پہلا ہدف : دعوت و تبلیغ

دعوت و تبلیغ کو آپ یوں کہہ لیجیے کہ یہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر ہی کا ابتدائی مرحلہ ہے.اس میں تلقین اور نصیحت بھی شامل ہے اور حق کی نشرو اشاعت اور اس کا ابلاغ بھی. اس ابلاغ کے لیے ظاہر بات ہے کہ ہر دَور میں جو بھی ذرائع میسر ہوں گے وہ بھرپور طریقے پر استعمال کیے جائیں گے. نبی اکرم نے اپنے زمانے میں جو ذرائع بھی ممکن تھے‘ ان سب کو استعمال کیا ہے. آپؐ کوہِ صفا پر کھڑے ہوتے ہیں اور نعرہ لگاتے ہیں: ’’وَاصَبَاحَا!‘‘ ’’ہائے وہ صبح جو آنے والی ہے!‘‘یہ اُس زمانے کا رواج تھا کہ اگر کسی کو یہ معلوم ہوجاتا تھا کہ کوئی دشمن حملہ کرنے والا ہے تو وہ اپنے قبیلے کے لوگوں کو خبردار کرنے کے لیے اپنے کپڑے اتار کر اور بالکل عریاں ہو کر کسی بلند مقام پر کھڑا ہو جاتا تھا تاکہ سب لوگ اسے دیکھ سکیں‘ اور پھر نعرہ لگاتا تھا : وَاصَبَاحَا! یعنی ہائے وہ صبح جو آنے والی ہے. لوگ سمجھ جاتے تھے کہ کوئی بڑی اہم بات ہے. چنانچہ سب اس کی طرف لپکتے تھے. اور پھر وہ اپنی خبر یا اطلاع لوگوں تک پہنچاتا تھا. رسول اللہ کے بارے میں اس کا ہرگز کوئی (۱) صحیح البخاری‘ کتاب الایمان‘ باب من الایمان ان یحب لاخیہ ما یحب لنفسہ. وصحیح مسلم‘ کتاب الایمان‘ باب الدلیل علی ان من خصال الایمان ان یحب لاخیہ. سوال یا امکان نہیں تھا کہ آپعریاں ہو جاتے‘ لیکن باقی آپؐ نے وہ پورا طرزِ عمل اختیار کیا. کوہِ صفا پر بلند مقام پر کھڑے ہو کر نعرہ لگایا‘ لوگ جمع ہوئے‘ آپ نے دعوت پیش کی. یہ دوسری بات ہے کہ پورے مجمع میں سے کسی کے کان پر جوں تک نہ رینگی اور آپ کے سب سے قریبی رشتہ دار ابولہب نے یہ زہرآلود الفاظ کہے : ’’تَبًّا لَکَ‘ اَلِھٰذَا جَمَعْتَنَا؟‘‘ (آپ کے ہاتھ ٹوٹ جائیں‘ کیا آپؐ نے اس کام کے لیے ہمیں جمع کیا تھا؟) نَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ ذٰلِکَ!. بہرحال اس وقت یہ بتانا مقصود تھا کہ اس ابلاغ‘ تبلیغ اور نشر واشاعت کے لیے جو بھی وسائل ممکن ہوں اختیار کیے جانے چاہئیں. سیرت میں ہمیں نظر آتا ہے کہ انفرادی ملاقاتیں بھی تھیں‘ آپؐ گلیوں میں بھی تبلیغ فرماتے تھے‘ جہاں کہیں معلوم ہوا کہ کوئی قافلہ ٹھہرا ہوا ہے وہاں پہنچ کر اپنی دعوت پیش فرماتے تھے. حج کے ایام میں آپؐ کی یہ دعوتی سرگرمی پورے عروج کو پہنچ جاتی تھی. ملک کے کونے کونے سے لوگ آئے ہوتے تھے‘ آپؐ مختلف وادیوں میں گھومتے اور جہاں کہیں کسی قبیلے کا پڑاؤ دیکھتے وہاں جا کر اپنی دعوت پیش کرتے. گویا وہ نقشہ ہوتا جو حضر ت نوح علیہ السلام کی اس دعا میں نظر آتا ہے: 

قَالَ رَبِّ اِنِّیۡ دَعَوۡتُ قَوۡمِیۡ لَیۡلًا وَّ نَہَارًا ۙ﴿۵﴾فَلَمۡ یَزِدۡہُمۡ دُعَآءِیۡۤ اِلَّا فِرَارًا ﴿۶﴾وَ اِنِّیۡ کُلَّمَا دَعَوۡتُہُمۡ لِتَغۡفِرَ لَہُمۡ جَعَلُوۡۤا اَصَابِعَہُمۡ فِیۡۤ اٰذَانِہِمۡ وَ اسۡتَغۡشَوۡا ثِیَابَہُمۡ وَ اَصَرُّوۡا وَ اسۡتَکۡبَرُوا اسۡتِکۡبَارًا ۚ﴿۷﴾ثُمَّ اِنِّیۡ دَعَوۡتُہُمۡ جِہَارًا ۙ﴿۸﴾ثُمَّ اِنِّیۡۤ اَعۡلَنۡتُ لَہُمۡ وَ اَسۡرَرۡتُ لَہُمۡ اِسۡرَارًا ۙ﴿۹﴾ (نوح)

’’کہا اے میرے پروردگار! میں نے اپنی قسم کے لوگوں کو شب و روز پکارا‘ مگر میری پکار نے ان کے فرار میں ہی اضافہ کیا. اور جب بھی میں نے ان کو بلایا تاکہ تو انہیں معاف کر دے‘ انہوں نے اپنے کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیں اور اپنے کپڑوں سے منہ ڈھانک لیے اور اپنی روش پر اڑ گئے اور بڑا تکبر کیا. پھر میں نے ان کو ہانکے پکارے دعوت دی. پھر میں نے علانیہ بھی ان کو تبلیغ کی اور چپکے چپکے بھی سمجھایا‘‘.
یعنی اے میرے ربّ! اے میرے پروردگار! میں نے اپنی اس قوم کو فرداً فرداً بھی پکارا‘ عام مجمعوں میں بھی انہیں دعوت دی‘ میں تنہائی میں بھی ان سے ملا‘ میں نے علی الاعلان بھی یہ بات کہی ہے‘ میں نے رات کی تاریکیوں میں بھی پیغام پہنچایا ہے اور دن کی روشنی میں بھی اس پیغام کی نشرو اشاعت کی ہے.

یہ ہے درحقیقت جہاد فی سبیل اللہ کا اوّلین مرحلہ. اسے تبلیغ کہیے‘ دعوت کہیے یا نشرواشاعت کہیے. اس میں محنت و مشقت ہو گی‘ اوقات صرف ہوں گے‘ صلاحیتیں کھپیں گی. ضرورت اس بات کی ہو گی کہ باصلاحیت لوگ آئیں اور اپنی صلاحیتوں کو اس راہ میں صرف کر یں‘ ذہین او رفطین نوجوان آئیں اور وہ اس کام میں اپنے آپ کو جھونک دیں. نبی اکرم پر ایمان لانے کے بعد حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ پھر اپنے کاروبارمیں منہمک نہیں ہوئے‘ بلکہ آپؓ اسی کشاکش‘ اسی کوشش اور اسی جدوجہد میں ہمہ تن مصروف ہو گئے‘ اور چند سال کی محنت کا نتیجہ یہ نکلا کہ عشرہ مبشرہ ( رضوان اللہ علیہم اجمعین) میں سے چھ اصحاب کو لا کر انہوں نے محمدٌ رسول اللہ کی جھولی میں ڈال دیا. یہ ہے اس مجاہدہ فی سبیل اللہ کی پہلی منزل!

یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ جنگ اور قتال کا مرحلہ تو نبی اکرم کی حیاتِ طیبہ میں کہیں پندرہ برس کے بعد آیا. مکہ مکرمہ کے تیرہ برسوں میں اور پھر قیامِ مدینہ کے ابتدائی دو برسوں میں مجاہدہ جاری رہا. یہ جدوجہد اور کشاکش نظریاتی سطح پر تھی. یہ عقائد کا تصادم تھا جو جاری تھا اور اس میں لوگ تکالیف اور مصیبتیں بھی جھیل رہے تھے. جن لوگوں نے نبی اکرم کی دعوت پر لبیک کہا اور نیا عقیدہ اختیار کیا ان کی اپنے گھروں اور اپنی برادریوں میں کشمکش شروع ہو گئی. اپنے ماحول کے ساتھ ان کا تصادم پوری شدت کے ساتھ شروع ہو گیا. وہ ستائے گئے‘ ان کو ایذائیں دی گئیں‘ جس کا نقشہ ہم سورۂ آل عمران کے آخری رکوع کی اس آیت میں دیکھ چکے ہیں کہ: فَالَّذِیۡنَ ہَاجَرُوۡا وَ اُخۡرِجُوۡا مِنۡ دِیَارِہِمۡ وَ اُوۡذُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِیۡ وَ قٰتَلُوۡا وَ قُتِلُوۡا... (آیت:۱۹۵’’پس جن لوگوں نے ہجرت کی اور اپنے گھروں سے نکالے گئے اور میرے راستے میں ستائے گئے اور انہوں نے قتال کیا اور مارے گئے…‘‘یہ قتال کا مرحلہ یعنی غزوۂ بدر کا واقعہ تو کہیں ۲ھ کا ہے‘ لیکن پہلے پندرہ برس یہ کشاکش اور تصادم جاری تھا. پھر جن لوگوں نے اس دعوت کو قبول کیا ان کی تربیت کرنا اور ان کو ایک منظم جماعت کی شکل دینا بھی تو مجاہدے ہی کی ایک شکل تھی.