’’تفرق فی الدین‘‘ کی ممانعت

آگے فرمایا : وَ لَا تَتَفَرَّقُوۡا فِیۡہِ ’’اور اس (دین) میں متفرق نہ جاؤ‘‘. فَرَّقَ یُفَرِّقُ (باب تفعیل) کا مفہوم ہے :کسی چیز کو پھاڑ دینا‘ کاٹ دینا‘ ٹکڑے ٹکڑے کر دینا‘ جبکہ تَفَرَّقَ . یَتَفَرَّقُ کا مطلب ہے : خود متفرق ہو جانا‘ خود ٹکڑے ٹکڑے ہو جانا‘ خود بٹ جانا‘ گروہوں میں منقسم ہو جانا.

وَ لَا تَتَفَرَّقُوۡا فِیۡہِ میں فِیۡہِ (اس میں) کا معنی ہے ’’دین میں‘‘ .یعنی دین میں متفرق نہ ہوجاؤ. اس کی وضاحت کے لیے ’’القرآن یفسّر بعضُہ بعضًا‘‘ کا اصول استعمال کرتے ہوئے سورۃ الممتحنہ کی آیات ۸ اور ۹ کا مطالعہ کرتے ہیں‘ جہاں ’’فِی الدِّیۡنِ ‘‘ کا لفظ آیا ہے :

لَا یَنۡہٰىکُمُ اللّٰہُ عَنِ الَّذِیۡنَ لَمۡ یُقَاتِلُوۡکُمۡ فِی الدِّیۡنِ وَ لَمۡ یُخۡرِجُوۡکُمۡ مِّنۡ دِیَارِکُمۡ اَنۡ تَبَرُّوۡہُمۡ وَ تُقۡسِطُوۡۤا اِلَیۡہِمۡ ؕ اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الۡمُقۡسِطِیۡنَ ﴿۸﴾اِنَّمَا یَنۡہٰىکُمُ اللّٰہُ عَنِ الَّذِیۡنَ قٰتَلُوۡکُمۡ فِی الدِّیۡنِ وَ اَخۡرَجُوۡکُمۡ مِّنۡ دِیَارِکُمۡ وَ ظٰہَرُوۡا عَلٰۤی اِخۡرَاجِکُمۡ اَنۡ تَوَلَّوۡہُمۡ ۚ وَ مَنۡ یَّتَوَلَّہُمۡ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الظّٰلِمُوۡنَ ﴿۹
’’اللہ تعالیٰ تمہیں اس بات سے نہیں روکتا کہ تم ان لوگوں کے ساتھ نیکی اور انصاف کا برتاؤ کرو جنہوں نے دین کے معاملہ میں تم سے جنگ نہیں کی ہے اور تمہیں تمہارے گھروں سے نہیں نکالا ہے. اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے. وہ تمہیں جس بات سے روکتا ہے وہ تو یہ ہے کہ تم ان لوگوں سے دوستی کرو جنہوں نے تم سے دین کے معاملہ میں جنگ کی ہے اور تمہیں تمہارے گھروں سے نکالا ہے اور تمہارے اخراج میں ایک دوسرے کی مدد کی ہے. ان سے جو لوگ دوستی کریں وہی تو ظالم ہیں‘‘.

سورۃ الممتحنہ کی متذکرہ بالا آیات سے یہ بات واضح ہو گئی کہ ’’دین کے معاملہ میں‘‘ یا ’’دین کے بارے میں‘‘ یا ’’دین کے ضمن میں‘‘ کا مفہوم کیا ہے. چنانچہ وَ لَا تَتَفَرَّقُوۡا فِیۡہِ کا مطلب کیا ہو گا؟ ’’فِیۡہِ‘‘ کی ضمیر مجرور ’’ہ‘‘ کا مرجع ’’دین‘‘ ہے. یعنی ’’فِیۡہِ‘‘ سے مراد ’’فِی الدِّیْنِ‘‘ ہے. چنانچہ اَقِیۡمُوا الدِّیۡنَ وَ لَا تَتَفَرَّقُوۡا فِیۡہِکا مفہوم ہو گا ’’دین کو قائم کرو اور اس کے بارے میں متفرق نہ ہو جاؤ!‘‘