مقتضیات اور ایمان کے مضمرات ہی کے موضوع پر تھا. لیکن یہاں یہ دیکھنا ہے کہ سیاقِ کلام کیا ہے! وہ ہے ایمان اور اسلام کا فرق. لہذا اس پس منظر میں یہ مضمون آ رہا ہے کہ مؤمن تو بس وہ ہیں جن میں وہ دو شرطیں پوری ہو رہی ہوں جو اس آیت مبارکہ میں بیان ہو رہی ہیں.گویا یہ ایمان کی تعریف (definition) کا مقام ہے دوسرے اس پہلو سے کہ اس آیت مبارکہ کے شروع میں بھی اسلوبِ حصر ہے اور اختتام پر بھی . ’’حصر‘‘ ایک اصطلاح ہے‘ اس کو اس مثال سے اچھی طرح سمجھا جا سکے گا کہ ہم ایک جملہ کہتے ہیں: ’’ زید عالم ہے‘‘ اور ایک کہتے ہیں کہ ’’ زید ہی عالم ہے‘‘. اب غور کیجیے کہ ان دو جملوں میں کیا فرق واقع ہوا؟پہلے جملے ’’ زید عالم ہے‘‘ میں زید کے عالم ہونے کا اثبات ہوا لیکن کسی دوسرے کے عالم ہونے کی نفی نہیں ہوئی. یعنی زید کے علاوہ کوئی اور بھی عالم ہو سکتا ہے. جبکہ اس جملے میں کہ ’’ زید ہی عالم ہے‘‘ زید کے عالم ہونے کا اثبات اور دوسروں کے عالم ہونے کی نفی ہو رہی ہے. یعنی زید کے سوا اور کوئی عالم نہیں ہے. گویا علم منحصر ہے زید میں. اس کو اسلوبِ حصر کہتے ہیں. چنانچہ آیت کے شروع میں آیا : اِنَّمَا الۡمُؤۡمِنُوۡنَ الَّذِیۡنَ... معنی ہوں گے ’’مؤمن تو بس وہ لوگ ہیں‘‘ یا ’’مؤمن تو صرف وہ لوگ ہیں‘‘ . آخر میں بھی اسلوبِ حصر ہے: اُولٰٓئِکَ ہُمُ الصّٰدِقُوۡنَ ﴿۱۵﴾ ’’صرف یہی لوگ سچے ہیں‘‘. یعنی دعوائے ایمان تو انہوں نے بھی کیا تھا جن کا ذکر پچھلی آیت میں ہوا: قَالَتِ الۡاَعۡرَابُ اٰمَنَّا ؕ ایمان کے مدعی اور دعوے دار تو بہت سے ہیں‘ لیکن اس دعوائے ایمان میں سچے صرف وہ ہیں جو ان شرطوں کو پورا کریں جو اس آیت ِمبارکہ میں بیان کی جا رہی ہیں.