ہمارے اور سابقہ اُمتوں کے مابین دین کی قدرِ مشترک؟

اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ دین کی وحدت کیا ہے؟ اس میں ہمارے مفسرین کو بحث کرنی پڑی ہے. اس لیے کہ شریعت میں تو فرق ہے‘ شریعت موسوی اور ہے ‘ شریعت محمدی اور ہے (علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام) . اس اعتبار سے فرق ہے تو پھر دین ایک کیسے ہوا؟ ظاہر ہے اس میں وہی چیز مراد ہو سکتی ہے جو قدرِ مشترک ہو. اگر یہ مانا جائے کہ اس سے مراد ہے ’’دین وہی مقرر کیا‘‘ تب یہ بحث اٹھتی ہے‘ اگر یہ ماناجائے کہ دین کے ضمن میں وہی ذمہ داری تم پر عائد کی جوسب پر تھی‘ تو یہ بحث نہیں اٹھتی. اگر آپ یہ سمجھیں کہ وہی دین مقرر کیا گیا‘ تو اب دین میں جو ظاہری فرق و تفاوت ہے وہ ایک سوالیہ نشان بن کر سامنے آ جائے گا. اس کو ہمارے مفسرین نے resolve کیا ہے کہ دین کی وہ چیزیں جو قدرِ مشترک ہیں‘ وہی یہاں مراد ہو سکتی ہیں. اس لیے کہ ہمارا اور ان کا نظامِ صلوٰۃ یکسر مختلف ہے‘ روزے کے احکام میں ان کے اور ہمارے درمیان بڑا فرق ہے. ان کے ہاں قربانی پر بہت زور تھا‘ ہمارے ہاں قربانی کا معاملہ کم رہ گیا‘ ان کے ہاں نماز پر اتنا زور نہیں تھا‘ مگر ہمارے ہاں نماز کو عماد الدین یعنی اصل رکنِ دین قرار دیا گیا ہے. ان کے ہاں یومِ سبت کا ایک حکم تھا جو اُن پر عائد کیا گیا تھا کہ اس روز کاروبارِ زندگی حرامِ مطلق تھا.ہمارے ہاں پورے ہفتے میں کوئی دن بھی ایسا نہیں ہے جس میں کاروبارِ دُنیوی حرامِ مطلق ہو. تاہم وہ حکم سمٹ کر آ گیا ہے ایک ساعت کے لیے‘ یعنی اذانِ جمعہ سے لے کر نماز ِ جمعہ ادا ہونے تک. چنانچہ ہمارے ہاں وہ حکم بہت مختصر رہ گیا . تو یہ جو فر ق و تفاوت ہے یہ اظہر من الشمس ہے. تو پھر قدرِ مشترک کیا ہے؟ ویسے تو ایمان قدرِ مشترک ہے‘ یعنی توحید‘ معاد اور رسالت . البتہ رسالت کے معاملے میں فرق ہو جائے گا‘ کہ ان کے لیے حضرت موسیٰ علیہ السلام پر ایمان لانا ضروری تھا ‘حضرت محمد پر ایمان لانا لازم نہیں تھا‘ اس لیے کہ محمدٌ رسول اللہ تو ابھی مبعوث نہیں ہوئے تھے. ہمارے لیے محمدٌ رسول اللہ پر بھی اور سابقہ رسولوں پر بھی ایمان لانا ضروری ہے. یہ بھی ایک ضمنی سا فرق ہوا. لیکن اکثر مفسرین کا موقف یہ ہے کہ اس سے مراد توحید ہے اور اس پر تقریباً اجماع ہے. اس لیے کہ واقعتا توحید ہی قدرِ مشترک ہے. توحید ہی اصل دین ہے‘ دین نام ہی توحید کا ہے.