سفر ایران کا پس منظر

میرے حالیہ دورۂ ایران کا مختصر سا پس منظر یہ ہے کہ اگرچہ ایک زمانے میں میرا شمار بھی غالی اور متشدد سنیوں میں کیا جاتا تھا‘تاہم یہ بات پہلے بھی غلط تھی اور رفتہ رفتہ اس کی غلطی مزید واضح ہوتی گئی. خاص طور پر جب مسئلہ کشمیر کے بارے میں اخبارات میں میرے یہ بیانات سامنے آئے کہ ہمیں چاہیے کہ اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم کی بجائے چین اور ایران کے بہتر تعلقات کو استعمال کرکے بھارت سے دو طرفہ مذاکرات کے ذریعے یہ مسئلہ حل کریں اور پاکستان‘ایران‘افغانستان اور روسی ترکستان پر مشتمل ایک مضبوط اسلامی بلاک بنائی‘تو اس کے بعد اہل تشیع کے دلوں میں میرے لیے مزید نرم گوشہ پیدا ہوا.

اس کے نتیجے میں خاص طور پر لاہور میں ایرانی قونصلیٹ کی طرف سے مجھے متعدد بار اپنے ہاں منعقد ہونے والی تقاریب میں شرکت کی دعوت موصول ہوتی رہی. براہ راست ایران سے بھی دعوت نامے آئے‘آیت اللہ خمینی کی برسی کی تقریب میں شرکت کی دعوت بھی آئی‘لیکن میں نے اس موقع پر صاف کہہ دیا کہ چونکہ میں برسی منانے کو بدعت سمجھتا ہوں اس لیے پاکستان میں بھی کسی کی برسی میں شریک نہیں ہوتا‘لہٰذا آپ کے پروگرام میں بھی شرکت نہیں کر سکتا. دیگر تقریبات اور کانفرنسوں میں شرکت سے بھی معذرت کرتا رہا ہوں کہ میں تقریبات اور کانفرنسوں کا آدمی نہیں ہوں‘اس لیے کہ میں عالم دین ہوں نہ دانشور‘بلکہ ایک خادم اور طالب قرآن ہوں‘تاہم میں انقلاب ایران کے بعد کے ایران کو دیکھنا ضرور چاہتا ہوں کہ انقلاب کے بعد کیا ہوا اور کیسے ہوا؟ چنانچہ میں نے ان سے کہا کہ آپ مجھے علیحدہ کبھی بلائیں گے تو میں حاضر ہو جائوں گا.

گزشتہ سال ہمارے ہاں آیت اللہ و اعظ زادہ خراسانی تشریف لائے‘ان کی شخصیت سے میں بہت متاثر ہوا. انہوں نے قرآن کالج کے طلبہ سے خطاب بھی کیا. ان کی تقریر کے دوران شیعہ سنی مسئلہ کے بارے میں ان کا بھی وہی موقف سامنے آیا جو میں یہاں عرصے سے پیش کر رہا ہوں. انہوں نے کہا کہ آیت اللہ خمینی صاحب کا بھی یہی موقف تھا کہ ہر ملک میں قانون عامہ 
(Public Law) اکثریت کے فقہی تصورات اور تعبیرات کے مطابق ہونا چاہیے‘البتہ نجی قانون (Personal Law) میں سب کو آزادی دی جائے.

اس کے بعد ایرانی قونصل کی طرف سے آمد و رفت کا ایک سلسلہ شروع ہو گیا. میں بھی ان کی ایک تقریب میں گیا اور ایک بار کھانے کی دعوت پر بھی گیا اور آخر کار مجھے حالیہ دورۂ ایران کی دعوت بھی موصول ہو گئی. دورۂ ایران کی یہ دعوت سرکاری نہیں بلکہ نیم سرکاری تھی. ایران میں اسلامی ثقافت کو فروغ دینے اور دوسرے ممالک میں مسلمانوں سے تعلقات مضبوط بنانے کے لیے ’’ساز مان ثقافت علاقات خارجہ‘‘ کے نام 
سے ایک ادارہ یا محکمہ بنایا گیا ہے. اس محکمہ کا ایک ذیلی ادارہ ’’المجمع العالمی للتقریب بین المذاہب الاسلامیہ‘‘ ہے جس کا مقصد مختلف فقہی مذاہب کو آپس میں قریب تر لانے کی کوشش کرنا ہے. آیت اللہ واعظ زادہ خراسانی ادارے کے ڈائریکٹر ہیں. یہ دعوت مجھے ان کی طرف سے ملی تھی. میں ایران گیا تو میرا اور میرے ساتھیوں کا قابل قدر اعزاز و اکرام کیا گیا اور خاطر تواضع اور مہمان نوازی میں کوئی کمی نہیں کی گئی. فائیوسٹار ہوٹل میں ہمارے قیام و طعام کا انتظام کیا گیا. اس کے لیے میں ان کا ممنون ہوں. البتہ چونکہ یہ سرکاری دعوت نہیں تھی اس لیے ذرائع ابلاغ نے ہمارے دورے کو زیادہ کوریج نہیں دی گئی. میرے ساتھ عزیزم ڈاکٹر عبدالخالق بھی تھے. انہوں نے دورۂ ایران کی تفصیلی رپورٹ قلمبند کی ہے (مذکورہ رپورٹ نومبر ۹۶ ء میثاق کے میں شائع ہو چکی ہے)