صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا وصفِ اوّل

ان کا پہلا وصف یہ ہے : اَشِدَّآءُ عَلَی الۡکُفَّارِ رُحَمَآءُ بَیۡنَہُمۡ ’’کفار پر بہت سخت اور آپس میں رحم دل ہیں.‘‘ ظاہر ہے کہ جب وہ ایک ہیئت اجتماعی میں شریک ہو گئے تو اب ایک تفریق ہو ئی ہے. ایک وہ ہیں جو ا س ہیئت اجتماعیہ میں شامل ہیں اور ایک وہ ہیں جو شامل نہیں ہیں‘ تو ان میں حدّ فاصل قائم ہو گئی. پھر یہ کہ جو آ گئے ہیں ان میں بھی حفظِ مراتب ہو گا‘ سب برابر تو نہیں ہوتے. ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کااپنا مقام و مرتبہ ہے‘ عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا اپنا مقام و مرتبہ ہے‘ ہر گلے را رنگ و بوئے دیگر است! صحابہؓ کے اندر تفضیل تو ہے. جیسا کہ قرآن مجید میں انبیاء و رُسل کے بارے میں فرمایاگیا : تِلۡکَ الرُّسُلُ فَضَّلۡنَا بَعۡضَہُمۡ عَلٰی بَعۡضٍ ۘ ’’یہ وہ رسول ہیں کہ بعض کو ہم نے بعض پرفضیلت دی‘‘.اسی طرح صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین میں بھی بعض کو بعض پر فضیلت حاصل ہے. ہمارے ہاں اہل سنت کے نزدیک یہ بات متفق علیہ ہے کہ بالکل چوٹی پر تو چار خلفائے اربعہ ہیں اور ان میں جو ترتیب خلافت ہے یہی ترتیب فضیلت ہے کہ خلیفۂ اوّل تمام صحابہؓ میں افضل ہیں‘ پھر خلیفۂ ثانی‘ پھر خلیفۂ ثالث اور پھر خلیفۂ رابع. اس کے بعد پھر چھ حضرات عشرۂ مبشرہ میں سے ہیں. ان کے بعد پھر نیچے اتریں گے تو ۳۱۳ اصحابِ بدر ہیں. پھر ذرا اور نیچے اتریں تو ۱۴۰۰ یا ۱۸۰۰ اصحاب ِبیعت رضوان ہیں. اس سے پھر ایک سیڑھی نیچے اتریں تو وہ سب لوگ جو فتح سے پہلے ایمان لائے. (فتح سے مراد صلح حدیبیہ ہے یا فتح مکہ‘ اس میں اختلاف ہے) اور پھر اس کے بعد وہ سب صحابہؓ جو فتح کے بعد ایمان لائے. اس کے لیے سورۃ الحدید میں نص بھی موجود ہے: 

لَا یَسۡتَوِیۡ مِنۡکُمۡ مَّنۡ اَنۡفَقَ مِنۡ قَبۡلِ الۡفَتۡحِ وَ قٰتَلَ ؕ اُولٰٓئِکَ اَعۡظَمُ دَرَجَۃً مِّنَ الَّذِیۡنَ اَنۡفَقُوۡا مِنۡۢ بَعۡدُ وَ قٰتَلُوۡا ؕ 
’’تم میں سے جو لوگ فتح کے بعد خرچ اور جہاد کریں گے وہ کبھی ان لوگوں کے برابر نہیں ہو سکتے جنہوں نے فتح سے پہلے خرچ اور جہاد کیا ہے. ان کا درجہ بہرحال بعد میں خرچ اور جہاد کرنے والوں سے بڑھ کر ہے.‘‘

تو یہ فرقِ مراتب اور حفظِ مراتب ان میں بھی ہے کہ جو 
’’الَّذِیۡنَ مَعَہٗۤ ‘‘ میں شامل ہیں. وہ اس جماعت کے افراد ہیں‘ سب محمد کے ساتھی ہیں‘ ان کے لیے علیحدہ علیحدہ کوئی نام بھی نہیں رکھے گئے‘ ان میں قانون کے درجے میں کوئی درجہ بندی نہیں تھی‘ جو اپنے جذبہ سے جتنا قریب آ گیا‘ جس نے جتنی محنت کی‘ جس نے جتنی قربانیاں دیں‘ جس نے جتنا زیادہ وقت صرف کیا‘ جس نے اپنے آپ کو جتنا چمٹا لیا محمد سے اتنا ہی وہ قریب ہوتا چلا گیا اور اتنا ہی پھر حضور مشوروں میں ان پر زیادہ اعتماد فرمانے لگے.حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ نے ’’قــرۃ العینین فی تفضیل الشیخین‘‘ میں رسول اللہ کے بہت سے اقوال نقل فرمائے ہیں کہ آپؐ کے کلامِ مبارک میں یہ انداز بکثرت ملے گا : جِئْتُ اَنَا وَاَبُوْبَکْرٍ وَعُمَرُ ’’میں آیا اور ابوبکرؓ آئے اور عمرؓ آئے.‘‘ اسی طرح ذَھَبْتُ اَنَا وَاَبُوْبَکْرٍ وَعُمَرُ ’’میںؐ بھی گیا تھا اور ابوبکرؓ اور عمرؓ بھی.‘‘چنانچہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ جو دو حضرات ہیں ’’صاحبین‘‘ یہ تو گویا ہر وقت سائے کی طر ح حضور کے ساتھ ہوتے تھے اور جب بھی کوئی مشورہ ہوتا تو اوّلیت انہی کو حاصل ہوتی. اسی طرح ایک فطری ترتیب تو وہاں قائم تھی ‘لیکن کوئی قانونی ترتیب قائم نہیں کی گئی. بہرحال ایک حد بندی تو یہ ہو گئی کہ جو آپؐ کے ساتھ نہیں ہیں وہ علیحدہ ہیں اور جو ساتھ ہیں وہ علیحدہ. 

پھر جس طرح ان ساتھ والوں میں درجہ بندی اور حفظ مراتب ہے اسی طرح ’’نہ ہر زن زن است ونہ ہر مرد مرد‘‘ کے مصداق جو آپؐ کی جماعت میں شامل نہیں‘جو باہر ہیں وہ بھی سب برابر نہیں ہیں. باہر تو ابوطالب اور مطعم بن عدی بھی ہیں‘ لیکن دونوں شریف لوگ ہیں‘ حضور کی مخالفت نہیں کر رہے ‘بلکہ تعاون ہی کررہے 
ہیں. وہ لوگ بھی ابھی ساتھ نہیں آئے تھے کہ جو شعب بنی ہاشم میں پہاڑ کی چوٹی کو عبور کر کے رات کے وقت جا کر کچھ کھانے پینے کا سامان پہنچاتے تھے. ان میں حکیم بن حزامؓ ہیں جو اُس وقت تک ایمان نہیں لائے تھے .تو جوباہر ہیں ان میں بھی درجہ بندی ہو گی. ایک وہ ہیں جو ساتھ تو نہیں ہیں لیکن معاند اور مخالف بھی نہیں ہیں‘دشمن نہیں ہیں‘ ایذا پر کمر بستہ نہیں ہیں اور ایک وہ ہیں کہ جو مخالفت میں پیش پیش ہیں. اب ان میں بھی ہر ایک کا الگ درجہ ہو گا. کسی میں رسول اللہ اور آپؐ کے ساتھیوں سے عناد‘ بغض اور دشمنی آخری درجے کو پہنچی ہوئی ہے‘ جیسے ابوجہل اور ابولہب ہیں‘ چاہے وہ انتہائی قریبی رشتہ دار ہیں. ابوجہل کا قبیلہ ایک ہے مگر گھرانہ ایک نہیں ہے‘ لیکن ابولہب کا تو قبیلہ‘ گھرانہ اور خاندان وہی ہے. اس کا حضور کے ساتھ چچا اور بھتیجے کا رشتہ ہے. لیکن جس طرح ابوجہل دشمن ہے اتنا ہی ابولہب بھی ہے. تو یہ درجہ بندی بھی ذہن میں رکھیں.اور اسی کے اعتبار سے اب نسبت بدل جائے گی. پہلی چیز جو اِس اجتماعیت کی تقویت کے لیے لازم ہے وہ یہ کہ دلی تعلق کا معیار اب اسی کے مطابق ڈھل جائے. جو اجتماعیت ایک مقصد کے تحت وجود میں آئی ہے اس مقصد کے ساتھ جتنی گہری وابستگی (commitment) اور جتنا گہرا دلی تعلق ہے اس کا ظہور ہونا چاہیے. اس مقصد کے حوالے سے جو لوگوں میں تقسیم ہوئی ہے اور درجہ بندی ہوئی ہے اس کا عکس اگر اس جماعت میں نظر آئے تب تو درحقیقت ظاہر و باطن اور قول و عمل میں ہم آہنگی ہے. اور اگر ایسا نہیں ہے تو یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ آپ کی اس مقصد کے ساتھ وابستگی صحیح نہیں ہے. آپ دعویٰ ضرور کر رہے ہیں لیکن حقیقت میں وہ مقصد آپ کے احساسات میں جذب نہیں ہوا‘ ورنہ جس کو یہ مقصد جتنا عزیز ہو اتنا ہی وہ آپ کو عزیز اور محبوب ہونا چاہیے اور جو اس مقصد سے جتنا دور ہے وہ اتنا ہی آپ کے دل سے دور ہونا چاہیے.

اس ضمن میں یہ بات ذہن میں رکھئے کہ ایک ہمارا ظاہری برتاؤ ہے‘ اس میں قانون کا معاملہ ہو گا‘ کون باپ ہے‘ کون ماں ہے‘ کون دوسرے درجہ پر ہمارا عزیز ہے اور اس کے کیا حقوق ہیں. جیسا کہ والدین کے معاملے میں فرمایا کہ وہ تمہیں شرک پر 
مجبور کر رہے ہوں تو تمہیں ان کا کہنا نہیں ماننا ‘لیکن اس کے باوجود یہ نہیں کہ اُن کے سارے حقوق ساقط ہو جائیں گے ‘بلکہ ان کے ساتھ حسن سلوک اسی طرح برقرار رہے گا وَ صَاحِبۡہُمَا فِی الدُّنۡیَا مَعۡرُوۡفًا . اسی طرح بھائیوں کا یا دوسرے رشتہ داروں کا معاملہ ہے کہ ان کے جوبھی حقوق ہیں وہ ادا کیے جائیں. خاص طور پر جب معاملہ مسلمانوں کے مابین آ جائے گا تو جو بھی مسلمان کے قانونی حقوق ہیں وہ ادا کرنے ہوں گے .اور پھر شریعت میں قرابت دار مسلمان کا حق فائق ہے‘ وہ جوں کا توں قائم رہے گا. لیکن ایک دلی تعلق ہوتا ہے‘ اس کے مستحق وہ ہیں جو آپ کے ہم مقصدساتھی ہیں.اگر تمہارا قلبی میلان ان لوگوں کی طرف ہے جو اس مقصد میں تمہارے ساتھی نہیں ہیں‘ جو اس سفر میں تمہارے ہم سفر نہیں ہیں‘ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ تم پر اس سفر کی قدر و قیمت ہی منکشف نہیں ہوئی‘ اس کی حیثیت کو تم نے جانا ہی نہیں. جیسا کہ قرآن مجید میں آتا ہے: مَا قَدَرُوا اللّٰہَ حَقَّ قَدۡرِہٖ ؕ (الحج:۷۴’’انہوں نے اللہ کی قدر نہیں کی جیسا کہ اس کی قدر کرنی چاہیے.‘‘ اللہ کا اندازہ نہ کیا جیسا کہ اندازہ کرنا چاہیے. 
اس سارے معاملے کا دار و مدار ہمارے 
value system پر ہوتا ہے کہ کس چیز کی آپ کی نگاہ میں قدر و منزلت ہے‘ اسی کے اعتبار سے آپ کا رویہ طے پائے گا. اگر آپ نے اس کام کی قدر کو سمجھا ہے تو پھر ان لوگوں کی قدر و منزلت آپ کی نگاہ میں ہو گی اور ان سے محبت ہو گی جو آپ کے اس کام میں شریک ہیں‘ آپ کے دست و بازو ہیں‘ آپ کے ساتھ لگے ہوئے ہیں‘ جن کو آپ رفیق‘کامریڈ‘ colleague‘ ہم سفر اور ہم مقصد ساتھی کہتے ہیں ‘ اور آپ کی محبت ان کے ساتھ نہیں ہو گی جو آپ کے ساتھ نہیں ہیں‘ جو اس مقصد کے دشمن ہیں‘ جو اس کے ساتھ بغض و عناد رکھتے ہیں‘ جو اس کے راستے میں روڑے اٹکاتے ہیں‘ اب ان کے ساتھ تو کسی درجے میں مودّت کا معاملہ بھی نہیں رہے گا‘ بلکہ حقیقت کے اعتبار سے ان کے ساتھ بالقوۃ (potentially) دشمنی کی نسبت قائم ہو گی. اس لیے کہ دوستی اور دشمنی کا معیار تو اللہ تعالیٰ ہے. چنانچہ جو اللہ کا دشمن ہے وہ ہمارا دشمن ہے‘ جو اللہ کے دین کا دشمن ہے وہ ہمارا دشمن ہے‘ چاہے وہ اپنے آپ کو مسلمان کہلاتا ہو‘ چاہے وہ ہمارا بھائی یا بیٹا ہو‘ خواہ وہ ہمارے عزیز رشتہ دار ہوں. تو جہاں تک وہ لوگ ہیں کہ جو مخالفت پر کمر کس چکے ہوں ان کے باب میں ’’اَشِدَّآءُ عَلَی الۡکُفَّارِ ‘‘ کا معاملہ ہو گا. یعنی بہت بھاری ہیں ان پر جو انکار کرنے والے ہیں‘ معاند ہیں. 

یہ وضاحت اس لیے کر رہا ہوں کہ سورۃ المُمتحنہ میں فرمایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں ان غیر مسلموں کے ساتھ نیکی اور انصاف کا برتاؤ کرنے سے نہیں روکتا کہ جنہوں نے دین کے معاملے میں تم سے جنگ نہیں کی اور تمہیں گھروں سے نہیں نکالا‘ انہوں نے تمہارے خلاف کوئی جتھا بندی نہیں کی‘ ان کے ساتھ حسن سلوک ہو تو کوئی حرج نہیں. البتہ جن سے تمہیں شدت کے ساتھ روکتا ہے ان کی دوستی اور محبت سے باز آ جانا ایمان کا لازمی و بنیادی تقاضا ہے‘ اگر اس کو بھی پورا نہیں کرتے تو اصل میں تمہارا ایمان مشکوک ہو جائے گا. تو ان لوگوں کے ساتھ محبت‘ اخوت اور دوستی کا کوئی رشتہ برقرار رہنا ایمان کے منافی ہے کہ جو دین کے خلاف جتھا بندی اور محاذ آرائی کر رہے ہیں‘ جو جنگ میں تمہارے مدّمقابل بن کر آئے ہیں. اب اس بنا پر کہ تمہارے ان سے خاندانی روابط تھے‘ یا تم کبھی ان کے حلیف رہے ہو‘ یا ان سے کوئی خونی رشتہ ہے‘ ان سے تمہاری محبت قائم رہی تو پھر اس کا مطلب یہ ہوا کہ اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ تمہاری محبت سچی نہیں ہے. تو یہ فرق و تفاوت قرآن نے کیا ہے. یہاں چونکہ اجمال ہے اس لیے وہ فرق یہاں بیان نہیں ہوا تو میں نے مناسب سمجھا کہ اس کو دوسرے مقام کے حوالے سے کھول کر بیان کر دوں کہ یہ صفات ایک دوسرے کا عکس ہیں : 
اَشِدَّآءُ عَلَی الۡکُفَّارِ رُحَمَآءُ بَیۡنَہُمۡ کہ جو بھی مخالفین و معاندین ہیں ان پر بہت بھاری ہیں اور جو اپنے شریک سفر ‘ہم مقصد ساتھی ہیں ان کے لیے بہت نرم ہیں. 

بھاری یا سخت ہونے کا مطلب یہ نہ سمجھئے کہ ہر وقت ان کے درپئے آزار رہنا اور ہر وقت ان کی جڑ کاٹتے رہنا. بھاری ہونا اس معنی میں ہے کہ وہ یہ محسوس کریں کہ یہ لوگ اپنے موقف پر بہت سخت ہیں‘ ڈٹے ہوئے ہیں‘ ان کو ہلانا آسان نہیں ہے. 
مخالفین و معاندین ایسے محسوس کریں جیسے ہم محاورے میں کہتے ہیں کہ ان میں تو انگلی دھنسانے کا کوئی موقع نہیں ہے‘ یہ نرم چارہ نہیں ہیں کہ جدھر ہم چاہیں انہیں موڑ لیں‘ ذرا سی کچھ خاطر مدارات کر کے ان کو اپنی طرف راغب کر لیں‘ ان کی ذرا سی تألیفِ قلب کریں اور انہیں اپنے مقصد سے منحرف کردیں. نہیں‘ یہ بہت بھاری ہیں‘ چٹان کی مانند اپنی جگہ ڈٹے ہوئے ہیں‘ جس طرح کوہِ ہمالہ کو ہلانا ممکن نہیں ایسے ہی ان کو ہلانا بھی ممکن نہیں. جبکہ آپس میں یہ بہت رحیم اور شفیق ہیں. ان کا اپنا کوئی ساتھی آ کر اگر اپنی کوئی ضرورت بیان کرتا ہے تو یُؤۡثِرُوۡنَ عَلٰۤی اَنۡفُسِہِمۡ وَ لَوۡ کَانَ بِہِمۡ خَصَاصَۃٌ ؕ۟ (الحشر:۹کے مصداق وہ اسے خود اپنی ذات پر ترجیح دیں گے‘ چاہے خود تنگی میں ہوں‘ خود اس شے کی زیادہ احتیاج رکھتے ہوں ‘لیکن وہ اپنے بھائیوں کی ضرورت کو اپنی ضرورت پر مقدم رکھیں گے. یہ ہے ان کا باہم مہربان ہونا‘ رحیم ہونا ‘ شفیق ہونا. اور اصل میں رفیق کا بنیادی مفہوم یہی ہے. رفق کہتے ہیں دل کی نرمی کو. حدیث شریف میں الفاظ وارد ہوئے ہیں مَنْ یُحْرَمِ الرِّفْقَ یُحْرَمِ الْخَیْرَ (۱’’جو شخص دل کی نرمی سے محروم ہو گیا وہ (کُل کے کُل) خیر سے محروم ہو گیا‘‘. رفیق اصل میں وہی کہلائیں گے جو باہم ایک دوسرے کے لیے نرم ہوں‘ جن کے دلوں میں ایک دوسرے کے لیے نرم گوشے ہوں‘ جو ایک دوسرے کی تکلیف پر تڑپ اٹھیں‘ ایک دوسرے کے درد کو اپنے اندر محسوس کریں.تو یہ پہلا وصف ہے اس جماعت کے ’’رفقاء‘‘ کا جو اقامت دین کی کٹھن وادیوں میں قدم رکھنے کی تیاری کر رہی ہو‘ جو اس آیۂ مبارکہ کے حوالے سے ہمارے سامنے آیا ہے.