آیاتِ مبارکہ کا تاریخی پس منظر

ارشاد ہوا:

کَبُرَ عَلَی الۡمُشۡرِکِیۡنَ مَا تَدۡعُوۡہُمۡ اِلَیۡہِ ؕ 
’’(اے نبیؐ !) مشرکین پر یہ بات بہت ہی بھاری ہے جس کی طرف آپ انہیں بلا رہے ہیں‘‘.

آیت کے اس ٹکڑے پر گفتگو سے پہلے آیات زیر مطالعہ کے تاریخی پس منظر کو سامنے رکھنا بہت ضروری ہے. یہ مکی دور کی سورت ہے‘ لیکن مختلف احوال اور داخلی و خارجی شواہد سے اس سورۂ مبارکہ کا زمانۂ نزول سن ۸نبوی کے آس پاس بنتا ہے.

نزولِ قرآن کے ابتدائی چند سال تک تو حضور کے مخاطب صرف مکہ کے لوگ یا مشرکینِ عرب ہی رہے تھے‘ لیکن سن ۵۶ نبوی کے آس پاس یہ دعوت اب پھیل چکی تھی‘ اس کا چرچا ہو چکا تھا اور یہود کے ساتھ بھی اب بالواسطہ 
(indirect) معاملہ چل رہا تھا. قرآن میں ابھی خطاب یہودیوں سے ہوا تھا نہ عیسائیوں سے‘ لیکن اُن کو مسلسل خبریں مل رہی تھیں. یہودی منتظر بیٹھے تھے کہ آخری نبی کا ظہور ہونے والا ہے‘ لیکن وہ اس مغالطے میں تھے کہ وہ ہم میں سے ہو گا‘ حضرت یعقوب علیہ السلام سے لے کر آج تک نبوت تو ہمارے خاندان بنی اسرائیل میں چلی آ رہی ہے‘ تو یہ کیسے باہر چلی جائے گی! لیکن جب انہیں معلوم ہوا کہ یہ تو باہر جا رہی ہے تو ان میں اب غصہ بھی پیدا ہوا اور انہوں نے وہاں سے بیٹھ کر تار ہلانے شروع کیے. چنانچہ کبھی سوال بھجوا رہے ہیں کہ ذرا ان سے پوچھو رُوح کسے کہتے ہیں؟ اگر یہ نبی ہیں تو رُوح کی حقیقت بتائیں! ذرا ان سے پوچھو کہ اصحابِ کہف کون تھے؟ ان سے پوچھو ذوالقرنین کون تھا؟ اگریہ نبی ہیں تو بتائیں! تو اب یہ وہاں سے بیٹھے مشرکین مکہ کے تار ہلا رہے تھے. اسی طرح ایک بالواسطہ معاملہ ان کے ساتھ شروع ہو چکا تھا‘ اگرچہ ابھی ان سے براہِ راست خطاب نہیں تھا. نبی اکرم کو مکہ مکرمہ میں دعوت دیتے ہوئے سات آٹھ سال گزر چکے تھے ‘ لیکن ابھی اس دعوت کا بظاہر کوئی خاطر خواہ نتیجہ سامنے نہیں آ رہا تھا. ان حالات میں بربنائے طبع بشری حضور کی طبیعت میں ایک فکر اور تشویش ابھر رہی تھی کہ کہیں اس میں میری کوئی کوتاہی تو نہیں ہے‘ میری طرف سے کوئی کمی تو نہیں رہ گئی ہے‘ میرے بیان میں کوئی ابہام تو نہیں ہے‘ میری ذات کے اندر تو کوئی ایسی خرابی نہیں ہے جو اِس حقیقت کے انکشاف میں آڑے آ گئی ہو؟ یہ احساسات ہر شریف اور بامروّت انسان کے اندر پیدا ہوتے ہیں. چنانچہ قرآن مجید میں مختلف پیرایوں میں حضور کو تسلی دینے کی کوشش کی گئی ہے کہ آپؐ نہ گھبرائیں‘ انہیں راہ راست پر لانے کی ذمہ داری آپ کی نہیں ہے‘ آپؐ پر صرف ابلاغ اور تبلیغ کی ذمہ داری ہے‘ ہم نے آپؐ کو داروغہ بنا کر نہیں بھیجا‘ انہیں زبردستی اسلام پر لے آنا آپؐ کی ذمہ داری نہیں ہے .

اس پس منظر کو ذہن میں رکھتے ہوئے اور سیاقِ کلام پر غور کرتے ہوئے دیکھئے کہ یہاں اب کیا بات کہی جا رہی ہے. یہاں بھی وہی تسلی کا انداز ہے کہ اے محمد ! آپ پریشان نہ ہوں‘ آپ تشویش میں مبتلا نہ ہوں‘ آپ رنج و صدمے سے دوچار نہ ہوں‘ یہ معاملہ درحقیقت اتنا آسان نہیں ہے جتنا کہ آپؐ اپنی شرافت کی بنا ء پر سمجھ رہے ہیں کہ سچی بات ہے ‘ اسے قبول کیا جانا چاہیے. ہر سچا آدمی اسی انداز سے سوچے گا ‘ اسے کیا پتا کہ لوگوں کے دلوں میں کیسے کیسے فساد پڑے ہوئے ہیں‘ کسی کو اپنی چودھراہٹ کی فکر ہے‘ کسی کو اپنی سیادت کی فکر ہے‘ کسی کو اپنی گدی کی فکر ہے‘ کوئی مذہبی اور روحانی اعتبار سے لوگوں کا مقتدا اور پیشوا بنا بیٹھا ہے‘ اسے اس سے تشویش لاحق ہو گئی ہے. اب آپؐ کو کیا پتا کہ کیا کیا چیزیں لوگوں کے پاؤ ں میں بیڑیاں بن کر پڑی ہوئی ہیں. ہر شریف آدمی اپنے بارے میں جو کچھ سوچتا ہے اسی پر دوسروں کو قیاس کرتا ہے‘ لیکن دراصل بات کچھ اور ہے!

یہ بھی جان لیجیے کہ اُس وقت دو گروہ تھے جو اب سامنے آ گئے تھے‘ ایک تو مشرکین عرب‘ جن کو دعوت دیتے ہوئے سات آٹھ برس ہو چکے تھے‘ جبکہ دوسرا گروہ اہلِ 
ِ کتاب کا تھا جن سے بالواسطہ معاملہ شروع ہو چکا تھا. حضور کے دل میں یہ بات آئی ہو گی کہ اہلِ کتاب کو تو فوراً لپک کر میری تصدیق کرنی چاہیے. مشرکین مکہ کے ہاں تو کوئی شریعت موجود نہیں تھی‘ حضرت اسماعیل علیہ السلام کے بعد اُن کے ہاں کوئی نبی نہیں آیا تھا‘دو ہزار برس بیت چکے تھے اور اس عرصے میں ان کے اندر بہت سی گمراہیاں پیدا ہو چکی تھیں‘ حالانکہ نبی اکرم کی دعوت ان کے لیے بھی کوئی نئی بات نہیں تھی. الفاظِ قرآنی مِلَّۃَ اَبِیۡکُمۡ اِبۡرٰہِیۡمَ کے مصداق آپ ان کے سامنے ان کے باپ ابراہیم علیہ السلام ہی کا طریقہ پیش کر رہے تھے‘ لیکن وقت کے دریا میں اتنا پانی بہہ چکا تھا کہ ان کو اگر اس میں استبعاد محسوس ہو رہا تھا تو یہ بات ناقابل فہم نہ تھی‘ لیکن اہلِ کتاب کے بارے میں آنحضور یہ ضرور سوچتے ہوں گے کہ انہیں کیا ہو گیا ہے! یہ تو انبیاء کے ماننے والے ہیں‘ موسٰی ؑ اور عیسٰی ؑ کے ماننے والے ہیں‘ قیامت کے ماننے والے ہیں‘ توحید کے دعوے دار ہیں (چاہے وہ شرک میں مبتلا تھے لیکن دعوے دار تو توحید ہی کے تھے) ان کے لیے تو آسمانی ہدایت کوئی انوکھی اور نئی بات نہیں‘ ان کے پاس آسمانی کتابیں موجود ہیں‘ ویسی ہی ایک کتاب مجھ پر ناز ل ہو رہی ہے‘ میں نے ان کی کتابوں کی نفی نہیں کی ہے‘ قرآن ان کی تصدیق کرتے ہوئے آیا ہے‘ پھر یہ قرآن پر ایمان کیوں نہیں لاتے؟ 

ان دونوں چیزوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے اب آیت کے اگلے الفاظ کا مطالعہ کیجیے. دیکھئے کس قدر تسلی آمیز انداز ہے : 
کَبُرَ عَلَی الۡمُشۡرِکِیۡنَ مَا تَدۡعُوۡہُمۡ اِلَیۡہِ ؕ ’’(اے نبیؐ !) مشرکین پر تو بہت ہی بھاری ہے وہ چیز جس کی طرف آپ انہیں بلا رہے ہیں‘‘. خود حضور کا بھی احساس یہی تھا کہ ان مشرکین کا معاملہ تو ’’ضَلُّوۡا ضَلٰلًۢا بَعِیۡدًا ‘‘ والا ہو چکا‘ یہ تو گمراہی میں بہت دور چلے گئے‘ تین سو ساٹھ خداؤں کو ماننے والے‘ ان کے لیے تو واقعتا یہ بات قبول کرنا بہت مشکل ہے. آپ کو اس کا تجربہ بھی ہو چکا تھا. ان میں کتنے ہوں گے جو اس بھاری پتھر کو چوم کر پیچھے ہٹ جاتے ہوں گے‘ جی چاہتا ہو گا کہ ایمان لے آئیں‘ لیکن پاؤں کی بیڑیاں آگے نہیں بڑھنے دیتی ہوں گی. ولید بن مغیرہ کا معاملہ یہ تھا کہ وہ بالکل قریب آ جاتا تھا جیسے کہ اب مانا کہ مانا‘ پھر واپس ہوجاتا تھا‘ پاؤں میں جو بیڑیاں پڑی ہوئی تھیں وہ پھر کھینچ لیتی تھیں. تو ان میں سے کتنے ہی ایسے تھے کہ جو آتے تھے ‘ پھر رہ جاتے تھے‘ اس لیے کہ یہ ان کے لیے بہت بھاری پتھر تھا. ان کی سیادتیں‘ قیادتیں‘ چودھراہٹیں اور ان کو جو مراعات حاصل تھیں وہ سب کی سب ان کے پاؤں میں بیڑیاں بن کر پڑی ہوئی تھیں. پھر ان کی آباء پرستی اور روایت پرستی آڑے آتی تھیں کہ اپنے آباء و اجداد کا دین چھوڑ کر کیسے چلے جائیں! تو فرمایا کہ اے نبیؐ ! یہ آسان کام نہیں ہے. یہ ان پر بہت بھاری ہے.