فضل خداوندی کا جامع مفہوم

یَّبۡتَغُوۡنَ فَضۡلًا مِّنَ اللّٰہِ وَ رِضۡوَانًا ۫ ’’اللہ کے فضل اور اس کی خوشنودی کی تلاش میں مشغول ہیں‘‘. اب یہاں دو الفاظ آئے ہیں:اللہ کے فضل کی تلاش اور اللہ کی رضا کی تلاش. پہلے تو فضل کو سمجھئے. قرآن حکیم کے جو مقامات خود آپ کو مستحضر ہیں (۱) صحیح مسلم‘ کتاب الامارۃ‘ باب من قاتل للریاء والسمعۃ استحق النار. ان میں ذرا نوٹ کیجیے کہ فضل کس کس معنیٰ میں آیا ہے.

سورۃ الجمعۃ میں اس دنیا کے مادی رزق کے لیے بھی فضل کا لفظ آیا ہے. فَاِذَا قُضِیَتِ الصَّلٰوۃُ فَانۡتَشِرُوۡا فِی الۡاَرۡضِ وَ ابۡتَغُوۡا مِنۡ فَضۡلِ اللّٰہِ... (آیت ۱۰’’پھر جب نماز ادا ہو جائے تو (اب تمہیں اجازت ہے کہ) زمین میں پھیل جاؤ اور اللہ کا فضل تلاش کرو.‘‘ یعنی معاشی جدوجہد میں اب کوئی شے آڑے نہیں ہے‘ تمہیں کوئی روکنے والا نہیں ہے. تو اس دنیا میں انسان کو جو مادی رزق حاصل ہوتا ہے‘ یعنی خوراک اور زندگی کے وسائل و ضروریات ‘یہ بھی فضل ہے.

سورۃ الجمعۃ ہی میں حضور کی بعثت کو اہل ایمان کے لیے اللہ کا فضل قرار دیا گیا. اُمیین پر یہ فضل کہ نبی اُن میں مبعوث ہوئے ہیں اور آخرین پر یہ فضل کہ وہ بھی اس اُمت میں شامل ہو جائیں گے . یہ سب کیا ہے؟ ذٰلِکَ فَضۡلُ اللّٰہِ یُؤۡتِیۡہِ مَنۡ یَّشَآءُ ؕ وَ اللّٰہُ ذُو الۡفَضۡلِ الۡعَظِیۡمِ ﴿۴﴾ ’’یہ اللہ کا فضل ہے جسے چاہتا ہے دیتا ہے‘ اور اللہ بڑا فضل فرمانے والا ہے‘‘. یہ فضل حضور پر ہوا تو سب سے بڑا فضل ہوا: اِنَّ فَضۡلَہٗ کَانَ عَلَیۡکَ کَبِیۡرًا ﴿۸۷﴾ (بنی اسرائیل) ’’(اے محمدؐ !) آپ پر تو جو اللہ کا فضل ہوا ہے وہ یقینا بہت بڑا ہے‘‘. جو مقام و مرتبہ اللہ نے اپنے نبیؐ کو عطا فرمایا وہ یقینا بہت اعلیٰ و ارفع ہے ؏ بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر! تو یہ اللہ کا بہت بڑا فضل ہے. 

تیسرا فضل سورۃ الحدید میں بیان ہوا جہاں جنت کو اللہ کا فضل کہا گیا :

سَابِقُوۡۤا اِلٰی مَغۡفِرَۃٍ مِّنۡ رَّبِّکُمۡ وَ جَنَّۃٍ عَرۡضُہَا کَعَرۡضِ السَّمَآءِ وَ الۡاَرۡضِ ۙ اُعِدَّتۡ لِلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا بِاللّٰہِ وَ رُسُلِہٖ ؕ ذٰلِکَ فَضۡلُ اللّٰہِ یُؤۡتِیۡہِ مَنۡ یَّشَآءُ ؕ وَ اللّٰہُ ذُو الۡفَضۡلِ الۡعَظِیۡمِ ﴿۲۱﴾ 

’’دوڑو اورایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرو اپنے ربّ کی مغفرت اور اس جنت کی طرف جس کی وسعت آسمان و زمین جیسی ہے‘ جو مہیا کی گئی ہے ان لوگوں کے لیے جو اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے ہوں. یہ اللہ کا فضل ہے جسے چاہتا ہے عطا فرماتا ہے‘ اور اللہ بڑے فضل والا ہے‘‘. اب ظاہر ہے کہ یَّبۡتَغُوۡنَ فَضۡلًا مِّنَ اللّٰہِ وَ رِضۡوَانًا ۫ میں فضل کا پہلا مفہوم تو مراد نہیں ہو سکتا. معاشی جدوجہد اپنی جگہ ایک جائز جدوجہد ہے‘ لیکن اس مقام پر یہ مفہوم سیاق و سباق کے اعتبار سے درست نہیں ہو گا. بقیہ دونوں مفہوم موجود ہیں. ان میں سے بھی زیادہ معین طور پر سورۃ الحدید کے حوالے سے جب آپ اس کو سمجھیں گے تو وہ جنت کا حصول ہے. یوں سمجھئے کہ یہ ادنی ٰ نصب العین ہے. یہاں اب ادنی ٰ سے اعلیٰ کی جانب ’’صعود‘‘ ہو گا. یہ صعودی ترتیب ہے. کہیں ترتیب نزولی ہوتی ہے کہ پہلے اعلیٰ کا ذکر ہوتا ہے اور پھر ادنی ٰ کا. لیکن یہاں صعودی ترتیب ہے کہ پہلا مقصود جنت ہے‘ لیکن بلند تر مقصد اللہ کی رضا ہے‘ جو ایک بندۂ مؤمن کے لیے بلند ترین مقام ہے. قرآن مجید میں متعدد مقامات پر صحابہ کرام رضی اللہ عنھم اجمعین کے لیے خاص طور پر یہ الفاظ وارد ہوئے ہیں : رَضِیَ اللّٰہُ عَنۡہُمۡ وَ رَضُوۡا عَنۡہُ ؕ ’’اللہ اُن سے راضی ہو گیا اور وہ اللہ سے راضی ہو گئے‘‘.

یہاں یہ بات نوٹ کر لیں کہ ہم پر یہ اللہ کا فضل ہوا ہے کہ ابتدا ہی سے ہم پر یہ بات واضح تھی کہ نصب العین کے درجے میں ہمارے سامنے دنیا کی کوئی شے نہیں ہو گی. چنانچہ دین کا غلبہ بھی ہمارا نصب العین نہیں ہے .اس کے لیے جدوجہد ایک فرض ہے‘ نصب العین نہیں ہے. ہمارا نصب العین صرف آخرت کی فوز و فلاح‘ نجات‘ کامیابی اور اللہ کی رضا ہے. نصب العین کے مقام پر اس کے ساتھ کسی اور چیز کو شامل کرنا اپنے فکر کے اندر کجی پیدا کرنا ہے. میں کہا کرتا ہوں کہ نماز اور روزہ دونوں فرض ہیں. اب ان میں سے ایک کو مقصود سمجھ لینا اور دوسرے کو اس کا ذریعہ قرار دے دینا یہ ترجیح بلا مرجح ہو جائے گا. یہ تمام فرائض ہیں‘ نماز اپنی جگہ فرض ہے‘ زکو ٰۃ اپنی جگہ فرض ہے‘ اقامتِ دین کی جدوجہد اپنی جگہ فرض ہے‘ دعوتِ دین میں اپنی صلاحیتیں لگانا اپنی جگہ فرض ہے ‘ لیکن ان میں سے کسی ایک فرض کو اٹھا کر نصب العین بنا دینا اور دوسرے کو اس کا ذریعہ بنا کر ایک ثانوی حیثیت تفویض کر دینا یہ بھی ترجیح بلامرجح ہے. نصب العین صرف ایک ہے اور وہ ہے اُخروی نجات‘ جنت کا حصول اور اللہ کی رضا. اور ان میں بھی بلند ترین شے اللہ کی رضا ہے.