آیت ۱۳ کا مطالعہ اور مختلف تراجم کا تقابل

سورۃ الشوریٰ کی آیت ۱۳ کے بارے میں ایک بات یہ نوٹ کیجیے کہ یہ آیت بھی مشکلات القرآن میں سے ہے اور اس کی ترکیب نحوی بہت مشکل ہے. اس میں کہیں کوئی چیز محذوف ماننی پڑتی ہے اور اس کے دو ترجمے کیے گئے ہیں. میں صرف یہ عرض کروں گا کہ میں صرف و نحو میں اس مہارت کا مدعی نہیں ہوں کہ میں حَکَم بن کر بیٹھوں کہ کون سا ترجمہ غلط ہے اور کون سا ترجمہ صحیح ہے‘ لیکن میرا دعویٰ یہ ہے کہ ان دونوں ترجموں سے نتیجے کے اعتبار سے کوئی فرق واقع نہیں ہوتا. اگر الفاظ کے اس طرح کے اختلاف کے باوجود نتیجہ وہیں پہنچ رہا ہو تو پھر الفاظ کے چکر میں اپنے آپ کو زیادہ الجھانے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا‘ بلکہ مفہوم کو دیکھئے‘ اس طرح بھی وہی مفہوم ہے اور اُس طرح بھی وہی. یہاں بھی اسی طرح کا معاملہ ہے جیسے آیۂ اظہارِ دین کا ہے کہ لِیُظۡہِرَہٗ میں ایک ضمیر فاعلی ہے اور ایک ضمیر مفعولی ’’تاکہ وہ غالب کر دے اس کو‘‘. اب ایک ہے غالب کرنے والا‘ ایک وہ جس کو غالب کیا جائے. اب ان دو ضمیروں کے جتنے بھی ممکنہ مراجع ہو سکتے ہیں ان سب کا احاطہ کر کے میں نے اپنے متذکرہ بالا مضمون میں ثابت کر دیا ہے کہ کہیں مفہوم میں فرق واقع نہیں ہوتا‘ بات ایک ہی ہے. اُسی کی ایک مثال یہ ہے کہ یہاں بھی آیت کے ایک ٹکڑے کے دو ترجمے کیے گئے ہیں‘ جو نتیجے کے اعتبار سے ایک ہی مفہوم کے حامل ہیں.

اب ہم اس آیہ ٔ مبارکہ (۱۳) کا مطالعہ شروع کرتے ہیں: 
شَرَعَ لَکُمۡ مِّنَ الدِّیۡنِ شارع کہتے ہیں راستے کو. چلنے کی جو ہمارے پاس ایک سیدھی راہ ہے‘ صراطِ مستقیم ہے ‘وہ شریعت ہے. طریق بھی راستے کو کہتے ہیں‘ طریقت بھی چلنا ہے. فرق صرف یہ ہے کہ شریعت ظاہری چلنا ہے اور طریقت باطنی چلنا ہے. لیکن ان دونوں میں کوئی فصل نہیں ہے. ظاہر و باطن ساتھ ساتھ ہی ہوتے ہیں. چنانچہ یہ دونوں چیزیں (شریعت اور طریقت) ایک ہی مفہوم کی حامل ہیں‘ البتہ ان کا اطلاق مختلف پہلوؤں کے اعتبار سے ہو جاتا ہے. شارع بمعنی راستہ اردو میں مستعمل ہے‘ آپ کہتے ہیں یہ شارع عام نہیں ہے .تو شَرَعَ لَکُمۡ کا مفہوم ہو گا: ’’راہ ڈالی تمہارے لیے‘‘. اس کا مفہوم یہ بھی ہے :’’ معین کیا تمہارے لیے‘ عائد کر دیا تم پر‘‘. آپ ان میں سے جو چاہیں ترجمہ اختیار کر لیں‘ اس کے مفہوم میں کوئی فرق واقع نہیں ہوگا. مِّنَ الدِّیۡنِ کے بھی دو مفہوم لیے گئے ہیں. یعنی ’’از قسم دین‘‘ یا ’’دربارۂ دین‘‘. یہ میں نے فارسی کی دو اصطلاحات استعمال کی ہیں. ’’دین میں وہ چیز مقرر کی گئی‘‘ یا ’’دین کے سلسلے میں وہ چیز مقرر کی گئی‘‘. نتیجہ مَیں آپ کو بعد میں بتا دوں گا کہ کوئی فرق واقع نہیں ہو گا. 

’’تمہارے لیے دین میں (یا دین کے سلسلے میں یا دین کے ضمن میں) وہ چیز مقرر کی گئی‘‘. مَا وَصّٰی بِہٖ نُوۡحًا ’’جس کی وصیت کی تھی نوح کو‘‘. ’’وَصّٰی ‘‘ کا فاعل کون ہے؟ اللہ! یعنی اللہ تعالیٰ نے وصیت کی نوح کو. وصیت کا لفظ ہمارے پہلے ہی درس (سورۃ العصر) کے اندر آتا ہے اور وہاں اس پر تفصیل سے بحث ہو جاتی ہے .یہ لفظ مختلف ابواب سے آتا ہے. باب اِفعال سے اَوْصٰی . یُوْصِیْ . اِیْصَاءً ، وصیت کرنا اور باب تفعیل سے وَصّٰی . یُوَصِّیْ . تَوْصِیَۃً. اس میں اہتمام ہے‘ یعنی پیہم اور مسلسل وصیت کرتے رہنا‘ جیسے ’’اِعْلَام‘‘ کا مفہوم کسی کو کوئی چیز بتا دینا ہے‘جبکہ ’’تعلیم‘‘ کسی کو ذہن نشین کرانا ‘ اس کو hammer کرنا ہے. اسی طرح باب تفاعل سے آتا ہے تَواصی کہ آپس میں ایک دوسرے کو وصیت کرنا‘ یا اس میں مبالغے کا انداز پیدا ہوجائے گاکہ کثرت سے وصیت کرنا. یہاں وَصّٰی ہے‘ یعنی بہت تاکیدی حکم.’’راہ ڈالی تمہارے لیے دین کے ضمن میں یا دین کے بارے میں (بسلسلۂ دین یا دربارۂ دین) وہی جس کی وصیت کی تھی نوح کو‘‘ وَّ الَّذِیۡۤ اَوۡحَیۡنَاۤ اِلَیۡکَ ’’اور جس کی وحی کی ہے ہم نے (اے محمد ) آپ کی طرف‘‘. اِلَیۡکَ کی ضمیرِ مخاطب کے بارے میں کوئی اختلاف نہیں کہ اس سے حضور مراد ہیں. وَ مَا وَصَّیۡنَا بِہٖۤ اِبۡرٰہِیۡمَ وَ مُوۡسٰی وَ عِیۡسٰۤی ’’اور جس کی ہم نے وصیت کی اور تاکید کی ابراہیم ؑ کوبھی اور موسٰی ؑکو بھی اور عیسٰی ؑ کو بھی‘‘.

اب یہاں تک بات آپ نے سمجھ لی. تو یوں سمجھئے کہ اگر تو آپ 
شَرَعَ لَکُمۡ مِّنَ الدِّیۡنِ کا یہ ترجمہ کریں گے کہ ’’دین کے ضمن میں وہی چیز مقرر کی ہے‘‘ تو اس کا مطلب ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام سے لے کر حضرت محمد تک دین ایک ہی ہے. یعنی وہی دین تمہارے لیے مقررکیا جو نوح کے لیے‘ ابراہیم کے لیے‘ موسٰی کے لیے اور عیسٰی(علیہم الصلوٰۃ والسلام) کے لیے مقرر کیا اور اسی کی وحی کی ہے ہم نے اے محمد آپ کی طرف. تو یہ تو ایک مراد ہوئی. دوسری مراد یہ ہو گی کہ اس دین کے ضمن میں جو ذمہ داری نوح پر‘ ابراہیم پر‘ موسٰی پر اور عیسٰی پر(علیہم الصلوٰۃ والسلام) عائد کی تھی اور جس کی وحی اے محمد ہم آپ کو بھی کر چکے ہیں وہی ذمہ داری اے مسلمانو! ہم تم پر عائد کر رہے ہیں. تو نتیجے کے اعتبار سے کوئی فرق واقع نہیں ہوا. دین وہی ہے اور دین کے ضمن میں ذمہ داری بھی وہی ہے. عام طور پر یہ دوسرا مفہوم زیادہ لیا گیا ہے ‘لیکن میں سمجھتا ہوں کہ نتیجے کے اعتبار سے ان دونوں میں سرِمو کوئی فرق نہیں.