تفرِقہ سے بچنے کا قرآنی لائحہ عمل

اس اعتبار سے میں یہاں پر محولہ بالا تین آیتوں میں سے آخری آیت (الشوریٰ:۱۵) کا حوالہ دے رہا ہوں جن میں صحیح لائحہ عمل کی نشاندہی کی گئی ہے: 

فَلِذٰلِکَ فَادۡعُ ۚ وَ اسۡتَقِمۡ کَمَاۤ اُمِرۡتَ ۚ وَ لَا تَتَّبِعۡ اَہۡوَآءَہُمۡ ۚ 

’’پس (اے نبی ) اسی کی دعوت دیتے رہئے اور ثابت قدم رہئے جیسا کہ آپؐ کو حکم دیا گیا‘اور ان کی خواہشات کی پیروی مت کیجیے.‘‘

یعنی تمہیں اس کی دعوت دیے چلے جانا ہے کہ دین کو قائم کرو. 
’’ذٰلِکَ ‘‘ کا اشارہ ’’اَنْ اَقِیْمُوا الدِّینَ وَلَاتَتَفَرَّ قُوافِیہِ‘‘ کی طرف ہے‘یعنی ’’دین کو قائم کرو اور اس میں تفرقہ نہ ڈالو!‘‘ 

وَ قُلۡ اٰمَنۡتُ بِمَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰہُ مِنۡ کِتٰبٍ ۚ 

’’اور کہہ دیجیے کہ میرا ایمان تو اس کتاب پر ہے جو اللہ نے نازل کی ہے‘‘. 

وَ اُمِرۡتُ لِاَعۡدِلَ بَیۡنَکُمۡ 

’’اور مجھے حکم ہوا ہے کہ تمہارے مابین عدل قائم کروں‘‘. 

اَللّٰہُ رَبُّنَا وَ رَبُّکُمۡ 
’’اللہ ہمارا بھی رب ہے اور تمہارا بھی رب ہے‘‘.

آپس میں اختلافات کے حل کے لیے یہاں بہترین فارمولا دیا جا رہا ہے. اگر کوئی حنفی‘شافعی یا مالکی فقہ میں کوئی اختلاف ہے تو کیا ہوا. 
’’اَللّٰہُ رَبُّنَا وَ رَبُّکُمۡ ْ‘‘ ہمارا اور تمہارا رب ایک ہے یا نہیں؟ 

لَنَاۤ اَعۡمَالُنَا وَ لَکُمۡ اَعۡمَالُکُمۡ 
’’ہمارے لیے ہمارے اعمال اور تمہارے لیے تمہارے اعمال‘‘. 

نماز میں رفع یدین کرنا ہے یا نہیں کرنا‘ہاتھ چھوڑ کر نماز پڑھنی ہے یا باندھ کر‘ان معاملات میں کیوں جھگڑا کرتے ہو؟ 
لَا حُجَّۃَ بَیۡنَنَا وَ بَیۡنَکُمۡ 
’’اس میں ہمارے تمہارے مابین کسی حجت بازی کی ضرورت نہیں‘‘. 
اَللّٰہُ یَجْمَعُ بَیْنَنَا ۵ وَاِلَیْہِ الْمَصِیْرُ 
’’اللہ ہی ہمارے مابین جمعیت پیدا کرنے والا ہے اور اسی کی طرف لوٹ کرجانا ہے‘‘. 

اللہ کرے کہ وہ جمعیت اسی دنیا میں پیدا ہو جائے‘وہ اتحاد اور اتفاق ہو جائے‘اور اگر یہ چیز نہیں ہو گی تب بھی اللہ کے حضور جا کر تو کھڑے ہونا ہے. وہاں دودھ کا دودھ‘پانی کا پانی جدا ہو جائے گا.