دوراہ ایران مشاہدات و تاثرات

امیر تنظیم اسلامی کا یکم نومبر ۹۶ء کا خطاب جمعہ
شائع شدہ ’’میثاق‘‘ دسمبر ۱۹۹۶ء



خطبہ مسنونہ اور تلاوت آیات کے بعد فرمایا:
مجھے آج اپنے ’’دوراۂ ایران کے تاثرات و مشاہدات‘‘ کے موضوع پر گفتگو کرنا ہے. یہ موضوع جہاں طوالت طلب ہے‘وہاں نہایت نازک اور حساس بھی ہے‘کیونکہ اس معاملے میں ذرا سا بھی ادھر ادھر ہو جانے سے بہت سے فتنے کھڑے ہو سکتے ہیں. اس حوالے سے میں نے حتی الامکان کوشش کی ہے کہ اپنے خیالات کو مرتب کر لوں. پھر یہ کہ اس دوسرے کے تاثرات و مشاہدات کے بیان سے قبل مجھے اس کا کچھ پس منظر بھی بیان کرنا تاکہ پوری بات یکجا اور واضح ہو کر سامنے آ جائے. وقت محدود ہے‘تاہم ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ 
’’مَاقَلَّ وَدَلَّ‘‘ کی کیفیت عطا فرمادے اور میں اپنے موضوع کو کم وقت میں سمیٹ لوں. 

سب سے پہلے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ شیعہ سنی مسئلہ کے بارے میں اپنا ذاتی موقف ترتیب وارنکات کی صورت میں واضح کردوں تا کہ بات سمجھنے میں آسانی رہے.

پہلانکتہ حقیقی فرقے دو ہیں

میں بار ہا کہا ہے اور اب بھی اس موقف پر قائم ہوں کہ مسلمانوں میں حقیقی فرقے صرف دو ہیں. ایک شیعہ اور دوسرا سُنّی! باقی تقسیمیں بھی اگرچہ موجود ہیں اور ان کے درمیان شاید محاذ آرائی بھی پائی جاتی ہے‘تاہم وہ فرقے نہیں بلکہ مختلف مکاتب فکر‘مسالک اور فقہی مذاہب ہیں‘جیسے حنفی‘مالکی‘شافعی‘حنبلی اور سلفی وغیرہ. اس کے بعد احناف میں دیوبندی اور بریلوی کی ذیلی تقسیم بھی ہے اور ان دونوں کے مابین شدید تلخی اور کشیدگی موجود ہے‘لیکن یہ دونوں اصلاً ایک ہی فقہ اور مکتب فکر سے تعلق رکھتے ہیں اور دونوں کے بنیادی تصورات تقریباً ایک جسے ہیں. اہلِ تسنن کی طرح اہلِ تشیع بھی ذیلی تقسیم موجود ہے. مثلاً اسماعیلی اور اثنا عشری وغیرہ. 

دوسرا نکتہ: میرا تعلق اہلِ سنت سے ہے

جہاں تک میرا تعلق ہے تو میں زور دے کر کہہ رہا ہوں کہ میں سنی مسلمان ہوں اور اہل سنت کی ذیلی تقسیموں سے قطع نظر اپنے نام کے ساتھ ’’اہل سنت‘‘ کا سابقہ برقرار رکھنا ضروری سمجھتا ہوں. فقہی معاملات میں اکثر و بیشتر میرا طرز عمل وہی ہے جو برے بڑے مسلم فلاسفہ اور متکلمین کا عقائد کے بارے میں رہا ہے‘جیسے امام رازی نے اپنے اتنقال کے وقت کہا تھا: ’’اَمُوتُ علیٰ عقیدہِ اُمِّی‘‘ ( میں اپنی والدہ کے عقیدہ پر جان دے رہا ہوں) یعنی مختلف کلامی بحیثیں‘ان کی تفاصیل اور دلائل اپنی جگہ لیکن ان کا بنیادی عقیدہ بقول ان کے وہی تھا جو ان کی والدہ کا تھا. بعینہٖ یہی معاملہ میرا ہے. فقہی معاملات میں اکثر و بیشتر میرا طرز عمل وہی ہے جو میرے والدین کا تھا. وہ حنفی المسلک تھے (غَفَراللّٰہُ لَھُمْ) مَیں بھی اکثر و بیشتر احناف کی پیروی کرتا ہوں.

لیکن جن معاملات میں کسی وجہ سے تحقیق و تفتیش کی ضرورت پیش آ جائے تو میں ان کے ضمن میں اپنے لیے دو باتیں طے کی ہیں.
اولاً: یہ کہ اگر کوئی ایسا مسئلہ ہو جس پر اہل سنت کے چاروں مکاتب فکر حنفی‘مالکی‘شافعی اور حنبلی متفق ہوں تو وہ معاملہ اگرچہ عقلاً میری ذاتی رائے میں نہ آئے تب بھی اس میں تقلید کا پابند ہوں اور ان مسالک سے باہر نکلنے کو جائز نہیں سمجھتا‘کیونکہ ایسا تو صرف مجہتدِ مطلق ہی کر سکتا ہے جبکہ میں تو محض ’’مجتہد‘‘ ہونے کا دعویٰ بھی نہیں کرتا.

ثانیاً: اگر کوئی ایسا معاملہ ہو جس کے متعلق ہمارے مکاتب فکر کے درمیان اختلاف رائے پایا جائے تو اس میں ترجیح کا معاملہ کر لیتا ہوں. جدید فقہی اصطلاح میں اسے ’’تلفیق بین المذاہب‘‘ کہا جاتا ہے. اسے اگرچہ بعض لوگ جرم سمجھتے ہیں، 
لیکن حقیقت یہ ہے کہ عہد حاضر میں اس کے بغیر کوئی چارہ نہیں.

اس اعتبار سے جس موقف پر میں ایران گیا تھا‘اسی پر واپس آیا ہوں‘میرے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی. اگرچہ میرے بعض تاثرات بہت گہرے ہیں اور ان سے میں نے اثر بھی قبول کیا ہے (جن کا تذکرہ آئندہ صفحات میں کیا جائے گا) لیکن ان کا نتیجہ یہ نہیں کہ اہل تشیع کی طرف میرا کوئی میلان ہو گیا ہو یا ان کے ضمن میں میرے سابقہ موقف میں کوئی تبدیلی واقع ہوئی ہو.

جہاں تک تنظیم اسلامی کا تعلق ہے‘مجھے اس کے اظہار میں کوئی باک نہیں ہے کہ یہ سُنّی مسلمانوں کی تنظیم ہے‘البتہ یہ حنفی‘شافعی‘مالکی‘حنبلی اور سلفی مسالک کے اختلاف سے بالاتر ہے. چنانچہ کوئی بھی مسلمان خواہ وہ کسی بھی مسلک سے تعلق رکھتا ہوں‘تنظیم اسلامی میں شمولیت اختیار کر سکتا ہے. 

تیسرا نکتہ: مِن حیث الجماعت اہلِ تشیع کی تکفیر جائز نہیں

اہل تشیع کی من حیث الجماعت تکفیر کا میں قائل نہیں ہوں اور نہ ہی میرا ماضی میں کبھی یہ موقف رہا ہے‘بلکہ میں انہیں مسلمانوں ہی کا ایک فرقہ سمجھتا ہوں. یہی وجہ ہے کہ اگرچہ سپاہ صحابہ پاکستان کے بانی مولانا حق نواز جھنگوی مرحوم کے جوش و جذبے اور خلوص و اخلاص کا میں بہت معترف اور قائل رہا ہوں لیکن اہل تشیع کی تکفیر کے بارے میں ان کے موقف سے مجھے کبھی اتفاق نہیں رہا. چنانچہ میں نے کبھی ان کے موقف کی تائید و حمایت نہیں کی. ان کی وفات کے بعد ایک تعزیتی جلسہ میں تقریر کے لیے مجھے بھی مدعو کیا گیا تھا لیکن میں نے یہ کہہ کر معذرت کر لی کہ میں نے جب ان کی زندگی میں ان کے موقف کی تائید نہیں کی تو ان کے انتقال پر اپنی ’’سیاسی دوکان‘‘ چمکانے کے لیے جلسہ میں تقریر کرنا مجھے پسند نہیں ہے.

جہاں تک انفرادی طور پر کسی شخص واحد کی تکفیر کا سوال ہے تو اس میں بنیادی اصول یہ ہے کہ اگر کوئی شخص کسی ایسی رائے کا قائل ہے جو خلاف اسلام ہے‘لیکن وہ اس کا اظہار نہیں کرتا بلکہ اسے چھپاتا ہے تو اس کی تکفیر بھی نہیں کی جا سکتی. البتہ کوئی 
شخص کسی خلاف اسلام عقیدہ کا قائل ہو‘اور اس کا برملا اظہار بھی کرتا ہو تو اسے بلاریب کافر قرار دے کر دائرہ اسلام سے خارج سمجھا جائے گا. قادیانیوں کو اگرچہ من حیث الجماعت کافر قرار دیا گیا ہے لیکن ان کا معاملہ اہل تشیع سے بالکل مختلف ہے‘اس لیے کہ انہوں نے برملا کہا تھا کہ ہم مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی مانتے ہیں. 

چوتھا نکتہ: شیعہ اور سُنی مذاہب میں فرق

اب آیئے اس سوال کا جائزہ لیتے ہیں کہ شیعہ اور سنی مذاہب میں کیا فرق ہے اور یہ فرق کس اعتبار سے ہے؟ تو اس کا جواب یہ ہے جہاں تک ایمانیاتِ ثلاثہ یعنی ایمان باللہ‘ایمان بالرسالت اور ایمان بالآخرۃ جیسے بنیادی عقائد کا تعلق ہے‘ان میں اہل تشیع اور اہل سنت میں کوئی فرق نہیں‘البتہ بعض کلامی بحثوں میں اختلافات ضرور موجود ہیں. مثلاً ذات و صفات باری تعالیٰ کا مسئلہ‘کہ آیا صفاتِ الٰہی اللہ تعالیٰ کا عین ہیں یا اللہ تعالیٰ سے جدا ہیں؟ بقول اقبال ؎

ہیں صفاتِ ذاتِ حق حق سے جدا یا عینِ ذات؟
اُمّتِ مرحوم کی ہے کس عقیدے میں نجات؟


ذات و صفات الٰہی کا یہ مسئلہ بڑا پیچیدہ اور لایخل ہے. اس حوالے سے ہمارے ہاں تین مکاتب فکر وجود میں آئے ہیں. ایک انتہا پر معتزلہ ہیں جن کا خیال ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات سے الگ صفاتِ الٰہی کا وجود ہے ہی نہیں‘دوسری انتہا پر اشاعرہ ہیں اور درمییان میں ماتریدیہ ہیں. احناف زیادہ تر اسی مکتب فکر سے تعلق رکھتے ہیں. ان تینوں مکاتب فکر کے نقطۂ نظر میں اختلاف کے باوجود اشاعرہ اور ماتریدیہ نے معتزلہ کو گمراہ تو قرار دیا لیکن کبھی بھی ان کی تکفیر نہیں کی گئی. اسی طرح ایمانیاتِ ثلاثہ کے ضمن میں اہل تشیع کے نقطہ نظر میں جزوی یا ثانوی اختلاف کی بنا پر انہیں کافر قرار نہیں دیا جا سکتا.

البتہ جہاں تک اہل تشیع کے ’’امامتِ معصومہ‘‘ کے عقیدہ کا تعلق ہے‘وہ میرے نزدیک بالکل بے بنیاد اور سراسر غلط ہے. اس لیے کہ میرے نزدیک معصومیت صرف خاصۂ نبوت و رسالت ہے. اب چونکہ نبوت و رسالت کا دروازہ ابالآباد تک بند ہو چکا 
ہے اس لیے معصومیت کا سلسلہ ختم ہو چکا ہے. چنانچہ حضرات ابوبکر صدیق‘عمر فاروق‘عثمانی غنی اور علی رضوان اللہ علیہم اجمعین اگرچہ انتہائی برگزیدہ اور قابل احترام ہستیاں تھیں‘لیکن اس کے باوجود ان میں سے کسی کو بھی ’’معصومیت‘‘ کی صفت سے متصف قرار نہیں دیا جا سکتا‘ان سے بھی ’’اجتہادی‘‘ خطائیں ہو سکتی تھیں. اس عقیدہ کے حوالے سے تین باتیں قابل غور ہیں:

ٍ پہلی بات یہ کہ اگرچہ اہل تشیع امامتِ معصومہ کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں اور اپنے ائمہ کو بعض ایسے خصائص اور صفات قرار دیتے ہیں جو صرف نبوت کا خاصہ ہیں‘تاہم وہ ائمہ کو نبی کے ہم پلہ نہیں کہتے. چنانچہ امامت معصومہ کا تصور بہرحال نبوت سے کم تر درجے کی چیز ہے. اس لیے اس بنا پر ان کی تکفیر نہیں کی جا سکتی. دیکھئے‘قانونی اعتبار سے اصول یہ ہے کہ کسی جرم پر سزا دینے کے لیے اس جرم کی کوئی مقدار معین ہوتی ہے. مثلاً اسلام میں چوری کی سزا ’’قطیع ید‘‘ ہے‘لیکن اس کے لیے وضاحت کی گئی ہے کہ کتنی بڑی چوری پر اس سزا کا اطلاق ہو گا اور کون کون سی چوریاں اس سزا سے مستثنیٰ ہوں گی. مثال کے طور پر مشترکہ مال میں سے چوری پر ہاتھ نہیں کٹے گا. اگر کوئی شخص سڑک پر مال ڈال دیتا ہے‘وہ غیر محفوظ ہے‘اگر اسے کوئی شخص اٹھا کر لے جاتا ہے تو اس پر بھی ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا‘اس سے کم تر سزا دی جائے گی. کچھ اسی طرح کا معاملہ امامتِ معصومہ کا ہے کہ اس میں نبوت کی کچھ خصوصیات تو یقینا مانی جاتی ہیں لیکن اسے نبوت تو نہیں مانا جاتا. لہٰذا اس سے شدید اختلاف کیا جا سکتا ہے‘اسے انتہائی ضلالت و گمراہی قرار دیا جا سکتا ہے. لیکن اس بنا پر کسی کی تکفیر نہیں کی جا سکتی.

دوسرے یہ کہ امامتِ معصومہ کا وہ تصور جس کی بنا پر امام کو نبی کا مقام دیا جاتا ہے‘وہ بالفعل صرف ’’آغانیوں‘‘ کے ساتھ مخصوص ہے‘جن کے امام حاضر پرنس کریم آغا خان ہیں. وہ جب پاکستان آتے ہیں تو انہیں صدر مملکت کی طرح پروٹوکول دیا جاتا ہے‘انہیں C130 جہاز دیا جاتا ہے جس کے ذریعے وہ اسلام آباد سے گلگت اور چترال جاتے ہیں‘انہیں معصوم عن الخطا سمجھا جاتا ہے‘احکامِ شریعت میں کمی بیشی اور حلال و حرام کے بارے میں انہیں صاحب اختیار تسلیم کیا جاتا ہے اور ان کی ہر بات قابل اتباع سمجھی جاتی 
ہے. امامتِ معصومہ کا یہ عقیدہ تو بلاشبہ بدترین گمراہی ہے‘لیکن یہ صرف آغاخانیوں کے ساتھ خاص ہے.

تیسرے یہ کہ ہمارے ہاں کے اثنا عشری شیعہ اور اہل سنت کے درمیان سے اعتبار سے تھوڑا فرق رہ جاتا ہے کہ ان کے پہلے گیارہ امام تو اسلام کے ابتدائی اڑھائی سو برسوں کے دوران آگئے‘لیکن ان کا بارہواں امام معصوم ابھی تک ’’غائب‘‘ ہے. گویا وہ ساڑھے بارہ سو برس سے کسی ایسے امام کے بغیر زندگی گزار رہے ہیں جو معصوم عن الخطا ہو‘جس کا حکم ماننا لازم ہو‘جس کو مامور من اللہ سمجھا جائے‘اور جو قرآن کی تشریح و توضیح کر سکے. چنانچہ اب ان کے لیے صرف ایک ہی راستہ باقی رہ جاتا ہے کہ وہ اجتہاد کریں. یہ اجتہاد ہمارے اور ان کے مابین مشترک ہے. ہم بھی کتاب و سنت سے اجتہاد کریں گے اور وہ بھی کتاب و سنت سے اجتہاد کریں گے. البتہ ان کے سنت کے ذرائع 
(Sources) ہم سے مختلف ہے.
اجتہاد کے ضمن میں اس حقیقت کا اعتراف بھی کیا جانا چاہیے کہ اجتہاد کے ادارے 
(institution) کو فی الواقع صرف اہل تشیع نے زندہ رکھا ہے. اہلِ سُنّت نے تو عرصہ درازے سے اپنے اوپر اس کے دروازے بند کر رکھے ہیں. 

پانچواں نکتہ: مہدیٔ موعود کے بارے میں دونوں فرقوں کا عقیدہ

جہاں تک ’’الامام المہدی‘‘ کی شخصیت کا تعلق ہے‘اس پر اہل سنت اور اہل تشیع دونوں کا اس اعتبار سے اتفاق ہے کہ قیامت سے قبل ایک بڑی شخصیت ظاہر ہو گی. البتہ اس بارے میں ہمارے اور اہل تشیع کے نقطہ نظر میں یہ فرق ہے کہ ہم ’’مہدی‘‘ کو مجدد مانتے ہیں‘میرے نزدیک وہ آخری اور کامل مجدد ہوں گے‘جبکہ اہل تشیع سمجھتے ہیں کہ یہ وہ بارہ سو برس سے روپوش رہنے والے ’’امام غائب‘‘ ہیں‘جو ظاہر ہوں گے. گویا وہ انہیں معصوم بھی سمجھتے ہیں لیکن ہم معصوم نہیں سمجھتے.

امام مہدی کی آمد کے حوالے سے ایک واقعہ لطیفہ کے طور پر ملاحظہ کیجیے. میں نے ایک شیعہ عالم دین سے پوچھا کہ اگر آپ کے عیقدے کے مطابق وہی امام غائب حاضر ہو 
جائیں اور دعویٰ کریں کہ میں مہدی ہوں تو کیا سارے شیعہ انہیں تسلیم کر لیں گے؟ انہوں نے ہنس کر کہا: ’’نہیں! بہت سے یہ کہہ دیں گے کہ ہمیں تمہاری کوئی ضرورت نہیں ہے‘‘. (گویا ’’امام غائب‘‘ کے نام سے اپنی دوکان چمکانے کی بات اور ہے اور ان کے ’’ظہور‘‘ پر انہیں فی الواقع مان لینا دوسری بات ہے. جیسے رسول اللہ کی بعثت سے قبل یہودی حضور کی آمد کے منتظر تھے لیکن چونکہ آپؐ پر ایمان لانے سے ان کی چودھراہٹیں اور قیادتیں دائو پر لگ رہی تھیں‘اس لیے ایمان نہیں لائے.)

اہل تشیع اور اہل سنت میں یہ بات بھی مشترک ہے کہ مہدی حضرت فاطمہؓ کی اولاد میں سے حضرت حسن ؓ کی نسل سے ہوں گے. پھر یہ کہ عرب کے مقدس شہر مکہ مکرمہ میں ان کا ظہور ہو گا. گویا عملی اعتبار سے امامت معصومہ کے بارے میں کوئی بہت زیادہ فرق نہیں ہے .عقیدے کے اعتبار سے دونوں فرقوں میں اگرچہ کچھ فرق ضرور ہے تاہم بالفعل وہ بھی نظر نہیں آتا.

اس ضمن میں یہ بات بھی اہم ہے کہ جہاں تک قرآن حکیم کی محفوظیت کا تعلق ہے اس پر کم از کم اہل تشیع کے وہ علماء جو اس وقت ایران میں برسراقتدار ہیں قطعاً کسی شک و شبہ کا اظہار نہیں کرتے. ان کے علاوہ کسی کے ذہن میں کوئی اشکال ہو تو دوسری بات ہے. 

چھٹا نکتہ: خلفائے راشدین کے بارے میں دونوں فرقوں کا نقطہ ٔ نظر

اہل سنت اور اہل تشیع کے مابین اصل بنائے نزاع صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین بالخصوص خلفائے راشدین کی حیثیت کے بارے میں ان کا نقطۂ نظر ہے. اور اس ضمن میں دونوں فرقوں کے مابین شدید اختلاف پائے جاتے ہیں. یہ گویا شخصیات کے بارے میں تاریخی نزاع ہے. یہ ایسا ہی اختلاف ہے جیسے دیوبندیت اور بریلویت کا سارا اختلاف‘جو گزشتہ صدی کی دو شخصیات شاہ اسمٰعیل شہید اور مولانا فضل حق خیر آبادی اور موجود صدی کی دو شخصیات مولانا اشرف علی تھانوی اور مولانا احمد رضا خان بریلوی کی وجہ سے پیدا ہوا ہے. ورنہ دونوں گروہوں کے عقائد و نظریات میں کوئی قابل ذکر فرق موجود نہیں ہے‘بلکہ شخصیات کے اس نزاع سے پہلے بریلویت کا کہیں نام و نشان تک موجود نہیں تھا. اسی طرح بار راولپنڈی میں ہمارے سالانہ اجتماع کے موقع پر ایک ممتاز عالم دین نے واضح کیا کہ ان کے نزدیک امامت اور خلافت میں کوئی بنیادی فرق نہیں ہے‘بلکہ امامت‘خلافت اور امارت ایک ہی شے کے تین نام ہیں. لیکن شخصیات کے بارے میں اختلاف بہرحال موجود ہے.

خلفائے راشدین کے خلافت کے بارے میں تمام مسلمانوں میں تین قسم کے لوگ دکھائی دیتے ہیں. ایک انتہائی غالی شیعہ ہیں. ان کا موقف یہ ہے کہ حضرت علیؓ پہلے امام بھی ہیں اور اصلاً پہلے خلیفہ بھی ‘حضور کے بعد آپؐ کی خلافتِ بلافصل انہیں کا حق تھا‘لیکن ابوبکر‘عمر اور عثمان (رضی اللہ عنھم) نے بار ان کا حق غصب کر کے خلافت حاصل کر لی. اس طرح یہ تینوں خلفاء (معاذ اللہ) غاصب تھے اور ان کی خلافت باطل تھی. رہا معاملہ حضرت علیؓ کا ان اصحاب کی بیعت کرنے کا‘تو آپؓ نے محض تقیہ کے طور پر‘ایک وقتی مجبوری اور مصلحت کے تحت بیعت کی‘ورنہ انہوں نے کبھی دل سے اصحابِ ثلاثہ کی خلافت کو تسلیم نہیں کیا. اہل تشیع کے عوام کی اکثریت اسی موقف پر قائم ہے. اور یہی دونوں فرقوں کے درمیان بنیادی وجہ نزاع ہے.

اس کے مقابلے میں دوسری انتہا پر وہ متشدد مکتب فکر ہے جو ماضی قریب میں اہل سُنّت میں پیدا ہو گیا ہے. یہ لوگ کہتے ہیں کہ حضرت علیؓ اقتدار کے بھوکے تھے‘حضرت حسینؓ بھی اقتدار کے حریص اور باغی تھے‘لہٰذا وہ واجب القتل تھے. یہ لوگ تعداد میں بہت کم ہے. ایسے دریدہ دہن لوگ چاہے ناصبی ہوں یا کوئی اور ہوں‘میرے نزدیک یہ دراصل غالی شیعہ کے موقف کا ایک ردِعمل ہے.

اس ردعمل کا خاص تاریخی پس منظر ہے ۱۹۷۹ء میں جب ایران میں انقلاب آیا تو اس کے نتیجے میں پاکستان میں اہل تشیع کے حوصلے بلند ہو گئے اور انہوں نے بڑے جارحانہ انداز میں کوششیں شروع کر دیں کہ پاکستان میں بھی ایرانی طرز کا انقلاب لایا جائے. اہل سنت میں اس کا سخت ردعمل کا ایک مظہر سپاہ صحابہ کا قیام ہے اور اس کا دوسرا ردعمل ان لوگوں کی صورت میں ظاہر ہوا جن کی اکثریت 
حدیث اور سنت کی منکر ہے‘لیکن اس کے باوجود وہ اپنے آپ کو سُنّی کہلواتے ہیں. یہ حضرت علیؓ اور حضرت حسینؓ کی توہین کرتے ہیں اور انہیں اقتدار کے حریص گردانتے ہیں. یہ نقطہ نظر بھی انتہائی گھناؤنا اور اہل سنت کے اجتماعی موقف کے خلاف ہے.

صحابہ کرامؓ اور خلفائے راشدین (رضی اللہ عنہم اجمعین) کے بارے میں تیسرا نقطۂ نظر اہل سنت کی اکثریت کا ہے. مذکورہ بالا دو انتہاؤں کے مابین نقطہ ہائے نظر کے بہت سے 
Shades ہیں‘لیکن ان کے درمیان یہ بات متفق علیہ ہے کہ نہ تو اصحابِ ثلاثہؓ غاصب تھے اور نہ ہی حضرت علیؓ اقتدار کے حریص تھے‘بلکہ چاروں خلفاء ’’راشد‘‘ اور برحق تھے. اہل سنت کی اکثریت حضرت علی‘حضرت فاطمہ اور حضرات حسنین (رضی اللہ عنہم) سے محبت رکھتی ہے‘ان کی عظمت اور زہد و تقویٰ کی قائل ہے اور ان کی محبت کو جز و ایمان سمجھتی ہے. چنانچہ ہمارے عوام کے ہاں تو جمعہ کے خطبوں میں بھی اکثر یہی چیزیں ملتی ہیں: ’’وفاطمۃُ سیدۃِ نسائِ اہلِ الجنۃِ‘و سیّدَا اشبابِ اھلِ الجنۃِ الحَسنُ والحُسَین‘‘ چنانچہ اس میں شک نہیں کہ اہل سنت کے عوام کی اکثریت معتدل نقطہ نظر کی حامل ہے.

ہمارے اسلاف میں سے بعض بڑی علمی شخصیات بھی معتدل نقطہ نظر کی حامل رہی ہیں. مثلاً شاہ ولی اللہ دہلویؒ برعظیم پاک و ہند کی ممتاز علمی شخصیت ہیں‘میری نگاہ میں ان کا جو مقام و مرتبہ ہے اس سے آپ حضرات بخوبی واقف ہیں. وہ تسلیم کرتے ہیں کہ اگر میری طبیعت کو آزاد چھوڑ دیا جاتا تو میں صحابہؓ میں سے حضرت علیؓ کی افضلیت کا قائل ہوتا‘لیکن مجھے حکم ہوا ہے کہ صاحبین (حضرت ابوبکرو عمرؓ ) کی افضلیت کا اقرار کروں‘اس لیے اگرچہ میلان طبع حضرت علی کی طرف ہے لیکن صاحبین کی افضلیت کا اقرار کر رہا ہوں. اس طرح سے شاہ صاحبؒ نے اپنا میلانِ طبع بھی ظاہر کر دیا اور ’’تفضیلی‘‘ کہانے سے بھی بچ گئے.

پھر علامہ اقبال کا معاملہ اس بھی آگے کا ہے. انہوں نے ’’اہل بیت‘‘ کی (واضح رہے کہ میں یہاں اہل بیت کی اصطلاح اہل تشیع کے مفہوم میں استعمال کر رہا ہوں) جس 
قدر مدح و ثنا کی ہے اس نسبت سے دوسرے صحابہؓ کی نہیں. چنانچہ حضرت فاطمہؓ کے متعلق کہتے ہیں 

؎
مریم از یک نسبتِ عیسیٰ عزیز
از سہ نسبت حضرتِ زہرا عزیز

یعنی حضرت مریم ؑ تو ہمیں ایک نسبت سے عزیز ہیں کہ وہ حضرت عیسیٰ ؑ کی والدہ ہیں‘جبکہ حضرت فاطمہ الزہرا ؓ ہمیں تین نسبتوں سے عزیز ہیں‘یعنی وہ محمد کی بیٹی‘حضرت علی ؓ کی بیوی اور حضرات حسنینؓ کی والدہ ہیں). اسی طرح ایک اور مقام پر کہتے ہیں ؎

مزرعِ تسلیم را حاصل بتولؓ 
مادراں را اسوۂ کامل بتولؓ

اور ؎

بتولے باش و پنہاں شو ازیں عصر
کہ در آغوش شبیرے بگیری!

ایسے اشعار کی وجہ سے بعض لوگ اقبال پر بھی ’’تفضیلی شیعہ‘‘ ہونے کا لیبل لگاتے ہیں. مجھے بھی ان کے بعض اشعار سے اختلاف ہے. تاہم انہوں نے صرف حضرات اہل بیت ہی کی مدح نہیں کی بلکہ ابوبکرصدیق ؓ کی مدح میں بھی اشعار کہے ہیں. یہ اشعار تعداد میں اگرچہ کم ہیں لیکن وزن میں کئی اشعار بھاری ہیں. مثلاایک شعر ملاحظہ کیجیے ؎

ہمّتِ اُو کشتِ ملت را چوں ابر
ثانیٔ اسلام و غار و بدر و قبر

بلاشبہ حضور کے انتقال کے بعد اسلام کی کھیتی مردہ ہو رہی تھی. جھوٹی نبوت کے دعویدار کھڑے ہو گئے تھے‘مانعینِ زکوٰۃ کا فتنہ زور پکڑ گیا تھا. ایسا محسوس ہوتا تھا کہ حجاز کے چند شہروں کے سوا پورا جزیرہ نمائے عرب ارتداد کا شکار ہو گیا ہو. اسلام کی اس کسمپرسی کے دور مییں کس کی ہمت تھی کہ اسلام کا دفاع اور تحفظ کرتا. یہ حضرت ابوبکرؓ ہی تھے جنہوں نے جوانمبردی ان فتنوں کا مقابلہ کیا اور ملت کی کھیتی کو اس طرح سیراب کیا جس طرح بادل کے برسنے سے مردہ زمین زندہ ہو جاتی ہے. دوسرے مصرعے میں 
علامہ اقبال نے آپؓ کے لیے چار الفاظ ’’ثانی ٔ اسلام و غار و بدر و قبر‘‘ استعمال کیے ہیں. یعنی آپؓ اسلام میں داخل ہونے والے بھی آنحضور کے بعد پہلے شخص ہیں. آپؓ نے حضرت خدیجہؓ اور حضرت علیؓ سے بھی پہلے اسلام قبول کیا. غارِ ثور میں رسول اللہ کے ساتھ ’’ثانی اثنین‘‘ ہونے کا شرف آپؓ کو ہی حاصل ہے. غزوۂ بدر کی رات جب حضور اپنی جھونپڑی میں سجدہ ریز تھے تو باہر تلوار لے کر ابوبکرؓ ہی پرہ دے رہے تھے پھر آنحضور کے بعد روضہ اطہر میں تدفین کا شرف بھی سب سے پہلے ابوبکرؓ ہی کو حاصل ہوا. اس طرح یہ چار نسبتیں ہیں جن میں ابوبکرؓ کو رسول اللہ کا ’’ثانی‘‘ ہونے کا شرف حاصل ہوا.

اہل تشیع کے ہاں جو مختلف ذیلی فرقے ہیں ان میں ایک زیدی شیعہ کہلاتے ہیں. یہ لوگ بھی معتدل رائے کے قائل ہیں. یہ لوگ تفضیلی ہیں. یعنی ان کی رائے یہ ہے کہ اگرچہ خلافت حضرت علیؓ کا حق تھا‘لیکن جب انہوں نے حضرت ابوبکرصدیقؓ ‘عمر فاروقؓ اور عثمان غنیؓ کی خلافت قبول کر لی تو اب اصحاب ثلاثہ ؓ کی خلافت بھی برحق ہے. چنانچہ وہ ان خلفاء راشدین کو غاصب نہیں کہتے‘صرف حضرت علی ؓ کی افضلیت کے قائل ہیں.

اِس وقت موجودہ ایران میں جدید دانشوروں کی اکثریت کو میں نے اس ضمن میں معتدل پایا ہے. علماء میں سے بھی بعض معتدل ہیں‘البتہ بعض ابھی تک غالی ہیں. عوام کی غالب اکثریت غالی شیعوں پر مشتمل ہے. معتدل شیعہ کے حوالے سے یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ہمارے محدثین نے ان کی روایات کو قبول کیا ہے. خاص طور پر امام بخاریؒ کے بارے میں کتب تاریخ میں آتا ہے کہ انہوں نے بہت سے معتدل شیعہ راویوں سے روایات قبول کی ہیں اور بکاری شریف میں درج کی ہیں. یہ طرز عمل ہمارے محدثین کے اعتدال کی علامت ہے. اسی بنا پر اہل سنت کا ایک متشدد گروہ جو حضرت علیؓ اور حضرت حسین ؓ کو حریص اقتدار قرار دیتا ہے‘صحیح بخاری کی روایات پر اعتراض کر رہا ہے.

ساتواں نکتہ: مقامِ صحابہؓ اور تنظیم اسلامی

جہاں تک خلفاء اربعہ اور صحابہ کرامؓ کے بارے میں تنظیم اسلامی کے موقف کا تعلق ہے‘تو ہم بلا خوفِ لامۃ لائم کہتے ہیں کہ تنظیم اسلامی سنی مسلمانوں کی تنظیم ہے‘اس لیے اس معاملے میں اس کے عقائد و نظریات وہی ہیں جو جمہور و اہل سنت کے ہیں. ان سب کا تذکرہ ’’تعارفِ تنظیم اسلامی‘‘ نامیکتاب میں کر دیا گیا ہے. کتاب ہذا میں ایمانیات پر مفسل بحث کی گئی ہے اور یہ چیز بہت اہم ہے‘اس لیے کہ اگرچہ ہر مسلمان ’’ایمان‘‘ کا بنیادی اور اساسی مفہوم تو سمجھتا ہے لیکن ایمانیات کی تفصیلات اور جزئیات کے حولاے سے بہت سی باتیں عام لوگوں کے علم میں نہیں ہیں. مثلاً ہم اللہ پر ایمان رکھتے ہیں‘لیکن ایمان باللہ کے معنی کیا ہیں؟ ہم ملائکہ پر ایمان رکھتے ہیں‘لیکن اس کا کیا مفہوم ہے؟ ہم آخرت کو مانتے ہیں‘لیکن اس کا کیا مطلب ہے؟ ہم نبوت و رسالت پر ایمان رکھتے ہیں لیکن اس کے تقاضے کیا ہے؟ لاالٰہ الا اللہ محمدٔ رسول اللہ کے لوازم کیا ہیں؟ وغیرہ وغیرہ. ان چیزوں سے عام مسلمان آگاہ نہیں ہیں. ہم نے ان چیزوں کو مرتب کرتے ہوئے جماعت اسلامی کے دستور سے بھی رہنمائی لی ہے‘اس لیے کہ ’’الحکمۃُ ضالۃُ المؤمن‘‘ کے مصداق خیر اور بھلائی جہاں سے بھی ملے اسے لے لینا چاہیے. لیکن جماعت اسلامی کے دستور میں یہ ایک بہت بڑا خلا ہے کہ وہاں ایمانیات کی بحث سرے سے موجود ہی نہیں. چنانچہ ہم نے اپنے ہاں اس بحث کو شامل کیا ہے. باقی کلمہ طیبہ اور کلمہ شیادت کے معانی کیا ہیں‘اللہ کو الہٰ ماننے اور محمد کو رسول اللہ تعلیم کرنے کے معنی کیا ہیں‘اس ضمن میں واقعتا وہاں بڑی اچھی تعبیر و تشریح موجود ہے جسے ہم نے جوں کا توں اختیار کر لیا ہے.

البتہ ایمان بالرسالت کے متضمنات میں ہم نے یہ اضافہ کیا ہے کہ یہ تسلیم کیا جانا بھی ضروری ہے کہ اپؐ نے جو نظام عدل اجتماعی قائم فرمایا اور جو بعد میں خلافت راشدہ کے دوران قائم رہا‘وہی دین حق کی صحیح ترین اور واحد مسلّمہ تعبیر ہے. یعنی خلافت راشدہ فی الواقع خلافت علیٰ منہاج النبوۃ تھی اور رسول اللہ کی صحبت سے فیضیاب ہونے 
والے ان خلفاء الراشدین الہدیین کی سنت بھی آنحضور  کے بعد دین میں حجت کا درجہ رکھتی ہے. جیسے کہ حضور نے خود فرمایا: 

عَلَیْکُمْ بِسُنَّتِی وَسُسَّۃِ الْخُلْفَائِ الرَّاشِدِیْنَ الْمھدِیِّین 

’’تم پر میری سنت اور میری ہدایت یافتہ خلفاء کی سنت کی پروی لازم ہے.‘‘

اسی طرح ہم نے ایام بالرسالت کا یہ دوسرا تقاضا بھی اضافہ طور پر شامل کیا ہے کہ یہ یقین رکھا جائے کہ آنحضور کی تعلیم و تربیت اور تزکیہ سے براہ راست فیضیاب ہونے والے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ من حٰث الجماعت پوری امت میں افضلیت مطلقہ کے حامل ہیں اور کوئی غیر صحابی‘خواہ وہ تقویٰ و تدین میں کتنے ہی بلند قمام پر فائز ہو‘کسی صحابی سے افضل نہیں ہو سکتا. شٰخ عبدالقادر جیلانیؒ ہوں‘شیخ علی ہجویریؒ ہوں یا معین الدین اجمیریؒ ‘کسی بھی بزرگ ہستی کو کسی ادنیٰ سے ادنیٰ صحابیؒ سے افَضل قرار نہیں دیا جا سکتا. صحبہؓ کی محبت ہمارا جز و ایمان ہے. ان کی تعظیم و تقیر حضور کی تعظیم ہے‘اور ان سے بغض و عداوت اور ان کی تحقیر نبی سے بغض عداوت اور آپؐ کی توہین. چنانچہ صحابہؓ کے بارے میں حضور کا فرمان ہے: 

مَنْ اَحَبَّھُم فَبِحُبِّی اَحَبَّھُم‘وَمَنْ اَبْغَضَھُمْ فَبِبُعْضِی اَبْغَضَھُمْ 

یعنی ’’جس کی سی نے ان سے محبت رکھی تو میری محبت کی وجہ سے محبت رکھی‘اور جس کسی نے ان سے عداوت رکھی تو میری عداوت کی وجہ سے عداوت رکھی.‘‘

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ صحابہ کرامؓ کے درمیان جزوی فضیلت کے بہت سے پہلو ہو سکتے ہیں‘لیکن ان کے پاس کُلی فضیلت متعین طور پر اس طرح ہے کہ عام صحابہؓ پر ایک اضافی درجہ فضیلت ان پندرہ سو یا اٹھارہ سو اصحاب بیعتِ رضوان کو حاصل ہے جنہوں نے حضرت عثمانؓ کے خون کا بدلہ لینے کے لیے آپؐ کے ہاتھ پر بیعت کی تھی. اس بیعت کو تاریخ میں ’’بیعتِ رضوان‘‘ یا ’’بیعت علی الموت‘‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے. ان اصحاب پر ایک مزید درجہ فضیلت ۳۱۳ اصحاب بدر کو حاصل 
ہے. پھر ’’عشرہ مبشرہ‘‘ سے موسوم دس صحابہؓ اصحاب بدر پر ایک درجہ فضیلت رکھتے ہیں. اور عشرہ مبشرہ میں سے ایک خاص درجہ فضیلت خلفاء اربعہ کو حاصل ہے. خلفاء اربعہ اربعہ کے مابین افضلیت ترتیب خلافت کے لحاظ ہے. یعنی افضلُ البشرِ بعدَ الانبیائِ ب التحقیق حضرت ابو بکر صدیقؓ ہیں‘ان کے بعد حضرت عمر فاروقؓ کا مقام ہے‘پھر حضرت عثمان ذوالنورینؓ اور پھر حضرت علیؓ ہیں. (رضی اللہ تعالیٰ عنہم و ارضاہم اجمعین!)
صحابہ کرامؓ کے بارے میں ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ وہ تمام عدول ہیں. ان کے مابین جو اختلافات اور نزاعات پیدا ہوئے وہ نفسانیت اور حرص اقتدار کی بنا پر نہیں‘بلکہ اجتہادی خطا کی بنا پر ہوئے تھے چنانچہ نہ تو حضرت علیؓ اور حضرت حسینؓ حریص اقتدار تھے اور نہ ہی امیر معاویہؓ . اس لیے ہمارے نزدیک کسی کو بھی سَبّ و شتم اور الزام و اِتہام کا نشانہ بنانا جائز نہیں. کسی واقعی یا حقیقی ضرورت کے تحت ان اصحاب کے نزاعات کو زیربحث لاتے ہوئے اگرچہ ان میں کسی ایک کو مصیب (یعنی صحیح رائے پر) اور دوسرے کو مخطی (یعنی غلطی پر) قرار دیا جا سکتا ہے‘مگر یہ خطا اجتہادی ہو گی. تاہم ہمارے نزدیک محتاط ترین طرز عمل یہ ہے کہ ان اصحاب کے باہمی اختلافات اور جنگوں کے حوالے سے کف لسان سے کام لیا جائے اور زبان کھولنے کے بجائے کامل سکوت اختیار کیا جائے. 

آٹھواں نکتہ: فقہ جعفریہ اور فقہ اہل سنت میں اختلاف کی حقیقت

جہاں تک فقہ کا تعلق ہے میرے رائے میں‘میرے علم کی حد تک فقہ جعفریہ میں ایک ’’متعہ‘‘ کے مسئلہ کے علاوہ کوئی ایسی شے نہیں ہے جو کسی نہ کسی سنی فقہ میں موجود نہ ہو. اگر کوئی فرق ہے تو وہ اسی نوعیت کا ہے جو حنفی‘حنبلی‘مالکی اور شافعی فقہوں کے درمیان ہے. یہ موقف میرا پہلے بھی تھا اور اب بھی ہے.

ضیاء الحق صاحب کی مجلس شوریٰ کا ایک واقعہ لطیفے کے درجے میں پیش کر رہا ہوں. وہاں پر حق شفہ کا بل زیر غور تھا. ایک موقع پر سید محمد رضی مجتہد نے ‘جو اہل تشیع کے 
بہت بڑے عالم ہیں‘اپنی تقریر میں یہا کہا چار فقہیں سنیوں کی ہیں اور ایک شیعوں کی. اور مسئلہ زیر بحث میں ساڑھے تین کا موقف ایک طرف ہے اور ڈیڑھ کا موقف دوسری طرف ہے. یعنی اس مسئلے میں جو رائے حنفی فقہ کی تھی اس کی تائید میں صرف نصف رائے اور تھی‘جبکہ جو رائے فقہ جعفریہ کی تھی اس کی تائید میں سنی فقہوں میں سے اڑھائی آراء موجود تھیں. تو انہوں نے اسے اس طرح پیش کرتے ہوئے کہا کہ ساڑھے تین ایک طرف اور صرف ڈیڑھ دوسری طرف ہے‘لہٰذا اکثریت کے مطابق فیصلہ کر دیا جائے. اس پر میں نے کہا کہ لیجیے صاحب آج مسئلہ حل ہو گیا! میرے نزدیک پاکستان اسلامی قانون کے نفاذ میں سب سے بڑی رکاوٹ فقہی اختلافات ہیں اور ان میں بھی خاص طور پر شیعہ اور سنی کا اختلاف. اگر اہل تشیع یہ بات مستقل طور پر مان لیں کہ جس مسئلے میں پانچ فقہوں میں سے تین متفق ہوں اس کا فیصلہ ان تین کے مطابق کر دیا جائے تو مجھے ان کا استدلال قبول ہے. لیکن وہ عالم فوراً کہنے لگے کہ نہیں نہیں‘ہمیں یہ بات مستقل طور پر منظور نہیں. اس پر وہاں ایک زبردست قہقہہ لگا. اس لیے کہ یہ تو پھر موقع پرستی ہوئی کہ ایک مسئلے پر آپ خود دلیل دے رہے ہیں اسے مستقل طور پر ماننے کے لیے تیار نہیں. 

نواں نکتہ: شیعہ سنی مفاہمت کی اہمیت

جیسا کہ بار ہا واضح کیا گیا ہے کہ میرے نزدیک پاکستان میں اسلامی نظام کے قیام کے علاوہ بین الاقوامی سطح پر نیو ورلڈ آرڈر یعنی نئے عالمی یہودی مالیاتی استعمار کا سدباب اس وقت تک ممکن ہی نہیں جب تک کہ اہل تشیع اور اہل تسنن کے مابین مفاہمت نہ ہو جائے. چنانچہ میرے نزدیک شیعہ سنی مفاہمت وقت کی اہم ترین ضرورت ہے. قرآن کریم میں نبی اکرم کو اہل کتاب کے ساتھ مفاہمت کے لیے یہ اصول دیا گیا ہے: 

قُلۡ یٰۤاَہۡلَ الۡکِتٰبِ تَعَالَوۡا اِلٰی کَلِمَۃٍ سَوَآءٍۢ بَیۡنَنَا وَ بَیۡنَکُمۡ اَلَّا نَعۡبُدَ اِلَّا اللّٰہَ وَ لَا نُشۡرِکَ بِہٖ شَیۡئًا وَّ لَا یَتَّخِذَ بَعۡضُنَا بَعۡضًا اَرۡبَابًا مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ ؕ فَاِنۡ تَوَلَّوۡا فَقُوۡلُوا اشۡہَدُوۡا بِاَنَّا مُسۡلِمُوۡنَ ﴿۶۴﴾ (آل عمران: ۶۴
’’(اے پیغمبر ) تم کہہ دو کہ اے اہل کتاب آئو ایک ایسی بات کی طرف جو ہمارے اور تمہارے درمیان یکساں ہے کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں اور کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہرائیں اور ہم میں سے کوئی کسی کو اللہ کے سوا اپنا رب نہ مانے‘پھر اگر (یہ لوگ اس بات سے) روگردانی کریں تو (مسلمانو! ان سے) کہہ دو کہ گواہ رہنا کہ (انکاری تمہاری طرف سے ہے) ہم تو اللہ کے فرماں بردار ہیں.‘‘
اندازہ کیجیے کہ اہل کتاب سے مفاہمت ممکن ہے بلکہ اس کا حکم دیا جا رہا ہے تو ان لوگوں کے ساتھ اشتراک و اتحاد کیونکر ناممکن ہے جو مسلمان ہیں اور رسالت محمدی میں ہمارے ساتھ جڑے ہوئے ہیں. اس آیت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کا رخ کیا ہے اور قرآن مسلمانوں میں کس چیز کو فروغ دینا چاہتا ہے.

سورۂ آل عمران ہی کی آیات ۱۰۲ تا ۱۰۴ میں امت مسلمہ کے لیے ایک سہ نکاتی لائحہ عمل بیان کیا گیا ہے جن میں سے درمیانی آیت میں اعتصام بحبل اللہ یعنی تمسک بالقرآن اور باہم اتحاد و اتفاق کا حکم بایں الفاظ دیا گیا ہے: 

وَ اعۡتَصِمُوۡا بِحَبۡلِ اللّٰہِ جَمِیۡعًا وَّ لَا تَفَرَّقُوۡا ۪ وَ اذۡکُرُوۡا نِعۡمَتَ اللّٰہِ عَلَیۡکُمۡ اِذۡ کُنۡتُمۡ اَعۡدَآءً فَاَلَّفَ بَیۡنَ قُلُوۡبِکُمۡ فَاَصۡبَحۡتُمۡ بِنِعۡمَتِہٖۤ اِخۡوَانًا ۚ وَ کُنۡتُمۡ عَلٰی شَفَا حُفۡرَۃٍ مِّنَ النَّارِ فَاَنۡقَذَکُمۡ مِّنۡہَا ؕ کَذٰلِکَ یُبَیِّنُ اللّٰہُ لَکُمۡ اٰیٰتِہٖ لَعَلَّکُمۡ تَہۡتَدُوۡنَ ﴿۱۰۳﴾ 

’’اور سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑ لو اور تفرقہ میں نہ پڑو. اور اللہ کا احسان اپنے اوپر یاد کرو جب تم (ایک دوسرے کے) دشمن تھے‘پھر اللہ نے تمہارے دلوں میں الفت ڈال دی اور تم اس کے فضل ( و کرم) سے بھائی بھائی بن گئے. (تمہارا حال تو یہ تھا کہ) تم دوزخ کے گڑھے کے کنارے کھڑے تھے لیکن اللہ نے تم کو اس سے بچا لیا. اسی طرح اپنی نشانیاں کھول کھول کر بیان کرتا ہے تاکہ تم ہدایت پا جاؤ.‘‘

یہ آیت جس پس منظر میں نازل ہوئی ہے وہ یہ ہے کہ قبول اسلام سے قبل اہل عرب میں 
شدید اختلاف‘انتشار اور جنگ و جدال پایا جاتا تھا. اللہ تعالیٰ نے انہیں دولت اسلام سے مالا مال کر کے جہنم کے گڑھے میں گرنے سے بچا لیا. آج اگر ہم اپنے معاشرے کا جائزہ لیں تو یہ آیت ہم پر صادق آتی ہے. شیعہ سنی اختلافات انتہائی گھمبیر ہوتے جا رہے ہیں. پاکستان کے علاوہ افغانستان میں بھی یہ مسئلہ جنگ و جدال کی صورت اختیار کرتا جا رہا ہے اور اس اختلاف کی خلیج مزید گہری ہوتی جا رہی ہے. اسی کا مظہر مسئلہ افغانستان پر تہران میں منعقدہ کانفرنس میں ایرانی فارن پالیسی کمیشن کے وائس چیئرمین محمد جواد کا وہ بیان ہے جس میں انہوں نے مسئلہ کشمیر پر کھل کر بھارتی موقف کی حمایت کی ہے. بھارتی وفد سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہمارا موقف یہ ہے کہ کشمیری مسلمانوں کو مکمل مذہبی اور سیاسی آزادی ہونی چاہیے‘لیکن انہیں ہندوستان کی بڑی فیملی کے اندر ہی رہنما چاہیے.

درحقیقت اس وقت عالمی مالیاتی یہودی استعمار کی سوچی سمجھی سکیم یہ ہے کہ:

اولاً: مسلمانوں کے مذہبی اختلافات کو ہوا دی جائے تاکہ یہ کبھی بھی واحد قوت نہ بن سکیں اور ہمیں چیلنج نہ کر سکیں.
ثانیاً: مسلمان ممالک سے چین کے تعلقات ختم کر دیے جائیں.
یہودی رفتہ رفتہ اپنی اس سکیم میں کامیاب ہو رہے ہیں‘کیونکہ ان کے ہاتھ بہت لمبے ہیں. اس کا ایک مشاہدہ افغانستان کی موجودہ سیاسی صورتحال کے تناظر میں کیا جا سکتا ہے. دیکھا جائے تو صاف نظر آتا ہے کہ اگر افغانستان میں طالبان کوئی مستقل‘پائیدار اور مستحکم حکومت قائم کر لیں تو وہ ایک کٹر سنی حنفی علماء کی حکومت ہو گی. اس کے مقابلے میں ایران میں پہلے سے شعبہ علماء کی حکومت قائم ہے. گویا اب ایک طرف شیعہ علماء کی اور دوسری طرف کٹر سنی علماء کی حکومت ہو گی اور اس کا لامحالہ نتیجہ دونوں ممالک کے درمیان شدید اختلافات اور کشیدگی کی صورت میں برآمد ہو سکتا ہے. اور یہی چیز عالمی قوتوں کو مطلوب ہے.

بہرحال احیائے اسلام اور غلبہ دین حق کے لیے شیعہ سنی مفاہمت اور اتحاد کا میں سختی سے پہلے بھی قائل تھا اور اب مزید قائل ہوتا جا رہا ہوں‘اس لیے کہ اس کے بغیر نہ 
یہاں اسلام آ سکتا ہے اور نہ ہی نیو ورلڈ آرڈر کے زیر عنوان نئے عالمی یہودی مالیاتی استعمار کے بڑھتے ہوئے سیلاب کا راستہ روکا جا سکتا ہے.

شیعہ سنی مفاہمت کی اہمیت کے پیش نظر میرا ایک ’’خیال‘‘ ہے کہ تنظیم اسلامی تو اگرچہ ایک خالصتاً سنی المسلک تنظیم ہے‘اس کے عقائد وہی ہیں جو اہل سنت کے ہیں لیکن تحریک خلافت میں شیعہ حضرات کو بھی جمع کرنے کی کوشش کی جائے. یہ تاحال ایک خیال اور رائے ہے‘اسے فیصلہ کی شکل نہیں دی گئی‘تاہم اس پر جزوی طور پر عمل ہو رہا ہے. چنانچہ ہم خلافت کے جلسوں میں اہل تشیع مقررین کو بھی بلا رہے ہیں. 

آخری نکتہ: پاکستان میں اہل تشیع کی حیثیت

آخری نکتہ یہ ہے کہ پاکستان میں اہل تشیع کو وہی حیثیت دستوری اور قانونی طور پر تسلیم کر لینی چاہیے جو حکومت ایران نے وہاں اہل سنت کو دی ہے. یعنی پاکستانی اہل تشیع کو بھی یہاں اکثریتی فقہ کے نفاذ کے ایرانی فارمولا کو برضا ورغبت قبول کر لینا چاہیے. میں نے علامہ ساجد نقوی صاحب سے اپنی ایک گزشتہ ملاقات میں بھی اپنے اس موقف کا اعادہ کیا اور ایران میں بھی وہاں کی سب سے بڑی مذہبی شخصیت آیت اللہ خامنہ ای سمیت جس سے بھی ملا ہوں اس کے سامنے کھل کر اپنے موقف کا اظہار کیا ہے. میں نے ایت اللہ خامنہ ای سے اپیل کی کہ وہ اپنے اثر رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے پاکستان کے شیعہ حضرات کو بھی اسی بات پر آمادہ کریں.