تفرقے کی بنیاد: عقیدۂ ختم نبوت سے انحراف

اور یہ سمجھ لیجیے کہ اب اس میں اگر تفرقہ ہو گا تو صرف عقیدۂ ختم نبوت سے انحراف کرنے یا بالفاظِ دیگر نبوت کی مہر توڑنے سے ہو گا. اگر آپ کتاب وسنت کے پابند ہیں تو تفرقہ ممکن نہیں. اب تفرقہ صرف مہرِ نبوت توڑنے سے ہی ہو گا‘جیسا کہ بعض گمراہ فرقوں کی طرف سے اس تفرقہ کا مظاہرہ ہوا‘خواہ وہ بہائی ہوں‘قادیانی ہوں یا کوئی اور ہوں‘وہ دائرۂ اسلام سے خارج ہوگئے. باقی جو لوگ کتاب اور سنت پر قائم رہیں ان میں تفرقے کا امکان نہیں ہے. ان کے مابین اختلاف ہو سکتا ہے اور یہ اختلاف ہی ہے جو امت میں چلا آ رہا ہے. چنانچہ کتاب و سنت سے استنباط و استدلال کا معاملہ ہو‘نئے مسائل پر اجتہاد کرنا ہو‘کتاب و سنت سے استنباط و استخراج کے اصول بنانے ہوں‘جن کا نام اصول فقہ ہے‘ان میں تھوڑے بہت فرق و تفاوت کا ہو جانا عین ممکن ہے. طریق استنباط میں کچھ فرق و تفاوت ہو جائے گا‘پھر اس میں ترجیح یعنی راجح اور مرجوح کا کچھ فرق و تفاوت ہو سکتا ہے‘اس وجہ سے اختلاف تو یقینا ہو گا. لیکن جب تک کتاب و سنت دونوں اپنی جگہ پر قائم ہیں تفرقہ نہیں ہو گا. تفرقہ کی بنیاد صرف مہرِ ختمِ نبوت کو توڑ دینا ہے.

یہی وجہ ے کہ آج تک اِس امت میں‘چودہ سو برس میں‘تکفیر پر اگر اجماع ہوا ہے تو صرف ان لوگوں کی جنہوں نے کسی نئی نبوت کا دعویٰ کیا. امت کی تاریخ میں معمولی نہیں‘بہت بڑے بڑے اختلافات ہوئے ہیں‘لیکن ان کی بنیاد پر کسی کی تکفیر نہیں ہوئی. جس قدر 
’’Tolerance‘‘ (برداشت) اسلام کی تاریخ میں رہی ہے اس کی نظیر دنیا کے کسی مذہب میں نہیں ملتی. عیسائیت کی تاریخ پڑھئے کہ ان کے فرقوں کے درمیان اتنا کشت و خون ہوا ہے کہ اس پر ان کی اپنی گردنین شرم سے جھک جاتی ہیں. اس کے برعکس اسلام نے اختلافات کو absorb کیا ہے. اس ضمن میں اس کے اندر inbuilt mechanism موجود ہے اور بڑے مؤثر shock-absorbers بھی ہیں. اس میں اختلافات کے لیے کھلی گنجائش ہے. الفاظِ قرآنی ’’ وَّ لَا یَزَالُوۡنَ مُخۡتَلِفِیۡنَ ﴿۱۱۸﴾ۙ…وَ لِذٰلِکَ خَلَقَہُمۡ ْؕ‘‘ کی بہترین مثال اسلام کی تاریخ میں سامنے آتی ہے. یہی وجہ ہے کہ کتاب و سنت کی تعبیرات‘استنباطات‘استدلالات اور ان کے اصول کے اندر جو بھی فرق و تفاوت ہوا اسی سے حنفیت‘شافعیت‘مالکیت‘حنبلیت‘ظاہریت اور سلفیت وجود میں آ گئیں. یہ اہل سنت کے مختلف مسالک ہیں‘جن کے مابین اگر کوئی اختلاف ہو سکتا ہے تو وہ صرف تعبیر کا اختلاف ہے.

میں ابھی اہل تشیع کا ذکر اس لیے نہیں کر رہا کہ وہاں ایک معاملے میں آکر مزید فرق واقع ہو جاتا ہے. ابھی آپ صرف یہ سمجھ لیجیے کہ اہل سنت کے مختلف مکاتب فقہ جنہیں مسالک یا مذاہب کہا جاتا ہے یہ سب کے سب کتاب و سنت پر جمع ہو سکتے ہیں کیونکہ ان سب کے لیے سنت کا ماخذ (source) ایک ہی ہے‘ان کی کتبِ حدیث ایک ہی ہیں‘جس میں بخاری و مسلم اور صحاح ستہ کی دیگر کتب نمایاں ہیں. ان کا استدلال ہو گا تو وہیں سے ہو گا. گویا ان کا frame of reference ایک ہی ہے. اس اعتبار سے ان کے مابین جو بھی اختلافات ہیں وہ فروعی ہیں‘اصولی نہیں. اگرچہ پاکستان میں حنفی اور اہل حدیث کے مابین بھی کافی چپقلش پیدا ہو جاتی ہے‘کیونکہ شافعی‘مالکی اور حنبلی تو یہاں پر نہ ہونے کے برابر ہیں. غالب اکثریت احناف کی ہے‘لیکن سلفی یا اہلحدیث حضرات اقلیت میں ہونے کے باوجود خاصے فعال ہیں‘اور چونکہ کئی بیرونی حکومتیں ان کی مددگار اور پشت پناہ ہیں‘اس لیے ان کی حیثیت اپنے اصل سائز سے زیادہ بڑی ہو گئی ہے. بہرحال جہاں تک میرا اپنا موقف ہے وہ یہ ہے کہ ان دونوں کے درمیان بھی قطعاً کوئی بنیادی فرق نہیں ہے‘اس لیے کہ جو بھی ماخذِ سُنّت ہے وہ ان دونوں کا مشترک ہے.