تکمیلِ رسالت کا تقاضا: ’’تکمیلِ دین‘‘

اگلی آیت (نمبر ۱۵) کا حوالہ بعد میں آئے گا کہ اس صورت حال میں طرز عمل کیا ہونا چاہئے. سرِدست ایک اور اہم حقیقت کی طرف توجہ فرمایئے! بہتر ہو گا کہ پہلے ہم ایک اصولی بات سمجھ لیں جس کا براہ راست تعلق ہمارے آج کے موضوع کے ساتھ ہے. انبیاء کرام کے ضمن میں تو میں نے آپ کے سامنے عرض کر دیا کہ دین اور شریعتوں کے مابین کیا نسبت و تناسب ہے‘ان کی کیا اہمیت ہے اور اپنی اپنی جگہ پر ان دونوں کا کیا مقام ہے‘یعنی دین ایک ہے اور شریعتیں جدا جدا. نبی اکرم پر نبوت کا خاتمہ ہوا اور رسالت کی تکمیل ہوئی. اب ان دونوں چیزوں کے علیحدہ علیحدہ تقاضے ہیں. ہمارے ہاں ختم نبوت پر تو گفتگو بہت ہوتی ہے لیکن تکمیلِ رسالت پر بہت کم ہوتی ہے. ان موضوعات پر میری تقریروں کے کیسٹ موجود ہیں‘اِس وقت صرف حوالہ دے کر گزر رہا ہوں. آنحضور پر صرف نبوت ختم ہی نہیں ہوئی‘بلکہ اس کی تکمیل ہوئی ہے اور آپؐ کی فضیلت کی بنیاد تکمیلِ نبوت و رسالت ہے. محض ختمِ نبوت تو درحقیقت فضیلت کی کوئی بنیاد نہیں بنتی. اس کی دستوری اور قانونی حیثیت تو مسلم ہے کہ آنحضور کے بعد جس کسی نے نبوت یا رسالت کا دعویٰ کیا وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے. اسی طرح جس کسی نے ایسے شخص کی تصدیق کی وہ بھی اسلام کے دائرے سے خارج ہے. لیکن محمدٌ رسول اللہ کی فضیلت کی اصل بنیاد تکمیلِ نبوت و رسالت ہے اور اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ’’اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ دِیْنَکُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِی وَرَضِیْتُ لَکُمُ الْاِسْلَامَ دِیْنًا‘‘ کے مطابق اسلام اب مکمل ہو چکا اور اس اسلام کے بارے میں سورۂ آل عمران میں دو جگہ دو ٹوک انداز میں فرما دیا گیا: 

اِنَّ الدِّیۡنَ عِنۡدَ اللّٰہِ الۡاِسۡلَامُ ۟ 
(آیت: ۱۹
’’یقینا دین تو اللہ کے نزدیک بس اسلام ہی ہے‘‘. 

وَ مَنۡ یَّبۡتَغِ غَیۡرَ الۡاِسۡلَامِ دِیۡنًا فَلَنۡ یُّقۡبَلَ مِنۡہُ ۚ 
(آیت :۸۵
’’اور جس نے اسلام کے علاوہ کوئی اور دین تلاش کر لیا وہ اس سے ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا.‘‘ 
یعنی محمدٌ رسول اللہ پر اس سلسلے کا خاتمہ ہو گیا اور اب ہمیشہ کے لیے ’’کتاب و سنت‘‘ کا تعین ہو گیا. اللہ کی تاب اب ہمیشہ کے لیے قرآن ہے اور سنتِ رسول یااطاعتِ رسول کا مصداق ہمیشہ کے لیے سنتِ محمد یا اطاعتِ محمد ہے.