شیعہ سُنّی مفاہمت کی اساس

اب میں اس سے آگے بڑھ رہا ہوں کہ اہلِ تشیع کے ساتھ معاملے میں اس سے ذرا مختلف صورت کیا ہے. جہاں تک ’’کتابُ اللّٰہ‘‘ کا تعلق ہے تو اگرچہ اہل سنت کو اہلِ تشیع کے بارے میں یہ شکوک و شبہات ہیں کہ وہ قرآن کو بھی صحیح نہیں مانتے‘ان کی بعض کتابوں سے اس کے حوالے بھی دیے گئے ہیں اور مولانا محمد منظور نعمانی نے اسی موضوع پر بڑی مفصل کتاب لکھی ہے‘لیکن اہل تشیع کا عمومی موقف یہ ہے کہ نہیں‘ہم اسی کتاب کو برحق مانتے ہیں. اور ہمیں ظاہربات ہے کہ ان کا وہی موقف درست تسلیم کرنا چاہئے جو ان کی زبان سے ادا ہو رہا ہے. چنانچہ ’’کتاب‘‘ ہمارے اور ان کے مابین مشترک ہے. ان کے ہاں شاید کچھ غالی حضرات ایسے ہیں جو سمجھتے ہیں کہ اصل قرآن وہ تھا جو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے مرتب کیا تھا‘جو دراصل ترتیب نزولی کے اعتبار سے تھا. ہمارے ہاں بھی اس کی روایات موجود ہیں. میرے نزدیک حضرت علیؓ کا یہ کام محض ایک علمی دلچسپی کے طور پر تھا.

بہت سے علماء نے بھی ایسی خوششیں کی ہیں کہ قرآن کو ترتیب نزولی کے اعتبار سے مرتب کیا جائے. ایک زمانے میں خود میں بھی یہ کوشش کرتا رہا ہوں. یہ ایک علمی اور اکیڈمک ایکسر سائز ہے کہ معلوم ہو کہ پہلے کون سی آیات نازل ہوئیں‘ان کے بعد کون سی آیات اور کون سی سورتیں اتریں اور پھر ان کے بعد کون سی. بعض انگریزی تراجم بھی اس طورسے شائع ہوئے ہیں کہ وہ مصحف کی ترتیب سے نہیں ہیں بلکہ اس ترتیب سے ہیں جو ان کے مترجمین کے خیال میں نزولی ترتیب ہے. ویسے یہ چیزیں متفق علیہ نہیں ہیں بلکہ ان میں اختلافات ہیں. بہرحال حضرت علیؓ کے بارے میں یہ خیال موجود ہے کہ انہوں نے قرآن حکیم کوترتیب نزولی کے اعتبار سے مرتب کیا تھا‘جو ایک علمی بات تھی. لیکن جو لوگ یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ اصل قرآن وہی تھا ان کے عقیدے کے مطابق وہ اصل قرآن اب دنیا میں کہیں نہیں ہے اور اس کا نسخہ صرف ان کے امام غائب کے پاس ہے جو روپوش ہیں‘اور وہ جب ظاہر ہوں گے تو اسے لے کر آئیں گے. یہ عقیدہ رکھنے والوں کے پاس بھی اس قران کا کوئی نسخہ موجود نہیں ہے. اور وہ بھی یہ تسلیم کرتے ہیں کہ اُس وقت تک یہی مصحفِ عثمانؓ ہی قرآن ہے. تو ہمیں انہی کے موقف پر بات طے کرنی چاہئے ‘باقی غالی قسم کے واعظین جو باتیں کہتے رہتے ہیں اور ایک دوسرے پر تکفیر کے تیر چلاتے رہتے ہیں ان کو نظر انداز کرنا چاہئے.

یہ چیزیں غالی واعظین اور مذہبی پیشہ ور قسم کے لوگوں کے اندر ہوتی ہی ہیں. اہلِ تشیع کا مستند موقف بہرحال یہی ہے کہ ہم اسی قرآن کو تسلیم کرتے ہیں اور مجھے یقین ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا مرتب کردہ قرآن بھی اگر کہیں دنیا میں پھر ظاہر ہوا تو وہ بھی‘سوائے ترتیبِ نزولی کے‘بعینہٖ یہی قرآن ہو گا‘اس میں کسی آیت کی کمی بیشی ہرگز نہیں ہو گی. میں عرض کر چکا ہوں کہ یہ ممکن ہے کہ انہوں نے قرآن حکیم پر تدبر کی غرض سے اس کی آیات کو ترتیب نزولی کے اعتبار سے مرتب کیا ہو. ظاہر ہے کہ ترتیبِ نزولی اگرچہ آج ہمیں صحیح طور پر معلوم نہیں لیکن ان کے علم میں تو تھی‘ان کی آنکھوں کے سامنے پورا قرآن نازل ہوا. چنانچہ اگر انہوں نے اس اعتبار سے کوئی نسخہ مرتب کیا ہو اور اگر کبھی وہ ظاہر بھی ہو گیا تو ہمیں بھی قرآن کی صحیح ترتیب نزولی معلوم ہو جائے گی‘لیکن یہ ایک محض علمی یا نظری بات ہے اور بالفعل چونکہ وہ بھی اسی کو قرآن مانتے ہیں‘لہٰذا یہ ہمارے اور ان کے مابین مشترک ہے.

البتہ جہاں تک حدیث کا معاملہ ہے ان کے اپنے مجموعے ہیں‘لہٰذا یہاں آ کر فرق واقع ہو جاتا ہے اور اختلاف گہرا ہو جاتا ہے. لیکن یہ بھی تفرقہ نہیں ہے‘کیونکہ تفرقہ تو تب ہو گا جب سنت کا انکار کیا جائے اور رسول کی نبوت کی مہر کو توڑا جائے. البتہ یہاں اختلاف نسبتاً زیادہ گہرا ہے اس اختلاف کی نسبت جو حنفیوں اور شافعیوں یا مالکیہ اور حنابلہ کے مابین ہے یا اہلحدیث اور احناف کے مابین ہے. اس لیے کہ جب کسی مسئلہ پر 
گفتگو ہو گی اور استدلال کا معاملہ ہو گا تو دونوں جانب سے حدیثیں پیش کی جائیں گی‘تو جو حدیثیں شیعہ پیش کریں گے وہ اہل سنت کے نزدیک معتبر نہیں ہوں گی اور جو حدیثیں اہل سنت کے نزدیک معتبر اور معتمد علیہ ہیں وہ اہل تشیع کے نزدیک قابل اعتبار نہیں. لہٰذا صرف اس درجے میں یہاں اختلاف گہرا ہے‘تفرقہ پھر بھی نہیں ہے. اس حوالے سے‘جیسا کہ میں نے عرض کیا‘دین پھر بھی ایک رہا. اس لیے کہ دین نام ہے اللہ کی حاکمیت اور اس کے رسول کی اطاعت کا.

اس حوالے سے آج ہمیں وہی بات شیعوں اور سنیوں سے کہنی چاہئے جو قرآن حکیم میں اللہ تعالیٰ نے بڑے لطیف پیرائے میں یہودیوں اور عیسائیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہی. یہ سورۃ البقرہ کی آیت ۱۴۰ ہے‘پہلے پارے کی آخری سے پہلی آیت ہے: 

اَمۡ تَقُوۡلُوۡنَ اِنَّ اِبۡرٰہٖمَ وَ اِسۡمٰعِیۡلَ وَ اِسۡحٰقَ وَ یَعۡقُوۡبَ وَ الۡاَسۡبَاطَ کَانُوۡا ہُوۡدًا اَوۡ نَصٰرٰی ؕ قُلۡ ءَاَنۡتُمۡ اَعۡلَمُ اَمِ اللّٰہُ ؕ 

’’(تم جو یہودیت اور نصرانیت لیے پھرتے ہو تو) کیا تمہارا یہ قول ہے کہ ابراہیم ؑ ‘اسماعیل ؑ اسحاق ؑ ‘یعقوب اور ان کی اولاد یہودی تھے یا نصرانی تھے؟ (اے نبی ) کہہ دیجیے کہ تم زیادہ جانتے ہو یا اللہ زیادہ جانتا ہے؟‘‘

بالکل اسی حوالے سے سمجھئے کہ 
’’مُحَمَّدٌ رَسُوْلُ اللّٰہِ وَالَّذِیْنَ مَعَہٗ‘‘ شیعہ تھے یا سنی تھے؟ ابوبکرؓ سنی تھے یا شیعہ؟ علی ؓ شیعہ تھے یا سنی تھے؟ توحید اور رسالت پر جمع ہو کر یہ سارے تفرقے ختم کیے جا سکتے ہیں. اس ایک بات میں سارے اختلافات کا حل ہے. یہی بات آگے چل کر سورۂ آل عمران میں فرمائی گئی: 

کَانَ اِبۡرٰہِیۡمُ یَہُوۡدِیًّا وَّ لَا نَصۡرَانِیًّا وَّ لٰکِنۡ کَانَ حَنِیۡفًا مُّسۡلِمًا ؕ وَ مَا کَانَ مِنَ الۡمُشۡرِکِیۡنَ ﴿۶۷﴾ 
(آیت: ۶۷
’’(دیکھو‘ہوش کے ناخن لو) ابراہیم نہ تو یہودی تھے نہ نصرانی تھے. وہ یکسو تھے‘اللہ کے اطاعت گزار (حاکمیتِ الٰہی کے سانے سر تسلیم خم کر دینے والے) اور وہ مشرک نہیں تھے‘‘.

مشرک تو وہ ہے جو اللہ کی اطاعت سے سرتابی کر رہا ہے‘جس نے کسی اور کوالٰہ بنا لیا ہے‘جو اللہ کی حاکمیت سے انحراف کر رہا ہے‘خود حاکم بنا بیٹھا ہے یا اللہ کے سوا کسی اور کو حاکم مانے 
ہوئے ہے. اللہ کی حاکمیت اور اس کے رسول کی اطاعت کا اصول اگر تسلیم کیا جائے اب تفرقہ نہیں رہا‘اختلاف ہے. البتہ اختلاف اہل سنت کے مختلف مسالک اور مذاہب کے درمیان نسبتاً کم ہے اور اہل تشیع کے ساتھ اہل سنت کا اختلاف نسبتاً گہرا ہے.