شورائیت کا نظام

وَ اَمۡرُہُمۡ شُوۡرٰی بَیۡنَہُمۡ ۪ ’’اور ان کا معاملہ باہم مشورے کے ساتھ چلتا ہے‘‘. اب چونکہ اجتماعی معاملات کا ذکر آ گیا تو مشورے کی اہمیت بھی واضح کر دی گئی. لیکن یہاں یہ بات سمجھ لیجیے کہ شورائیت اور جمہوریت دو مختلف چیزیں ہیں. ایک تو ان میں بنیادی طور پر فرق ہے کہ جمہوریت اصل میں حاکمیت کے تصور کے ساتھ ہوتی ہے‘ جبکہ شورائیت میں وہ حاکمیت کا تصور بالکل نہیں. عوامی جمہوریت کا موجودہ تصور عوامی حاکمیت کا ہے‘ یعنی حاکمیت میں تمام عوام شریک ہیں‘ جبکہ شورائیت جو ہے وہ باہم مشاورت ہے.اس شورائیت کے بھی دو مختلف shades ہیں جن کا تعلق مختلف حالات سے ہے .ایک حکومت کی سطح پر شورائیت ہے اور ایک کسی جماعت یا تحریک کی سطح پر شورائیت ہے‘ اور ان میں زمین وآسمان کا فرق ہے. جہاں تک حکومت کا تعلق ہے اس کی ایک علاقائی عملداری (territorial jurisdiction) ہوتی ہے‘ یعنی ایک علاقہ ہے جس پر حکومت قائم ہے اور اس میں جو کوئی بھی ہے وہ اس حکومت میں شامل ہے‘ شریک ہے اور ان کی حیثیت مساوی ہے ‘جبکہ جماعت میں کوئی علاقائی تسلط نہیں ہوتا‘ اس میں جو داخل ہوتا ہے اپنی مرضی سے اور جو اس سے نکلتا ہے اپنی مرضی سے. دوسرے یہ کہ اقامت دین کی جدوجہد کے لیے جو جماعت قائم ہوتی ہے وہ اس طرح ہوتی ہے کہ ایک داعی ’’مَنۡ اَنۡصَارِیۡۤ اِلَی اللّٰہِ‘‘ کی پکار لگاتا ہے اور کچھ لوگ اس پکار پر لبیک کہہ کر جمع ہو جاتے ہیں. لہذا یہاں ایک فرقِ مراتب بھی ہے‘ جو ریاست میں نہیں ہوتا‘ وہاں سب شہری برابر ہوتے ہیں. لہذا ان دو فرقوں کی وجہ سے جماعت اور تحریک کی سطح پر شورائیت اور حکومت کی سطح پر شورائیت کے تقاضے مختلف ہیں. 

اگرچہ خلافت راشدہ کے بارے میں جو بھی میرا مطالعہ ہے اس کی بنیاد پر میں پورے انشراحِ صدر سے کہہ رہا ہوں کہ خلفائے راشدین کے ہاتھ میں ویٹو تھا‘ خلافت ِ راشدہ میں آپ کو کہیں ووٹوں کی گنتی کا ذکر نہیں ملے گا‘ لیکن اب اگر کوئی اسلامی ریاست قائم ہوتی ہے تو اس کا جو بھی دستور بنے گا اس میں سربراہِ ریاست کے ہاتھ میں ویٹو کا ہونا ضروری نہیں ہے‘ بلکہ انتخاب کے ذریعے سے جو بھی ایک ادارہ وہاں وجود میں آجائے اس میں ووٹوں کی گنتی سے فیصلے ہوں ‘ اور کسی کے ہاتھ میں اختیارِ خصوصی نہ دیا جائے تو 
’’اَمۡرُہُمۡ شُوۡرٰی بَیۡنَہُمۡ‘‘ کا تقاضا پورا ہوجاتا ہے. لیکن جماعت اس نہج سے نہیں چل سکتی. وہاں حکومت کے پاس ڈنڈا بھی ہوتا ہے‘ یہاں جماعت کے اندر کوئی ڈنڈا نہیں ہوتا. وہاں ان کے پاس نظم کو قائم رکھنے کے لیے کئی طرح کے معاون ادارے ہوتے ہیں ‘یہاں کوئی اور چیز نہیں ہے سوائے اس کے کہ ایک اتفاق رائے ہے‘ لوگوں کی آزادانہ مرضی ہے‘ ساتھ دینا چاہیں تو دیں‘ نہ دینا چاہیں نہ دیں‘ کوئی جبر نہیں .لہذا جماعت کے معاملے کو حکومت و ریاست پر قیاس کرنا قیاس مع الفارق ہے. یہ ایکسر سائز وہ لوگ کرتے ہیں جنہوں نے اس وادی میں قدم رکھنا ہی نہیں‘ آگے بڑھنا ہی نہیں‘ کام کرنا ہی نہیں. وہ تھیوری اور نظریے کے اعتبار سے جو چاہیں بحث کر لیں. 

جماعتی سطح پر شورائیت کا تقاضا یہ ہے کہ اجتماعی معاملات میں مشورے کی روح جاری 
و ساری رہے‘ یہ احساس نہ ہو کہ یہاں پر کوئی تحکمانہ انداز (authoritarianism) ہے ‘بلکہ مشورہ ضرور کیا جائے‘ لیکن پھر مشورے کے بعد فیصلہ ووٹوں کی گنتی سے نہ ہو بلکہ جو صاحبِ امر ہے‘ جس پر اعتماد کر کے آپ نے اس کی رفاقت قبول کی ہے‘ اب فیصلہ آپ اُس پر چھوڑ دیں. یہ بات میں سورۂ آل عمران کی آیت ۱۵۹‘ سے اخذ کرتا ہوں‘ جہاں الفاظ آئے ہیں : وَ شَاوِرۡہُمۡ فِی الۡاَمۡرِ ۚ فَاِذَا عَزَمۡتَ فَتَوَکَّلۡ عَلَی اللّٰہِ ؕ یعنی آپؐ ان سے معاملے میں مشورہ ضرور کیا کیجیے‘ پھر جو فیصلہ آپؐ کر لیں اس پر ڈٹ جایئے اور اللہ پر توکل کیجیے. دیکھ لیجیے یہاں ’’عَزَمۡتَ‘‘ ہے ’’عَزَمْتُمْ‘‘ نہیں ہے. یہ نہیں ہے کہ فیصلہ counting of votes سے ہو گا‘ تعداد کی بنیاد پر ہو گا‘ بلکہ مشورہ امیر کی ضرورت ہے‘ لہذا وہ اپنے ساتھیوں کو مشورہ میں شریک کرے گا‘ لیکن حتمی فیصلے کا اختیار امیر کو ہو گا. پس ایک اسلامی جماعت اور تحریک کا نظم یہی ہو سکتا ہے اور کوئی نہیں ہو سکتا.