تواصی بالحق اور اس کی بلند ترین منزل

ہمارے منتخب نصاب نمبر ایک کا حصّہ چہارم تواصی بالحق اور حصّہ پنجم تواصی بالصبر سے متعلق مباحث پر مشتمل ہے. ان دونوں حصّوں کے درمیان ایک خلا تھا جو اِس منتخب نصاب نمبر ۲کے ذریعے پُر ہو رہا ہے. اس لیے کہ تواصی بالحق کے ضمن میں مَیں یہ بات (۱) صحیح مسلم‘ کتاب البر والصلۃ والآداب‘ باب فضل الرفق. عام طور پر بیان کیا کرتا ہوں کہ حق کا لفظ بہت وسیع ہے . حق چھوٹا بھی ہے اور حق بڑا بھی ہے. کسی نے کسی کے پانچ روپے دینے ہوں اور وہ نہ دے رہا ہو اور آپ جا کر تلقین کریں کہ بھائی وہ پانچ روپے جو تمہارے ذمہ ہیں ادا کرو‘ تو یہ بھی تواصی بالحق ہے. کوئی بچہ گلی میں کھیل رہا ہو‘ جو کہ اصلاً کھیلنے کی جگہ نہیں ہے ‘اور اس سے گزرنے والوں کے لیے تکلیف کا اندیشہ ہو تو اس بچے کو یہ سمجھانا کہ بیٹا یہاں مت کھیلو‘ یہ بھی تواصی بالحق ہے. کوئی نوجوان اپنے والدین کے حقوق ادا نہ کر رہا ہو تو اسے یہ تلقین کرنا کہ اپنے والدین کے حقوق پہچانو اور ادا کرو‘ یہ بھیتواصی بالحق ہے. لیکن سب سے بڑا حق یہ ہے کہ یہ زمین اللہ کی ہے‘ اس پر اسی کا حکم چلنا چاہیے‘ جائز حکمران صرف وہ ہے

؎
سروری زیبا فقط اُس ذاتِ بے ہمتا کو ہے
حکمراں ہے اک وہی ‘ باقی بتانِ آزری!

اب اس حق کا اعلان کرنا اور پھر اس حق کو فی الواقع بروئے کار لے آنا کہ ’’حق بحق دار رسید‘‘ کا معاملہ ہو جائے ‘ جسے احقاقِ حق کہا جائے گا‘ یہ تواصی بالحق کی سب سے اونچی منزل ہے اور یہی بندۂ مؤمن کے فرائض دینی کا اعلیٰ ترین مقام ہے. اس کو ہم ’’تکبیر ربّ‘‘سے بھی موسوم کرتے ہیں اور اقامت دین سے بھی تعبیر کرتے ہیں. اس کو ’’اظہارُ دینِ الحقّ علی الدِّینِ کُلِّہٖ‘‘ سے بھی تعبیر کیا گیا ہے اور اس کے لیے قرآن میں ’’وَّ یَکُوۡنَ الدِّیۡنُ کُلُّہٗ لِلّٰہِ ‘‘ کے الفاظ بھی آئے ہیں.یہی وہ منزل ہے جسے آنحضور نے اعلائے کلمۃ اللہ سے تعبیر فرمایا ہے. گویا بات ایک ہی ہے. 

آیۂ مبارکہ 
ہُوَ الَّذِیۡۤ اَرۡسَلَ رَسُوۡلَہٗ بِالۡہُدٰی وَ دِیۡنِ الۡحَقِّ لِیُظۡہِرَہٗ عَلَی الدِّیۡنِ کُلِّہٖ قرآن حکیم میں تین مقامات پر آئی ہے. سورۃ التوبۃ (آیت ۳۳) اور سورۃ الصف (آیت ۹) میں آیت کا اختتام وَ لَوۡ کَرِہَ الۡمُشۡرِکُوۡنَ ٪﴿۹﴾ کے الفاظ پر ہوتا ہے‘ جبکہ سورۃ الفتح میں الفاظ آئے ہیں : وَ کَفٰی بِاللّٰہِ شَہِیۡدًا ﴿ؕ۲۸﴾ ’’اور اللہ کافی ہے بطورِ گواہ‘‘.اس سے ایک اضافی بات سامنے آتی ہے. اگرچہ میں عرض کر چکا ہوں کہ ’’ لِیُظۡہِرَہٗ ‘‘ میں ضمیر فاعلی اور ضمیر مفعولی کے جتنے ممکنہ مراجع ہوسکتے ہیں ان سب کو پیش نظر رکھنے کے باوجود مراد اور معنی ٰ میں کوئی فرق واقع نہیں ہوتا‘ لیکن اس آیۂ مبارکہ میں وَ کَفٰی بِاللّٰہِ شَہِیۡدًا ﴿ؕ۲۸﴾ کے الفاظ نے معین کر دیا ہے کہ یہاں ضمیرِ فاعلی میں ’’مُحَمَّدٌ رَّسُوۡلُ اللّٰہِ ‘‘ ہی مراد ہو سکتے ہیں‘اللہ نہیں ہو سکتا‘ اس لیے کہ اللہ کو تو بطور ِگواہ لایا جا رہا ہے اور ظاہر ہے کہ گواہ اس فعل کا خود کرنے والا نہیں ہوتا‘ وہ کوئی نہ کوئی اُس کا غیر ہو گا. وَ کَفٰی بِاللّٰہِ شَہِیۡدًا ﴿ؕ۲۸﴾ کے دونوں مفہوم ممکن ہیں. ’’ کافی ہے اللہ بطورِ گواہ‘‘ یا ’’ کافی ہے اللہ بطورِ مددگار‘‘. شہید کا لفظ قرآن مجید میں مددگار کے معنوں میں بھی آتا ہے. سورۃ البقرۃ میں چیلنج کے انداز میں فرمایا گیا ہے : 

وَ اِنۡ کُنۡتُمۡ فِیۡ رَیۡبٍ مِّمَّا نَزَّلۡنَا عَلٰی عَبۡدِنَا فَاۡتُوۡا بِسُوۡرَۃٍ مِّنۡ مِّثۡلِہٖ ۪ وَ ادۡعُوۡا شُہَدَآءَکُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ اِنۡ کُنۡتُمۡ صٰدِقِیۡنَ ﴿۲۳﴾ 
’’اور اگر تم اس کتاب کے بارے میں شک میں مبتلا ہو جو ہم نے اپنے بندے پر نازل کی ہے تو اس کے مانند ایک سورت ہی بنا لاؤ‘ اور بلا لو اپنے مددگاروں کو اللہ کے سوا‘ اگر تم سچے ہو‘‘.

بہرحال یہ معلوم ہو گیا کہ یہاں 
’’ لِیُظۡہِرَہٗ ‘‘ کا فاعل اللہ نہیں ہے بلکہ محمدٌ رسول اللہ ہیں.

یہ بات بھی واضح ہو گئی کہ اگرچہ اُمت کے نمائندہ کی حیثیت سے اور داعی ٔ اوّل کی حیثیت سے محمدٌ رسول اللہ کونمایاں کیا گیا ہے‘ لیکن یہ کام تنہا ان کے کرنے کا نہیں ہے. سورۃ الصف میں اس بات کا اضافہ اس طور سے کیا گیا کہ اس آیت کے بعد اہل ایمان کو پکارا گیا:

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا ہَلۡ اَدُلُّکُمۡ عَلٰی تِجَارَۃٍ تُنۡجِیۡکُمۡ مِّنۡ عَذَابٍ اَلِیۡمٍ ﴿۱۰﴾تُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰہِ وَ رَسُوۡلِہٖ وَ تُجَاہِدُوۡنَ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ بِاَمۡوَالِکُمۡ وَ اَنۡفُسِکُمۡ ؕ ذٰلِکُمۡ خَیۡرٌ لَّکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ ﴿ۙ۱۱

’’اے اہل ایمان! میں بتاؤں تمہیں وہ تجارت جو تمہیں عذابِ الیم سے بچا دے؟ ایمان لاؤ اللہ اور اس کے رسول پر‘ اور جہاد کرو اللہ کی راہ میں اپنے مالوں سے اور اپنی جانوں سے ‘یہی تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم جانو‘‘. اس میں شک نہیں کہ دین کا غلبہ محمدٌ رسول اللہ کا فرضِ منصبی ہے‘ لیکن اس کے لیے تن من دھن کھپانا اُن کی ذمہ داری ہے جو اللہ پر اور محمد پر ایمان کے مدعی ہیں. لہذا یہ ایک اجتماعی جدوجہد ہو سکتی ہے‘ اس کے بغیر اس مقصد کا حصول ممکن نہیں ہے. یہاں سورۃ الفتح میں اس کو واضح کر دیا یہ الفاظ لا کر مُحَمَّدٌ رَّسُوۡلُ اللّٰہِ ؕ وَ الَّذِیۡنَ مَعَہٗۤ یعنی یہ ایک اجتماعی جدوجہد ہو گی محمدٌ رسول اللہ اور اُن کی جو اُن کے ساتھ ہیں (رضی اللہ عنہم). گویا اس جدوجہد کے لیے ایک مضبوط اور منظم جماعت ایک ناگزیر تقاضے اور شرطِ لازم کی حیثیت رکھتی ہے.