اہل ایمان کی بیع و شراء کس کے ہاتھ پر؟

سورۃ الفتح کی آیت ۱۰ میں وہ اصل حقیقت بیان ہو رہی ہے کہ بات سمجھ لو کہ اصل میں یہ بیع و شراء کس کے ہاتھ پر ہے‘ کس کے مابین ہو رہی ہے‘ اس مبایعت کے فریق کون ہیں! فرمایا: اِنَّ الَّذِیۡنَ یُبَایِعُوۡنَکَ اِنَّمَا یُبَایِعُوۡنَ اللّٰہَ ؕ ’’یقینا(اے نبیؐ !) جو لوگ آپ سے بیعت کر رہے ہیں حقیقت میں وہ اللہ سے بیعت کر رہے ہیں‘‘. سودا اللہ سے ہوا ہے. تبایع یا مبایعت بندۂ مؤمن اور اللہ کے مابین ہے. نبی اس وقت عالمِ واقعہ میں اللہ کی طرف سے وصول کنندہ (receiver) ہے. یہ جو نظم قائم ہوا ہے اس میں اب ان کی حیثیت امیر کی اور ان کے ساتھیوں کی حیثیت مأمورین کی ہے. یہ سودا کرنے والے اپنے جان اور مال اب ان کے حکم سے صرف کریں گے‘ ان کے مطالبے پر حاضر کر دیں گے‘ جیسے اور جب وہ چاہیں گے یہ پیش کر دیں گے. لیکن یہ کہ اصل سود ا اللہ کا اور بندے کا ہے. یَدُ اللّٰہِ فَوۡقَ اَیۡدِیۡہِمۡ ۚ ’’اللہ کا ہاتھ ہے ان کے ہاتھوں کے اوپر‘‘. اب یہاں وہ بیعت کا پورانقشہ کھینچ دیا گیا ‘ کیونکہ ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیعت ہوتی ہے. بیعت کرنے والے کا ہاتھ اوپر ہوتا ہے اور بیعت لینے والا کا نیچے ہوتا ہے. لیکن یہاں فرمایا کہ ایک اور تیسرا ہاتھ بھی ہے. ان کے ہاتھوں کے اوپر ایک اور ہاتھ ہے اور وہ اللہ کا ہاتھ ہے. تو یہ ایک سہ فریقی‘ (tripartite) معاہدہ ہے. عالم واقعہ میں یہ بیعت محمد ٌرسول اللہ کے دستِ مبارک پر ہو رہی ہے اور حقیقتاً یہ بیعت اللہ سے ہو رہی ہے. یَدُ اللّٰہِ فَوۡقَ اَیۡدِیۡہِمۡ ۚ ’’اللہ کا ہاتھ ان کے ہاتھوں کے اوپر ہے‘‘. 

فَمَنۡ نَّکَثَ فَاِنَّمَا یَنۡکُثُ عَلٰی نَفۡسِہٖ ۚ ’’اب جو اِس عہد کو توڑے گا اس کی عہد شکنی کا وبال اسی پر ہو گا‘‘. اس بیعت کا یہ رُخ جو ہے بہت اہم ہے. نوٹ کیجیے عربی زبان میں حروف کے اعتبار سے جو الفاظ مماثل اور مشابہ ہوتے ہیں ان کے معانی میں اور ان کی حقیقت میں بھی ایک بہت گہرا ربط ہوتا ہے اور ان میں ثقالت اور لطافت کی بھی ایک نسبت ہوتی ہے. نقض کے معنی ہیں توڑ دینا‘ ختم کر دینا. یہود کے بارے میں فرمایا: فَبِمَا نَقۡضِہِمۡ مِّیۡثَاقَہُمۡ (المائدۃ:۱۳’’اس وجہ سے کہ یہ اپنے عہد معاہدے کو توڑ دیتے ہیں‘‘. نقضِ عہد‘ نقضِ میثاق کی ترکیب ہم استعمال کرتے ہیں. ایک اصطلاح ’’نقضِ غزل‘‘ بھی ہے جو اِس آیتِ قرآنی سے ماخوذ ہے : وَ لَا تَکُوۡنُوۡا کَالَّتِیۡ نَقَضَتۡ غَزۡلَہَا مِنۡۢ بَعۡدِ قُوَّۃٍ اَنۡکَاثًا ؕ (النحل:۹۲’’اوراس بڑھیا کی مانند نہ بن جاؤ جس نے اپنے محنت سے کاتے ہوئے سوت کو توڑ دیا اور اس کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیے‘‘. لفظ ’’نَکَثَ‘‘ بھی دراصل ’’نَقَضَ‘‘ کے مشابہ ہے. ’’ن‘‘ دونوں میں مشترک ہے‘ نَکَثَ میں ’’ق‘‘ کے بجائے ’’ک‘‘ ہے‘ اسی طرح ’’ض‘‘ ثقیل حرف ہے تو اس کی جگہ ’’ث‘‘ ہے جو خفیف ہے. ’’نَکَثَ‘‘ کے معنی بھی توڑ دینا ہیں‘ لیکن یہ خفیف ہے. یعنی ایک اعلانیہ بات نہیں ہے‘ بلکہ انسان اندر ہی اندر ٹوٹ رہا ہے‘ قول و قرار سے پھر رہا ہے‘ اندر ہی اندر پسپائی ہو رہی ہے. 

یہی بات مَیں نے ارتداد کے ضمن میں عرض کی تھی کہ ایک ارتداد ظاہری ہے‘ کھلم کھلا ہے‘ اس کے اوپر تو مفتی کا فتویٰ لگے گا ‘ قاضی کا حکم لگے گا اور حد جاری ہو جائے گی‘لیکن ایک وہ ارتداد ہے جو اندر ہی اندر ہو رہا ہے‘ ایک اندرونی پسپائی 
(retreat) ہے‘ آدمی اپنے نقشِ قدم سے لوٹ رہا ہے. یہ جو اندر ہی اندر والا ارتداد ہے یہ نفاق ہے‘ جس پر قاضی کا حکم نہیں لگ سکتا‘ مفتی کا فتویٰ نہیں چل سکتا. نفاق پر تو محمدٌ رسول اللہ نے کسی حکم کا کوئی اجراء نہیں کیا.اس لیے کہ یہ تو ایک باطنی حقیقت ہے. یہی معاملہ یہاں نکث کا ہے. فَمَنۡ نَّکَثَ فَاِنَّمَا یَنۡکُثُ عَلٰی نَفۡسِہٖ ۚ اب جو اِس عہد کو توڑے گا اس کی عہد شکنی کا وبال ا س کی اپنی ہی ذات پر ہو گا. لہذا اپنے آپ کو ٹٹولتے رہا کرو‘ دیکھتے رہا کرو. جیسے ہم اپنے محاورے میں کہتے ہیں کہ اپنے گریبانوں میں جھانکتے رہا کرو. اپنے دلوں کا جائزہ لیتے رہو کہ اس پر انشراح ہے‘ انبساط ہے‘ استبشار ہے یا انقباض ہو چکا ہے؟کہیں پسپائی تو نہیں کر چکے؟ اندر ہی اندر کہیں اس قول وقرار کی خلاف ورزی تو نہیں ہو رہی؟ جان لو کہ جو کوئی بھی یہ شکل اختیار کرے گا وہ اس کا سارا وبال درحقیقت اپنے اوپر لے گا. اس لیے کہ جس کے ہاتھ پر بیعت کی جا رہی ہے اس نے تو آپ سے کوئی چیز طے ہی نہیں کی. سودا تو آپ کا اللہ کے ساتھ ہوا تھا‘ قیمت اُسی نے دینی ہے‘ محمدٌ رسول اللہ نے تمہیں کوئی قیمت نہیں دینی‘ قیمت تو تم اللہ سے لو گے. تمہارا عہد‘ قول و قرار اور مبایعت تو اللہ سے ہوئی ہے. تم اگر اپنے عہدسے پھرے تو سار ا وبال اپنے اوپر لو گے‘ ان کا کوئی نقصان نہیں ہو گا‘ انہیں کسی طرح کا کوئی گزند نہیں پہنچے گا. اس معاملے میں ذمہ داری ساری تمہاری ہے. 

اب آگے وہی لفظ 
’’اَوْفٰی‘‘ فعل کی صورت میں آ گیا ہے ( اَوْفٰی‘ یُوْفِیْ‘ اِیْفَاءً). سورۃ التوبۃ کی مذکورہ بالا آیت میں ’’اَوْفٰی‘‘ افعل التفضیل کا صیغہ تھا‘یعنی سب سے بڑھ کر وفا کرنے والا. یہاں یہ فعل ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب ہے. فرمایا: وَ مَنۡ اَوۡفٰی بِمَا عٰہَدَ عَلَیۡہُ اللّٰہَ فَسَیُؤۡتِیۡہِ اَجۡرًا عَظِیۡمًا ﴿٪۱۰﴾ ’’اور جس نے اس عہد کو پورا کیا جو اُس نے اللہ سے کیا ہے تو اللہ تعالیٰ عنقریب اسے بہت بڑا اجر عطا فرمائے گا‘‘. یہ ہے بیعت کی اصل حقیقت کہ جس سے ایک اجتماعیت وجود میں آتی ہے اور اس میں امیر اور مأمور کی نسبت قائم ہوتی ہے.