جہاد فی سبیل اللہ کے مراتب و مراحل

اب ذرا جہاد کے مراتب اور درجات بھی جان لیجیے.اس کے لیے ایک تین منزلہ عمارت کا تصور ذہن میں رکھیے. جہاد کا پہلا اور اہم ترین درجہ ’’مجاہدہ مع النفس‘‘ ہے. آپ نے اللہ کو مانا ہے‘ رسول کو مانا ہے‘ قرآن کو مانا ہے‘ شریعت کو مانا ہے‘ لیکن آپ کا نفس آپ کو کسی اور طرف لے جانا چاہ رہا ہو شریعت نے کہا ہے کہ سود حرام ہے‘ مگرنفس آپ کو ترغیب دے رہا ہے کہ نہیں یہ تو کاروبار کو پھیلانے کے لیے‘ معاشی دوڑ میں آگے بڑھنے کے لیے ناگزیر ہے‘ ا س کے بغیر کاروبار محدود رہے گا اور اس کی توسیع ممکن نہیں ہو گی‘ نتیجناً میں معاشی دوڑمیں بہت پیچھے رہ جاؤں گا. اب یہ کشمکش آپ کے باطن میں پیدا ہو گی. اسی طرح صبح کا وقت ہے‘ اذان بھی ہو گئی ہے‘ آپ نے سن بھی لی ہے. آپ کو معلوم ہو گیا ہے کہ اس وقت حَیَّ عَلَی الصَّلَاۃِ اور حَیَّ عَلَی الْفَلَاح ِ کی صدا‘ یہ پکار‘ یہ call اللہ کی طرف سے ہے‘ لہذا اب مسجد کا رخ کرنا اور نمازپڑھنا ہے. لیکن نفس کہتا ہے کہ نہیں‘ ابھی سوتے رہو‘ ابھی آرام کرو‘ کیوں صبح کی میٹھی نیند کو خراب کرتے ہو! تو اس نوع کی کشمکش ہر شخص کے اندر ہر آن‘ ہر وقت ہوتی رہتی ہے‘ اسے ہر لحظہ ایسی کشمکش سے واسطہ پڑتا رہتا ہے. اس میں اگر آپ اپنے نفس کے ساتھ کشمکش کریں‘ اسے اللہ اور اس کے رسول کا مطیع بنائیں ‘ تو یہ مجاہدہ مع النفس ہے‘ یہ اپنے اندر کا جہاد ہے. اسے نبی اکرم نے ایک اعتبار سے ’’افضل الجہاد‘‘ قرار دیا ہے. حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا: 

اَفْضَلُ الْجِھَادِ اَنْ تُجَاھِدَ نَفْسَکَ وَھَوَاکَ فِیْ ذَاتِ اللہِ تَعَالٰی (۱)
’’افضل جہاد یہ ہے کہ تم اپنے نفس اور اپنی خواہشات کو اللہ کا مطیع بنانے کے لیے ان کے خلاف جہاد کرو.‘‘

بدقسمتی سے جہاد کا یہ تصور ہماری نگاہوں سے اوجھل ہو گیا ہے.

اندر کی شخصیت سے پھر یہ جہاد باہر نکلے گا تو اب ہو گا 
’’مجاہدہ مع الکفر‘‘ یعنی نظریاتی سطح پر آپ ایمان کی دعوت دیجیے. کفر‘ الحاد‘ مادہ پرستی اور اباحیت کے خلاف تبلیغ‘ تلقین اور وعظ و نصیحت کیجیے اور دلائل و براہین پیش کیجیے.نظریاتی سطح پر اسلام و ایمان کی دعوت اور فروغ کا کام کیجیے. ظاہر بات ہے کہ ان کاموں میں مال بھی کھپے گا‘ جان بھی کھپے گی اور وقت بھی لگے گا. اسی وقت کو صرف کر کے آپ پیسہ کما سکتے ہیں‘ لیکن یہ وقت آپ کو دعوت و تبلیغ میں لگانا ہے. یہ جہاد فی سبیل اللہ کی دوسری منزل ہوئی پہلی مجاہدہ مع النفس اور دوسری مجاہدہ مع الکُفر.

تیسری منزل ہے ’’مجاہدہ مع الکُفَّار‘‘ بات اب اگر آگے بڑھے گی تو کشمکش ہو گی. کفار اپنے نظریے کا غلبہ چاہتے ہیں اور مؤمن دین کا غلبہ چاہتا ہے! لِتَـکُوْنَ کَلِمَۃُ اللہِ ھِیَ الْعُلْیَا. ان کے مابین پرامن مفاہمت ناممکن ہے‘ لہذا تصادم ہو کر رہے گا.لیکن اس تصادم کے بھی مختلف مراحل ہوں گے. اس تصادم کا ابتدائی مرحلہ ہو گا صبر محض‘ جسے انگریزی میں‘ passive resistance کہتے ہیں. مخالفین آپ پر تشدد کریں‘ آپ کو ستائیں‘ لیکن آپ اپنے موقف پر ڈٹے رہیں‘ پیچھے نہ ہٹیں اور پھر جواباً ہاتھ بھی نہ (۱) رواہ الدیلمی‘ بحوالہ کنز العمال‘ ج۴‘ ص ۶۲۹اٹھائیں. یہ پہلا مرحلہ ہے. لیکن جب طاقت اتنی فراہم ہو چکی ہو کہ آپ جوابی کارروائی بھی کر سکیں تو اس کو‘ active resistance کہیں گے. اب آپ بھی اقدام کریں. دیکھئے مکہ میں صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کو کیا حکم تھا!یہ کہ چاہے تمہیں دہکتے ہوئے انگاروں پر لٹا دیا جائے‘ لیٹ جاؤ. تم جوابی اقدام نہیں کر سکتے‘ اپنی مدافعت میں ہاتھ بھی نہیں اٹھا سکتے. لیکن اس کے بعد وہ وقت آیا کہ ہاتھ کھول دیے گئے. آیت نازل ہوگئی : اُذِنَ لِلَّذِیۡنَ یُقٰتَلُوۡنَ بِاَنَّہُمۡ ظُلِمُوۡا ؕ (الحج:۳۹یعنی آج سے اجازت دی جا رہی ہے ان کو جن پر ظلم کے پہاڑ توڑدیے گئے تھے کہ وہ اینٹ کا جواب پتھر سے دے سکتے ہیں. اور اس تصادم مع الکفار کا آخری درجہ ہے armed conflict یعنی مسلح تصادم.اور یہ ہے جہاد کی وہ بلند ترین چوٹی‘ جہاں پہنچ کر جہاد قتال بن جائے گا‘ جس کے بارے میں الفاظ آئے: کُتِبَ عَلَیۡکُمُ الۡقِتَالُ (البقرۃ:۲۱۶). مدینہ منورہ میں وہ وقت آیا کہ حکم آ گیا کہ اب تم پر جنگ فرض کر دی گئی ہے. 

پس یہ جہاد فی سبیل اللہ کے تین مراحل ہیں. اس کی غرض و غایت کیا ہو گی؟ اللہ کے دین کا غلبہ‘ اللہ کے دین کو قائم کرنا. وہ نظام جو اللہ تعالیٰ نے دیا‘ جو اس کے رسول  نے دیا‘ جو قرآن نے دیا اسے بالفعل نافذ کرنا. اس کے لیے پہلے مجاہدہ مع النفس ہے. یعنی اپنے اندر جو خدا کادشمن موجود ہے‘ اسے زیر کرو پھر مجاہدہ مع الکفر ہے. یعنی نظریاتی سطح پر اسلام و ایمان کی تبلیغ اور نشرو اشاعت کرو.پھر مجاہدہ مع الکفار ہے‘ جس میں صبر محض‘ اقدام اور وقت آنے پر مسلح تصادم کے مراحل ہیں.

یہ بات جان لیجیے کہ نبی اکرم نے اللہ کی راہ میں جان دینے کی آرزو رکھنے کو بھی ایمان کا ایک اہم ترین رکن قرار دیا ہے. یہ بات ٹھیک ہے کہ جنگ ہر وقت نہیں ہوتی‘ لیکن اگر دل میں حقیقی ایمان موجود ہے تو یہ تمنا موجود رہنی چاہیے کہ کاش میری زندگی میں وہ وقت آئے کہ خالصتاً قتال فی سبیل اللہ کا مرحلہ آئے اور میں اس میں اپنی گردن کٹا کر اللہ تعالیٰ کی جناب میں سرخرو اور سبکدوش ہوجاؤں. 
حضور نے ارشاد فرمایا:

مَنْ مَّاتَ وَلَمْ یَغُزْ وَلَمْ یُحَدِّثْ بِہٖ نَفْسَہٗ مَاتَ عَلٰی شُعْبَۃٍ مِنْ نِفَاقٍ (۱)
’’جس شخص کی موت اس حال میں واقع ہوئی کہ نہ تو اس نے اللہ کی راہ میں جنگ کی اور نہ ہی اس کے دل میں اس کی آرزو پیدا ہوئی تو اس شخص کی موت ایک نوع کے نفاق پر واقع ہوئی.‘‘

اللہ تعالیٰ ہمارے دلوں کو شوقِ شہادت سے معمور فرمائے.
جہاد شروع تو مجاہدہ مع النفس سے ہوتا ہے ‘لیکن اس کی آخری منزل وہی قتال فی سبیل اللہ ہو گی. یہ نگاہ سے اوجھل نہ ہونے پائے. اگرچہ اس کی کچھ شرائط ہیں‘ وہ پوری ہوں گی تو آپ وہاں پہنچیں گے‘ لیکن یہ آرزو دل میں رہنا کہ ہماری زندگی میں وہ مرحلہ بھی آئے‘ ایمان کی شرطِ لازم ہے . اگر یہ نہیں تو ایمان نہیں ہے.

پس ایمان کے دو رُکن ہیں ‘جو اس آیت مبارکہ کے حوالے سے ہمارے سامنے آئے. اب آپ جمع کر لیجیے. جب اسلام اور ایمان دونوں یکجا ہو جائیں گے تو گویا اقرار باللسان بھی ہوگا اور تصدیق بالقلب بھی. نماز‘ روزہ‘ حج اور زکوٰۃ اسلام کے ارکان کی حیثیت سے ہوں گے‘ جبکہ شک و شبہ سے مبرا ایمان دل میں اور جہاد فی سبیل اللہ بالنفس وبالمال عمل میں‘ یہ ایمان کے ارکان کی حیثیت سے ہوں گے‘ اور اس طرح گویا ایک بندۂ مؤمن کی شخصیت مکمل ہو جائے گی. اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اس نقشے پر پورا اترنے کی توفیق عطا فرمائے.