کچھ تلخ مگر سنگین حقائق

’’رکھیو غالب مجھے اس تلخ نوائی پہ معاف
آج پھر درد مرے دل میں سوا ہوتا ہے!‘‘

(’تذکرہ وتبصرہ‘ ’میثاق‘ لاہور. مئی ۱۹۶۷ئ)
واقعات و حقائق کا صحیح ادراک و شعور صحیح طرز عمل کے لیے بمنزلہ ٔ اساس اور درست سمت میں اقدام کے لیے ناگزیر ولابدی ہے. پاکستان کا اسلام کے نام پر حاصل کیا جانا چاہے کیسے ہی عظیم مسلمات میں سے ہو‘ یہ حقیقت اپنی جگہ اٹل اور ناقابل تردید ہے کہ یہ اُن مسلمانوں کی قومی جدوجہد کے نتیجے میں قائم ہوا ہے جو بقول مولانا مودودی ’’صدیوں کے توارث کی بدولت‘‘ ایک قوم بن گئے ہیں اور جن کی قومیت کی اساس اگرچہ اسلام ہی پر ہے… لیکن خود اسلام سے ان کا رشتہ و تعلق محض نسلاً متوارث ہونے والے ’مذہب‘ سے زیادہ کچھ نہیں ہے اور جن کی اخلاقی حالت کے بارے میں مندرجہ ذیل رائے جتنی آج سے تیس سال قبل درست تھی‘ نہ صرف یہ کہ اتنی ہی بلکہ شومی ٔقسمت سے اس سے بھی کہیں زیادہ آج صحیح ہے: 


’’… یہاں جس قوم کا نام مسلمان ہے وہ ہر قسم کے رطب و یابس لوگوں سے بھری ہوئی ہے. کریکٹر کے اعتبار سے جتنے ٹائپ کافروں میں پائے جاتے ہیں اتنے ہی اس قوم میں بھی موجود ہیں. عدالتوں میں جھوٹی گواہیاں دینے والے جس قدر کافر قومیں فراہم کرتی ہیں‘ غالباً اُسی تناسب سے یہ بھی فراہم کرتی ہیں. رشوت‘ چوری‘ زنا‘ جھوٹ اور دوسرے ذمائم اخلاق میں یہ کسی سے کم نہیں ہے…‘‘ (مسلمان اور موجودہ سیاسی کشمکش‘ مصنفہ مولانا مودودی)

دین کے ساتھ اس کے حقیقی لگائو کا جائزہ لینا ہو تو اوّلاً عوام کو دیکھئے کہ ان کی ایک عظیم اکثریت اس سے ایک سطحی سی محبت رکھنے کے سوا نہ اس سے کوئی ذہنی مناسبت رکھتی ہے نہ عملی تعلق. یہی وجہ ہے کہ اسلامی نظام کے قیام کے لیے محضر ناموں پر دستخط کرنے کے لیے تو یہ ہر وقت تیار ہوتے ہیں‘ لیکن اپنے ذاتی یا گروہی مفادات کا معاملہ آ جائے تو اسلام کے بڑے سے بڑے احکام کو پس ِپشت ڈال دینا اور اس کی تمام حدود کو پھلانگ جانا ان کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے.

پھر چونکہ اس ملک کی سیاسی قوت کا سرچشمہ بہرصورت یہی عوام ہیں‘ لہٰذا سیاست کے میدان میں اسلام کا نام خواہ کتنا بھی لیا جاتا ہو اور اس کے کیسے ہی بلند نعرے لگائے جاتے ہوں‘ واقعہ یہ ہے کہ اصل سکہ یہاں یا خالص سیاسی مفاد کا چلتا ہے یا برادریوںاور قبیلوں کی ا قتدار طلبی و رسہ کشی کا!

پڑھے لکھے اور تعلیم یافتہ لوگوں کو دیکھئے جو کسی بھی اجتماعیت کا اصل قوام ہوتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کے بنیادی اعتقادات سے ان کے قلوب واذہان یکسر خالی ہیں اور شعوری یا غیر شعوری طور پر ان کی ایک بہت بڑی اکثریت مغرب کے مادہ پرستانہ الحاد کے نظریات و افکار پر پوراا یمان رکھتی ہے. ان میں سے جو جتنا ذہین ہے اتنا ہی مغربی فلسفہ و فکر سے متاثر ہے اور جو ذرا جری بھی ہے وہ اس کے برملا اعلان اور کھلم کھلا اعتراف میں بھی کوئی باک محسوس نہیں کرتا!

پھر چونکہ ان ہی میں سے ملک کی پوری انتظامی مشینری کے کل پرزے نکلتے ہیں اور ان کے نسبتاً ذہین تر افراد ہی سے ملک کے تمام فوجی و سول محکموں کا اصل تانا بانا بنتا ہے‘ لہٰذا 
فطری طور پر سروسز کا پورا ماحول (اِلاماشاء اللہ) مغربی افکار و نظریات اور مادہ پرستانہ وملحدانہ تہذیب و ثقافت سے تیار ہوا ہے اور فطری طور پر ان میں سے زیادہ جری اور نسبتاً ’’تناقض ونفاق‘‘ سے آزاد لوگ اسی ثقافت کی پورے ملک میں ترویج و اشاعت کی کھلم کھلا کوشش میں بھی مصروف ہیں!

ان لوگوں کو ’’مٹھی بھر‘‘ اور ’’گنتی کے چند لوگ‘‘ قرار دے کر ان کی اہمیت کو کم کرنے کی کوشش ایک سادہ سی خود فریبی ہے اور اس سے یہ حقیقت مٹ نہیں جاتی کہ اس ملک کی ’’ذہین اقلیت‘‘ 
(Intellectual Minority) بہرحال یہی ہیں اور ان ہی کے ہاتھ میں اس ملک کی اصل زمامِ کار ہے.
اور آگے چلئے اور حقائق کا مواجہہ کرنے کی جرأت پیدا کر کے جائزہ لیجئے تو معلوم ہو گا کہ مغربی افکار و نظریات کا یہ استیلاء خود ان لوگوں کی بھی اکثریت کے ذہنوں پر بتمام و کمال موجود ہے جو یہاں اسلام کے علمبردار اور اسلامی نظام کے قیام کے داعی ہیں. ان کی عملی زندگیوں کے عام نقشے اور قول و فعل کے تضاد کو ایک طرف رکھتے ہوئے ان کے تصورِ دین کا بنظر غائر مطالعہ کیجئے تو معلوم ہوتا ہے کہ خود مذہب کا ایک خالص لادینی تصور ان کے ذہنوں میں قائم ہے اور اسلام ان کے نزدیک ’’ایک بہترین ضابطہ ٔحیات‘‘ اور ’’حیات ِ دنیوی کے مسائل کا بہترین حل‘‘ سے زیادہ اور کچھ نہیں! حقیقت ِ دینی اور روحِ ایمانی سے ان کی ایک بہت بڑی اکثریت تہی دست محض ہے اور اسلام کے بنیادی اعتقادات کو ماننا ان کے نزدیک دراصل صرف کچھ سماجی و تمدنی ضرورتوں کی بناء پر ہے! ان کی حقیقت کا ادراک تو بہت دور کی بات ہے‘ اس کی کسی ضرورت کا احساس تک ان کو حاصل نہیں. دین جس زندگی کو اصل حیات قرار دیتا ہے‘ اس کی اہمیت ان کے نزدیک ایک تتمے سے زیادہ نہیں اور حیاتِ دُنیوی‘ جس کی دین میں کوئی وقعت نہیں وہ ان کے غور و فکر کا اصل موضوع اور ان کی سعی وجہد کا اصل مرکز و محور ہے! حتیٰ کہ جو چیزیں دین میں ’’عماد‘‘ کا درجہ رکھتی ہیں‘ ان 
سے بھی ان کا شغف بس واجبی سا ہے اور وہ بھی بایدو شاید حد یہ ہے کہ ایک ثقہ راوی کی روایت کے مطابق ایک بہت بڑے داعی دین اور علمبردارِ اسلام کے نزدیک: 

’’اسلام دراصل ایک سیاسی و تمدنی نظام ہے جس پر الٰہیات کا پردہ ڈال دیا گیا ہے.‘‘ 
اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَـیْہِ رَاجِعُوْنَ. 

گر ہمیں مکتب و ہمیں ملا
کارِ طفلاں تمام خواہد شد!


اور آگے بڑھئے مذہبیت کا ایک عمومی ڈھانچہ جن لوگوں کے دم سے قائم ہے وہ اکثر وبیشتر تجارت پیشہ طبقے کے کچھ مذہبی لوگ ہیں جو مسجدیں تعمیر کرتے اور انہیں آباد کرتے ہیں‘ مدارس قائم کرتے اور انہیں چلاتے ہیں اور مساجد و مدارس کے اہتمام و انتظام کا سارا بوجھ برداشت کرتے ہیں. ان میں سے جو زیادہ دیندار ہوتے ہیں‘ وہ خود نمازیں پڑھتے‘ زکوٰۃ دیتے اور حج کرتے ہیں‘ لیکن ان کے ذرا قریب ہو کر دیکھئے تو معلوم ہوتا ہے کہ ان کی ایک بہت بڑی اکثریت کے یہاں آمد وخرچ کے معاملے میں حلال و حرام کی تمیز یکسر ختم ہو چکی ہے. سودی کاروبار 
ہنیئًا مریئًا ہوتا ہے‘ اور جھوٹ سچ کا کوئی فرق کاروبار میں نہیں کیا جاتا. حتیٰ کہ ایک صوفی منش بزرگ نے پچھلے دنوں بڑے گہرے تاثر کے ساتھ فرمایا کہ:’’ پورے پاکستان میں شاید کوئی ایک مسجد بھی ایسی نہ مل سکے جو خالص حلال ذرائع سے کمائے ہوئے روپے سے تعمیر کی گئی ہو!‘‘ اس پر مستزادیہ کہ ان مساجد و مدارس میں چودھراہٹ کے حصول اور اس کو برقرار رکھنے کے لیے جس قسم کے جوڑ توڑ ہوتے ہیں اور جو جوسازشیں کی جاتی ہیں ان کے سامنے میدانِ سیاست کے جوڑ توڑ بھی شرما کر رہ جائیں.

علماء کے طبقے کو دیکھئے تو اگرچہ یہ ایک حقیقت ہے کہ دین جیسا کچھ اور جتنا کچھ 
آج موجود ہے وہ انہی کے دم سے اور انہی کی کوششوں کی بدولت ہے اور یہ بھی حقیقت ہے کہ اس حلقے میں کہیں کہیں علم و عرفان کی شمعیں بھی روشن ہیں اور ایمان وایقان کی مشعلیں بھی اور ابھی ایسے لوگ موجود ہیں جو اصحابِ علم بھی ہیں اور اربابِ عمل بھی‘ جن کی گفتار قلوب میں گداز پیدا کرنے والی اور کردار لوگوں کے لیے عزیمت کا سامان مہیا کرنے والا ہے‘ لیکن یہ بھی ایک دردناک حقیقت ہے کہ اس قسم کے لوگوں کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے‘ اور علماء کی اکثریت کا یہ حال ہے کہ نہ دلوں میں ایمان کی شمع ایسی روشن ہے کہ ماحول کو منور کر سکے نہ اخلاق و اعمال اس درجے کے ہیں کہ لوگوں کے دلوں میں گھر کر سکیں. تعلیم و تعلّم اور درس و تدریس ان کی ایک بڑی اکثریت کا پیشہ بن کر رہ گیا ہے اور بڑے بڑے دارالعلوموں میں یہ افسوس ناک اور تکلیف دہ صورتحال نظر آتی ہے کہ پیشہ ورانہ چشمک اور رقابت وحسد اور آپس کے جھگڑوں اور مناقشوں کے اعتبار سے وہ خالص دنیادار اداروں سے کسی طرح مختلف نہیں!

رہی یہ کمی کہ ان کی ایک بڑی اکثریت موجودہ دنیا کے علوم و فنون سے بیگانہ ٔمحض ہے‘ تو اس کا ذکر تحصیل حاصل ہے! اس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ علماء کا اثر معاشرے کے طبقہ ٔمتوسط کے بھی صرف نصف ِ ادنیٰ تک ہی پہنچ پاتا ہے اور موجودہ معاشرے میں ان کی حیثیت زندگی کی اصل منجدھار سے کٹی ہوئی ایک علیحدہ شاخ سے زیادہ کچھ نہیں!

ان تلخ حقائق کو پیش نظر رکھ کر خدارا سوچئے کہ کیا محض اس دلیل سے کہ ’’پاکستان اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا تھا!‘‘ یہاں اسلام قائم ہو جائے گا یا سیاسی میدان میں اسلام کا نعرہ لگانے سے اسلامی انقلاب برپا ہو جائے گا؟ یا محض عوام کے مذہبی جذبات کے اشتعال سے مغربی تہذیب و ثقافت کی یلغار رک جائے گی؟ یا محض منفی مدافعت و مخالفت سے دین میں تحریف کا سلسلہ ختم ہو جائے گا؟ اپنے اس طرزِ عمل کے لیے 
لاکھ دلائل پیش کر دیجیے‘ سینکڑوں خوش نما تاویلات گھڑ لیجئے صورت ِ واقعہ یہ ہے کہ آج بیس (۱سال سے ایک فعال مذہبی و سیاسی جماعت اور طبقہ علماء کے سیاسی مزاج بزرگ اس طریق پر عمل پیرا ہیں‘ لیکن حالات ہیں کہ روز بروز خراب تر ہوتے چلے جارہے ہیں. بزعم خویش کوئی کتنا ہی الحاد و بے دینی اور فحاشی و بے حیائی کے سیلاب کے آگے بند بنا کھڑا ہو‘ واقعہ یہ ہے کہ نہ الحاد و بے دینی کے سیلاب میں کوئی کمی آئی ہے نہ فحاشی و بے حیائی کے اُلٹا اس فعال دینی جماعت کا جو سیاست کے میدان میں مذہب کی علمبردار بن کر اتری تھی یہ حشر ضرور دیکھنے میں آیا کہ رفتہ رفتہ اس کی مذہبیت تو تحلیل ہو کر ختم ہوتی چلی گئی اور نری سیاسیت باقی رہ گئی‘ تاآنکہ اب اس کے نزدیک پاکستان میں اسلام کے مستقبل کا سارا دارومدار اس پر رہ گیا ہے کہ یہاں انتخابات بلاواسطہ ہوں اور پارلیمانی جمہوریت کا نظام بحال کردیا جائے فاعتبروا یا اولی الابصار! 

ہماری قومی زندگی کا دھارا پورے زور و شور سے ایک خاص سمت میں بہہ رہا ہے اور تاحال مذہبی طاقتیں اس پر کسی قسم کا کوئی اثر ڈالنے اور اس کے رخ کو تبدیل کرنے میں ناکام رہی ہیں. دوسری طرف ملکی حکومت کو ہر آن نئی مشکلات و مسائل کا سامنا ہے اور بین الاقوامی سیاست کے بدلتے ہوئے رنگ اور بڑی طاقتوں کی بدلتی ہوئی حکمت عملی سے صاف اندازہ ہو رہا ہے کہ مستقبل میں پاکستان کو اپنی سالمیت کے تحفظ کے لیے بڑی کٹھن مشقت و ریاضت کرنی ہو گی اور بڑے نامساعد حالات سے گزرنا ہو گا. ان حالات میں اس بات کا شدید خطرہ ہے کہ اگر مذہبی حلقوں کی نری سیاسی نعرہ بازی اور محض منفی مدافعت و مخالفت کی حالیہ روش برقرار رہی اور کوئی زبردست مثبت دینی دعوت ایسی نہ اُٹھی جو ذہنوں کو مفتوح اور قلوب کو مسخر کر سکے تو کسی مشکل وقت میں اعصاب کا تنائو ایسی صورت پیدا نہ کردے کہ پھر اسلام کا نام لینا بھی مشکل ہو جائے! 
(۱) واضح رہے کہ یہ تحریر ۱۹۶۷ء کی ہے! اسی اہم خطرے کی نشاندہی کے لیے ہم نے یہ طویل معروضات پیش خدمت کی ہیں اور تاریخی پس منظر کو سامنے رکھ کر موجودہ صورت ِ حال کا تجزیہ کیا ہے. خدا شاہد ہے کہ اس سے ہمارا مقصد نہ کسی کی دلآزاری ہے نہ توہین و تنقیص‘ البتہ کچھ تلخ حقائق کا مشاہدہ بعض اوقات’تلخ نوائی‘ پر منتج ہو ہی جاتا ہے. ہم درخواست کرتے ہیں کہ اس پر ہمیں معذور سمجھا جائے اور ہماری گزارشات پر ٹھنڈے دل سے غور کیا جائے. 
اقول قولی ھذا واستغفر اللّٰہ رب العالمین

نوٹ! 
اس سلسلہ ٔمضامین کی اگلی قسط جو ماہنامہ ’میثاق‘ لاہور کے جون ۱۹۶۷ء کے شمارے میں شائع ہوئی تھی