توحید کی اقسام اور ان کا مفہوم

یہاں اب ایک اور لطیف نکتہ یہ ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام سے لے کر حضرت محمدٌ رسول اللہ تک دین کس طرح ایک رہا ہے. دراصل یہ توحید ہے جو قدرِ مشترک رہی ہے‘ یہی دین کا اصل الاصول ہے. میں اپنے اوپر اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا فضل و احسان سمجھتا ہوں کہ توحید کو میں نے بڑی وضاحت کے ساتھ بیان کیا ہے توحید کے دو حصے ہیں : 

(iتوحید نظری یا توحید فی العقیدہ یعنی اللہ کو ایک ماننا.
(iiتوحید عملی ایک اللہ کا بندہ بن جانا.

ازروئے الفاظِ قرآنی : 
وَّ لَا یُشۡرِکۡ بِعِبَادَۃِ رَبِّہٖۤ اَحَدًا ﴿۱۱۰﴾٪ (الکہف) ’’اور وہ بندگی میں اپنے ربّ کے ساتھ کسی اور کو شریک نہ کرے‘‘. یعنی بندہ عبادات کے اندر یکسو ہو جائے‘ اس کی اطاعت منقسم نہ ہو کہ ایک معاملے میں تو اللہ کی اطاعت کر رہا ہو اور دوسرے معاملے میں اس کی اطاعت نہ کرے. دوسری تمام اطاعتیں اللہ کی اطاعت کے تابع ہو جائیں. والدین کی اطاعت‘ اساتذہ کی اطاعت‘ حکام کی اطاعت‘ امیر اور مرشد کی اطاعت‘ ان میں سے اگر کوئی بھی اطاعت اللہ کی اطاعت سے آزاد (independent) ہو تو وہ شرک ہے. اگر اپنے نفس کی اطاعت اس درجے کی ہو تو اسے بھی قرآن نے شرک قرار دیا ہے : اَرَءَیۡتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰـہَہٗ ہَوٰىہُ ؕ (الفرقان:۴۳’’(اے نبی!) کیا تم نے اس شخص کو دیکھا جس نے اپنی خواہشاتِ نفس کو اپنا معبود بنا لیا ہے؟‘‘

توحید عملی کے بھی دو حصے ہیں : (۱) انفرادی (۲) اجتماعی.

انفرادی توحید پر بحث سورۃ الزمر میں آتی ہے ‘ جبکہ اجتماعی توحید کا مطلب اللہ کے دین کو غالب کرنا ہے. اس اجتماعی توحید ہی کے لیے تکبیر ربّ‘ اقامت دین‘ 
اظہار دین الحق علی الدین کلہٖ اور یکون الدین کلہٗ للہ کی قرآنی اصطلاحات آئی ہیں. اس اجتماعی توحید ہی کے لیے اعلائے کلمۃ اللہ‘ حکومت الٰہیہ کا قیام اور زمین پر آسمانی بادشاہت کا قیام جیسے الفاظ استعمال ہوتے ہیں. یعنی پورا نظامِ زندگی ایک اللہ کے اختیارِ کلی کے تحت آ جائے.تو وہی بات ہو گئی کہ ’’عباراتُنا شَتّٰی وحسنک واحدٌ‘‘. جنت کے بہت سے دروازے ہیں‘ جس دروازے سے بھی داخلہ ہو جائے سعادت ہی سعادت ہے. یوں سمجھئے کہ یہ شہر معانی ہے‘ اس کے دروازے بہت سے ہیں‘ آپ کسی دروازے سے داخل ہو جائیں‘ کسی اصطلاح کے حوالے سے بات سمجھ لیں. ایک اصطلاح آپ کے ذہن کی ساخت کے ساتھ مناسبت نہیں رکھتی تو دوسری اصطلاح حاضر ہے‘ شاید آپ کے ذہن کے سانچے میں یہ زیادہ فٹ بیٹھ جائے. مطلب تو پیڑ گننے سے نہیں ‘ آم کھانے سے ہے. اگر مفہوم میں کوئی فرق واقع نہیں ہو رہا تو خواہ مخواہ کا قیل و قال کس لیے!