چند مغالطے اور اُن کا ازالہ

میرے اکثر و بیشتر کتابچے بلکہ بڑی کتابیں بھی میرے دروس و خطابات پر مشتمل ہیں‘ جنہیں صفحۂ قرطاس پر منتقل کیا گیا ہے‘ لیکن مجھ پر اللہ کا بڑا کرم ہوا ہے کہ چند اہم موضوعات پر میرے قلم سے کچھ تحریریں نکلی ہیں اور شائع ہوئی ہیں . ان میں سے(جیسا کہ گزشتہ نشست میں عرض کیا گیا) ’’نبی ٔ اکرم کا مقصدِ بعثت‘‘ نہایت اہمیت کی حامل تحریر ہے اور اس میں ۲۴ صفحات کا مقالہ اس ایک آیت پر مشتمل ہے : ہُوَ الَّذِیۡۤ اَرۡسَلَ رَسُوۡلَہٗ بِالۡہُدٰی وَ دِیۡنِ الۡحَقِّ لِیُظۡہِرَہٗ عَلَی الدِّیۡنِ کُلِّہٖ اس مقالہ میں مَیں نے اللہ کے فضل و کرم سے اس آیت مبارکہ کے ضمن میں جو بھی ممکن سوال ہو سکتا تھا اس سے بحث کی ہے. اس کی ساری لغوی شرح و تراکیب‘ ضمائر کے جتنے بھی ممکنہ مراجع ہو سکتے ہیں اور اس بارے میں جتنی آراء پیش کی گئی ہیں ان کو سامنے رکھ کر سیر حاصل گفتگو کر چکا ہوں اور اس میں کسی اشتباہ کا امکان باقی نہیں رہا . لیکن بدقسمتی سے ہمارے بعض دانشور حضرات کا حال علامہ اقبال کے اس شعر کا مصداق ہے ؎

خود بدلتے نہیں قرآں کو بدل دیتے ہیں
ہوئے کس درجے فقیہانِ حرم بے توفیق!

چنانچہ ایک صاحب نے اس بارے میں ہمارے موقف پر جرح کی ہے اور اس پر اعتراضات وارد کیے ہیں. اس آیۂ مبارکہ کے ضمن میں جو کچھ ہم بیان کرتے رہے ہیں اس پر ان صاحب نے اعتراض کرتے ہوئے یہ کہا ہے کہ اس آیت سے یہ مراد لینا کہ پورے کرۂ ارضی اور روئے زمین پر اللہ کے دین کو غالب کرنا نبی اکرم کی بعثت کی غرض اور مقصد ہے‘ غلط ہے‘ بلکہ لِیُظۡہِرَہٗ عَلَی الدِّیۡنِ کُلِّہٖ سے مراد صرف جزیرہ نمائے عرب کے ادیان پر دین حق کو غالب کر دینا ہے اور یہی درحقیقت رسولِ اکرم کا فرضِ منصبی تھا ‘جو آپؐ نے ادا فرما دیا.

یہ بات اگر اس انداز میں کہی جائے کہ اوّلین فریضہ جو بنفسِ نفیس محمدٌ رسول اللہ کے ذریعہ سے پورا ہونا تھا وہ جزیرہ نمائے عرب پر دین اسلام کا غلبہ تھا‘ تو اس میں کوئی شک نہیں. یہ بات تو ہم بھی بیان کرتے ہیں. لیکن اس میں ایک ترتیب و تدریج ہے. جیسا کہ 
’’شہادت علی الناس‘‘ کے ضمن میں اگرچہ حضور کی بعثت پوری نوع انسانی کی طرف ہے اور ہر انسان جو قیامت تک اس دنیا میں آئے گا وہ درحقیقت حضور کی اُمتِ دعوت میں شامل ہے‘ لیکن اس شہادت علی الناس کی ذمہ داری کی ترتیب یہ قائم ہوئی کہ حضور نے بنفسِ نفیس اہل عرب کو تبلیغ فرمائی اور ان میں ایک اُمت برپا کر دی. اور اس طرح جو اُمت وجود میں آئی اب تاقیامِ قیامت اس تبلیغ کی ذمہ داری اس کے حوالے کر دی. اس طرح شہادت علی الناس کی یہ ذمہ داری نبی ٔ اکرم کے ذریعے سے دو مرحلوں میں پوری ہوئی. پہلے مرحلہ میں حضور نے خود اِس ذمہ داری کو پورا فرمایا اور اس کی دوسرے مرحلے میں تکمیل بذریعہ اُمتِ محمدی علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام ہو گی. یہ بات بالکل دو اور دو چار کی طرح واضح ہے اور اس میں کوئی اشکال نہیں. چنانچہ حضور کے فرمان بَلِّغُوْا عَنِّیْ وَلَوْ آیَۃً (۱میں درحقیقت اسی فرضِ منصبی کی تاکید ہے کہ ہر اُمتی اس ذمہ داری کی تکمیل میں حصّہ لے‘ خواہ ایک ہی آیت کی حد تک لے. اور یہاں ’’عَنِّیْ‘‘ کا اصل مفہوم انگریزی زبان میں اردو کی نسبت زیادہ واضح طور پر ’’on my behalf‘‘ کے الفاظ سے ادا ہوتا ہے. جو شخص بھی تبلیغ کر رہا ہے‘ جس نے بھی کی ہے ‘ وہ معین الدین اجمیریؒ ہوں یا علی ہجویریؒ ہوں‘ جو بھی اللہ تعالیٰ کے اس پیغام کو لے کر کہیں بھی گیا ہے تو یہ درحقیقت تبلیغ محمدیؐ ہے. یہ آپ ہی کا فیض ہے جو جاری ہے. جو کوئی بھی یہ تبلیغ کر رہا ہے وہ آپ ہی کی جانب سے‘ آپؐ ہی کے‘ behalf ‘پر کر رہا ہے اور جو کوئی کرے گا وہ بھی آپ ہی کے‘ behalf‘ پر کرے گا.

بالکل یہی ترتیب و تدریج 
’’اظہارُ دینِ الحقّ علی الدِّینِ کُلِّہٖ‘‘ میں ہے کہ حضور نے جزیرہ نمائے عرب پر دین کو غالب کر دیا اور اس حد تک غلبۂ دین کی تکمیل ہو گئی . اب اس عمل کو آخری مرحلے اور آخری درجے تک پہنچانا اُمت کی ذمہ داری ہے‘ لیکن اس ضمن میں اُمت کے ہاتھوں جو کچھ ہو گا وہ بھی اصل میں حضور ہی کا فیض ہے. لہذا اس تدریج کو اگر یہاں بیان کیا جائے تو قطعاً کوئی حرج نہیں ہے‘ لیکن اگر اس معاملے کو محدود کر دیا جائے تو یہ غلط ہو گا.

دراصل اِن حضرات نے اصل ٹھوکر سورۃ الجمعۃ میں وارد الفاظ 
وَّ اٰخَرِیۡنَ مِنۡہُمۡ لَمَّا یَلۡحَقُوۡا بِہِمۡ ؕ کا مفہوم سمجھنے میں کھائی ہے. سورۃ الجمعۃ کی دوسری آیت یوں ہے : ہُوَ الَّذِیۡ بَعَثَ فِی الۡاُمِّیّٖنَ رَسُوۡلًا مِّنۡہُمۡ... ’’وہی ہے (اللہ) جس نے اٹھایا اُمّیین (۱) صحیح البخاری‘ کتاب احادیث الانبیاء‘ باب ما ذکر عن بنی اسرائیل. سے ایک رسول انہی میں سے...‘‘. اور اگلی آیت میں عطف آتا ہے : وَّ اٰخَرِیۡنَ مِنۡہُمۡ لَمَّا یَلۡحَقُوۡا بِہِمۡ ؕ ’’اور دوسرے انہی میں سے جو ابھی ان میں شامل نہیں ہوئے.‘‘ ان حضرات نے یہ رائے قائم کر لی کہ ’’اٰخَرِیۡنَ ‘‘ سے مراد بھی عرب ہی کے لوگ ہیں کہ جو اس آیت کے نزول تک ایمان نہیں لائے تھے‘ بعد میں ایمان لائے.

’’اٰخَرِیۡنَ ‘‘ کے اس مفہوم سے ہمیں اختلاف ہے‘ کیونکہ اوّلاً تو یہ بات اس کلام کی عظمت کے منافی ہے‘ اس لیے کہ یہاں عطف جس اہتمام سے لایا جا رہا ہے یہ اس کے ساتھ مناسبت رکھنے والی بات نہیں ہے. دوسرے یہ کہ اس کے بارے میں ہمارے پاس ایک صحیح حدیثِ مرفوع موجود ہے. قرآن مجید کے بہت سے مقامات ایسے ہیں کہ اُن کے بارے میں حضور سے سوال کیا گیا اور آپ ؐ نے اس کا جواب ارشاد فرمایا. اب رسول اللہ کی وضاحت کے بعد بھی کسی اور طرف دیکھنا اور اِدھر اُدھر جھانکنا تو درحقیقت حدیثِ نبویؐ سے اعراض کی صورت ہو جائے گی‘ اس لیے کہ قرآن مجید کے اجمال کی تفصیل اور قرآن مجید میں اگر کہیں وضاحت مطلوب ہے تو اس کی توضیح اور تبیین بھی درحقیقت فرضِ منصبی ہے محمدٌ رسول اللہ کا. چنانچہ قرآن کے کسی مقام کی وضاحت میں جب ہمیں رسول اللہ کا کوئی قول مل جاتا ہے تو دیگر اقوال کی کوئی حیثیت نہیں رہ جاتی. مثال کے طور پر حروفِ مقطعات کے بارے میں اگر ہمیں حضور سے کوئی مرفوع قول مل جائے تو ہمیں اِس وادی اور اُس وادی میں سرگردانی کی کوئی احتیاج نہیں. حروفِ مقطعات کے ضمن میں مَیں نے بارہا کہا ہے کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہماکا ایک قول ہمیں ملتا ہے لیکن مرفوع نہیں ہے. تومعلوم ہوا کہ وہ ان کا اپنا ایک وجدانی اور ذوقی خیال ہے‘ لہذا اُمت میں سے کسی نے چاہا توقبول کیا‘ کسی نے چاہا توقبول نہیں کیا. لیکن اگر مرفوع قول ہوتا کہ حضور نے یہ فرمایا ہے تو پھر ظاہر ہے کہ ہمارے لیے اسے قبول کرنے کے سوا قطعاً کوئی اور راستہ نہیں تھا. بلکہ اگر کوئی شخص قولِ رسولؐ کی موجودگی میں کسی اور قول کی طرف التفات کرتا ہے یا اپنی رائے ظاہر کرنے کی کوشش کرتا ہے تو وہ نبی اکرم کے مقام و مرتبہ سے آگاہ نہیں ہے. بدقسمتی سے اس معاملہ میں ان صاحب سے یہی ہوا. 
حضور کی متفق علیہ مرفوع حدیث موجود ہے‘ حضور سے پوچھا گیا کہ 
’’اٰخَرِیۡنَ مِنۡہُمۡ ‘‘ کون ہیں؟ اسی محفل میں حضرت سلمان فارسیؓ موجود تھے‘ آپؐ نے ان کی طرف اشارہ فرمایا. یعنی ’’اس کی قوم‘‘.اور پھر آپؐ نے فرمایا کہ ایمان اگر ثریا پر بھی ہو گا تو اس کی قوم کا کوئی فرد وہاں سے بھی لے آئے گا. ایک روایت میں ’’ایمان‘‘ کی جگہ ’’علم‘‘ کا لفظ ہے. اور اس سے مراد صرف ایرانی قوم نہیں‘ بلکہ یوں سمجھئے کہ حضور نے آریائی نسل کے خاص وصف کی طرف اشارہ کیا ہے. آریائی نسل میں علم و حکمت‘ فلسفہ اور منطق کوٹ کوٹ کر بھرے ہوئے ہیں. آریائی نسل یونان‘ ایران اور ہندوستان میں آباد ہوئی اور دنیا میں علم اور فلسفہ و حکمت کے یہی تین عظیم مراکز رہے ہیں. فلسفہ و منطق‘ مسائل کی گہرائی میں جانا‘ بال کی کھال اُتارنا اور حقیقت تک اپنی عقل کے ذریعے سے پہنچنے کی کوشش کرنا آریائی نسل کا ایک خصوصی وصف اور ان کے مزاج کا جزوِ لاینفک ہے. اور جباٰخَرِیۡنَ مِنۡہُمۡ کے بارے میں رسول اللہ کی صراحت موجود ہے تو اس کے بعد اب اس کی کوئی اور توجیہہ کرنا درست نہیں ہے‘ بلکہ یہ رسول اللہ کے قول کا استخفاف ہے. 

اس کے علاوہ ان صاحب نے جو ستم ڈھایا ہے اس کو میں 
تحریف فی الترجمہ کہوں گا.میرے نزدیک یہ قرآن مجید میں تحریف کے ہم وزن بات ہے. اس سے پہلے یہ ہوتا رہا ہے کہ قرآن مجید کی کسی آیت کے مفہوم میں اگر مترجم نے یہ سمجھا کہ کچھ الفاظ مقدر ہیں تو بریکٹ میں ان کو شامل کر دیا جاتا ہے. یہ کام مولانا ابوالکلام آزاد نے کثرت سے کیا ہے. اس سے پہلے کے تراجم میں ہمیں یہ چیزیں نہیں ملتیں. جس دَور میں یہ ضرورت محسوس ہوئی تھی کہ قرآن مجید کا لفظی ترجمہ کیا جائے اُس وقت احتیاط کی وہ انتہا تھی کہ ہر لفظ کے نیچے اس کا ترجمہ آئے‘ چاہے اردو میں جملے کی ترکیب کا حق ادا نہ ہو‘ تقدیم و تأخیر ہو جائے‘ کوئی پرواہ نہیں‘ لیکن قرآنی الفاظ کی ترتیب برقرار رہے.چنانچہ قرآن حکیم کا لفظی ہی نہیں لفظ بلفظ ترجمہ کیا جاتا تاکہ مفہوم میں کسی اونچ نیچ کی کوئی ذمہ داری مترجم پر نہ آئے.پھر ایک رجحان یہ آیا کہ ترجمہ کو بامحاورہ کرنے کی کوشش کی جائے‘ چاہے الفاظ میں کچھ تقدیم و تأخیر ہو جائے‘ لیکن پھر بھی التزام کیا گیا کہ لفظی ترجمہ ہو. 

بیسویں صدی کے تراجم میں ایک نیا ذوق پیدا ہوا کہ ایسا ترجمہ ہو جس کو پڑھ کر انسان اس کے مفہوم کو پوری طرح سمجھ لے. لہذا اس میں کچھ اضافے قوسین (بریکٹ) میں کرنے کا آغاز کیا گیا. بریکٹ میں اضافہ کرنے کا مطلب یہ تھا کہ یہ الفاظ قرآن کے متن میں نہیں ہیں‘ لیکن مترجم کے نزدیک ان الفاظ کے اضافے سے اس آیت کا مفہوم رواں بن جاتا ہے اور بات واضح ہو جاتی ہے. اس کا آغاز مولانا ابوالکلام آزاد نے کیا. مولانا اشرف علی تھانویؒ اور مولانا فتح محمد جالندھری ؒ کے تراجم میں بھی قوسین 
(brackets) کا استعمال کثرت سے کیا گیا ہے.مولانا ابوالکلام آزاد نے اپنی توجیہات و تأویلات کو بھی ترجمہ میں شامل کیا ہے ‘مگر قوسین کے اندر.لیکن آج یہ غضب ڈھایا گیا ہے کہ لِیُظۡہِرَہٗ عَلَی الدِّیۡنِ کُلِّہٖ کا ترجمہ یوں کیا گیا ہے : ’’تاکہ اسے عرب کے تمام ادیان پر غالب کر دے.‘‘ اور اپنے اس اضافے کو بغیر بریکٹس کے باضابطہ متن کے ساتھ شامل کر دیا گیا ہے. یہ درحقیقت میرے نزدیک نہ صرف بہت بڑی جسارت اور گمراہی ہے‘ بلکہ تحریف فی القرآن کے مساوی ہے. آپ ایک آیت کا جو مفہوم سمجھتے ہیں آپ کا حق ہے کہ اسے بیان کریں. اس کی بہترین شکل تو یہ ہے کہ آپ اپنی وضاحت حواشی میں بیان کریں. مزید اضافہ کرنا ضروری سمجھتے ہیں توبریکٹس میں کریں. جو چیز قرآن کے متن میں سرے سے موجود ہی نہیں ‘وہ آپ کا اپنا ذہن و فکر ہے‘ وہ ایک تأویل ہے جو آپ کے سامنے آئی ہے‘ اسے قرآن کے متن میں شامل کر دینا بہت بڑی زیادتی ہے.

اس طرزِ عمل کی وجہ یہ ہے کہ جب انسان کسی سبب سے کسی شے کی مخالفت پر کمر کس لے تو یہ چیز اسے اندھا بہرا بنا دیتی ہے .جیسے حضور نے فرمایا ہے : 
حُبُّکَ الشَّیْ ءَ یُعْمِیْ وَیُصِمُّ (ابوداؤد و مسند احمد) ’’تیرا کسی چیز سے محبت کرنا تجھے اندھا بہرا بنا دیتا ہے.‘‘ اسی طرح مخالفت‘ دشمنی اور بغض و عناد بھی انسان کو اندھا بہرا کر دیتا ہے. اِن آیات کے بارے میں شاہ ولی اللہ دہلوی رحمہ اللہ کا موقف جو انہوں نے ’’ازالۃ الخفاء عن خلافۃ الخلفاء‘‘ میں بیان کیا ہے‘ میثاق (اپریل ۱۹۸۶ء) میں شائع کیا جا چکا ہے . کسی کو چند عربی اشعار ازبر ہوں اور جاہلی شاعری سے کچھ مناسبت ہو تو اس کے معنی یہ نہیں کہ وہ شاہ ولی اللہ ؒ سے بھی آگے نکل گیا. اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ قرآن کی اس عبارت کی صرفی و نحوی ترکیب شاہ ولی اللہ کی نظروں سے بھی اوجھل رہی.یہی درحقیقت انسان کی طبیعت کا وہ نشوز ہے جس سے پھر فتنے جنم لیتے ہیں. اسی سے اُمت کے اندر طرح طرح کی گمراہیاں پیدا ہوئیں اور پھلی پھولیں . اللہ تعالیٰ ہمیں اس سے اپنے حفظ و امان میں رکھے. (آمین)
اس نشست میں مَیں اس آیۂ مبارکہ پر کچھ عرض نہیں کر رہا ہوں. اس پر میں ’’نبی ٔ اکرم کا مقصد بعثت‘‘ نامی کتابچے میں تفصیل سے لکھ چکا ہوں اور مجھے اس پرپورا انشراح ہے. اس آیت کے جو مختلف ترجمے کیے گئے ہیں میں نے ان سب کو پیش نظر رکھا ہے اور 
لِیُظۡہِرَہٗ کی ضمیر فاعلی اور ’’ہٗ‘‘کی ضمیر مفعولی کے تمام امکانات کو زیر بحث لا کر یہ ثابت کیا ہے کہ کسی بھی طرح مراد میں قطعاً کوئی فرق واقع نہیں ہوتا. لِیُظۡہِرَ کا فاعل رسول ہو یا اللہ‘ نتیجہ ایک ہی نکلتا ہے. ’’تاکہ رسول غالب کر دے دین حق کو‘‘ مفہوم لیا جائے یا’’تاکہ اللہ غالب کر دے اپنے دین کو‘‘ اس سے نتیجے میں کوئی فرق واقع نہیں ہوگا. اس لیے کہ فاعل حقیقی تو اللہ ہی ہے‘ لیکن اس کے لیے محنت انسان کو کرنی پڑتی ہے. چنانچہ مشقت محمدٌرسول اللہ نے جھیلی ہے‘ فاقے آپؐ کو برداشت کرنے پڑے ہیں‘شعب بنی ہاشم کی تین سال کی اسیری کے تمام شدائد و مصائب کا معاملہ حضور کے ساتھ ہوا ہے . آپؐکو اپنے جسم اطہر پر پتھراؤ برداشت کرنا پڑاہے. صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو اپنی جانیں دینی پڑی ہیں‘مگر فاعل حقیقی اللہ ہی ہے‘ ازروئے الفاظِ قرآنی : وَ مَا رَمَیۡتَ اِذۡ رَمَیۡتَ وَ لٰکِنَّ اللّٰہَ رَمٰی ۚ (الانفال:۱۷عالمِ واقعہ میں تو حضور نے مٹھی بھر کر کنکریاں پھینکی تھیں لیکن اللہ نے فرمایا کہ آپؐ نے نہیں‘ ہم نے پھینکی ہیں. گویا؏ ’’ہاتھ ہے اللہ کا بندۂ مؤمن کا ہاتھ!‘‘تو نتیجہ کے اعتبار سے کوئی فرق واقع نہیں ہوتا.رازقِ حقیقی یقینا اللہ ہے‘ اگرچہ رزق کے لیے محنت و مشقت اور معاشی بھاگ دوڑ انسان کرتا ہے. اسی طرح ’’اظہارُ دینِ الحقّ علی الدِّینِ کُلِّہٖ‘‘ کافاعل حقیقی اللہ ہے جبکہ اس کے لیے محنت و مشقت کرنی پڑی ہے ’’مُحَمَّدٌ رَّسُوۡلُ اللّٰہِ ؕ وَ الَّذِیۡنَ مَعَہٗۤ‘‘ کو صلی اللہ علیہ وسلم ورضوان اللہ علیہم اجمعین. 

کسی نے کہا کہ ہٗ کی ضمیر مفعولی حضور کی طرف جاتی ہے ’’تاکہ اللہ غالب کر دے اپنے رسول کو‘‘. نتیجہ پھر بھی وہی آئے گا‘ اس لیے کہ رسولؐ کے غلبے کا مطلب دین ہی کا غلبہ تھا. رسولؐ نے کوئی اپنی سلطنت کی بنیاد نہیں رکھی‘ کوئی اپنے نام سے حکومت قائم نہیں کی‘ بلکہ رسول اللہ کا معاملہ تو دوسری انتہا پر نظر آتا ہے کہ جب عام مسلمانوں کے گھروں میں بھی کشادگی و فراوانی آ چکی تھی‘ تنگی ختم ہو چکی تھی‘ اُس وقت بھی آپؐ نے اپنا چولہا ٹھنڈا رکھا ہے. جب تمام مسلمانوں کے ہاں خدام اور کنیزیں تھیں اُس وقت بھی اپنی لخت جگر حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو کوئی کنیز یا غلام عطا نہیں کیا. تو وہ غلبہ محمدٌ کا اس معنی میں نہیں تھا کہ کسی شخصیت کا غلبہ تھا‘ بلکہ وہ دین کا غلبہ تھا.میں چاہتا ہوں کہ آپ سب حضرات میرے مقالے ’’نبی اکرم کا مقصدِ بعثت‘‘ کا مطالعہ ضرور کریں ‘تاکہ یہ جو فتنے اُٹھ رہے ہیں اور ہم نے اپنی اجتماعی جدوجہد کا جو ہدف معین کیا ہے’’اقامت دین‘‘ اور ’’اظہارُ دینِ الحقّ علی الدِّینِ کُلِّہٖ‘‘ اس کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا کرنے کی جو کوششیں ہو رہی ہیں تو ہم کہیں لاعلمی میں اور اپنی کم فہمی کے باعث یا ان حقائق کے واضح نہ رہنے کے باعث کسی ایسی تحریک یا کوشش سے متاثر نہ ہو جائیں.